البیان: النور ۲۴: ۴۱- ۵۷ (۵)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة النور

(۵)

(گذشتہ سے پیوستہ)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍﵧ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗﵧ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۣ بِمَا يَفْعَلُوْنَ٤١ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِﵐ وَاِلَي اللّٰهِ الْمَصِيْرُ٤٢ تم نے دیکھا نہیں کہ جو زمین اور آسمانوں میں ہیں، سب اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے بھی، پروں کو پھیلائے ہوئے[82]؟ ہر ایک نے اپنی نماز اور اپنی تسبیح خوب جان رکھی ہے۔ (تم نہیں جانتے تو کیا ہوا، مگر) اللہ جانتاہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ ہی کی طرف (سب کو) پلٹنا ہے[83]۔ ۴۱- ۴۲اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهٗ ثُمَّ يَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَي الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖﵐ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا مِنْۣ بَرَدٍ فَيُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَيَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ يَّشَآءُﵧ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ يَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِ٤٣يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَﵧ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ٤٤تم [84]نے دیکھا نہیں کہ اللہ بادلوں کو ہانک لاتا ہے، پھر اُن (کے الگ الگ ٹکڑوں ) کو آپس میں ملاتا ہے، پھر اُن کو تہ بر تہ کر دیتا ہے؟ پھر تم دیکھتے ہو کہ اُس کے بیچ سے (تمھارے لیے رحمت کی) بارش نکلتی ہے اور (اِسی طرح جب وہ تنبیہ کا ارادہ کرتا ہے تو) آسمان سے ــــ اُس کے اندر (اولوں) کے پہاڑوں سے[85] ــــ اولے برساتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے، اُنھیں گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے، اُنھیں ہٹا دیتا ہے[86]۔ اُس کی بجلی کی چمک ہے کہ گویا نگاہوں کو اچکے لیے چلی جاتی ہے۔رات اور دن کا الٹ پھیر بھی اللہ ہی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آنکھ والوں کے لیے اِس میں بڑی عبرت کا سامان ہے[87]۔ ۴۳- ۴۴ وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍﵐ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي بَطْنِهٖﵐ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي رِجْلَيْنِﵐ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰ٘ي اَرْبَعٍﵧ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُﵧ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ٤٥ ہر جان دار کو اللہ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہے۔ پھر (تم دیکھتے ہو کہ) اِن میں سے کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے تو اِن میں سے کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے اور اِن میں سے کوئی چارپاؤں پر[88]۔ اللہ جو چاہے، پیدا کر دیتا ہے۔ بے شک، اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ۴۵ لَقَدْ اَنْزَلْنَا٘ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍﵧ وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ٤٦ ہم نے یہ کھول کر بتانے والی آیتیں نازل کر دی ہیں۔(اِس لیے کہ لوگ سمجھیں۔ آگے) اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ ۴۶وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰي فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۣ بَعْدِ ذٰلِكَﵧ وَمَا٘ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ٤٧ وَاِذَا دُعُوْ٘ا اِلَي اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ٤٨ وَاِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ يَاْتُوْ٘ا اِلَيْهِ مُذْعِنِيْنَ٤٩ﶠ اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْ٘ا اَمْ يَخَافُوْنَ اَنْ يَّحِيْفَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُوْلُهٗﵧ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ٥٠ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْ٘ا اِلَي اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاﵧ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ٥١ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ٥٢(یہ نہیں سمجھتے )،یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اطاعت قبول کر لی ہے۔ پھر اِن میں سے ایک گروہ اِس کے بعد پھر جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اِنھیں جب اللہ اور اُس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ رسول اِن کے د رمیان (اِن کے باہمی جھگڑوں کا) فیصلہ کر دے تو اِن میں سے ایک گروہ اُسی وقت پہلوتہی کر جاتا ہے[89]۔ البتہ اگر حق اِن کو ملنے والا ہو تو رسول کے پاس بڑے فرماں بردار بن کر آ جاتے ہیں۔ کیا اِن کے دلوں میں (منافقت کی) بیماری ہے یا ابھی شک میں پڑے ہوئے ہیں [90]یا اِنھیں اندیشہ ہے کہ اللہ اور اُس کا رسول اِن کے ساتھ ظلم کریں گے؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہ خود ہی ظالم ہیں [91]۔ ایمان والوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب وہ اللہ اور اُس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ رسول اُن کے درمیان فیصلہ کرے توکہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (یاد رکھو)، جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور اللہ سے ڈریں گے اور اُس کے حدود کی پاس داری کریں گے[92] تو وہی ہیں جو مراد کو پہنچیں گے۔ ۴۷- ۵۲وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّﵧ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْاﵐ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌﵧ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۣ بِمَا تَعْمَلُوْنَ٥٣ قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَﵐ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْﵧ وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْاﵧ وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ٥٤ (یہ منافقین وہ لوگ ہیں کہ) اِنھوں نے اللہ کی کڑی کڑی قسمیں کھائیں کہ اگر تم اِنھیں (جہاد کا) حکم دو گے تو یہ ضرور نکلیں گے۔ کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ۔ تم سے دستور کے مطابق اطاعت چاہیے[93]۔ اللہ یقیناً جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اِن سے کہہ دو کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو۔ لیکن اگر روگردانی کرو گے تو (یاد رکھو کہ) رسول پر وہی ذمہ داری ہے جو اُس پر ڈالی گئی ہے اور تم پر وہی جو تم پر ڈالی گئی ہے[94]۔ تم اُس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول پر تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ ۵۳- ۵۴وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْﵣ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰي لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۣ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاﵧ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔاﵧ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ٥٥تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو وہ اِس سرزمین میں [95] ضروراُسی طرح اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو اُس نے عطا فرمایا تھا [96]اور اُن کے لیے اُن کے دین کو پوری طرح قائم کر دے گا جسے اُس نے اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور اُن کے اِس خوف کی حالت کے بعد اِسے ضرورامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھیرائیں گے۔ اور جو اِس کے بعد بھی منکر ہوں تو وہی نافرمان ہیں[97]۔ ۵۵ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ٥٦ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِﵐ وَمَاْوٰىهُمُ النَّارُﵧ وَلَبِئْسَ الْمَصِيْرُ٥٧ (تم اپنے شبہات سے نجات چاہتے ہو تو) نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کے فرماں بردار بن کر رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اِن منکروں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ اِس سرزمین میں یہ خدا کو عاجز کر دیں گے۔ (ہرگز نہیں، یہ خود عاجز ہوں گے) اور اِن کا ٹھکانا (آگے بھی) دوزخ ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ ۵۶- ۵۷

___________________

Sign up now!

[82]۔ یہ خدا کے آگے پرندوں کے افتراش کی تصویر ہے۔ انسان بصیرت کی نگاہ رکھتا ہو تو یہی سرافگندگی اور افتراش وہ ہر چیز کے ظاہر میں دیکھ سکتا ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اپنے باطن میں بھی زمین وآسمان کی ہر چیز اِسی طرح سر بہ سجود ہے او راپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کر رہی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''...یہ ساری چیزیں اپنی زبان حال سے انسان کو دعوت دیتی ہیں کہ وہ بھی اِس حمدو تسبیح میں اُن کے ساتھ شامل ہو اوراُنھی کی طرح صرف اپنے رب ہی کی بندگی کرے۔ اگر وہ اِس سے کوئی الگ راہ اختیار کرتا ہے تو گویا وہ ساری دنیا سے بالکل جدا راہ اختیار کرتا ہے اور ایک ایسی راگنی چھیڑتا ہے جو اِس کائنات کے مجموعی نغمے سے بالکل بے جوڑ ہے۔ اِس میں خدا کی راہ اختیار کرنے والوں کی ہمت افزائی بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو تنہا یا اقلیت میں نہ سمجھیں۔ اِس راہ کا مسافر کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ یہ راہ قافلوں سے بھری ہوئی ہے۔ اِس میں ساری کائنات اُس کی ہم سفر ہے۔ اگر تھوڑے سے ناشکرے انسان اُس سے الگ ہوں تو اُن کی علیحدگی سے وہ کیوں بددل اور مایوس ہو، جب کہ خدا کے آسمان وزمین، اُس کے شمس وقمر، اُس کے دریا اور پہاڑ اور اُس کے سارے چرند وپرند ہر وقت اُس کے ہم رکاب ہیں ؟''(تدبر قرآن۵/ ۴۱۹)

[83]۔ یہ اِس بات کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ کیوں ہر چیز اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے اور کیوں سب کو اُسی کی تسبیح و تحمید کرنی چاہیے؟

[84]۔ اوپر فرمایا ہے کہ زمین وآسمان کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ یہاں سے آگے اب اِس کی دلیل بیان فرمائی ہے۔

[85]۔ یعنی سردی سے جمے ہوئے بادلوں سے جنھیں اوپر سے دیکھیے تو بالکل پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں اور جب اولوں کی صورت میں برستے ہیں تو گویا پہاڑوں کے پہاڑ زمین پر آ گرتے ہیں۔

[86]۔ یہ عذاب کی تمثیل ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''...اِس میں اشارہ سرما کے اُن بادلوں کی طرف ہے جو تند ہواؤں، شدید کڑک دمک اور اولوں کے ساتھ نمودار ہوتے اور اُن سے ایسی بے پناہ ژالہ باری ہوتی کہ بستیاں کی بستیاں اُن کے نیچے ڈھک جاتیں۔ گویا اُن کے اندر اولوں کے پہاڑ ہیں۔ قرآن نے عذاب الہٰی سے جن قوموں کی تباہی کا ذکر کیا ہے، اُن میں سے بعض قومیں اِسی آفت سے تباہ ہوئیں۔''(تدبر قرآن۵/ ۴۲۱)

[87]۔ یعنی اِس بات کا سامان ہے کہ نگاہ، اگر چاہے تو اِس ظاہر کو عبور کرکے اُس کے اِس باطن تک پہنچ سکتی ہے کہ یہ کائنات ایک خداے حکیم وخبیر کی تخلیق ہے اور اِس کا نظم بھی تنہا وہی چلا رہا ہے۔ چنانچہ وہی حق دار ہے کہ انسان اُس کے سامنے سرنگوں رہے اور اُسی کی عبادت کرے۔

[88]۔ یعنی ایسی عظیم قدرت وحکمت کا مالک ہے کہ ایک ہی پانی سے ہر نوع وجنس کے جان دار پیدا کر دیتا ہے۔

[89]۔ یہ اُس نفاق اور عدم ایمان کی دلیل بیان فرمائی ہے جس کا ذکر پیچھے ہوا ہے۔

[90]۔ یہ شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے اور اسلام کے مستقبل کے بارے میں بھی۔

[91]۔ لفظ 'ظٰلِم ' یہاں ' ظٰلم لنفسه' کے معنی میں ہے، یعنی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے۔

[92]۔ اصل میں لفظ 'يَتَّقْهِ' استعمال ہوا ہے۔ اِس کی صورت تخفیف کی وجہ سے کچھ بدل گئی ہے، لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ عربی زبان میں اِس قسم کی تخفیف معروف ہے۔ اِس کے ساتھ لفظ 'خَشْيَة' استعمال کیا گیا ہے۔ یہ دونوں لفظ، یعنی 'خَشْيَة' اور 'تَقْوٰي' ایک ساتھ استعمال کیے جائیں تو اِن میں پہلا بالعموم باطن اور دوسرا ظاہر کے لیے خاص ہو جاتا ہے۔

[93]۔ اصل الفاظ ہیں : 'طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ'۔ یہ خبر محذوف کا مبتدا بھی ہو سکتا ہے اور مبتداے محذوف کی خبر بھی۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''...دونوں ہی صورتوں میں مفہوم میں کوئی خاص فرق پیدا نہیں ہو گا، اِس لیے کہ اِس قسم کے حذف سے اصل مقصود مخاطب کی پوری توجہ کو مذکور پر مرتکز کرنا ہوتا ہے اور یہ چیز دونوں ہی صورتوں میں یہاں حاصل ہے۔''(تدبر قرآن۵/ ۴۲۵)

[94]۔ یعنی ایمان وہدایت اور اطاعت وفرماں برداری کی ذمہ داری جس کا مطالبہ یہاں کیا جا رہا ہے۔

[95]۔ یعنی سرزمین عرب میں۔

[96]۔ یہ اُن لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے رسولوں کی بعثت کے بعد اُن کی دعوت قبول کی اور سنت الہٰی کے مطابق اُن کے منکرین پر اللہ تعالیٰ نے اُنھیں غلبہ عطا فرمایا۔ روے سخن، اگر غور کیجیے تو منافقین کی طرف ہے جن کے بارے میں اوپر ذکر ہوا ہے کہ اسلام کے مستقبل سے متعلق شکوک میں مبتلا تھے۔ فرمایا کہ خدا کی جو سنت رسولوں کے باب میں ہمیشہ رہی ہے، اُسی کے مطابق اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں سے بھی وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اُنھیں سرزمین عرب کا اقتدار عطا فرمائے گا۔ آگے تفصیل فرمائی ہے کہ اِس کے نتیجے میں یہاں دین حق کی حکومت قائم ہوگی، اہل ایمان کے لیے کوئی خطرہ باقی نہ رہے گا اور عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہو جائے گی۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ اِس شان کے ساتھ پورا ہوا کہ اِسے اب کوئی شخص جھٹلا نہیں سکتا۔

[97]۔ اِس سے مقصود اِس کا لازم ہے، یعنی نافرمان ہیں تو بہت جلد اپنا انجام بھی دیکھ لیں گے۔

[باقی]

__________