البیان: النور ۲۴: ۳۵-۴۰ (۴)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة النور

(۴)

(گذشتہ سے پیوستہ)

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِﵧ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌﵧ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍﵧ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍﶈ يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌﵧ نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍﵧ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُﵧ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِﵧ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ٣٥ فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗﶈ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ٣٦ رِجَالٌﶈ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَآءِ الزَّكٰوةِﵥ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ٣٧ لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَيَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖﵧ وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ٣٨ (تمثیل یہ ہے کہ) اللہ زمین اور آسمانوں کی روشنی ہے[67]۔ (انسان کے دل میں) اُس کی اِس روشنی کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک طاق جس میں ایک چراغ ہے[68]۔ چراغ شیشے کے اندر ہے۔ شیشہ ایسا ہے، جیسے ایک چمکتا ہوا تارا[69]۔ وہ زیتون کے ایسے شاداب درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی[70]۔ اُس کا تیل (ایسا شفاف ہے کہ) گویا آگ کے چھوئے بغیر ہی بھڑک اٹھے گا[71]۔ روشنی کے اوپر روشنی[72]! اللہ جس کو چاہتا ہے، اپنی اِس روشنی کی ہدایت بخشتاہے[73]۔ اللہ یہ تمثیلیں لوگوں کی رہنمائی کے لیے بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے[74] ـــــ (یہ طاق) اُن گھروں میں ہیں جن کی نسبت اللہ نے حکم دیا کہ تعمیر کیے جائیں[75]اور اُن میں اُس کے نام کا ذکر کیا جائے[76]۔ اُن میں وہ مردان حق صبح وشام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جن کو تجارت اور خرید وفروخت اللہ کی یاد اور نماز کے اہتمام اور زکوٰۃ کے ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی[77]۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹیں گے اور آنکھیں پھری کی پھری رہ جائیں گی کہ اللہ اُن کے عمل کا بہترین بدلہ اُنھیں دے[78] اور اُن کو اپنے فضل سے مزید نوازے۔ اللہ جس کو چاہے گا، بے حساب عطا فرمائے گا۔۳۵ -۳۸وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْ٘ا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۣ بِقِيْعَةٍ يَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًﵧ حَتّٰ٘ي اِذَا جَآءَهٗ لَمْ يَجِدْهُ شَيْـًٔا وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗﵧ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ٣٩ اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌﵧ ظُلُمٰتٌۣ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍﵧ اِذَا٘ اَخْرَجَ يَدَهٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىهَاﵧ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ٤٠اِس کے برخلاف جو لوگ اِس روشنی کے منکر ہیں[79]، اُن کے اعمال کی تمثیل یہ ہے کہ جیسے چٹیل صحرا میں سراب جس کو پیاسا پانی گمان کرے، یہاں تک کہ جب اُس کے پاس آئے تو اُسے کچھ نہ پائے۔ البتہ وہاں اللہ کو پائے[80]، پھر وہ اُس کا حساب پورا پوراچکا دے اور اللہ کو حساب چکاتے کبھی دیر نہیں لگتی۔ یا جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرے کہ جس کو موج کے اوپر موج ڈھانک رہی ہو، اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ (غرض یہ کہ)اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے ہوں۔ جب کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اُس کو بھی نہ دیکھ پائے[81]۔ حقیقت یہ ہے کہ جسے اللہ روشنی نہ دے، اُس کے لیے پھر کوئی روشنی نہیں ہے۔ ۳۹- ۴۰

[67]۔ یعنی اُس کی معرفت اور اُس پر ایمان ہی اِس کائنات کی روشنی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...یہ آسمان وزمین، بلکہ یہ پوری کائنات اُس شخص کے لیے ایک عالم ظلمات اور اندھیر نگری ہے جو خدا کو نہیں مانتا یا مانتا ہے، لیکن خدا کی صفات اور اُن کے مقتضیات کو نہیں تسلیم کرتا۔ ایسا شخص نہ یہ جان سکتا کہ یہ دنیا کہاں سے آئی ہے اور نہ یہ جان سکتا کہ اِس کے وجود میں آنے کی غایت او رمقصد کیا ہے؟ وہ خود اپنے متعلق بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اُس کا مقصد وجود کیا ہے؟ وہ اِس دنیا میں مطلق العنان اور شتر بے مہار ہے یا پابند و محکوم؟ وہ مسئول ہے یا غیر مسئول؟ اُس کے لیے کیا خیر ہے اور کیا شر؟ اُسے ظلم کی روش اختیار کرنی چاہیے یا عدل کی؟ اُسے مجرد اپنے مفاد او رخواہشوں کی پیروی کرنی چاہیے یا اُن سے کسی بالا تر نصب العین کی؟ اِن سوالوں کے صحیح جواب ہی پر صحیح او رکامیاب زندگی کا انحصار ہے۔ لیکن جو شخص خدا کو نہیں مانتا، وہ اِن سوالوں کا صحیح حل نہیں پا سکتا۔ وہ اندھیرے میں اندھے بھینسے کی طرح بھٹکتا پھرتا ہے اور بالآخر ایک دن قعر ہلاکت میں گر کر اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتا ہے۔ البتہ جو شخص خدا کو اُس کی صحیح صفات کے ساتھ مانتا ہے، وہ اِس کائنات کا سرا بھی پا جاتا ہے اور اِس کا انجام بھی اُس پر واضح ہو جاتا ہے۔ اُس پر اُن تمام سوالوں کے جواب بھی روشن ہو جاتے ہیں جن کو خدا کا نہ ماننے والا کبھی حل نہیں کر سکتا۔ اِس وجہ سے یہ دنیا اُس کے لیے اندھیر نگری نہیں رہتی، بلکہ ایمان کے نور سے اُس کے لیے اِس کی ہر چیز جگمگا اٹھتی ہے اور اِس کا ہر پہلو اُس پر روشن ہو جاتا ہے۔ وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، پورے دن کی روشنی میں اٹھاتا ہے اور جس سمت میں بھی چلتا ہے، خدا کے ایمان کا نور اُس کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی حقیقت اِس ٹکڑے میں واضح فرمائی گئی ہے کہ اِس آسمان و زمین کا نور اللہ ہے۔ جس کے پاس یہ نور ہے، وہ روشنی میں اور صراط مستقیم پر ہے۔ اور جو اِس نور سے محروم ہے، وہ ایک عالم ظلمات میں بھٹک رہا ہے اور کوئی دوسرا اُس کو روشنی نہیں دے سکتا۔'وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ'۔''(تدبر قرآن ۵/ ۴۰۹)

[68]۔ یہ ایک مرکب تمثیل ہے۔ اِس میں طاق سے مراد انسان کا دل ہے جو گویا ایک چراغ دان ہے، جس میں خدا کے نور ایمان کا چراغ جلا کر رکھ دیا جائے تو انسان کا ظاہر وباطن اِس طرح روشن ہو جاتا ہے، جس طرح اگر کوئی چراغ گھر میں کسی اونچی جگہ پر رکھ دیا جائے تو اُس سے پورا گھر روشن ہو جاتا ہے۔

[69]۔ یعنی خارجی اثرات سے پوری طرح محفوظ ہے۔ نہ اُس کی لو کسی فلسفے کے زیغ وضلال یاخواہشات نفس کی ہوا کے جھونکوں سے منتشر ہونے پاتی ہے اور نہ شیشے پر انحرافات کی کوئی گرد ہے کہ اُسے میلا کر دے اور اُس کی روشنی کے لیے حجاب بن جائے۔ وہ چمکتے ہوئے تارے کے مانند صاف اور شفاف ہے۔

[70]۔ یعنی ایمان کا یہ چراغ جس فطری طلب واستعداد کے تیل سے روشن ہوتا ہے، وہ وسط باغ کے درختوں کا تیل ہے جو زیادہ شاداب ہوتے ہیں۔ چنانچہ اُن کا تیل بھی زیادہ لطیف ہوتا ہے اور زیادہ تیز روشنی دیتا ہے۔ اِس کے برعکس باغ کے مشرق ومغرب میں کناروں کے درخت ہمیشہ دھوپ اور ہوا کی زد میں رہتے ہیں، اِس لیے زیادہ اچھے پھل بھی نہیں دیتے۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو طلب واستعداد کے عین نقطۂ اعتدال پر قائم ہونے کی طرف بھی اشارہ ہو گیا ہے۔

[71]۔ مدعا یہ ہے کہ قبول حق کی یہ استعداد اِس قدر قوی ہے کہ گویا بے تاب ہو رہی ہے کہ حق کب اُس کے سامنے آئے اور وہ بغیر کسی تردد او رتاخیر کے اُس کو قبول کر لے۔

[72]۔ یعنی فطرت کی روشنی پر ایمان کی روشنی جو انسان کے پورے وجود کو 'نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ ' بنا دیتی ہے۔

[73]۔ آیت میں 'هدٰی یهدي' کا صلہ 'ل' کے ساتھ آیا ہے جس سے یہ توفیق بخشی کے مفہوم پر متضمن ہو گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا جب قبول حق کی یہ استعداد کسی شخص میں دیکھتا ہے تو اُسے توفیق دیتا ہے کہ وہ دعوت حق پر لبیک کہے اورایمان کی روشنی سے اپنا سینہ منور کر لے۔ یہ توفیق جس قانون کے مطابق ملتی ہے، وہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہواہے کہ خدا اپنی توفیق مزید سے اُنھی کو نوازتا ہے جو پہلے سے بخشی ہوئی توفیق کی قدر کرتے ہیں۔

[74]۔ چنانچہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔

[75]۔ یہ اُن معابد کی طرف اشارہ ہے جو براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہوئے، یعنی بیت الحرام اور بیت المقدس۔ اِن کے لیے 'رَفْع' کا لفظ اُسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، جس میں یہ سورۂ بقرہ(۲) کی آیت 'اِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ ' میں استعمال کیا گیا ہے۔

[76]۔ لفظ 'ذِكْر' یہاں یاد کرنے اور دوسروں کو یاددہانی کرنے کی تمام صورتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

[77]۔ اوپر جس نور ایمان کا ذکر ہے، یہ اب اُس کے حاملین کو نمایاں کر دیا ہے۔ آیت ۳۴ میں 'الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ' کے الفاظ اِنھی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ ایمان کا چراغ جن دلوں کے طاق میں رکھا جاتا ہے، وہ بت خانوں اور مے کدوں کے طاق نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے معابد کے طاق ہیں۔چنانچہ جن کے یہ دل ہیں، وہ بھی ہر جگہ نہیں ملتے۔ اُن کے ملنے کی جگہ بھی خدا کی مسجدیں اور اُس کے معابد ہیں۔ یہ موثر کی وضاحت کے بعد گویا اثر کا بیان ہے کہ نور ایمان سے جب دل روشن ہو جاتے ہیں تو صرف علم ہی نہیں، انسان کا عمل بھی اُسی نور کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے اور خدا کے قائم کیے ہوئے یہ معابد اُس کے اُن بندوں سے آباد ہو جاتے ہیں جن کو چشم فلک صدیوں سے یہاں رکوع وسجود کرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ اِس میں، ظاہر ہے کہ مخاطبین کے لیے یہ موعظت ہے کہ وہ بھی علم وعمل کی یہی پاکیزگی حاصل کرنے کی سعی کریں۔ اُن کے صالحین اسلاف کی یہ تمثیل اِسی مقصد سے بیان کی گئی ہے۔

[78]۔ اصل میں 'لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا 'کے الفاظ آئے ہیں۔اِن میں 'ل' لام علت نہیں ہے، بلکہ وہ لام ہے جو کسی فعل کے ثمرہ اور نتیجہ کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔

[79]۔ اِس سے مزید واضح ہوا کہ اوپر کی تمثیل میں روشنی سے ایمان کی روشنی ہی مراد ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...اہل ایمان کی تمثیل میں پہلے موثر ،یعنی ایمان کو نمایاں فرمایا تھا، اُس کے بعد اثر، یعنی عمل کواور اہل کفر کی تمثیل میں پہلے اثر کو نمایاں فرمایا ہے، اُس کے بعد موثر کو۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایک گہری حقیقت ہے جس کی جڑیں انسانی فطرت کے اعماق کے اندر اتری ہوئی ہوتی ہیں اور درحقیقت اُسی کے بابرکت اثرات و ثمرات ہوتے ہیں جو زندگی کے اعمال واخلاق میں نمایاں ہوتے ہیں۔ اِس کے برعکس کفر گھورے پر اُگے ہوئے ایک درخت کی مانند ہوتا ہے جس کے زہریلے پھل تو اعمال وکردار کی صورت میں سامنے ہوتے ہیں، لیکن فطرت کے اندر اُس کی کوئی جڑ نہیں ہوتی جس کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہو۔''(تدبر قرآن ۵/ ۴۱۳)

[80]۔ یہاں سے تمثیل کا رخ قرآن نے اپنے خاص اسلوب کے مطابق اُس حقیقت کی طرف موڑ دیا ہے جس کی یہ تمثیل ہے۔ چنانچہ 'حَتّٰ٘ي اِذَا جَآءَهٗ ' گویا ' حتی إذا جاء الکافر أعماله یوم القیٰمة' کے معنی میں ہے اور ضمیر مفعول میں مشبہ بہ، یعنی سراب کی رعایت ملحوظ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منکرین قیامت کے دن، جب اپنے اعمال کے پاس پہنچیں گے تو اُن کا حال بھی وہی ہوگا جو پیاسے کا سراب کے پاس پہنچنے کے بعد ہوتا ہے۔ وہ دیکھیں گے کہ کفر وشرک نے اُن کے ہر عمل کو 'هَبَآءً مَّنْثُوْرًا' کر دیا ہے۔ اور بظاہر جن چیزوں کو وہ نیکی سمجھتے تھے، وہ بھی بالکل بے وزن ہو چکی ہیں۔ اُن کے اعمال کی جگہ اُن کے سامنے وہاں اُن کا پروردگار ہوگا جو پلک جھپکتے میں اُن کا سب حساب چکا دے گا۔

[81]۔ یہ اُس ذہنی تاریکی کا بیان ہے جو ایمان کی روشنی سے محروم ہو جانے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

[باقی]

________________