البیان: الحج ۲۲: ۲۵-  ۳۷ (۳)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة الحج

(۳)

(گذشتہ سے پیوستہ)

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِۨلْعَاكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۣ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ٢٥

یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے (خدا کے پیغمبر کو) ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اب وہ خدا کی راہ سے روک رہے ہیں اور مسجد حرام سے بھی [41]جسے ہم نے لوگوں کے لیے یکساں بنایا ہے، خواہ وہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے،[42] اُنھوں نے بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ (اِس لیے کہ اِس مسجد کا معاملہ تو یہ ہے کہ جو اِس میں کسی انحراف، کسی ظلم[43]کے ارتکاب کا ارادہ کرے گا[44] ، اُس کو ہم دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ ۲۵

وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّآئِفِيْنَ وَالْقَآئِمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ٢٦ وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ٢٧ﶫ لِّيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْ٘ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۣ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِﵐ فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِيْرَ٢٨ﶚ ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ٢٩

اِنھیں یاد دلاؤ، جب ہم نے ابراہیم کے لیے اِس گھر[45]کی جگہ کو ٹھکانا بنایا تھا،[46] اِس ہدایت کے ساتھ کہ کسی چیز کو میرا شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا[47]اور حکم دیا تھا کہ لوگوں میں حج کی منادی کرو، وہ تمھارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ہر طرح کی اونٹنیوں پر سوار ہو کر بھی کہ (سفر کی وجہ سے) دبلی ہو گئی ہوں گی۔ وہ (قافلوں کی آمدورفت سے) گہرے ہو چکے ہر دور دراز پہاڑی راستے سے آئیں گی۔[48] اِس لیے آئیں گے کہ اپنی منفعت کی جگہوں پر حاضر ہوں [49]اور چند متعین دنوں میں[50]ا ُن مواشی جانوروں پر اللہ کا نام لیں[51] جو اللہ نے اُنھیں بخشے ہیں[52] ۔ (تم اُن کو ذبح کرو) تو اُن سے خود بھی کھاؤ اور برے حال فقیروں کو بھی کھلاؤ[53] ۔پھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور اِس قدیم گھر کا طواف کریں[54] ۔۲۶- ۲۹

ذٰلِكَ وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ وَاُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ٣٠ﶫ حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ٣١ ذٰلِكَ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ٣٢ لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰ٘ي اَجَلٍ مُّسَمًّي ثُمَّ مَحِلُّهَا٘ اِلَي الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ٣٣

یہ باتیں ہیں (جو ابراہیم کو بتائی گئی تھیں۔ اِن کو اچھی طرح سمجھ لو) او ر(یاد رکھو کہ) جو اللہ کی قائم کی ہوئی حرمتوں[55] کی تعظیم کرے گا تو اُس کے پروردگار کے نزدیک یہ اُس کے حق میں بہتر ہے ۔ اور (یہ بھی کہ جانوروں کے بارے میں اِن مشرکین کے توہمات بالکل بے بنیاد ہیں)[56] ۔حقیقت یہ ہے کہ تمھارے لیے چوپایے حلال ٹھیرائے گئے ہیں، سواے اُن کے جو تمھیں (قرآن میں) بتائے جا رہے ہیں۔ سوبتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی (جو اُن کے حوالے سے کسی چیز کو حلال اور کسی کو حرام ٹھیرا کر اللہ پر باندھتے ہو) [57] اور اُس کے شعائر کی تعظیم کرو، اللہ کی طرف یک سو ہو کر، کسی کو اُس کا شریک کرکے نہیں۔ اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ کے شریک ٹھیراتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑاہے[58] ۔اب پرندے اُس کو اچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو کسی دور دراز جگہ پر لے جا کر پھینک دے گی۔[59] یہ باتیں ہیں، (اِنھیں اچھی طرح سمجھ لو) اور (یاد رکھو کہ)جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر[60] کی تعظیم کرے گا تو یہ دلوں کی پرہیزگاری میں داخل ہے۔ (یہ ہدی کے جانور بھی اللہ کے شعائر میں سے ہیں، لیکن اللہ کا حکم یہ ہے کہ) اِن میں تمھارے لیے ایک مقرر وقت تک طرح طرح کی منفعتیں ہیں[61] ،پھر اِن کو (قربانی کے لیے) خدا کے اُسی قدیم گھر کی طرف لے جانا ہے[62] ۔۳۰- ۳۳

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۣ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗ٘ اَسْلِمُوْا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ٣٤ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ عَلٰي مَا٘ اَصَابَهُمْ وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِﶈ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ٣٥

ہم نے ہر امت کے لیے قربانی کی عبادت مشروع کی ہے[63] تاکہ اللہ نے جو مواشی جانور اُن کو بخشے ہیں ، اُن پر وہ اللہ کا نام لیں، (کسی اور کا نہیں)۔ سو تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے تو اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کرو[64] (اور اُسی کے آگے جھکے رہو)، اور اُنھیں خوش خبری دو، (اے پیغمبر)، جن کے دل اُس کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کے سامنے خدا کا ذکرآتا ہے تو اُن کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ اُن پر جو مصیبت آتی ہے، اُس پر صبر کرنے والے اور نماز کا اہتمام رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُن کو بخشا ہے، اُس میں سے وہ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں[65]۔۳۴- ۳۵

وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا صَوَآفَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ٣٦ لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا هَدٰىكُمْﵧ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ٣٧

(اونٹ کی قربانی میں بھی تم میں سے کسی کو تردد نہیں ہونا چاہیے، اِس لیے کہ) قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے شعائر الہٰی میں شامل کیا ہے[66] ۔اُن میں تمھارے لیے بڑے خیر ہیں[67] ۔سو اُن کو صف بستہ کرکے[68] اُن پر بھی اللہ کا نام لو[69] ۔پھر جب (قربانی کے بعد) وہ اپنے پہلوؤں پر گر پڑیں[70] تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور اُن کو بھی کھلاؤ جو( محتاج ہیں، مگر) قناعت کیے بیٹھے ہیں[71] اور اُن کو بھی جو بے قرار ہو کر مانگنے کے لیے آجائیں۔اِن جانوروں کو ہم نے اِسی طرح تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے[72] تاکہ تم شکر ادا کرو۔ اللہ کو نہ اِن کا گوشت پہنچتا ہے نہ اِن کا خون، بلکہ اُس کو صرف تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے[73] ۔اِسی طرح اللہ نے اُن کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ اللہ نے جو ہدایت تمھیں بخشی ہے ، اُس پر تم اللہ کی بڑائی بیان کرو[74] ۔ (یہی طریقہ ہے اُن کا جو خوبی کا رویہ اختیار کریں) اور (اے پیغمبر) ، اُن لوگوں کو بشارت دو جو خوبی کا رویہ اختیار کرنے والے ہیں۔ ۳۶- ۳۷

____________

[41]۔ یعنی قریش مکہ جو اُس زمانے میں مسلمانوں کو جبروزور کے ذریعے سے اللہ کے دین سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ حرم کی حاضری سے بھی اُن کو محروم کر دینے کے درپے رہتے تھے۔

[42]۔ یہاں تک مبتداہے جس کی خبر محذوف ہے۔ ہم نے آگے اُسے کھول دیا ہے۔ آیت میں حرم سے متعلق جو قانون بیان ہوا ہے، اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ اِس پر کسی خاندان ، کسی قبیلے اور کسی قوم کا اجارہ نہیں ہے۔ ہر شخص جو اللہ کی عبادت اور حج و عمرہ کے لیے اِس گھر کا قصد کرے، وہ قریشی ہو یا غیر قریشی، عربی ہو یا عجمی، شرقی ہو یا غربی، اُس پر کسی کو کوئی پابندی عائد کرنے کا حق نہیں ہے*۔مقیم اور آفاقی، سب کے حقوق اِس میں بالکل برابر ہیں۔ قریش کی حیثیت اِس کے حکمرانوں اور اجارہ داروں کی نہیں ہے ،بلکہ اِس کے پاسبانوں اور خدمت گزاروں کی ہے۔ اُن کا فرض ہے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی طرح وہ بھی اِسے تمام دنیا کے لیے عبادت کا مرکز بنائیں اور تمام انسانوں کو دعوت دیں کہ اِس کی برکتوں سے بہرہ یاب ہونے کے لیے اِس آستانۂالہٰی پر حاضر ہوں۔ چنانچہ اُن کے لیے جو لفظ آیت میں استعمال کیا گیا ہے، وہ 'الْعَاكِف'ہے جس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ وہ درحقیقت اِس کے معتکفین ہیں اور اُن کو اپنی یہی حیثیت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے۔

آیت میں جس برابری کا ذکر ہے، وہ جس طرح حقوق میں ہے، اُسی طرح فرائض میں بھی لازماً ہو گی۔ چنانچہ حرم کی حفاظت وصیانت کی ذمہ داریوں میں بھی تمام مسلمان برابر کے شریک سمجھے جائیں گے اور اُس کے خدام اگر کسی وقت اُس کی حرمت برباد کریں یاباہر سے کوئی طاقت اِس کی جسارت کرے، دونوں صورتوں میں اُن کا فرض ہو گا کہ اُس کو روکنے کے لیے وہ اپنی تمام قوت صرف کر دیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...اِس معاملے میں کسی قومی یا بین الاقوامی معاہدے اور مصلحت کا بھی کوئی لحاظ جائز نہیں ہو گا۔ اگر کسی ملک کی حکومت اِس جہاد میں شرکت سے روکے تو ہرچند وہ نام نہاد مسلمانوں ہی کی حکومت ہو۔ اُس کے خلاف بھی اہل ایمان پر فرض ہو گا کہ وہ جہاد کریں، اِس لیے کہ حرم کی حفاظت و مدافعت کی ذمہ داری صرف اہل مکہ یا اُن کی حکومت پر نہیں ہے، بلکہ ہر کلمہ گو پر ہے۔ اُس کو کسی صورت میں بھی پرایا جھگڑا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حرم کے حقوق اور ذمہ داریوں میں ہر مسلمان برابر کاشریک ہے۔ حرم امت مسلمہ کادل ہے۔ اِس کی صلاح تمام امت کی صلاح اور اِس کا فساد پوری ملت کا فساد ہے۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۴۰)

[43]۔ یعنی خواہ وہ ظلم خدا کی راہ سے اور مسجدحرام کی حاضری سے روکنے کا ہو یا خود مسجد کو شرک کی نجاست سے آلودہ کر دینے کا، جس کا ارتکاب قریش مکہ اُس زمانے میں کر رہے تھے۔ آیت میں یہ لفظ 'اِلْحَاد'کے بدل کے طور پر آیا ہے جس کے معنی انحراف اور کجی کے ہیں۔ قرآن نے اِس سے انحراف کی نوعیت واضح کر دی ہے۔

[44]۔اصل میں'مَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍ' کے الفاظ آئے ہیں۔ اِ ن میں 'ب' کا صلہ اِس بات کا قرینہ ہے کہ لفظ 'يُرِدْ' یہاں'ھم'کے مفہوم پر متضمن ہے جو کسی وقتی میلان سے بھی ظہور میں آجاتا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ ارادہ تو بڑی بات ہے، یہاں کوئی انحراف اگر نفس کے کسی وقتی میلان کی بنا پر بھی ہوتا ہے تو اُس کی سزا بھی، جیسا کہ آگے بیان ہوا ہے، قیامت میں نہایت سخت ہو گی۔

[45]۔اصل میں لفظ 'الْبَيْت'آیا ہے۔ اِس میں لام عہد کا ہے۔ اِس سے مراد وہی مسجد حرام ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔

[46]۔یعنی ہجرت کے بعد اُن کو یہاں لابسایا تھا۔ یہ اُس واقعے کا ذکر ہے، جب ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے اِس قدیم گھر کو تعمیر کیا اور اپنے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام کو اُسی کے حکم پر اِس کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ چنانچہ وہ یہیں آبادہو گئے۔ قریش مکہ اُنھی کی اولاد تھے اور اپنی اِس تاریخ کو اپنے لیے سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے۔

[47]۔طواف نذر کے پھیرے ہیں جو اپنا جان و مال اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کر دینے کی علامت کے طور پر معبد کے ارد گرد لگائے جاتے ہیں۔ اِس کی ابتدا حجر اسود کے استلام سے ہوتی ہے۔ یہ عہد و میثاق کی علامت ہے۔ رکوع وسجود اور قیام نماز کی تعبیر ہے۔ قرآن کے اِس بیان سے واضح ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی قدیم عبادات ہیں۔ مسلمان جس طرح اب اِن سے واقف ہیں، قرآن کے مخاطبین بھی اُسی طرح اِن سے واقف تھے۔ قرآن نے اِن کا ذکر جہاں بھی کیا ہے، کسی نئے حکم کے طور پر نہیں کیا، بلکہ پہلے سے معلوم و متعارف عبادات کی حیثیت سے کیا ہے۔ لہٰذااِن کا نام ہی اُس کے مخاطبین کو اِن کا مصداق سمجھانے کے لیے کافی ہے۔ یہاں اِن عبادات کے لیے حرم کو پاک رکھنے کی ہدایت کا ذکر ہوا ہے۔ اِس سے قریش کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس اہتمام کے ساتھ ابتدا ہی میں اِس کو لہو و لعب، اصنام و اوثان اور تمام ظاہری اور باطنی نجاستوں سے پاک رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ اِس کے بعد وہ خود دیکھ لیں کہ اُنھوں نے اِس گھر کے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے اور اب ستم بالاے ستم اُن لوگوں کو اِس گھر میں عبادت سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو توحید کے عالمی مرکز کی حیثیت سے اِس کی اصل روایت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔

[48]۔یہ اُس ذوق و شوق اور وارفتگی کی تصویر ہے جس کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کو اُن کی منادی کے جواب میں حجاج کے قافلوں کی سرزمین حرم میں آنے کی بشارت دی گئی ہے۔ فرمایا کہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں اور ایسے دور دراز علاقوں سے اِس گھر کی طرف رجوع کریں گے کہ اُن کے اونٹ سفر کی طوالت سے لاغر اور راستے آمدورفت کی کثرت سے گہرے ہو جائیں گے۔ یہ بشارت حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ اِس میں ، اگر غور کیجیے تو ضمنًاقریش کے رویے پر تعریض بھی ہے کہ جہاں اِس گھر کا مالک چاہتا ہے کہ لوگ اِس ذوق و شوق کے ساتھ آئیں، وہیں وہ لوگوں کو اِس سے روکنے کے درپے ہو رہے ہیں۔

[49]۔یعنی اُن جگہوں پر جو مناسک حج کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ لوگ جب حج و عمرہ کے لیے اِن جگہوں پر آتے ہیں تو اِن سے خدا کی سچی معرفت اور شیطان سے لڑتے رہنے کی قوت اور امت مسلمہ کی وحدت کا نقش دل و دماغ پر لے کر جاتے ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جنھیں آیت میں اِن جگہوں کی منفعت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

[50]۔اِن سے یوم النحر (۱۰؍ ذوالحجہ) اور اُس کے بعد کے تین دن مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو وقت اور جگہ کسی کام کے لیے مقرر کر دی ہے، اُس کی تمام برکتیں اُسی وقت اور جگہ میں اُس کو کرنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ خدا کی دنیا میں جس طرح بہار کے لیے ایک موسم ہے، اُسی طرح عبادات کے لیے بھی ہے اور اُن کے ثمرات اُسی موسم میں اُن کو ادا کرنے سے حاصل ہوتے ہیں جو اُن کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

[51]۔یعنی اُس کا نام لے کر اُنھیں ذبح کریں۔ قرآن میں یہ تعبیر اِسی مفہوم کے لیے اختیار کی گئی ہے اور اِس بات کی دلیل ہے کہ خدا کے دین میں اُس کا نام لیے بغیر کسی جانور کو ذبح کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ وضاحت کر دی ہے کہ جانور خدا کے نام پر ذبح نہ کیا گیا ہو تو اُس کا کھانا ممنوع ہے۔

[52]۔مطلب یہ ہے کہ خود بخود میسر نہیں ہو گئے اور نہ کسی اور نے بخشے ہیں۔ یہ اُن کو اللہ ہی نے عطا فرمائے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اِن کو اُسی کے نام پر ذبح کیا جائے۔ اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو وہ ہتک جان کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس پر سزا ہو سکتی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''... اِس اسلوب میں اللہ تعالیٰ کے شکر کی ترغیب و تشویق بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کو چوپایے اپنے فضل و رحمت سے عطا فرمائے ہیں۔ اُن کا حق یہ ہے کہ بندے اِس نعمت کے شکر کے طور پر اُن کا نذرانہ اپنے رب کے حضور میں پیش کریں۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۴۴)

[53]۔یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ لوگ اِس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ خدا کے لیے قربانی کی ہے تو اب اِس کا گوشت بھی اُسی کے لیے خاص رہنا چاہیے۔چنانچہ آگے وضاحت کر دی ہے کہ خدا کو اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اُس کو تمھاری قربانیوں کا خون اور گوشت نہیں، بلکہ دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔

[54]۔حج ابلیس کے خلاف جس جنگ کی تمثیل ہے، اُس کا منتہاے کمال قربانی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ حج اگرچہ قربانی کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے، لیکن لوگوں کو چاہیے کہ منیٰ ہی سے گھروں کو روانہ نہ ہوں، بلکہ احرام کی پابندیوں سے نکل کر نہائیں دھوئیں، اگر کوئی نذر مانی ہو تو اُس کو پورا کریں اور بیت اللہ کا طواف کرکے گھروں کو جائیں۔ خدا کے اِس گھر کی تعظیم کا یہی تقاضا ہے۔ بیت اللہ کے لیے آیت میں 'الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ'، یعنی قدیم گھر کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کردہ خدا کا اصل اور قدیم گھر یہی ہے نہ کہ بیت المقدس، جیسا کہ یہود کا دعویٰ ہے۔

[55]۔یعنی اُن حرمتوں کی جو مسجد حرام اور حج اور عمرے اور ام القریٰ مکہ کے باب میں قائم کی گئی ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ مشرکین قریش نے جو رویہ اِس معاملے میں اختیار کر رکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی قائم کردہ تمام مقدس روایات اِن ظالموں نے اپنے دنیوی مفادات کے لیے بدل ڈالی ہیں، اُس سے ہر حال میں احتراز کرو۔

[56]۔یہ اُن توہمات کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۱۰۳میں ہوا ہے، یعنی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔

[57]۔یہ، ظاہر ہے کہ 'افتراء علی اللہ' ہے۔ آیت میں اِسی کو 'قَوْلَ الزُّوْرِ' سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ بتوں کی گندگی سے بچو اور اِس جھوٹی بات سے بھی۔

[58]۔یعنی ایک خدا کو مان کر وہ علم و نظر اور ایمان و عقیدہ کے جس آسمان کی بلندیوں میں پرواز کر رہا تھا، اُس سے گر پڑا ہے۔

[59]۔مطلب یہ ہے کہ اب ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس شیطان کے ہتھے چڑھ جائے گا یا ہواے نفس اُس کو لے جا کر کس گہرے کھڈ میں ڈال دے گی۔

[60]۔یہ شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی علامت کے ہیں۔ اصطلاح میں اِس سے مراد وہ مظاہر ہیں جو اللہ اور رسول کی طرف سے کسی حقیقت کا شعور قائم رکھنے کے لیے بطور ایک نشان کے مقرر کیے گئے ہوں۔ اِن شعائر میں اصل مطمح نظر تو وہ حقیقتیں ہوا کرتی ہیں جن کی یہ علامت ہوتے ہیں، لیکن اِنھی حقیقتوں کے تعلق سے یہ شعائر بھی دین میں تقدس کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ تاہم یہ بات اِن کے بارے میں ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جو حقیقتیں اِن میں مضمر ہوتی ہیں، وہ اگر لوگوں کے دل ودماغ میں زندہ نہ رہیں تو اِن شعائر کی حیثیت روح کے بغیر ایک قالب سے زیادہ کی نہیں رہتی۔ اِسی طرح یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمام شعائر اللہ اور رسول کے مقرر کردہ ہیں اور اِن کی تعظیم کے حدود بھی اللہ و رسول نے ہمیشہ کے لیے طے کر دیے ہیں۔ لہٰذا اب کوئی شخص نہ اپنی طرف سے اِن میں کوئی اضافہ کرسکتا ہے اور نہ اِن کی تعظیم کے حدود میں کسی نوعیت کی کوئی تبدیلی کر سکتا ہے۔ اِس طرح کی ہر چیز ایک بدعت ہو گی جس کے لیے دین میں ہرگز کوئی گنجایش نہیں ہے۔

[61]۔قربانی کے جانوروں سے کوئی فائدہ اٹھانا بالعموم ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ عرب کے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چونکہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، اِس لیے اِنھیں بالکل کوتل قربانی کے لیے لے جانا چاہیے۔ قرآن نے یہ اِسی خیال کی تردید فرمائی ہے کہ اِن شعائر کی تعظیم کے لیے یہ ضروری نہیں ہے۔ قربانی کا وقت آجانے تک اِن جانوروں سے ہر طرح کا فائدہ اٹھانا بالکل جائز ہے۔

[62]۔یعنی کسی بت خانے یا استھان کی طرف نہیں، بلکہ خدا کے اُسی قدیم گھر کی طرف لے جانا ہے جس کے لیے یہ شعائر مقرر کیے گئے ہیں۔

[63]۔اِس سے واضح ہے کہ شرائع الہٰی میں قربانی ایک قدیم ترین عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ نے خاص اپنی شکر گزاری کے لیے مشروع فرمائی ہے۔ یہ ، اگر غور کیجیے تو پرستش کا منتہاے کمال ہے۔ اپنا اور اپنے جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرکے ، 'بسم اللہ، واللہ أکبر' کہہ کر، ہم اپنے جانوروں کو قیام یا سجدے کی حالت میں اِس احساس کے ساتھ اپنے پروردگار کی نذر کر دیتے ہیں کہ درحقیقت ہم اپنے آپ کو اُس کی نذر کر رہے ہیں۔ یہی نذر اسلام کی حقیقت ہے۔ اِس لیے کہ اسلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ سر اطاعت جھکا دیا جائے اور آدمی اپنی عزیز سے عزیز متاع، حتیٰ کہ اپنی جان بھی اللہ کے حوالے کر دے۔ قربانی اِسی حقیقت کا علامتی اظہار ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ دراصل اپنا ذبیحہ ہے جو جانور کے ذبیحہ کی صورت میں ممثل ہوتا ہے۔

[64]۔یہی حوالگی قربانی کی اصل روح ہے۔

[65]۔یہ ترغیب و تسہیل کا اسلوب ہے، اِسے نگاہ میں رکھنا چاہیے اور نماز اور انفاق کے باہمی تعلق کو بھی کہ اِس کے بغیر دین کی حکمت واضح نہیں ہوتی۔

[66]۔یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ عرب میں یہود بھی تھے اور ایک کمزور روایت کی بنا پر اُنھوں نے اونٹ کو حرام قرار دے رکھا تھا**۔ چنانچہ اُنھوں نے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ یہ نیا دین حضرت ابراہیم کا دین کس طرح ہو سکتا ہے؟اِس نے تو ایک ایسے جانور کی قربانی کو خدا کے تقرب کا ذریعہ بنا دیا ہے جو ہمیشہ سے حرام رہا ہے۔ سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۹۳میں قرآن نے اِس کا جواب دیا ہے۔

[67]۔یعنی بڑی برکتیں اور فوائد ہیں۔ یہ اِس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اونٹ کی قربانی، خاص طور پر، اہل عرب کو کیوں کرنی چاہیے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''... اونٹ عرب کے محبوب ترین جانوروں میں سے ہے۔ یہ اُن کے صحرا کا سفینہ ، اُن کے تمام سفر و حضر کا رفیق اور اُن کی تمام تجارتی سرگرمیوں کا واحد ذریعہ تھا۔ وہ اُس کے دودھ، گوشت اور کھال ہرچیز سے بیش از بیش فائدے اٹھاتے تھے۔ قرآن نے اُس کی اِنھی منفعتوں اور برکتوں کے سبب سے اہل عرب کو اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی اِس نعمت کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز باعتبار دنیا اہل عرب کے لیے اتنی نفع بخش اور بابرکت ہو، اگر وہ اُس کو اپنے رب کی خوشنودی کے لیے قربان کریں تو یہ اُن کے لیے خدا کے تقرب کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ ''(تدبرقرآن۵/ ۲۵۰)

[68]۔یعنی اُسی طرح صفوں میں کھڑا کرکے ، جس طرح خدا کے حضور نماز کے لیے قیام کیا جاتا ہے۔

[69]۔آگے کا جملہ اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ جانور پر اللہ کا نام لینا اُس کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے کے لیے قرآن کی خاص تعبیر ہے۔ اِس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ خدا کی شریعت میں جانور کے ذبح کرنے کا کوئی تصور اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے کے سوا نہیں ہے۔

[70]۔یعنی سجدہ ریز ہو جائیں۔

[71]۔مانگنے والوں پر یہ قناعت پیشہ محتاجوں کی تقدیم بتا رہی ہے کہ غربا کے لیے اللہ تعالیٰ کو یہی رویہ پسند ہے۔

[72]۔یعنی اِس درجہ تابع فرمان بنا دیا ہے کہ اُن کو ذبح یا نحر کرکے اُن کی قربانی تک خدا کے حضور میں پیش کر دیتے ہو۔

[73]۔یہ قرآن نے اُن تمام تصورات کی تردید کر دی ہے جو مشرکین نے قربانی کی عبادت سے متعلق قائم کر رکھے تھے۔

[74]۔قربانی کی حقیقت نذر اور اُس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔ ہم اپنی جان کا نذرانہ قربانی کے جانوروں کو اُس کی علامت بنا کر بارگاہ خداوندی میں پیش کرتے ہیں تو گویا اسلام و اخبات کی اُس ہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا اظہار سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی سے کیا تھا۔ اِس موقعے پر تکبیر و تہلیل کے الفاظ اِسی مقصد سے ادا کیے جاتے ہیں۔ قرآن نے یہ اِسی مقصد کی طرف اشارہ کیا ہے۔

________

*سواے اِس کے کہ خود اِس کی عبادت کے لیے جانے والوں کی کسی ضرورت یا سہولت کے لیے کوئی پابندی لگانا پڑے، جس طرح کہ اِس زمانے کی حکومتوں نے لگا رکھی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اُن میں سے بھی بعض پابندیاں بالکل ناروا ہیں جنھیں لازماً ختم کر دینا چاہیے۔

** استثنا ۷: ۱۴۔

[باقی]

___________