البیان: المؤمنون ۲۳: ۲۳ - ۵۰ (۳)


البیان

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

(گذشتہ سے پیوستہ)

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗﵧ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿۲۳﴾ فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَا٘ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْﶈ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْﵧ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةًﵗ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْ٘ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ﴿۲۴﴾ﶔ اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۣ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰي حِيْنٍ﴿۲۵﴾

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ﴿۲۶﴾ فَاَوْحَيْنَا٘ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُﶈ فَاسْلُكْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْﵐ وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاﵐ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿۲۷﴾

فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَي الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ﴿۲۸﴾ وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ﴿۲۹﴾ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّاِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ﴿۳۰﴾

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۣ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ﴿۳۱﴾ﶔ فَاَرْسَلْنَا فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗﵧ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿۳۲﴾ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَاَتْرَفْنٰهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاﶈ مَا هٰذَا٘ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْﶈ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ﴿۳۳﴾ﶟ وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ﴿۳۴﴾ﶫ اَيَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ﴿۳۵﴾ﶟ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ﴿۳۶﴾ﶟ اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ﴿۳۷﴾ﶟ اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِۨفْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا وَّمَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِيْنَ﴿۳۸﴾

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ﴿۳۹﴾ قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ﴿۴۰﴾ﶔ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءًﵐ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ﴿۴۱﴾

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۣ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَ﴿۴۲﴾ﶠ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ﴿۴۳﴾ﶠ ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَاﵧ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَﵐ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ﴿۴۴﴾ ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰي وَاَخَاهُ هٰرُوْنَﵿ بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ﴿۴۵﴾ﶫ اِلٰي فِرْعَوْنَ وَمَلَا۠ئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَ﴿۴۶﴾ﶔ فَقَالُوْ٘ا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ﴿۴۷﴾ﶔ فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ﴿۴۸﴾ وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ﴿۴۹﴾

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ٘ اٰيَةً وَّاٰوَيْنٰهُمَا٘ اِلٰي رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ﴿۵۰﴾

(اور وہ کشتی بھی یاد ہے جس میں طوفان سے نکلے تھے)؟ ہم [158]نے نوح کو اُس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا تو اُس نے دعوت دی کہ میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو۔ اُس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا ( اُس کے شریک ٹھیرا کر تم اُس کے غضب سے) ڈرتے نہیں ہو؟ اُس نے یہ دعوت دی تو اُس کی قوم کے سرداروں نے جو منکر تھے، کہا کہ یہ تو بس تمھارے جیسا ایک آدمی ہے۔ یہ تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے[159]۔ اللہ کو اگر بھیجنا ہوتا تو فرشتے اتارتا۔ ہم نے اِس طرح کی بات اپنے اگلے بزرگوں میں تو کبھی سنی نہیں [160]۔ کچھ نہیں، یہ ایک آدمی ہے کہ جس کو جنون لاحق ہو گیا ہے۔ سو کچھ دن اِس کا انتظار کرو، (اِس کے یہ وساوس ختم ہو جائیں گے) [161]۔۲۳- ۲۵

نوح نے دعا کی کہ میرے پروردگار، اب تو اُسی چیز سے[162] میری مدد فرما جس میں اُنھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ سو ہم نے اُس کی طرف وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق کشتی بناؤ[163]۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے اور طوفان ابل پڑے[164] تو اُس میں ہر قسم کے (جانوروں[165] کے) جوڑے رکھ لو، (نر و مادہ)دو دو اور ( اُن کے ساتھ) اپنے لوگوں کو بھی سوار کرا لو،اُن میں سے سو اے اُن کے جن کے بارے میں پہلے فیصلہ ہو چکا ہے اور مجھ سے اُن لوگوں کے بارے میں کچھ نہ کہنا[166]جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، وہ لازماً غرق ہو کے رہیں گے۔۲۶ - ۲۷

پھر جب تم اور تمھارے ساتھی کشتی میں سوار ہو لیں تو کہو کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے اِن ظالم لوگوں سے ہمیں نجات عطا فرمائی ہے اور دعا کروکہ میرے پروردگار، تو مجھے برکت کا اتارنا اتار اور تو بہترین اتارنے والا ہے[167]۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس سرگذشت میں بڑی نشانیاں ہیں[168] اور آزمایش تو ہم کرتے ہی ہیں [169]۔۲۸ - ۳۰

پھر اِن کے بعد ہم نے ایک دوسری قوم اٹھائی [170]اور اُن میں بھی ایک رسول[171] اُنھی کے اندر سے اِس دعوت کے ساتھ بھیجا[172] کہ اللہ کی بندگی کرو۔اُس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا ( اُس کے شریک ٹھیرا کر تم اُس کے غضب سے) ڈرتے نہیں ہو؟ اُس کی قوم کے سرداروں نے، جو منکر تھے، جنھوں نے آخرت کی ملاقات کو جھٹلادیا تھا اور دنیا کی زندگی میں جن کو ہم نے آسودہ کر رکھا تھا[173]،کہا کہ یہ تو بس تمھارے جیسا ایک آدمی ہے۔ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی بات مان لی تو اُس وقت ضرور گھاٹے میں رہو گے۔ کیا یہ تمھیں ڈراتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو اپنی قبروں سے لازماًنکالے جاؤ گے؟ بعید، بالکل بعید ہے یہ ڈراوا جو تمھیں سنایا جا رہا ہے۔ زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے۔ ہم( یہیں ) مرتے اور جیتے ہیں اور ہم کو ہرگز اٹھنا نہیں ہے۔ کچھ نہیں،یہ ایک آدمی ہے جس نے خدا پر ایک جھوٹ گڑھا ہے اور ہم اِس کو ہرگز ماننے والے نہیں ہیں۔ ۳۱ - ۳۸

(اِس پر) رسول نے دعا کی کہ میرے پروردگار، اب تو اُسی چیز سے میری مدد فرما جس میں اُنھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ ارشاد ہوا:اب زیادہ دیر نہیں ہوگی کہ یہ پچھتاتے رہ جائیں گے۔ پھر اُن کو ہمارے وعدۂ حق کے مطابق ایک سخت ڈانٹ[174] نے آلیا اور ہم نے اُن کو خس و خاشاک کردیا۔ سو ایسے ظالم لوگوں پر خدا کی لعنت!۳۹ - ۴۱

پھر اِن کے بعد ہم نے دوسری قومیں اٹھائیں۔(اُنھوں نے بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا، چنانچہ) کوئی قوم نہ اپنے لیے مقرروقت سے آگے جاتی تھی، نہ پیچھے رہتی تھی[175]۔ پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے۔ (لیکن ہوا یہی کہ) جب بھی کسی قوم کے پاس اُس کا رسول آیا، اُنھوں نے اُس کو جھٹلا دیا تو ہم نے بھی اُن قوموں میں سے ایک کے پیچھے ایک کو لگایا اور اُن کو کہانیاں بنا دیا۔سو اُن لوگوں پر لعنت جو (رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود) ایمان نہیں لاتے[176]!۴۲ – ۴۴

پھر موسیٰ اور اُس کے بھائی ہارون کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی حجت[177] کے ساتھ فرعون اور اُس کے درباریوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو اُنھوں نے بھی تکبر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے۔ چنانچہ اُنھوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کی بات مان لیں، دراں حالیکہ اُن کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہے[178]؟سو اُنھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا اور بالآخر ہلاک ہو کر رہے۔ اور ہم نے موسیٰ کو (یہ انعام دیا کہ اُس کو)کتاب عطا کر دی تاکہ اُس کی قوم کے لوگ ( اُس سے) رہنمائی حاصل کریں۔ ۴۵- ۴۹

اور مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو بھی ہم نے اِسی طرح ایک عظیم نشانی بنایا[179] اور (ایک بڑی آزمایش کے وقت[180]) دونوں کو ایک ٹیلے پر پناہ دی جو اطمینان کی جگہ تھی اور وہاں ( اُن کے لیے) ایک چشمہ جاری تھا[181]۔۵۰

____________

[158]۔ یہاں سے آگے اُسی مدعا کا اثبات تاریخ کے شواہد سے کیا ہے، جس پر پیچھے انفس و آفاق کے شواہد پیش فرمائے ہیں۔لیکن اِس کے لیے ایک نہایت خوب صورت اور بلیغ تخلیص یا گریز کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ چنانچہ کشتی کے ذکر سے اُس واقعے کا ذکر، جس میں لوگوں نے کشتی کے ذریعے سے نجات پائی تھی، بالکل اِس طرح آگیا ہے، گویا بات سے بات پیدا ہو گئی ہے۔

[159]۔ یعنی تم پر اپنے خدائی فرستادہ ہونے کی دھونس جما کر تمھارا لیڈربننا چاہتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...(اِس فقرے کی) بلاغت پر نگاہ رہے۔ یہ نہیں کہا کہ ہماری لیڈری چھیننا چاہتا ہے، بلکہ یہ کہا کہ تم پر اپنی سیادت قائم کرنا چاہتا ہے۔ اِس زہر آلود فقرے میں سادہ لوح عوام کو بھڑکانے کے لیے جو مواد موجود ہے، وہ اہل نظر سے مخفی نہیں ہے۔''(تدبرقرآن۵/ ۳۱۳)

[160]۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو ہمارے جیسا ایک انسان ہماری کیا رہنمائی کرے گا۔ اِس کے لیے اگر کسی کو آنا تھا تو خدا کا کوئی فرشتہ آنا چاہیے تھا۔ پھر ستم بالاے ستم یہ ہے کہ جو کچھ یہ پیش کر رہا ہے، وہ بھی سراسر بدعت و ضلالت اور ہمارے باپ دادا کے طریقوں کے بالکل خلاف ہے۔

[161]۔ یہ اُنھوں نے اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ عذاب و ثواب کے جو قصے سنائے جارہے ہیں، اُنھیں اِس شخص کے وساوس سمجھ کر نظر انداز کر دیں اور اِس کے رعب میں نہ آئیں۔

[162]۔ یعنی اُسی عذاب سے جس کی میں اِنھیں وعید سناتا رہا ہوں اور یہ اُس کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ سورۂ نوح میں اِس کی تفصیل فرما دی ہے۔

[163]۔ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کشتی کا سارا نقشہ، اِس کی جزئیات کی تفصیل کے ساتھ، اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خود بتایا تھا تاکہ جس صورت حال سے سابقہ پیش آنے والا ہے، یہ اُس کا مقابلہ کر سکے۔

[164]۔ اصل میں 'فَارَ التَّنُّوْرُ' کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اُسی طرح کا ایک محاورہ ہے، جس طرح 'حمي الوطيس' وغیرہ محاورات ہیں۔ اِن میں الفاظ کے معنی نہیں، بلکہ اِن کا وہ مفہوم پیش نظر ہوتا ہے جو اہل زبان اِن سے سمجھتے ہیں۔

[165]۔ یہ معہود ذہنی کے لحاظ سے ہے، یعنی ہر اُس جانور کے جوڑے جس کی طوفان کے بعد ضرورت ہو سکتی ہے۔

[166]۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ اپنی قوم کو طوفان میں غرق ہوتے دیکھ کر رأ فت و رحمت کا جذبہ ابھرے، اِس کے باوجود کچھ نہ کہنا۔ اِس لیے کہ خدا جب کسی قوم پر اتمام حجت کے بعد عذاب کا فیصلہ کر دیتا ہے تو پھر کسی کے لیے بھی دعا یا سفارش کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔

[167]۔ یہ ہجرت کی دعا ہے جو محض دعا نہیں ہوتی، بلکہ دعا کے پیرایے میں ایک عظیم بشارت بھی ہوتی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...مطلب یہ ہے کہ اب تمھارے رب نے تمھیں ناپاکوں اور ناہنجاروں کے ماحول سے نجات دی۔ اب وہ تمھیں بہترین میزبان کی طرح اتارے گا اور جہاں اتارے گا، اُس سرزمین کو تمھارے لیے مبارک بنائے گا، تم پھولو پھلو گے اور اِنھی چند افراد اور تھوڑے سے وسائل معاش سے یہ دنیا پھر آباد و معمور ہو گی۔'' (تدبر قرآن ۵/ ۳۱۷)

[168]۔ یعنی اِس بات کی نشانیاں کہ پیغمبر برحق تھے اور جس طرح یہ قیامت صغریٰ برپا ہوئی ہے، اُسی طرح وہ بڑی قیامت بھی لازماً برپا ہو جائے گی جس کی وہ منادی کرتے رہے ہیں۔

[169]۔ مطلب یہ ہے کہ فوزو فلاح کے اِس مرحلے تک پہنچنے کے لیے نوح علیہ السلام اور اُن کے ساتھی جن امتحانوں سے گزرے، اُن سے بہرحال اُن کو گزرنا تھا، اِس لیے کہ یہی اُس اسکیم کا تقاضا ہے جس کے مطابق یہ دنیا بنائی گئی ہے۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو نہایت بلیغ اسلوب میں مخاطبین کو توجہ دلا دی ہے کہ اِس وقت جو حالات پیغمبر اور اُن کے ساتھیوں کو درپیش ہیں، اُن سے بھی کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، وہ اِسی اسکیم کے مطابق درپیش ہیں۔ یہ ایک سنت الہٰی ہے اور یہ کسی کے لیے تبدیل نہیں ہوتی۔

[170]۔ یہ اشارہ عاد و ثمود کی طرف ہے جن کی سرگذشتیں سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکی ہیں۔

[171]۔ یعنی عاد کی طرف ہود اور ثمود کی طرف صالح۔

[172]۔ آیت میں 'اَنْ' ہے جس سے پہلے ایک مضاف عربیت کے اسلوب پر محذوف ہے۔ یہ اُسی کا ترجمہ ہے۔

[173]۔ یہ صفات اِس طرح بیان ہوئی ہیں کہ اُن کی سرکشی اور رعونت کا اصل سبب نمایاں ہو گیا ہے، جس سے وہ پیغمبر کی معنوی عظمت کو دیکھنے سے قاصر رہے اور اُس کے ظاہر کو دیکھ کر یہ خیال کیا کہ ہم ایک ایسے شخص کی برتری کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں جس کے پاس نہ دولت ہے نہ اقتدار؟

[174]۔ یہ عذاب الہٰی کی تعبیر ہے جو قرآن میں اُس کی ہر صورت کے لیے اختیار کی گئی ہے۔ اِس کو آواز کے عذاب کے ساتھ خاص کر دینا صحیح نہیں ہے۔

[175]۔ یہ مخاطبین کو تنبیہ ہے کہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ تم سے پہلے جن قوموں نے پیغمبروں کی تکذیب کی، اُن میں سے کوئی بھی اپنی اجل کو نہ پہلے بلا سکی، نہ آنے کے بعد ٹال سکی، لہٰذا تمھارا پیمانہ بھر جائے گا تو تم بھی اِسی طرح فنا کر دیے جاؤ گے۔ تمھارے لیے مہلت کی جتنی مدت ہے، وہ تمھارے جلدی مچانے سے کم نہیں ہو گی۔ خدا نے اُسے اپنی حکمت کے مطابق مقرر کیا ہے۔ وہ پوری ہو جائے گی تو ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہو گی۔ خدا کا فیصلہ ٹھیک اُسی وقت نافذ ہو جائے گا۔

[176]۔ اِس سے مترشح ہے کہ جو لوگ رسولوں کی طرف سے براہ راست اتمام حجت کے بعد بھی ایمان نہیں لائے، اُن پر خدا کا غضب بدستور باقی ہے۔ چنانچہ آج بھی اُن کا ذکر آئے تو خدا اُن پر لعنت کرتا ہے۔

[177]۔ نشانیوں سے مراد معجزات ہیں جو فرعونیوں کی تنبیہ کے لیے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو دیے گئے اور کھلی حجت عصا کے معجزے کو کہا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''... یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ اِس معجزے کو درحقیقت ایک برہان اور حجت قاطع کی حیثیت حاصل تھی، اِس وجہ سے اِس کو 'سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ' سے تعبیر فرمایا۔ اِسی معجزے کے ذریعے سے فرعون اور اُس کے درباریوں نے اپنی قوم اور اپنے تمام ماہر جادوگروں کے سامنے نہایت رسوا کن شکست کھائی۔ قرآن میں بعض جگہ اِس کو 'بَيِّنَة' سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی نہایت واضح حجت۔ لفظ 'سُلْطٰن' سورۂ رحمٰن کی آیت 'لَاتَنْفِذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ' میں توقیع الہٰی اور سند خداوندی کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اِس اعتبار سے بھی معجزۂ عصا کے لیے یہ لفظ نہایت موزوں ہے، اِس لیے کہ اِس کی حیثیت حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں فی الواقع ایک خدائی سند ہی کی تھی۔''(تدبرقرآن۵/ ۳۲۱)

[178]۔ یہ اُن کے تکبر کی وضاحت ہے کہ اُنھوں نے اپنے آپ کو حق سے بالاتر سمجھا اور اُس کو محض اِس لیے جھٹلا دیا کہ وہ اُن کے غلاموں کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔

[179]۔ اصل میں لفظ 'اٰيَة' آیا ہے۔ اِس کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی اپنے وجود، اپنی دینونت اور پورے عالم کے لیے ایک ایسے دن کی عظیم نشانی، جب زمین ایک نئی زمین میں اور آسمان ایک نئے آسمان میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

[180]۔ سیدنا مسیح کی ولادت کے وقت کی طرف اشارہ ہے، جب حضرت مریم ایک ایسے گوشۂ تنہائی کی تلاش میں تھیں، جہاں وہ لوگوں کی طعن و تشنیع سے محفوظ رہ کر بچے کو جنم دے سکیں۔

[181]۔ یعنی ایسی جگہ تھی جو مرتفع اور پرسکون تھی اور اُس میں صاف اور شفاف پانی کا ایک شیریں چشمہ جاری تھا۔ سورۂ مریم میں مزید وضاحت ہے کہ اُن کے لیے وہاں کھجور کا ایک ثمردار درخت بھی تھا۔

[باقی]

__________