البیان: الحج ۲۲: ۵ – ۲۴ (۲)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة الحج

(۲)

(گذشتہ سے پیوستہ)

يٰ٘اَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰ٘ي اَجَلٍ مُّسَمًّي ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْ٘ا اَشُدَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰي وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰ٘ي اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۣ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا وَتَرَي الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَا٘ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْوَرَبَتْ وَاَنْۣبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۣ بَهِيْجٍ٥ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّهٗ يُحْيِ الْمَوْتٰي وَاَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ٦ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَاَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ۷

لوگو، اگرتمھیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں کچھ شک ہے[1] تو غور کرو کہ ہم نےتمھیں مٹی سے پیدا کیا ہے،[2] پھر نطفے سے،پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے،[3]جو پوری بھی ہوتی ہے اور ادھوری بھی۔[4]اِسلیے کہ تم پرکچھ حقائق واضح کریں(جو تم کو سمجھنے چاہییں)۔ [5]ہم جو چاہتے ہیں، ایک مقرر مدت تکرحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں۔ پھر ایک بچے کی صورت میں تمھیں نکال لاتے ہیں۔ پھر ایک وقت دیتے ہیں[6] کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو ۔اور تم میں سے کوئی پہلے ہی[7] بلا لیا جاتا ہے اور کوئی( بڑھاپے کی)نکمی عمر کو پہنچایا جاتا ہے کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا۔[8] اِسی طرح زمین کو دیکھتے ہو کہ خشک پڑی ہے۔ پھر جبہم اُس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر طرح کی خوش منظر چیزیں اگاتی ہے۔ یہ سب اِس لیے کہ اللہ ہی پروردگار حقیقی ہے اور اِس لیے کہ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اِس لیے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اِس لیے کہ قیامت آ کر رہے گی، اُس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور اِس لیے کہ اللہ اُن سب کو ضرور اٹھائے گا جو قبروں میں پڑے ہیں۔[9] ۵-۷

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًي وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ٨ ثَانِيَ عِطْفِهٖ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّنُذِيْقُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِيْقِ٩ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدٰكَ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ١٠

اِس کے باوجود لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن میں ایسے بھی ہیں جوبغیر کسی علم ، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے( تکبر سے) شانے جھٹکتے ہوئے[10] اللہ کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے[11] اور قیامت کے دن ہم اُن کو جلتی آگ کا عذاب چکھائیں گےــــــ یہ ہے تمھارے اعمال کا بدلہ جو تمھارے ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے اور (تمھارے لیے خدا کا انصاف بھی)، اِس لیے کہ اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔[12] ۸- ۱۰

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُ اِۨطْمَاَنَّ بِهٖ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِۨنْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ١١ يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنْفَعُهٗ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ١٢ يَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗ٘ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ لَبِئْسَ الْمَوْلٰي وَلَبِئْسَ الْعَشِيْرُ١٣ اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ۱۴

اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو خدا کی بندگی کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں۔[13] پھر اگر اُن کو کوئی فائدہ پہنچا تو خدا پر مطمئن ہو گئے اور اگر اُن کو کوئی آزمایش پیش آگئی تو اوندھے ہو جاتے ہیں۔[14] اُنھوں نے دنیا بھی کھو دی اور آخرت بھی۔[15] یہی کھلا ہوا خسارہ ہے ۔ یہ خدا کے سوا اُن چیزوں کو پکارتے ہیں[16] جو نہ اِن کا برا کر سکتی ہیں، نہ اِن کا بھلا۔ یہی دور کی گم راہی ہے۔ یہ اُن کو پکارتے ہیں، وہی جن کا نقصان اُن کے نفع سے قریب تر ہے۔[17] کیا ہی برے ہیں یہ مولیٰ اور کیا ہی برے ہیں اُن کے یہ ساتھی (جو اُنھیں مولیٰ بنائے ہوئے ہیں)! [18] (اِس کے برخلاف) اللہ اُن کو جو پوری سچائی کے ساتھ ایمان لائے[19] اور جنھوں نے نیک عمل کیے، یقیناً ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ بے شک، اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔[20]۱۱- ۱۴

مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَي السَّمَآءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهٗ مَا يَغِيْظُ١٥ وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۣ بَيِّنٰتٍ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ١٦

(اِنھیں بتاؤ کہ) جو یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں ہرگز اُس کی مدد نہ کرے گا،[21] اُس کو چاہیے کہ (اپنے تصور میں ذرا) ایک رسی (اوپر چڑھنے کے لیے) آسمان کی طرف تانے، پھر (جب منزل کو بہت دور دیکھ کر رنجیدہ ہو تو) اُس کو کاٹ دے اور دیکھے کہ آیا اُس کی یہ تدبیراُس کے رنج کو دور کرنے والی بنتی ہے؟[22] ہم نے اِس قرآن کو اِسی طرح کھلی کھلی دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے، مگر جو توفیق سے محروم ہیں، وہ کہاں ہدایت پائیں گے کہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) [23]ہدایت دیتا ہے۔۱۵- ۱۶

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـِٕيْنَ وَالنَّصٰرٰي وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْ٘ا اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ١٧

(یہ خدا کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں۔ اِنھیں بتاؤکہ)جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنھوں نے یہودیت اختیار کر رکھی ہے اورصابئی اور نصاریٰ اور مجوس[24] اور جو شرک اختیار کیے ہوئے ہیں،[25] اللہ قیامت کے دن اِن سب کے درمیان (اِن کے اختلافات کا) فیصلہ کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔[26] ۱۷

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُﵧ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ۱۸

کیا دیکھتے نہیں ہو کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سب اللہ ہی کے آگے سر بہ سجود ہیں، اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپایے اور بہت سے لوگ بھی؟[27]اور بہت سے وہ بھی ہیں کہ جن پرخدا کا عذاب لازم ہو چکا ہے، (اِس لیے کہ اُنھوں نے یہ ذلت قبول کر لی کہ دوسروں کے آگے سرجھکا دیا)۔[28]حقیقت یہ ہے کہ جس کو اللہ ذلیل کر دے، اُسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ اِس میں شبہ نہیںکہ اللہ (اپنے قانون کے مطابق) جو چاہے، کرتا ہے۔۱۸

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ١٩ يُصْهَرُ بِهٖ مَا فِيْ بُطُوْنِهِمْ وَالْجُلُوْدُ٢٠ وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ٢١ كُلَّمَا٘ اَرَادُوْ٘ا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ٢٢

یہ سب دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ سو جنھوں نے (اُس کی توحید کو ماننے سے) انکار کر دیا ہے، اُن کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، اُن کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ اُن کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے، سب اُس سے پگھل جائے گا اور (اوپر سے) اُن کی کھالیں بھی۔ اُن کی سرکوبی کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔ وہ اُس سے، اُس کے کسی عذاب سے بھی جب جب نکلنا چاہیں گے، دوبارہ اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ اب اِسی میں رہو[29] اور چکھو جلنے کی سزا کا مزہ۔۱۹- ۲۲

اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ٢٣ وَهُدُوْ٘ا اِلَي الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوْ٘ا اِلٰي صِرَاطِ الْحَمِيْدِ٢٤

اُن لوگوں کو ، البتہ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گاجن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اُن کو وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔[30]اُن کے لباس وہاں ریشم کے ہوں گے۔ اور مزید یہ کہ اُنھیں وہاں پاکیزہ بات کی ہدایت بخشی گئی [31] اوراُنھیں خداے حمید (کی جنت) کا راستہ دکھا دیا گیا۔[32]۲۳- ۲۴

____________

[1]۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ مشرکین عرب قیامت کے بارے میں فی الواقع ایک نوعیت کے شک اور تردد میں مبتلا تھے، اُس کا صریحاً انکار نہیں کرتے تھے۔

[2]۔ یعنی ابتدا میں ، جب انسان زمین کے پیٹ میں اُنھی مراحل سے گزر کر پیدا ہوا جن سے وہ اب ماں کے پیٹ میں گزرتا ہے۔

[3]۔ یہ اُن بڑے بڑے تغیرات کا ذکرکیا ہے جن سے اُس زمانے کا ایک عام بدو بھی واقف تھا۔

[4]۔ یعنی ضروری نہیں کہ پوری ہو کر بچے کی صورت اختیار کرے، بعض اوقات ادھوری ہی رہ جاتی ہے اور کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ اُسے مکمل کر دے۔

[5]۔ یہ سلسلۂ کلام کو بیچ میں چھوڑ کر مخاطبین کو جھنجھوڑنے کے لیے اصل مقصد کی طرف توجہ دلادی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...مطلب یہ ہے کہ خدا انسان کو وجود میں لانے کے لیے اِن تمام مراحل اور سارے اہتمام کا محتاج نہیں تھا کہ پانی کی ایک بوند کسی مادہ کے رحم میں قرار پکڑے، پھر وہ خون اور جنین کی صورت اختیار کرے اور قدرت اپنے ڈیزائن کے مطابق اُس کی نقاشی و مصوری کرکے اُس کو حسین پیکر بنائے۔ اِس تمام اہتمام و انتظام کے بغیر اگر خدا چاہتا تو بنے بنائے آدمی کسی دریا یا پہاڑ سے جھنڈ کے جھنڈ اور ریوڑ کے ریوڑ برآمد ہو جایا کرتے، لیکن خدا نے یہ چاہا کہ انسان کی خود اپنی خلقت اُس کے لیے خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ایک درس گاہ بن جائے جس میں وہ اپنے اور اِس کائنات کے احسن الخالقین کی معرفت حاصل کرے۔ اُس کا خود اپنا وجود اِس پر شہادت دے کہ جس نے اِس اہتمام و عنایت کے ساتھ اُس کو پیدا کیا ہے، اُس نے اُس کو محض ایک کھلونا نہیں بنایا ہے، بلکہ اُس کی خلقت کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے جو لازماً ظہور میں آکے رہے گی۔ اُس کے اپنے ہر بن مو سے اُس کو یہ گواہی ملے کہ خالق نے اُس کو مٹی کے خلاصہ اور پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور اُس کو اِس میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی تو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا بھی اُس کے لیے نہایت آسان ہے۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۱۷)

[6]۔ یہ فقرہ اصل میں محذوف ہے جس پر 'لِتَبْلُغُوْ٘ا'کا لام دلالت کررہا ہے۔

[7]۔ آیت میں آگے 'اَرْذَلِ الْعُمُرِ'کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے مقابل میں 'في صباہ أو في شبابہ'یا اِن کے ہم معنی الفاظ اصل میں محذوف ہیں۔ ترجمے میں یہ اضافہ اُنھی کے پیش نظر کیا گیاہے۔

[8]۔ آیت میں'ل'غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے اور لفظ 'عِلْم'کی تنکیرتفخیم کے لیے ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ 'لِكَيْلَا يَعْلَمَ'کے مقابل میں آیا ہے۔ اِس سے انسان کے علم کی اصل حقیقت کو بیان کرنا مقصود نہیں ہے جو علم کے بحر بے کراں میں ایک قطرہ ہی ہے۔

[9]۔ اوپر جن حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے، اُن کو دیکھنے کے بعد یہ بدیہی نتائج ہیں جن کا انکار کوئی عقل کا اندھا ہی کرسکتا ہے۔

[10]۔ یہ رویہ انسان میں اُسی وقت پیدا ہوتا ہے، جب وہ علم و استدلال کے بجاے مجرد آبا و اجداد کی اندھی تقلید کو اپنے ایمان و عقیدہ کا ماخذ بنا لیتا ہے۔ یہ اِسی طرح کے لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کی دعوت یہ کہہ کر رد کر دیتے تھے کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔

[11]۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ یہاں رسول کے مخاطبین زیر بحث ہیں جن کے بارے میں سنت الہٰی یہ ہے کہ اُن کے کبر و غرور کی سزا اُنھیں دنیا میں بھی لازماً ملتی ہے۔

[12]۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے تمھارے ساتھ کوئی بے انصافی نہیں کی ہے۔ یہ اُسی بِس بھری فصل کا حاصل ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے بوئی تھی۔ آیت میں یہ مضمون 'اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ'کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اِس میں مبالغہ پر نفی مبالغہ فی النفی کے لیے ہے۔ یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں'اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ'* (اللہ ذرے کے برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا)اور 'اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـًٔا'** (اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا) کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ اِس اسلوب کی مثالیں قرآن مجید اور کلام عرب، دونوں میں موجود ہیں۔

* النساء۴: ۴۰۔

** یونس۱۰: ۴۴۔

[13]۔ یعنی منافقانہ جس میں حق و باطل اور یزداں و اہرمن، دونوں کو راضی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اُن متکبرین سے مختلف گروہ ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ آیت کا اسلوب اظہار تعجب اور اظہار نفرت و کراہت کا ہے اور بندگی سے مراد پرستش ہے جو اطاعت کو بھی شامل ہو جاتی ہے۔ آگے اِسی کی وضاحت فرمائی ہے۔

[14]۔ یعنی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانے پر جبہ سائی شروع کر دیتے ہیں۔ استاذ امام کے الفاظ میں، پھولوں کے طالب ہیں، لیکن کانٹوں کی خلش برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

[15]۔ دنیا اُس نقصان کی وجہ سے جو پیش آیا اور آخرت اِس لیے کہ خدا کی بارگاہ سے الٹے پھر گئے۔ ایسا نہ کرتے تو صرف

دنیا کھوتے، مگر آخرت کا اجر اپنے لیے محفوظ کرا لیتے۔

[16]۔ اصل میں لفظ 'يَدْعُوْا'استعمال ہوا ہے۔ یہ دعا ، استغاثہ، فریاد، استرحام اور استمداد، سب معنوں کو شامل ہے۔آگے اِسی کو حسرت و افسوس کے ساتھ دہرایا ہے۔

[17]۔ یہ جملہ 'يَدْعُوْا'کا براہ راست مفعول نہیں ہے،بلکہ اوپر والے مفعول 'مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنْفَعُهٗ'پر ایک قسم کا استدراک ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں، صرف یہی نہیں کہ وہ کوئی ضرر یا نفع نہیں پہنچا سکتے ،بلکہستم بالاے ستم ہے کہ اُن کا ضرر اُن کے نفع سے قریب تر ہے۔ اگر کسی ایسے کی پناہ ڈھونڈی جائے جو نہ نفع پہنچا سکے نہ ضرر تو یہ حماقت ہے، لیکن حماقت در حماقت یہ ہے کہ ایسے کی پناہ ڈھونڈی جائے جس کا ضرر تو ثابت و معلوم ہو،لیکن نفع بالکل موہوم۔ جنھوں نے خدا سے تعلق توڑ کر دوسروں کو اپنا ولی و کارساز مانا، انھوں نے اپنا حقیقی سہارا تو ختم کر دیا۔ رہے دوسرے مزعومہ سہارے تو وہ کام آتے ہیں یا نہیں، یہ بعد کی چیز ہے اور یہ بھی اُن کے سامنے آجائے گی۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۲۴)

[18]۔ یعنی مشرکین۔

[19]۔ اوپر فرمایا ہے:'مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ'۔ یہ اُس کے مقابل میں ہے، اِس لیے فعل یہاں کمال فعل کے معنی میں ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔

[20]۔ یہ تسلی کا جملہ ہے کہ مسلمان حالات کی نا مساعدت نہ دیکھیں۔ اُن کا پروردگار جو چاہے، کر سکتا ہے۔ اُس کے ارادوں میں کوئی چیز بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

[21]۔ یعنی خدا کی آزمایش میں اُس سے مایوس اور بدگمان ہو جاتا ہے کہ جس طرح دنیا میں اُس نے اُسے چھوڑ دیا ہے، آخرت میں بھی اِسی طرح بے یارومددگار چھوڑ دے گا۔ چنانچہ خدا سے منہ موڑ کر دوسروں کو اپنا مولیٰ و مرجع بنا لیتا ہے۔

[22]۔ یعنی یہ تصور کرے کہ وہ آسمان کی طرف رسی تان کر اوپر چڑھ رہا ہے، لیکن جب دیکھتا ہے کہ منزل بہت دور ہے تو رنجیدہ ہو کر رسی کو کاٹ دیتا ہے۔ یہ اُنھی لوگوں کے رویے کی نہایت بلیغ تمثیل ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے کہ خدا کی بندگی کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں اور اگر کوئی آزمایش پیش آجائے تو اُس سے امیدیں توڑ کر دوسروں کے دروازے پر آ گرتے ہیں۔ اُنھیں بتایا ہے کہ خدا کی آزمایشوں میں اُس سے رحمت کی امید درحقیقت وہ رسی ہے جو انسان کو سہارا دیتی ہے اور اُسی کو پکڑ کر وہ اوپر کی طرف اٹھتا اور خدا سے قریب ہوتا ہے، لیکن دوری منزل سے گھبرا کر اگروہ غصے میں آجائے اور رسی کو کاٹ دے تو اِس حماقت کا نتیجہ کیا ہو گا؟ آیا اُس کا رنج اور غصہ دور ہو جائے گا یا وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی جس کو قرآن نے آگے اِسی سورہ کی آیت ۳۱میں بیان کیا ہے کہ گویا آسمان سے گر پڑا ہے، اب یا پرندے اُس کو اچک لے جائیں گے یاہوائیں اُس کو کسی گہرے کھڈ میں لے جا کر پھینک دیں گی؟ خدا سے مایوس ہو کر دوسروں کے آستانے پر ماتھا رگڑنے والے بالآخر اِسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ اِس کے برخلاف جو خدا سے امید کی رسی تھامے رہتے ہیں، جلد یا بدیر اُن کے لیے خدا کا ہاتھ نمودار ہوتا ہے اور اوپر چڑھنے کی مشقت سے نجات دلا کر اُن کو اپنے دامن رحمت کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ آیت میں امید کی رسی کاٹ دینے کے اِس فعل کو لفظ 'كَيْد'سے تعبیر کیا ہے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ محض فریب نفس ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان یہ حماقت کرتا ہے۔

[23]۔ یعنی اپنے اِس قانون کے مطابق کہ ہدایت اُنھی کو نصیب ہو گی جو عقل و بصیرت سے کام لیں گے اور جو ہدایت اُن کے اندر ودیعت کی گئی ہے، اُس کی قدر کریں گے، اور جو اندھے بہرے بن جائیں گے، اُن کے دلوں پر مہر کر دی جائے گی، وہ کبھی ہدایت نہ پا ئیں گے۔

اِس میں لفظ 'بَیِّنٰت'کے بعد اور 'وَاَنَّ اللہَ'سے پہلے جملے کا ایک حصہ محذوف ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔

[24]۔ یہود و نصاریٰ اور صابئین کا تعارف سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۶۲کے تحت ہو چکا ہے۔ یہاں مجوس کا اضافہ ہے۔ یہ دین زردتشت کے پیرو تھے۔ عام خیال یہی ہے کہ اِس دین کی بنیادبھی اصلاً توحید خالص پر تھی، لیکن شرک کی گم راہیوں نے اِسے بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا تھا۔ چنانچہ بعثت نبوی کے زمانے میں یہ بھی ثنویت، آتش پرستی اور دوسری مشرکانہ بدعتوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔

[25]۔ یعنی مشرکین عرب جو اصلاً دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔

[26]۔ یہ ایمان والوں کے لیے تسلی اور منکرین کے لیے تہدید و وعید ہے۔ اِس پوری آیت کو دیکھیے تو اِس میں جو اسالیب اختیار کیے گئے ہیں، وہ نہایت قابل توجہ ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

'' اِس آیت میں آپ نے غور کیا ہو گا کہ سب سے پہلے اہل ایمان کا ذکر ہوا ہے اور آخر میں مشرکین کا اور بیچ میں دوسرے مختلف فرقوں کا۔ اِس کی وجہ... یہ ہے کہ اصل فریق کی حیثیت اِس مباحثہ و مناظرہ میں اِنھی دو کو حاصل تھی، باقی گروہوں کی حیثیت ضمنی تھی۔ چنانچہ آگے آیت۱۹میں تصریح بھی ہے کہ اصل فریق دو ہیں: اہل ایمان اور اہل کفر و شرک۔ جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں ہے، وہ اہل کفر میں سے ہے، خواہ وہ کسی نام سے موسوم اور کسی دین کی پیروی کا مدعی ہو۔

آیت میں مختلف گروہوں کے ذکر کے لیے جو اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا ہے، وہ بھی قابل توجہ ہے۔ مسلمانوں اور یہود و مشرکین کا ذکر تو فعل کی شکل میں ہواہے اور صابئین، نصاریٰ اور مجوس کا اسم کی شکل میں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عملاً اِس میدان میں ایک طرف مسلمان تھے، دوسری طرف مشرکین اور یہود۔یہود مشرکین کی حمایت اور اسلام کی مخالفت میں اپنے حسد و عناد کے باعث بہت سرگرم تھے۔ باقی فرقوں کی ہم دردیاں اگرچہ تھیں تو مشرکین ہی کے ساتھ ، لیکن وہ کچھ زیادہ سرگرم نہ تھے۔ اِس وجہ سے معرکے کے اصلی حریفوں کو تو فعل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دوسروں کا ذکر اسم کے ساتھ۔ زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ فعل کے اندر ایک قسم کی سرگرمی کا مفہوم پایا جاتا ہے، جب کہ اسم بالعموم صرف علامت امتیاز کا فائدہ دیتاہے۔''(تدبرقرآن ۵/ ۲۲۸)

[27]۔ یعنی وہ لوگ بھی سربہ سجود ہیں جن کی فطرت سلیم ہے اور جنھوں نے پورے شعور کے ساتھ اپنے ارادہ و اختیار کو خدا کے امر و حکم کے تابع کر دیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوئی ہے جس کی شہادت اِس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم ... اِس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ اِس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپاے، سب خدا کے امر و حکم کے تحت مسخر ہیں۔ اِن میں سے کوئی چیز بھی سرموخدا کے مقرر کیے ہوئے قوانین سے انحراف نہیں اختیار کرتی۔ سورج، جس کو نادانوں نے معبود بنا کر سب سے زیادہ پوجا ہے، خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب و روز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے، دوپہر تک وہ قیام میں رہتا ہے، زوال کے بعد وہ رکوع میں جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت وہ سجدے میں گرجاتا ہے اور رات بھر اِسی سجدے کی حالت میں رہتا ہے۔ اِسی حقیقت کا مظاہرہ چاند اپنے عروج و محاق سے اور ستارے اپنے طلوع و غروب سے کرتے ہیں۔ پہاڑوں، درختوں اور چوپایوں کا بھی یہی حال ہے۔ اِن میں سے ہر چیز کاسایہ ہر وقت قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ اور غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی نظر آئے گی کہ اِس سایے کی فطرت ایسی ابراہیمی ہے کہ یہ ہمیشہ آفتاب کی مخالف سمت میں رہتا ہے۔ اگر سورج مشرق کی سمت میں ہے تو سایہ مغرب کی جانب پھیلے گا اور اگر مغرب کی جانب ہے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف پھیلے گا۔ گویا ہر چیز کا سایہ اپنے وجود سے ہمیں اِس بات کی تعلیم دے رہا ہے کہ سجدے کا اصل سزاوار آفتاب نہیں ،بلکہ خالق آفتاب ہے۔

توحید کی یہ دلیل اشارات کی نوعیت کی ہے، اِس وجہ سے یہ منطق کی گرفت میں نہیں آتی، لیکن نظام کائنات میں تدبر کرنے والوں کی نظرمیں اِن اشارات کی بڑی قدر و قیمت ہوتی ہے:

آں کس است اہل بشارت کہ اشارت داند''

(تدبرقرآن۵/ ۲۲۹)

[28]۔ یعنی اِس کے باوجود کہ خدا نے اپنی بہت سی مخلوقات پر اُن کوفضیلت بخشی تھی، لیکن اُنھوں نے یہ ذلت قبول کر لی کہ اپنے سے فروتر مخلوقات کو معبود مان کر اُن کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔

[29]۔ یہ معطوف علیہ ہے جو عربیت کے اسلوب پر اصل میں حذف کر دیا گیا ہے، یعنی 'اخۡسَئُوۡا فِيْهَا وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ'۔

[30]۔ اصل میں لفظ 'لُؤْلُؤًا' آیا ہے۔ یہ 'اَسَاوِرَ'کے محل پر عطف ہے۔ چنانچہ اِسی بنا پر منصوب ہو گیا ہے۔

[31]۔ یہ حمد و شکر کے اُن کلمات کی طرف اشارہ ہے جو اہل جنت کی زبان پر اُس کی نعمتوں کو دیکھ کر بے تحاشا جاری ہو جائیں گے۔

[32]۔ آیت میں صیغۂ مجہول تشریف و تکریم کے لیے ہے، یعنی فرشتوں کی معیت میں اُس شاہ راہ پر ڈال دیا گیا جو سیدھی اُس دارالمقامہ تک پہنچائے گی جو خداے حمید نے اُن کے قیام کے لیے پسند فرمایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ جنت و دوزخ وغیرہ کے احوال کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہے۔ اُن کو مخاطب کے ذہن سے قریب لانے کے لیے اِس کے سوا چارہ نہیں کہ اُن کی تعبیر کے لیے وہ اسلوب اختیار کیا جائے جس سے مخاطب مانوس ہوں۔ اہل عرب مصریوں اور ایرانیوں کے تمدن سے متاثر تھے، اِس وجہ سے تنعم و رفاہیت کی تعبیر کے لیے وہی اسلوب اختیار کیا جاتا ہے جس میں یا تو خود اُن کے اپنے تصورات تنعم کی جھلک ہوتی ہے یا پھر اُن تصورات کی جھلک ہوتی ہے جن سے فی الجملہ وہ آشنا تھے۔ اِن تصورات میں زمانے کے اختلاف سے بھی بڑا فرق پید اہو جاتاہے، اِس وجہ سے الفاظ کے بجاے ہمیشہ حقیقت پر نظر رکھنی چاہیے۔ بس یہ ماننا چاہیے کہ اہل جنت کو یہ نعمتیں حاصل ہوں گی جو قرآن میں مذکور ہوئیں۔ رہی یہ بات کہ اُن کی اصل حقیقت کیا ہے تو اُن کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ جس طرح بعض اوقات مشاہدۂ حق کے احوال و معاملات کے لیے بادہ و ساغر کی تعبیریں اختیار کی جاتی ہیں، اُسی طرح احوال آخرت کی تعبیر اُن الفاظ و تمثیلات سے کی جاتی ہے جو مخاطب کے لیے قریب الفہم ہوں۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۳۴)

[باقی]

___________