البیان: المؤمنون ۲۳: ۹۳- ۱۱۸ (۶)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(گذشتہ سے پیوستہ)

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ٩٣۹۳ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ٩٤۹۴ وَاِنَّا عَلٰ٘ي اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ٩٥ ۹۵

تم دعا کرو، (اے پیغمبر) کہ میرے پروردگار، اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے[203]جس سے اِنھیں ڈرایا جا رہا ہے تو پروردگار، مجھے اِن ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم پوری قدرت رکھتے ہیں کہ جس عذاب سے ہم اِن کو ڈرا رہے ہیں، وہ (تمھاری آنکھوں کے سامنے لے آئیں اور) تمھیں دکھا دیں[204]۔ ۹۳ - ۹۵

اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَﵧ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ۹۶ وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ۹۷ وَاَعُوْذُبِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ۹۸

تم اِن کی برائی کے جواب میں اچھائی کی بات کرو۔ یہ جو کچھ ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، ہم اُس سے خوب واقف ہیں۔ اور دعا کرتے رہو کہ پروردگار، میں شیاطین[205] کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میرے پروردگار، اِس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں[206]۔۹۶ - ۹۸

حَتّٰ٘ي اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ۹۹ لَعَلِّيْ٘ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّاﵧ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَاﵧ وَمِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰي يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۱۰۰ فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَا٘ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَّلَا يَتَسَآءَلُوْنَ۱۰۱ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۱۰۲ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْ٘ا اَنْفُسَهُمْ فِيْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ۱۰۳ تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ۱۰۴ اَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰي عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ۱۰۵ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَآلِّيْنَ۱۰۶ رَبَّنَا٘ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ۱۰۷ قَالَ اخْسَـُٔوْا فِيْهَا وَلَا تُكَلِّمُوْنِ۱۰۸ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا٘ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ۱۰۹ فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِيًّا حَتّٰ٘ي اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِيْ وَكُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ۱۱۰ اِنِّيْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوْ٘اﶈ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ۱۱۱

(یہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئیں گے)،یہاں تک کہ جب اِن میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہو گی تو کہے گا کہ پروردگار، آپ لوگ مجھے واپس بھیج دیںقُلْ ر[207] کہ جو کچھ چھوڑ آیا ہوں، اُس میں کچھ نیکی کما لوں۔ ہرگز نہیں، یہ محض ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے[208]۔اِن کے آگے اب اُس دن تک ایک پردہ ہو گا، جب یہ اٹھائے جائیں گے۔پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اُس دن اِن کے درمیان نہ کوئی رشتہ رہے گا اور نہ یہ ایک دوسرے سے مدد مانگ سکیں گے۔ اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے، وہی ہیں جو فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے، سو وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ اُن کے چہروں کو آگ جھلس دے گی اور اُن کے منہ اُس میں بگڑے ہوئے ہوں گے[209] ــــــ کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں، پھر تم اُنھیں جھٹلا دیتے تھے؟ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی اور ہم واقعی گم راہ لوگ تھے۔اے ہمارے رب، ہمیں یہاں سے( ایک مرتبہ) نکال دے، اِس کے بعد اگر ہم دوبارہ ایسا کریں گے تو یقیناً ہم ہی ظالم ہوں گے۔ حکم ہو گا: دور ہو، اِسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ میرے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے[210] جو دعا کرتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لے آئے ہیں، سو تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے تو تم نے اُن کا مذاق بنایا، یہاں تک کہ اُنھوں نے (گویا) ہماری یاد بھی تمھیں بھلا دی[211] اور تم اُن کی ہنسی اڑاتے رہے۔ آج اُن کے صبر کا میں نے اُن کو صلہ دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں۔۹۹ - ۱۱۱

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ۱۱۲ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ۱۱۳ قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۱۱۴

(اُس وقت) ایک کہنے والا کہے گا:[212]برسوں کے شمارسے تم کتنی مدت زمین میں رہے ہو گے؟ وہ جواب دیں گے: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ، مگر یہ بات تم اُن سے پوچھو جو شمار کرنے والے ہوں[213]۔ کہنے والا کہے گا: تم تھوڑی ہی مدت رہے۔ اے کاش، تم جانتے ہوتے[214]۔۱۱۲ - ۱۱۴

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ۱۱۵ فَتَعٰلَي اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا٘ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ۱۱۶ وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖﵧ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۱۱۷ وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ۱۱۸

(لوگو، تم اِس دن سے بے پروا بیٹھے ہو) تو کیا تم نے خیال کیا ہے کہ ہم نے تمھیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟ سوبہت برتر ہے[215]اللہ، بادشاہ حقیقی،[216]اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے[217]، عرش کریم کا مالک[218]۔ اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکاریں جس کے لیے اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو اُن کا حساب اُن کے پروردگار کے ہاں ہو گا۔ (وہ منکرین ہیں اور) اِس میں شبہ نہیں کہ منکرین ہرگز فلاح نہ پائیں گے[219]۔ (تم اِن کو اب اِن کے حال پر چھوڑو، اے پیغمبر)، اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے[220]۔ ۱۱۵ - ۱۱۸

____________

[203]۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ قوم سے پیغمبر کی ہجرت اگر وفات کی صورت میں ہو تو یہ عذاب اُس کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد آتا ہے، جیسا کہ مسیح علیہ السلام کے معاملے میں ہوا۔

[204]۔ یہ آخری انذار ہے جس پر سورہ ختم ہو رہی ہے۔ انتہائی نا مساعد حالات میں اِس دعا کی تلقین صاف بتا رہی ہے کہ پیغمبر اورآپ کے ساتھیوں کے لیے غلبہ و نصرت کا ظہور اب ہونے ہی والا ہے اور یہ آپ کی حیات مبارک میں ہو گا جس کے نتیجے میں آپ کے منکرین لازماً ہلاک کر دیے جائیں گے۔ اِس موقع پر ظالموں سے الگ کر دینے کی درخواست کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ نہایت لطیف طریقے پر ہجرت کا اشارہ ہے جو عذاب سے پہلے پیغمبرانہ دعوت کا ایک لازمی مرحلہ ہے۔

[205]۔ اِس سے مراد شیاطین جن بھی ہیں جو دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور شیاطین انس بھی جن کا رویہ یہاں زیر بحث ہے۔

[206]۔ یعنی وسوسہ اندازی کے لیے یا اگر شیاطین انس ہوں تو بحث و جدال اور شرو فساد کے لیے میرے پاس آئیں۔

[207]۔ اصل میں 'رَبِّ ارْجِعُوْنِ'کے الفاظ آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خطاب کرکے جمع کے صیغے میں یہ درخواست اِس لیے کی گئی ہے کہ اُس وقت اللہ سامنے نہیں ہو گا، بلکہ اُس کے فرشتے ہی اُس کو گرفتار کرنے کے لیے اُس کے گردوپیش کھڑے ہوں گے۔

[208]۔ یعنی اپنی حسرت کا اظہار کر رہا ہے، ورنہ یہ بات کہاں ہونے والی ہے، اِس کا وقت تو ہمیشہ کے لیے گزر چکا ہے۔

[209]۔ مطلب یہ ہے کہ بدشکل ہو رہے ہوں گے۔

[210]۔ اصل میں 'فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ'کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں لفظ 'فَرِيْق'سے مراد خاص طور پر غرباے مسلمین ہیں جو بالعموم مذاق اور استہزا کا ہدف بنائے جاتے تھے۔

[211]۔ یعنی اُن کا مذاق اڑانے میں ایسے مشغول ہوئے کہ تمھیں یاد ہی نہیں رہا کہ تمھارا کوئی خدا بھی ہے اور وہ تمھاری اِن حرکتوں کو دیکھ رہا ہے۔

[212]۔ اصل میں 'قٰلَ' کا لفظ ہے۔ اِس کا فاعل اللہ تعالیٰ یا اُس کا کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ یہ یہاں 'قَالَ قَائِلٌ'کے مفہوم میں ہے۔ سورۂ طٰہٰ(۲۰) کی آیات ۱۰۲ - ۱۰۴ میں اِس کی وضاحت ہو گئی ہے کہ یہ مکالمہ اِنھی لوگوں کے درمیان آپس میں ہو گا۔

ّ [213]۔ یہ جواب دینے والوں کی طرف سے بے زاری کا اظہار ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں، گویا جس زندگی کے طول اور اُس کے عیش پر ریجھے ہوئے تھے، آج اُس کے متعلق کوئی سوال بھی طبیعت پر گراں گزر رہا ہے۔

[214]۔ یعنی اِس بات کو جانتے کہ یہی تھوڑی سی مدت ہے جو خدا نے ابدی نعمت یا نقمت کو پانے کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔

[215]۔ یعنی اِس بات سے برتر کہ وہ کوئی کام عبث کرے اور محض کھیل تماشے کے طور پر یہ عظیم کائنات پیدا کر ڈالے۔

[216]۔ اِس لیے لازماً انصاف کا ایک دن لائے گا اور ظالم و مظلوم، دونوں کے لیے جزا و سزا کا فیصلہ کرے گا۔

[217]۔ لہٰذا اُس کے فیصلے پر اُس دن کوئی اثر انداز بھی نہ ہو سکے گا۔

[218]۔ چنانچہ اُس کی بارگاہ سے وہی فیصلے صادر ہوں گے جو کسی کریم کے تخت سے صادر ہو سکتے ہیں۔

[219]۔ سورہ کی ابتدا 'قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ'سے ہوئی تھی۔ اُس کے بعد انذار کا مضمون شروع ہوا اور دیکھیے کہ اب یہ 'لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ'پر ختم ہو رہی ہے۔

[220]۔ یہ وہی دعا ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔قرآن نے بتایا ہے کہ متکبرین اِس کا مذاق اڑاتے تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...اِس دعا کی تلقین سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اپنے اِسی موقف پر ڈٹے رہواور یہی دعا کرتے رہو۔ یہی تمھارے لیے مغفرت ورحمت کے دروازے کی کلید ہے۔ یہ دعا کے اسلوب میں اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کی بشارت ہے۔'' (تدبرقرآن۵/ ۳۵۰)

کوالالمپور

۱۵ ؍ جون ۲۰۱۳ء

__________