البیان: المؤمنون ۲۳: ۱۲ - ۲۲ (۲)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(۲)

(گذشتہ سے پیوستہ)

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ﴿ۚ۱۲﴾ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍمَّكِيْنٍ﴿۱۳﴾ﶝ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاﵯ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَﵧ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُاَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ﴿۱۴﴾ﶠ ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ﴿۱۵﴾ﶠ ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ﴿۱۶﴾

(تمھارے منکرین اِس کو نہیں مانتے[1]تو دیکھیں کہ)ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیداکیا تھا[2]۔پھر اُس کو (آگے کے لیے) ہم نے پانی کی ایک (ٹپکی ہوئی) بوند بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا[3]۔ پھر پانیکی اُس بوند کو ہم نے ایکلوتھڑےکی صورت دی اورلوتھڑےکو گوشت کی ایک بندھی ہوئی بوٹی بنایا اور اُس بوٹی کی ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔پھر ہم نے اُس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا[4]۔ سو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا[5]۔پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ پھر یہ کہ قیامت کے دن تم لازماً اٹھائےبھی جاؤ گے[6]۔۱۲ - ۱۶

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَﵲ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ﴿۱۷﴾وَاَنْزَلْنَامِنَ السَّمَآءِ مَآءًۣ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِيالْاَرْضِﵲوَاِنَّاعَلٰي ذَهَابٍۣ بِهٖلَقٰدِرُوْنَ﴿ۚ۱۸﴾فَاَنْشَاْنَالَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍﶉ لَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ﴿ۙ۱۹﴾وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَآءَ تَنْۣبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ﴿۲۰﴾وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةًﵧ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْبُطُوْنِهَا وَلَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ﴿ۙ۲۱﴾وَعَلَيْهَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ﴿۲۲﴾

اور (یہی نہیں )، ہم نے تمھارے اوپر تہ بہ تہ سات آسمان[7]بنائے ہیں اور ہم اپنی مخلوقات سے غافل نہیں ہوئے[8]۔ اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی برسایا[9]، پھراُس کو زمین میں ٹھیرا دیا[10]اور ہم (اگر چاہتے تو) اُس کو واپس بھی لے جا سکتے تھے۔پھر اِسیسےہم نے تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے ہیں ۔ اِن میں تمھارے لیے بہت سے میوے ہیں جن سے تم لذت اندوز ہوتے ہو[11]اور اِنھی سے اپنی غذا کا سامان بھی کرتے ہو۔ اِسی طرح وہ درخت[12]بھی اگایا ہے جو طور سینا سے نکلتا ہے۔ وہ روغن لیے ہوئے اگتاہے اور (روغن کی صورت میں ) کھانے والوں کے لیے ایک اچھا سالن بھی[13]۔ اور تمھارے لیے چوپایوں میں بھی یقیناً بڑا سبق ہے[14]۔ہم اُن چیزوں کے اندر سے جو اُن کے پیٹ میں ہیں[15]، تمھیں (خوش ذائقہ دودھ[16]) پلاتے ہیں اور تمھارے لیے اِن میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں[17]اورتم اِنھی سے اپنی غذا حاصلکرتے ہو ، اور اِن پر اور کشتیوں پر (جو سمندرمیں چلتی ہیں )[18]، سوار بھی کیے جاتے ہو[19]۔۱۷ - ۲۲

____________

[1]۔ یعنی اِس بات کو نہیں مانتے کہ لوگ مرنے کے بعد جی اٹھیں گے اور وہاں ایمان والوں کے لیے کوئی جنت بھی ہو گی۔

[2]۔ یعنی ابتدا میں ، جب انسان زمین کے پیٹ میں اُنھی مراحل سے گزر کر پیدا ہوا جن سے وہ اب ماں کے پیٹ میں گزرتا ہے۔ دوسری جگہ اشارہ ہے کہ مٹی کا یہ جوہر، جس کا ذکر یہاں ہوا ہے، پانی کی آمیزش سے وجود میں آیا جس سے وہ سڑے ہوئے گارے کی صورت اختیار کر گئی۔ پھر یہ گارا انڈے کے خول کی طرح اوپر سے خشک ہوگیا تاکہ نشوونما کے مختلف مراحل سے گزر کر جب انسان کا حیوانی وجود پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے تو یہ خول ٹوٹے اور نک سک سے درست پورا انسان اُسی طرح اُس سے باہر نکل آئے، جس طرح بعض جانوروں کے بچے اب بھی انڈوں سے نکلتے ہیں ۔

[3]۔ یہ دوسرے مرحلے کا ذکر ہے جس کے بعد انسان ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا شروع ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں ۔ اِس کی جوتفصیل آگے بیان ہوئی ہے، وہ معلوم و معروف ہے۔ دور جدید کا انسان اپنے مشینی مشاہدات کی بدولت اِس کی جزئیات تک سے واقف ہو گیا ہے۔ قرآن کا اعجاز ہے کہ اُس نے صدیوں پہلے جو کچھ کہا تھا، وہ حیرت انگیز طور پر اُس کے مشاہدات کے عین مطابق ثابت ہوا ہے۔

[4]۔ یعنی اُس کے حیوانی وجود کی تکمیل کے بعد اُس میں روح پھونکی اور اُسے چیزے دیگر بنا دیا جسے اب انسان کی حیثیت سے دیکھتے ہو۔

[5]۔ یہ اُس تاثر کابیان ہے جو انسان کی خلقت کے اِن تمام مراحل پر غور کرنے والوں کی زبان پر لازماً آنا چاہیے۔آیت میں 'أفعل' کا صیغہ جمع کی طرف مضاف ہے، لہٰذا تفضیل و ترجیح سے مجرد ہو کر محض کمال صفت کو بیان کرنے کے لیے آگیا ہے۔ 'أفعل' کا یہ استعمال عربی زبان میں معروف ہے۔ اِس میں قرآن کے کسی طالب علم کو کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔

[6]۔ یہ وہ اصل مدعا ہے جس کے لیے مخاطبین کو اُن کی پیدایش کے اِن تمام مراحل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''... اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے؟ کیا یہ ساری تدریج و تکمیل اور ساری تربیت و نگہداشت محض اندھے بہرے مادے کی کارفرمائی ہے؟ کیا یہ تمام قدرت و حکمت اور تمام ربوبیت و رأفت بالکل بے مقصد و غایت ایک کھیل ہے جس کے پیچھے کوئی نتیجہ اور انجام نہیں ہے ؟ کیا جو پانی کی ایک بوند کو آدمی بنا سکتا ہے، وہ اُس آدمی کو مرنے کے بعد زندہ نہیں کر سکتا؟ یہی سوالات ہیں جن کے جواب میں نادانوں نے، اگرچہ وہ فلسفی اور سائنس دان کے معزز ناموں ہی سے موسوم ہوں ، اختلاف کیا ہے۔ قرآن نے اِنھی سوالوں کے جواب کے لیے انسان کو خود اُس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اِن کے جواب کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، خود اپنے وجود کے مراحل پر غور کرو، ہرسوال کا جواب مل جائے گا۔''(تدبرقرآن۵/ ۳۰۴)

[7]۔ اصل میں 'سَبْعَ طَرَآئِقَ'کے الفاظ آئے ہیں۔'طَرَآئِق''طَرِيْقَة'کی جمع ہے۔ یہ طبقے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قرآن نے یہاں صفت بول کر موصوف مراد لیا ہے۔ چنانچہ اِس کا مفہوم وہی ہے جو دوسری جگہ 'سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا'کے الفاظ سے ادا فرمایا ہے۔

[8]۔ یعنی اُس کو پیدا کرکے بھول نہیں گئے، بلکہ برابر اُس کی پرورش اور نگہداشت کا اہتمام کر رہے ہیں ۔

[9]۔ یہ اُس پانی کا ذکر ہے جس کو اللہ تعالیٰ سمندروں سے اٹھا کر فضا میں لے جاتے اور پھر بارش کی صورت میں برسا دیتے ہیں ۔ یہ ہمیشہ ایک خاص اندازے اور مقدار کے ساتھ برسایا جاتا ہے، الاّ یہ کہ خود اِس کا برسانے والا ہی اِس کو لوگوں کے لیے تنبیہ و تہدید یا عذاب بنا کر اِس کے دہانے کسی وقت کھول دے۔

[10]۔ اِس لیے کہ ذخیرہ ہو کر وہ تمام مخلوقات کے کام آتا رہے۔ یہ خدا ہی کی عنایت ہے، ورنہ اِس کی ایک بوند بھی زمین پر نہ ٹک سکتی۔

[11]۔ آیت میں یہ الفاظ تقابل کے اسلوب پر حذف کر دیے گئے ہیں ۔

[12]۔ یعنی زیتون، طور سینا جس کی پیداوار کا خاص علاقہ تھا۔

[13]۔ اصل میں لفظ 'صِبْغ' آیا ہے۔ اِس کی تنکیر اِس کی خوبی پر دلالت کر رہی ہے۔ یعنی 'صبغ طيب للاٰكلين'۔ اہل عرب میں یہ روغن بہت مقبول تھا اور وہ مکھن کی طرح اِسے ایک لذیذ اور مقوی سالن کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔اہل کتاب کے بارے میں معلوم ہے کہ اُن کے ہاں اِس کو ایک قسم کے مذہبی تقدس کا درجہ بھی حاصل تھا۔

[14]۔ آیت میں اِس کے لیے 'عِبْرَة' کا لفظ ہے۔ اِس کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔

[15]۔ اِس اجمال کو دوسری جگہ کھول دیا ہے کہ اِس سے پیٹ کے اندر کا گوبر اور خون مراد ہے۔

[16]۔ یہ 'نُسْقِيْكُمْ' کا دوسرا مفعول ہے۔ دوسری جگہ اِس کو 'لَبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ' کے الفاظ سے ظاہر فرما دیا ہے۔

[17]۔ یہ دوسرے فوائد بھی معلوم و معروف ہیں ۔ انسان اِن سے سواری اور باربرداری کا کام لیتا رہا ہے۔ یہ زراعت اور کاشت کاری میں اُس کی معاونت کرتے رہے ہیں ۔ اِن کے گوشت، چمڑے اور اون، یہاں تک کہ اِن کے گوبر سے بھی وہ آج تک فائدہ اٹھا رہا ہے۔

[18]۔ اونٹ کے لیے سفینۂ صحرا کا استعارہ بہت پرانا ہے۔ قرآن نے اِسی بنا پر اُس کا اور سفینۂ دریا کا ذکر یہاں ایک ساتھ کیا ہے۔

[19]۔ اوپر انسان کی خلقت کا ذکر ہوا۔ اُس سے امکان معاد کی طرف توجہ دلانا مقصود تھا۔ اُس کے بعد اُن چیزوں کو لیا ہے جن سے کائنات میں ربوبیت کا اہتمام و انتظام ظاہر ہوتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

'' یہاں اصل حقیقت پر نگاہ رہے کہ مقصود اِن چیزوں کے ذکر سے درس عبرت ہے کہ کیا جس رب نے ہماری ایک ایک ضرورت کا اِس جز رسی کے ساتھ اہتمام فرمایا ہے، اُس کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہم کو پیدا کر کے بالکل بے تعلق ہو کر بیٹھ رہا ہے؟ کیا اُس کی یہ ربوبیت ہمارے اوپر کوئی حق اور ذمہ داری عائد نہیں کرتی؟ اور کیا اِس کا لازمی تقاضا یہ نہیں ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اِن ذمہ داریوں سے متعلق ہم سے پرسش ہو؟ جنھوں نے اِن کا حق ادا کیا ہو، وہ انعام پائیں ، جنھوں نے اِس دنیا کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ کر ساری زندگی بطالت میں گزاری ہو، وہ اُس کی سزا بھگتیں ۔ ظاہر ہے کہ عقل و فطرت کی شہادت اِسی دوسرے پہلو کے حق میں ہے۔ جو لوگ کریم کے دروازے سے سب کچھ پاکر اُس کا حق نہیں پہچانتے یا اُس کے ماسوا دوسروں کے گن گاتے ہیں ،وہ لئیم اور ناشکرے ہیں اور لازم ہے کہ وہ اپنی اِس ناشکری کا انجام دیکھیں۔''(تدبرقرآن۵/ ۳۰۷)

[باقی]

__________