البیان: المؤمنون ۲۳: ۵۱ - ۶۷ (۴)


البیان

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

(گذشتہ سے پیوستہ)

يٰ٘اَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًاﵧ اِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ﴿۵۱﴾ﶠ وَاِنَّ هٰذِهٖ٘ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ﴿۵۲﴾

(اِن پیغمبروں سے ہم نے یہی کہا کہ) اے پیغمبرو، (تم اِن لوگوں کے توہمات کی پروا نہ کرو[182] اور )پاکیزہ چیزیں (بغیر کسی تردد کے) کھاؤ اور اچھا عمل کرو۔ میں جانتا ہوں جو کچھ تم کرتے ہو[183]۔ یہ تمھاری امت ہے، ایک ہی امت[184] اور میں تمھارا پروردگار ہوں ، سو مجھ سے ڈرتے رہو۔۵۱ -۵۲

فَتَقَطَّعُوْ٘ا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًاﵧ كُلُّ حِزْبٍۣ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿۵۳﴾ فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰي حِيْنٍ﴿۵۴﴾ اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ﴿۵۵﴾ﶫ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرٰتِﵧ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ﴿۵۶﴾

پھر لوگوں نے (اُن کے بعد) اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ اب ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے، وہ اُسی میں مگن ہے۔ سو اِنھیں کچھ دن اِن کی اِس سرمستی میں رہنے دو۔کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو مال اور بیٹے اِن کو دیے جا رہے ہیں تو گویا اِن کو بھلائیاں پہنچانے میں سرگرم ہیں ؟ نہیں ، بلکہ اِن کو حقیقت کا شعور نہیں ہے[185]۔ ۵۳ -۵۶

اِنَّ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ﴿۵۷﴾ﶫ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْيُؤْمِنُوْنَ﴿۵۸﴾ﶫ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُوْنَ﴿۵۹﴾ﶫ وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَا٘ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰي رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ﴿۶۰﴾ﶫ اُولٰٓئِكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ﴿۶۱﴾ وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَلَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ﴿۶۲﴾

البتہ، جو اپنے پروردگار کی ہیبت سے ڈرے رہتے ہیں اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہیں ٹھیراتے اور جو اُس کی راہ میں دیتے ہیں تو جو کچھ دیتے ہیں ، اِس طرح دیتے ہیں کہ اُن کے دل (اِس خیال سے) کانپتے ہیں کہ اُنھیں اپنے پروردگار کی طرف پلٹنا ہے، وہی ہیں جو بھلائیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور وہ اُن کو پاکر رہیں گے ـــــــحقیقت یہ ہے کہ ہم کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے[186]اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو بالکل ٹھیک ٹھیک بتا دے گی (کہ وہ دنیا میں کیا عمل کرتے رہے) اور اُن کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہو گی۔۵۷ -۶۲

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَلَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ﴿۶۳﴾حَتّٰ٘ي اِذَا٘ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ يَجْـَٔرُوْنَ﴿۶۴﴾ﶠ لَا تَجْـَٔرُوا الْيَوْمَﵴ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ﴿۶۵﴾ قَدْ كَانَتْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰي عَلَيْكُمْفَكُنْتُمْ عَلٰ٘ي اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَ﴿۶۶﴾ﶫ مُسْتَكْبِرِيْنَﵲ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ﴿۶۷﴾

نہیں ،( یہ منکرین اِس کو نہیں سمجھتے)،بلکہ اِن کے دل اِس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور (یہی نہیں )، اِن کے مشاغل اِس کے سواہیں ، یہ اُنھی میں پڑے رہیں گے، یہاں تک کہ جب اِن کے خوش حالوں کو ہم عذاب میں پکڑ لیں گے تو یہ فریاد کرنے لگیں گے[187] ـــــــ اب آہ و فریاد نہ کرو، ہماری طرف سے اب تمھاری کوئی مدد نہ ہو گی۔ میری آیتیں تمھیں سنائی جاتی تھیں تو تم پیغمبر کا مذاق اڑاتے ہوئے اُس سے تکبر کر کے [188]الٹے پاؤں بھاگتے تھے، گویا کسی قصہ گو کو چھوڑ رہے ہو[189]۔ ۶۳ -۶۷

________

[182]۔ یعنی اُن مشرکانہ توہمات کی جن کے تحت اِنھوں نے بعض طیبات کو بھی حرام ٹھیرا لیا ہے۔

[183]۔ یعنی نیک یا بد جو کچھ بھی کرتے ہو، اُس کو جانتا ہوں ، اِس لیے نیکی کا صلہ بھی دوں گا اور برائی کا ارتکاب کرنے والوں کو اُس کی سزا بھی لازماًملے گی۔

[184]۔ مطلب یہ ہے کہ دین کے نام پر الگ الگ امتیں لوگوں نے قائم کر رکھی ہیں ۔ خدا نے جو دین تمھیں دیا ہے، وہ ایک ہی ہے، لہٰذا امت بھی اصلاً ایک ہی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''قرآن اِس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ دنیا میں خدا کے جو نبی اور رسول آئے، وہ الگ الگ دینوں کی دعوت لے کر آئے اور اُنھوں نے الگ الگ امتوں کی بنا ڈالی، بلکہ اُس کا دعویٰ یہ ہے کہ ہر نبی نے ایک ہی امت ــــــــ امت مسلمہ ــــــــ کے قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ جب قوموں نے اِس دین میں بگاڑ پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اِس بگاڑ کی اصلاح کے لیے دوسرے نبی اور رسول بھیجے۔ اِن نبیوں اور رسولوں نے اصل دین سے الگ کوئی چیز نہیں پیش کی، بلکہ صرف اصل دین کو قائم کرنے پر اپنا سارا زور صرف کیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت مقتضی ہوئی تو اُنھوں نے اِسی دین کے مزید مقتضیات نمایاں کیے۔ قرآن اِسی مبارک سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ اُس نے اصل دین کو، جس کی دعوت آدم و نوح سے لے کر حضرت مسیح تک ہر نبی نے دی، بالکل نکھار کر، اُس کی اصلی صورت میں پیش کر دیا ہے۔''(تدبرقرآن۵/ ۳۲۶)

[185]۔ یہ لوگوں کو اُن کی بلادت پر تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنی رفاہیت، خوش حالی اور مال و اولاد کی ترقی سے یہ سمجھتے ہیں کہ خدا اُنھی پر مہربان ہے اور یہ اُن کی کامیابی کی دلیل ہے۔ فرمایا کہ یہ اُن کی غلط فہمی ہے۔ وہ سمجھ نہیں رہے ہیں کہ یہ خدا کا استدراج ہے جو اُنھیں ہلاکت کے کھڈ میں گرا دے گا اور وہ اُس سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پاسکیں گے۔

[186]۔ یعنی اپنے بندوں سے جن صفات کا حامل بن کر جینے کا تقاضا کرتے ہیں ، وہ اُن کی مقدرت سے باہر نہیں ہوتیں ۔ ہم نے ہر انسان کو اِس کی طاقت دے کر پیدا کیا ہے کہ امتحان کی دنیا میں وہ اِن صفات کا حامل بن کر زندگی بسر کر سکے اور اِس کے نتیجے میں اپنے استحقاق کی بنیاد پر خدا کی ابدی جنت کا وارث بنے۔

[187]۔ اِس لیے کہ عذاب اصلاً اُن مترفین ہی کے لیے آتا ہے جو اپنی دولت او ر اقتدار کے غرور میں پیغمبر کی تکذیب کرتے ہیں ، لیکن اِس کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی لازماً آجاتے ہیں جو اُن کے اثر و رسوخ کی وجہ سے آخروقت تک اُنھی کے ساتھ شامل رہتے ہیں ۔

[188]۔ اصل میں 'مُسْتَكْبِرِيْنَ بِهٖ'کے الفاظ آئے ہیں ۔ اِن میں ضمیر کا مرجع پیغمبر ہے جس کی تلاوت آیات پیچھے مذکور ہے اور 'ب' اِس بات کا قرینہ ہے کہ اِس میں استہزاکا مفہوم بھی شامل ہو گیا ہے۔ پیغمبرکے مقابلے میں یہی استہزا اور تکبر ہے جس کے عواقب پوری سورہ میں زیر بحث ہیں ۔ اِس لیے یہ مرجع فحواے کلام سے صاف متبادر ہے۔

[189]۔ اصل میں 'سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ' کے الفاظ آئے ہیں ۔اِن میں 'سٰمِرًا' ہمارے نزدیک 'تَهْجُرُوْنَ' کا مفعول ہے جو مقدم ہو گیا ہے۔ یعنی ایک ایسے شخص کو چھوڑ رہے ہو جس کی بات کسی توجہ کے لائق نہیں ہے۔ چنانچہ کئی جگہ مذکور ہے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ کچھ نہیں ، یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں :'اِنْ هٰذآ اِلَّا٘ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ'۔

[باقی]

__________