البیان: المؤمنون ۲۳: ۱- ۱۱ (۱)


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿ۙ۱﴾الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ﴿ۙ۲﴾ وَالَّذِيْنَ هُمْعَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ﴿ۙ۳﴾ وَالَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ﴿ۙ۴﴾وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْحٰفِظُوْنَ﴿ۙ۵﴾اِلَّا عَلٰ٘ي اَزْوَاجِهِمْاَوْ مَامَلَكَتْاَيْمَانُهُمْفَاِنَّهُمْ غَيْرُمَلُوْمِيْنَ﴿ۚ۶﴾فَمَنِ ابْتَغٰي وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ﴿ۚ۷﴾وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْوَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ﴿ۙ۸﴾وَالَّذِيْنَ هُمْعَلٰي صَلَوٰتِهِمْيُحَافِظُوْنَ﴿ۘ۹﴾اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ﴿ۙ۱۰﴾الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَﵧ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ﴿۱۱﴾

اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے ، جس کی شفقت ابدی ہے۔

اپنی مراد کو پہنچ گئے ایمان والے[129] جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں[130] ، جولغویات سے دور رہنے والے ہیں[131] اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے[132] اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ـــــ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا[133] کہ اُن کے بارے میں اُن پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ ہاں، جو اِس کے علاوہ چاہیں تو وہی ہیں جو حد سے بڑھنے والے ہیں[134] ـــــ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں[135] اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں[136]۔ وہی مالک ہونے والے ہیں[137]، جو فردوس[138] کے مالک ہوں گے۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ۱ - ۱۱

____________

[129]۔یعنی اُن کے لیے فیصلہ ہو گیا کہ لازماً فائز المرام ہوں گے۔ یہ مستقبل میں کسی بات کے واقع ہونے کی قطعیت کے اظہار کا اسلوب ہے جو ہماری زبان میں بھی موجود ہے۔ اِس بشارت کا ظہور کب ہو گا؟ اِس کی وضاحت پیرے کے آخر میں کر دی ہے کہ ہمیشہ کے لیے فردوس کی میراث پا لیں گے۔

[130]۔یعنی اپنے پروردگار کے آگے نیاز مندی، تذلل اور عاجزی و فروتنی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ یہی نماز کی اصل روح ہے جو اگر نماز میں موجود ہو تو آدمی محسوس کرتا ہے کہ اُس کی کمر اور اُس کا سر ہی نہیں، اُس کا دل بھی اپنے پروردگار کے آگے سرفگندہ ہو گیا ہے۔

[131]۔اصل میں لفظ 'اللَّغْو'استعمال ہوا ہے۔ یہ ہر اُس بات اور کام کے لیے آتا ہے جو فضول، لا یعنی اور لاحاصل ہو۔مطلب یہ ہے کہ بڑی برائیاں تو ایک طرف، وہ اُن چیزوں سے بھی احتراز کرتے ہیں جو اپنا کوئی مقصد نہ رکھتی ہوں اورجن سے انسان کی زندگی کے لیے کوئی نتیجہ نہ نکلتا ہو۔ اِس میں ضمناً اُن لغویات کی طرف بھی اشارہ ہو گیا ہے جو اُس زمانے میں قرآن کے منکرین سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صادر ہوتی تھیں۔ چنانچہ دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ایمان والے جب کوئی فضول بات سنتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اورتمھارے لیے تمھارے اعمال۔ اِسی طرح فرمایا ہے کہ جب اُن کا گزر کسی بے ہودہ چیز پر ہوتا ہے تو وقار سے گزر جاتے ہیں۔ گویا نہ لغویات میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ اُن لوگوں سے الجھتے ہیں جو اُن میں مبتلا ہوں۔

[132]۔زکوٰۃ سے مراد وہ مال ہے جو نظم اجتماعی کی ضرورتوں کے لیے خدا کے حکم پر اور اُس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیاجاتاہے۔ نماز کی طرح اِس کا حکم بھی انبیا علیہم السلام کے دین میں ہمیشہ موجود رہاہے۔ چنانچہ قرآن کے مخاطبین جانتے تھے کہ اِس کا مصداق کیا ہے۔ یہ اُن کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں تھی کہ اِس کی شرح و نصاب بتا کر اِس کا ذکر کیا جاتا۔ اِن سب چیزوں سے وہ اُسی طرح واقف تھے ، جس طرح نماز کے اعمال واذکار سے واقف تھے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اِس کی حیثیت نمازکے مثنیٰ کی ہے۔ نماز بندے کو خدا سے متعلق کرتی ہے اور یہ اُس کو بندوں سے جوڑتی ہے۔ مراد کو پہنچنے کے لیے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔

[133]۔بیویوں کے ساتھ یہاں لونڈیوں کا ذکر اِس لیے ہوا ہے کہ اُس وقت تک غلامی ختم نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ سورۂ محمد میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کی ممانعت کے باوجود جوغلام پہلے سے معاشرے میں موجود تھے ، اُن کے لیے یہ استثنا باقی رکھنا ضروری تھا۔ بعد میں قرآن نے اُن کے ساتھ لوگوں کو مکاتبت کا حکم دے دیا۔ یہ اِس بات کا اعلان تھا کہ لوح تقدیر اب غلاموں کے ہاتھ میں ہے اوروہ اپنی آزادی کی تحریر اُس پر، جب چاہے، رقم کر سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں غلامی کو معیشت اور معاشرت کے لیے اُسی طرح ناگزیر سمجھاجاتاتھا، جس طرح اب سود کو سمجھاجاتا ہے۔ نخاسوں پر ہر جگہ غلاموں اور لونڈیوں کی خرید وفروخت ہوتی تھی اور کھاتے پیتے گھروں میں ہر سن و سال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔اِس طرح کے حالات میں اگر یہ حکم دیاجاتاکہ تمام غلام اور لونڈیاں آزاد ہیں تو اُن کی ایک بڑی تعداد کے لیے جینے کی کوئی صورت اِس کے سواباقی نہ رہتی کہ مرد بھیک مانگیں اورعورتیں جسم فروشی کے ذریعے سے اپنے پیٹ کا ایندھن فراہم کریں۔یہ مصلحتتھی جس کی وجہ سے قرآن نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا اور اِس سلسلہ کے کئی اقدامات کے بعد بالآخر سورۂنور (۲۴)کی آیت۳۳میں مکاتبت کا وہ قانون نازل فرما یا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کے بعد نیکی اور خیر کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کسی شخص کو بھی غلام بنائے رکھنے کی گنجایش باقی نہیں رہی۔

[134]۔مطلب یہ ہے کہ رہبانیت مقصود نہیں ہے۔ بیویوں کے ساتھ شہوانی تعلق بالکل جائز ہے۔ لیکن اُن کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ، خواہ وہ زنا اور متعہ کی صورت میں ہو یا اغلام اوروطی بہائم کی صورت میں ، یہ تعلق بالکل ممنوع ہے۔ کسی مسلمان سے اِس کی توقع نہیں کی جاتی۔ تاہم اتنی بات واضح رہے کہ آیت کے الفاظ میں اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ اِس ممانعت کو دوسروں کے ساتھ جنسی تعلق سے آگے استمنا بالید اور اِس نوعیت کے دوسرے افعال تک بھی وسیع کر دیا جائے۔اِس کی دلیل یہ ہے کہ آیت میں 'عَلٰی''يُحَافِظُوْنَ'کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا، اِس لیے یہاں لازماً تضمین ہے اور 'حٰفِظُوْنَ'کے بعد 'عن الوقوع علٰی أحد'یا اِس کے ہم معنی الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ مستثنیٰ منہ استمناکے طریقے نہیں، بلکہ افراد ہیں جن سے کوئی شخص جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ آیت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں سے مباشرت کے سوا قضاے شہوت کا کوئی طریقہ جائز نہیں ہے، بلکہ یہ ہیں کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے سوا کسی سے قضاے شہوت کرنا جائز نہیں ہے۔

[135]۔دین کے تمام اخلاقیات کے لیے یہ نہایت جامع تعبیر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

'' 'اَمٰنٰت' سے مراد وہ تمام امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں، فرائض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اموال و اولاد کی صورت میں ہمارے حوالے کی ہیں ـــــاور وہ امانتیں بھی اِس میں داخل ہیں جو کسی نے ہمارے پاس محفوظ کی ہوں یا ازروے حقوق اُن کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہو۔ اِسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لیے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطے سے، اپنی شریعت کی شکل میں، اِس دنیا میں لیے ہیں۔ علیٰہٰذاالقیاس وہ تمام عہد و میثاق بھی اِس میں داخل ہیں جو ہم نے اپنی فطرت یا انبیا علیہم السلام کے واسطے سے اپنے رب سے کیے ہیں یا کسی جماعت یافرد سے اِس دنیا میں کیے ہیں، خواہ وہ قولاً و تحریراً عمل میں آئے ہوں یا ہر شایستہ سوسائٹی میں بغیر کسیتحریر و اقرار کے سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے اِن تمام امانات اور اِن تمامعہودو مواثیق کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں۔ نہ اپنے رب کے معاملے میں خائن اور غدار ہیں، نہ اُس کے بندوں کے ساتھ بے وفائیاور عہد شکنی کرنے والے ہیں۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۹۹)

[136]۔اوپر نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور یہ اُسی پر ختم ہوا ہے۔ اِس سے دین میں نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہی درحقیقت اُن تمام مکارم اخلاق کی محافظ ہے جو دین میں مطلوب ہیں اور اِس لحاظ سے دین پر قائم رہنے کی ضمانت ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان کے حملے اُس کے بعد بھی جاری رہتے ہیں، لیکن نماز پر مداومت کے نتیجے میں اُس کے لیے مستقل طور پر انسان کے دل میں ڈیرے ڈال دینا ممکن نہیں ہوتا۔ نمازاُسے مسلسل دور بھگاتی اور ایک حصار کی طرح اُس کے حملوں سے انسان کے دل و دماغ کی حفاظت کرتی رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خطرے کی حالت میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ پیدل یا سواری پر، جس طرح ممکن ہو، اُسے لازماً ادا کیا جائے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے بعض دوسرے پہلوؤں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''... شروع میں نماز کا ذکر اُس کی روح، یعنی 'خشوع' کے پہلو سے ہوا اور آخر میں اُس کی محافظت ،اُس کے رکھ رکھاؤ اور اُس کی دیکھ بھال کے پہلو سے ہوا، اِس لیے کہ وہ برکات جو نماز کی بیان ہوئی ہیں، اُسی صورت حال میں حاصل ہوتی ہیں، جب اُس کے اندر خشوع کی روح ہو اور اُس کی برابر رکھوالی بھی ہوتی رہے۔ یہ باغ جنت کاپودا ہے جو پوری نگہداشت کے بغیر پروان نہیں چڑھتا۔ ذرا غفلت اور ناقدری ہو جائے تو یہ بے ثمر ہو کے رہجاتاہے، بلکہ اِس کے بالکل ہی سوکھ جانے کا ڈر پیدا ہوجاتاہے۔ اگر اِس کی حقیقی برکات سے بہرہ مند ہونے کی آرزو ہے تو شیاطین کی تاخت سے اِس کوبچائیےاور وقت کی پوری پابندی کے ساتھ آنسوؤں سے اِس کو سینچتے رہیے۔ تب کچھ اندازہ ہو گا کہ رب نے اِس کے اندر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے!''(تدبرقرآن۵/ ۲۹۹)

[137]۔اصل میں لفظ 'الوٰرِثُوْنَ' استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں اِس کے استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہا اِس میں تجرید ہو جاتی ہے اور یہ محض مالک ہو جانے کے مفہوم میں بھی آجاتاہے۔ ہمارے نزدیک یہاں بھی یہی ہوا ہے۔

[138]۔ یہ جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے اور قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایاجاتاہے۔ قرآن میں یہ دو جگہ استعمال ہوا ہے،ایک یہاں اور ایک سورۂ کہف (۱۸)کی آیت۱۰۷میں۔ وہاں یہ جس طریقے سے استعمال ہوا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت کے لیے علم ہو چکا ہے۔

[باقی]

__________