البیان: المؤمنون ۲۳: ۶۸- ۹۲ (۵)


البیان

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

(گذشتہ سے پیوستہ)

اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ﴿۶۸﴾ﶚ اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ﴿۶۹﴾ﶚ اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌﵧ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ﴿۷۰﴾ وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُوَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّﵧ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿۷۱﴾

پھر کیا اِن لوگوں نے اِس کلام پر غور نہیں کیا یا اِن کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو اِن کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی؟ یا اِنھوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں ، اِس وجہ سے اُس کے منکر ہو رہے ہیں ؟ یا کہتے ہیں کہ اُس پرکچھ جنون کا اثر ہے[190]؟ہرگز نہیں ، بلکہ وہ اِن کے پاس حق لے کر آیا ہے، لیکن اِن میں سے اکثر حق سے بے زار ہیں ، (اِس لیے کہ وہ اِن کی خواہشوں کے خلاف ہے)۔ اورواقعہ یہ ہے کہ اگر حق کہیں اِن کی خواہشوں کے (مطابق ہو کر اِن کے) پیچھے چلتا تو زمین اور آسمانوں اور جو اُن کے درمیان ہیں ، سب تباہ ہو جاتے[191]۔ نہیں ، (یہ کسی قصہ گو کی کہانی نہیں ہے)، بلکہ ہم تو اِن کے پاس اِنھی کے حصے کی یاددہانی لائے ہیں [192]، مگر یہ ہیں کہ اپنی ہی یاددہانی سے منہ موڑ رہے ہیں ۔۶۸ -۷۱

اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيْرٌﵲ وَّهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ﴿۷۲﴾ وَاِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴿۷۳﴾ وَاِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِالصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ﴿۷۴﴾ وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ﴿۷۵﴾ وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُوْنَ﴿۷۶﴾ حَتّٰ٘ي اِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيْدٍ اِذَا هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَ﴿۷۷﴾

کیا تم اِن سے کوئی معاوضہ مانگ رہے ہو (کہ جس کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہیں )؟ سو (اِنھیں بتا دو کہ) تمھارے پروردگار کا صلہ (تمھارے لیے) بہتر ہے اور وہ بہترین روزی دینے والا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ تم تو اِنھیں ایک سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہو، مگر جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، وہ سیدھی راہ سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں ۔ (یہ کسی طرح ماننے والے نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ) اگر (ہم اِن کو کسی آزمایش میں ڈالتے، پھر) ہم اِن پر رحم کرتے اور اِن کی تکلیف دور کر دیتے تو اپنی سرکشی میں لگے ہوئے یہ اِسی طرح بھٹکتے رہتے[193]۔ ہم نے اُن کو عذاب میں پکڑ لیا تھا[194] ( جو اگلوں میں اِنھی جیسے تھے)،لیکن نہ اُن کے دل اُن کے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ وہ کبھی گڑ گڑاتے تھے[195]۔ یہاں تک کہ جب اِس طرح کے لوگوں پر ہم سخت عذاب کا دروازہ کھول دیتے ہیں تو دیکھتے ہو کہ اُس میں بالکل مایوس ہو کر رہ گئے ہیں ۔۷۲ -۷۷

وَهُوَ الَّذِيْ٘ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـِٕدَةَﵧ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ﴿۷۸﴾ وَهُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿۷۹﴾ وَهُوَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ وَلَهُ اخْتِلَافُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِﵧ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿۸۰﴾

(لوگو، خدا کی بات سنو کہ) وہی ہے جس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے[196]، (مگر تم پر افسوس)،تم کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔ اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلا رکھا ہے اور(ایک دن آئے گا کہ) اُسی کی طرف سمیٹے جاؤ گے[197]۔ اور وہی ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے اور رات اور دن کی گردش، سب اُسی کے اختیار میں ہے۔ پھر کیا سمجھتے نہیں ہو[198]؟ ۷۸ -۸۰

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ﴿۸۱﴾ قَالُوْ٘ا ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًاءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ﴿۸۲﴾ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَا٘ اِلَّا٘ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ﴿۸۳﴾

یہ نہیں سمجھتے، بلکہ اِنھوں نے بھی وہی بات کہی ہے جو اِن کے اگلوں نے کہی تھی۔ اُنھوں نے کہہ دیا کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟اِسی کا وعدہ ہم سے اور اِس سے پہلے ہمارےبڑوں سے بھی ہوتا چلا آیاہے۔ کچھ نہیں ، محض اگلوں کے افسانے ہیں ۔۸۱- ۸۳

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَا٘ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿۸۴﴾ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِﵧ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿۸۵﴾ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ﴿۸۶﴾سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِﵧ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿۸۷﴾ قُلْ مَنْۣ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿۸۸﴾ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِﵧ قُلْ فَاَنّٰي تُسْحَرُوْنَ﴿۸۹﴾

اِن سے کہو، اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ یہ زمین اور جو اِس میں آباد ہیں ، یہ کس کے ہیں ؟ یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کے ہیں ۔ کہو، تو کیا تم (اِس سے) یاددہانی حاصل نہیں کرتے[199]؟ اِن سے پوچھو، سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟ یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بھی اللہ کے ہیں ۔ کہو، تو اللہ (کے شریک ٹھیرا کر تم اُس) سے ڈرتے نہیں ہو؟ اِن سے پوچھو، اگر تم جانتے ہو[200] تو بتاؤ کہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ پناہدیتا ہے، مگر اُس کے مقابل میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟ یہ ضرور کہیں گے کہ یہ سب اللہ ہی کا اختیار ہے۔ کہو کہ پھر تمھاری مت کہاں ماری جاتی ہے؟۸۴ -۸۹

بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿۹۰﴾ مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۣ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍﵧ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ﴿۹۱﴾ﶫ عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰي عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴿۹۲﴾

نہیں ، کچھ نہیں ، بلکہ ہم اِن کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں ۔ خدا نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور نہ اُس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے[201]۔ اللہ ایسی باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں ، کھلے اور چھپے کا جاننے والا[202]۔ چنانچہ اُن سب چیزوں سے بالاتر ہے جنھیں یہ اُس کا شریک ٹھیراتے ہیں ۔ ۹۰ - ۹۲

_________

[190]۔ یہ زجروملامت کا اسلوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِن میں سے کوئی بات بھی ہوتی تو یہ معذور ٹھیرائے جا سکتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِنھوں نے کلام کو بھی خوب خوب سمجھا ہے، یہ اِس بات سے بھی واقف ہیں کہ یہ وہی ہدایت ہے جو اِن کے آبا ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام لے کر آئے تھے، اِنھوں نے رسول کو بھی اچھی طرح پہچان لیا ہے اور یہ دانش و حکمت اور جنون و سودا کا فرق بھی خوب جانتے ہیں ، مگر اِس کے باوجود انکار کررہے ہیں ۔

[191]۔ اِس لیے کہ پھر خیر کی جگہ شر، عدل کی جگہ ظلم، نیکی کی جگہ بدی، امانت کی جگہ خیانت اور سب سے بڑھ کر توحید اور قیامت کے انکار کی منادی ہوتی اور دنیا کا سارا اخلاقی نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

[192]۔ یعنی وہ یاددہانی جو اِن کی زبان میں ہے اور اِنھی کے اندر کا ایک شخص اِن کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ ہم اِنھیں ایران و توران کے کسی پیغمبر اور کسی کتاب کی پیروی کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں ۔ اہل عرب پر امتنان اور اتمام حجت کا یہ مضمون قرآن کے دوسرے مقامات میں اِسی وضاحت کے ساتھ مذکور ہے۔

[193]۔ مطلب یہ ہے کہ اصل خرابی اِن منکرین کے دلوں میں ہے جو مان کر نہیں دے رہے۔ اِس لیے اطمینان رکھو، تمھاری دعوت میں کوئی پیچ و خم نہیں ہے، وہ تو سیدھی راہ پر چلنے کی دعوت ہے۔

[194]۔ اصل میں 'وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ'کے الفاظ آئے ہیں ، لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہ یہاں 'ولقد أخذنا أشیاعھم'کے معنی میں ہیں ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''... 'هُمْ' سے مراد یہاں قریش نہیں ،بلکہ اُن کے وہ ہم مشرب ہیں جو پچھلی امتوں میں گزر چکے تھے۔ عربی میں غایت مجانست و مشابہت کے اظہار کے مواقع میں اِس طرح ضمیریں آتی ہیں ۔ اِس کی مثالیں قرآن اور کلام عرب میں موجود ہیں ۔ اِس میں یہ بلاغت ہے کہ اُن کو پکڑا تو گویا اِنھی کو پکڑا، اِس لیے کہ مرتکب دونوں ایک ہی جرم کے ہیں ۔''(تدبرقرآن۵/ ۳۳۷)

[195]۔ آیت میں مضارع سے پہلے ایک فعل ناقص محذوف ہے اور گڑ گڑانے کے لیے 'تَضَرُّع' کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ اُس فریاد اور زاری کے لیے آتا ہے جو دل کی خستگی کے نتیجے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ آیت میں 'اِسْتِكَانَة' کا لفظ اِسی خستگی کو بیان کرتا ہے۔

[196]۔ یعنی کس لیے ؟ استاذ امام لکھتے ہیں :

''... اِسی لیے تو کہ اِن سے نصیحت و حکمت کی وہ باتیں جو تمھیں سنائی جا رہی ہیں ، سنو؛ اللہ کی وہ نشانیاں جو آفاق و انفس میں پھیلی ہوئی ہیں اور جن کی طرف تمھیں توجہ دلائی جا رہی ہے، اُن کو دیکھو؛ اور اُن سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں اور جو تمھارے سامنے نہایت واضح طور پر پیش کیے جا رہے ہیں ، اُن پر غور کرو۔ کان، آنکھ اور دل ودماغ کا اصلی مصرف یہی ہے، لیکن تم عجیب شامت زدہ لوگ ہو کہ حق کو حق ماننے کے لیے دلیل کے بجاے تنبیہ کے ڈنڈے کامطالبہ کر رہے ہو!''(تدبرقرآن۵/ ۳۳۸)

[197]۔ یہ ایک ہی جملے میں قرآن نے کمال بلاغت کے ساتھ معاد کے امکان اور اُس کی ضرورت کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے اور توحید کی دلیل بھی واضح کر دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اُسی طرح زمین میں پھیلا دیے گئے ہو، جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں بیج بکھیرتا ہے تو اِسی لیے بکھیرتا ہے کہ ایک دن تمام فصل کو اکٹھا کرکے اپنے کھلیان میں جمع کرے گا اور کبھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی دوسرا بھی اُس کی بوئی ہوئی فصل میں اُس کا شریک ہو جائے۔

[198]۔ یعنی اِس بات کو سمجھتے نہیں ہو کہ جب یہ سارا نظام اُسی کے قبضۂ قدرت میں ہے اور ہر قسم کے اختلافات کے باوجود نہایت سازگاری کے ساتھ کام کر رہا ہے تواُس کے شریک کہاں سے پیدا ہو گئے؟

[199]۔ یعنی اِس بات کی یاددہانی کہ خدا کے سوا کوئی بندگی کا مستحق نہیں ہے اور اُس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ، وہ جب چاہے، تمام جن و انس کو مار کر دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔

[200]۔ یہ الفاظ اوپر بھی آئے ہیں ۔ دونوں جگہ یہ مخاطبین کے تضاد فکر پر تعریض ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِن مدعیان علم سے پوچھو کہ ایک طرف یہ سب باتیں مانتے ہو اور دوسری طرف خدا کے شریک ٹھیراتے اور آخرت کی یاددہانی کی جائے تو کہتے ہو کہ یہ سب اگلوں کے افسانے ہیں ۔ آخر یہ کیا حماقت ہے؟ یہ، اگر غور کیجیے تو اُسی طرح کا تضاد فکر ہے جس میں اِس زمانے کے مسلمان بھی مبتلا ہیں ۔ چنانچہ یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ مشرکین عرب دنیا کی دوسری قوموں کی طرح زمین و آسمان کے الگ الگ دیوتاؤں کے قائل تھے یا اپنے معبودوں کے متعلق یہ تصور رکھتے تھے کہ وہ خدا کے مقابل میں کوئی حیثیت رکھتے ہیں یا زمین و آسمان اور اُن کے درمیان کی چیزوں کے بنانے میں اُن کا بھی کوئی حصہ ہے۔ وہ صرف یہ مانتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا نے اُن کو اپنی خدائی میں شریک بنا لیا ہے، اِس لیے اپنی پوجا پاٹ سے وہ اگر اُنھیں راضی رکھیں گے تو اُن کےطفیل میں خدا بھی اُن سے راضی رہے گا۔

[201]۔ یہ توحید کی ایسی فیصلہ کن دلیل ہے کہ کائنات کی عظمت اور اُس کے نظام کی حیرت انگیز باقاعدگی اور اُس کے مختلف اجزا کی ہم آہنگی کو کھلی آنکھوں سے دیکھ کر کوئی سلیم الطبع شخص ایک لمحے کے لیے بھی کسی مشرکانہ عقیدے کو قابل التفات نہیں سمجھ سکتا۔

[202]۔ یعنی جب خود ہر چیز کا جاننے والا ہے تو اُس کو کیا ضرورت ہے کہ کسی کو اپنا شریک بنائے۔

[باقی]

__________