البیان: النور ۲۴: ۱- ۱۰ (۱)


البیان

النور

یہ ایک منفرد سورہ ہے جس پر قرآن کے اِس تیسرے باب کا خاتمہ ہورہا ہے۔ پیچھے اشارات تھے کہ حق و باطل کی جو کشمکش اِس وقت برپا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی فتح مندی اور قریش کی ہزیمت پر منتج ہونے والی ہے۔ اِس سورہ میں صاف اعلان کر دیا ہے کہ اہل ایمان سے خدا کا وعدہ ہے کہ سرزمین عرب کا اقتدار اب اُنھیں منتقل ہو جائے گا۔ چنانچہ اِسی مناسبت سے سورہ کا موضوع اُن کا تزکیہ بھی ہے جس کے لیے ضروری احکام دیے گئے ہیں اوراُن کی جماعت کی تطہیر بھی جس کے لیے منافقین کو تنبیہ و تہدید کی گئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ سورہ اِس باب کی پچھلی تمام سورتوں کا تکملہ و تتمہ ہے۔

اِس کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد یہ مدینہ طیبہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور منکرین کے خلاف آخری اقدام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماننے والوں کا تزکیہ وتطہیر کررہے تھے۔

__________

سورة النور (۱)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَفَرَضْنٰهَا وَاَنْزَلْنَا فِيْهَا٘ اٰيٰتٍۣ بَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ١اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔یہ ایک عظیم سورہ ہے[1] جس کو ہم نے اتارا ہے [2] ا وراِس کے احکام (تم پر) فرض ٹھیرائے ہیں [3]اور اِس میں نہایت واضح تنبیہات[4]بھی اتاری ہیں تاکہ تم یاد رکھو ۔۱ اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍﵣ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِﵐ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ٢زانی عورت ہو یا زانی مرد، سو (اِن کا جرم ثابت ہو جائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کوسو کوڑے مارو [5]اور اللہ کے اِس قانون (کو نافذ کرنے) میں اُن کے ساتھ کسی نرمی کا جذبہ تمھیں دامن گیر نہ ہونے پائے، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو[6]۔ اور اُن کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ بھی وہاں موجود ہونا چاہیے[7]۔۲ اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةًﵟ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا٘ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌﵐ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ٣ (اِس سزا کے بعد) یہ زانی[8] کسی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے گااور اِس زانیہ کو بھی کوئی زانییا مشرک ہی اپنے نکاح میں لائے گا۔ ایمان والوں پر اِسے حرام کر دیا گیا ہے [9]۔۳وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاﵐ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ٤ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۣ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْاﵐ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ٥ وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّا٘ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۣ بِاللّٰهِﶈ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ٦وَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَيْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ٧ وَيَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۣ بِاللّٰهِﶈ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ٨ وَالْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيْهَا٘ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ٩ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيْمٌ ١٠اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (زنا کی) تہمت لگائیں [10]، پھر (اُس کے ثبوت میں ) چار گواہ نہ لاسکیں ، اُن کو اسی کوڑے مارو اور اُن کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کرو[11]، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔ ہاں، جو اِس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں ، وہ خدا کے نزدیک فاسق نہ رہیں گے، اِس لیے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ لیکن جو اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور اپنی ذات کے سوا اُن کے پاس کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ہر ایک کی گواہی یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو،اگر وہ جھوٹا ہو۔ (اِس کے بعد) عورت سے سزا [12] اُسی صورت میں ٹل سکتی ہے کہ (اِس کے جواب میں ) وہ بھی چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اِس بندی پر اللہ کا غضب ہو، اگر یہ(اپنے الزام میں) سچا ہو۔ (ایمان والو)، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور صاحب حکمت ہے تو جو رویہ تم نے اختیار کیا تھا، اِن احکام کے بجاے اُس پر اللہ کا عذاب نازل ہوجاتا[13]۔۴ -۱۰

____________________

[1]۔ آیت میں مبتدا محذوف ہے۔ اِس نے ساری توجہ خبر پر مرکوز کرا دی ہے جس سے سورہ کی عظمت و اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔

[2]۔ یعنی اِس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ یہ ہمارا اتارا ہوا کلام ہے، لہٰذا ہر مسلمان کے لیے واجب الاذعان ہے۔ اِس کے احکام کی تعمیل اِسی حیثیت سے ہونی چاہیے۔

[3]۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ اِسی نوعیت کے احکام تھے جو پچھلی امتوں کے لیے مزلۂ قدم ثابت ہوئے اور اُنھوں نے اُن سے گریز وفرار کے راستے تلاش کرنا چاہے۔ چنانچہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ سفارشات نہیں ہیں ، بلکہ خدا کے عائد کردہ فرائض اور اُس کے قطعی احکام ہیں جن کی ہر جگہ اور ہر زمانے میں بے چون وچرا تعمیل ہونی چاہیے۔ اِن میں کسی کے لیے بے پروائی یا سہل انگاری کی گنجایش نہیں ہے۔

[4]۔ یہ اُن تنبیہات کی طرف اشارہ ہے جو بیان احکام کے ساتھ ساتھ سورہ میں بار بار وارد ہوئی ہیں ۔

[5]۔ زنا قرآن کی روسے شرک اور قتل نفس کے بعد تیسرا بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو شرائع انبیا علیہم السلام پر نازل کیے ہیں ، اُن میں اِسے جرم مستلزم سزا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی مخصوص حیثیت اور اُن پر خدا کی براہ راست حکومت کی وجہ سے زنا بہ زن غیر (adultery) کو اُن کی شریعت میں حرابہ قرار دے دیا گیا تھا۔ عورت کنواری ہو تو البتہ، رعایت کی ہدایت کی گئی تھی اور مرد پر مالی تاوان عائد کرکے اُسے پابند کر دیا گیا تھا کہ باقی عمر کے لیے وہ اُسے بیوی بنا کر رکھے گا*۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نبوت کے بعد یہ صورت حال چونکہ تبدیل ہونے والی تھی، اِس لیے قانون میں بھی تبدیلی کردی گئی۔ چنانچہ پہلے بغیر کسی تعیین کے ایذا کا حکم دیا گیا۔ یہ حکم سورۂ نساء (۴) کی آیت ۱۶ میں بیان ہوا ہے۔ اِس کے بعد سو کوڑے کی یہ سزا مقرر کی گئی جو اب ہمیشہ کے لیے خدا کا قانون ہے۔یہ اِس جرم کی انتہائی سزا ہے۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید نے اِس کے بیان میں صفت کے صیغے اختیار کیے ہیں جو وقوع فعل میں اہتمام پر دلالت کرتے ہیں ۔ لہٰذا یہ سزا صرف اُنھی مجرموں کو دی جائے گی جن سے جرم بالکل آخری صورت میں سرزد ہو جائے اور اپنے حالات کے لحاظ سے وہ کسی رعایت کے مستحق نہ ہوں ۔ چنانچہ سزا کے تحمل سے معذور، مجبور اور جرم سے بچنے کے لیے ضروری ماحول، حالات اور حفاظت سے محروم، سب لوگ اِس سے یقیناً مستثنیٰ ہیں ۔ قرآن مجید نے اُن عورتوں کے بارے میں جن کے مالک اُنھیں پیشہ کرنے پر مجبور کرتے تھے، پوری صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ اِس جبر کے بعد اللہ اُن کے لیے غفور ورحیم ہے**۔ اِسی طرح زمانۂ رسالت کی لونڈیوں کے بارے میں بھی اُس کا ارشاد ہے کہ خاندان کی حفاظت سے محرومی اور ناقص اخلاقی تربیت کی وجہ سے اُنھیں بھی یہ سزا نہیں دی جا سکتی، یہاں تک کہ اُس صورت میں بھی جب اُن کے مالکوں اور شوہروں نے اُنھیں پاک دامن رکھنے کا پورا اہتمام کیا ہو، اُنھیں اِس سزا کی نسبت سے آدھی سزا دی جائے گی، یعنی سو کے بجاے پچاس کوڑے ہی مارے جائیں گے***۔

[6]۔ یہ سختی اِس لیے ضروری ہے کہ معاشرے کا استحکام رحمی رشتوں کی پاکیزگی اور اُس کے ہر اختلال وفساد سے محفوظ رہنے پر منحصر ہے اور زنا، اگر غور کیجیے تو اِس چیز کوہدم کر کے پورے معاشرے کو ڈھوروں اور ڈنگروں کے گلے میں تبدیل کرتا اور اِس طرح صالح تمدن کو اُس کی بنیاد ہی سے محروم کر دیتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''...یعنی اِس کی تنفیذ کے معاملے میں کسی نرمی یا مداہنت یا چشم پوشی کو راہ نہ دی جائے۔ نہ عورت کے ساتھ کوئی نرمی برتی جائے، نہ مرد کے ساتھ، نہ امیر کے ساتھ نہ غریب کے ساتھ۔ خدا کے مقرر کردہ حدود کی بے لاگ اور بے رو رعایت تنفیذ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا لازمی تقاضا ہے۔ جو لوگ اِس معاملے میں مداہنت اورنرمی برتیں ، اُن کا اللہ اور آخرت پر ایمان معتبر نہیں ہے۔ یہاں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ سزا کے بیان میں عورت کا ذکر مرد کے ذکر پر مقدم ہے۔ اِس کی وجہ جہاں یہ ہے کہ زنا عورت کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتا، وہاں یہ بھی ہے کہ صنف ضعیف ہونے کے سبب سے اِس کے معاملے میں جذبۂ ہم دردی کے ابھرنے کا زیادہ امکان ہے۔ اِس وجہ سے قرآن نے یہاں اِس کے ذکر کو مقدم کر دیا تاکہ اسلوب بیان ہی سے یہ بات واضح ہو جائے کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہے۔''(تدبر قرآن۵/ ۳۶۲)

[7]۔ اِس لیے کہ مجرموں کے لیے یہ فضیحت اور دیکھنے والوں کے لیے باعث عبرت وموعظت ہو اور مسلمانوں کا معاشرہ اِس کے نتیجے میں اُس اختلال سے محفوظ رہے جو زنا اُس میں پیدا کر سکتا ہے۔

[8]۔ یعنی جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ پہلے 'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ' کے بعد اعادۂ معرف باللام کا قاعدہ اِسی پر دلالت کرتا ہے۔ کسی زانی یا زانیہ کی شادی پر، ظاہر ہے کہ قانوناً پابندی اُسی صورت میں لگائی جا سکتی ہے، جب اُس کا جرم ثابت ہو جائے۔

[9]۔ نکاح کے لیے اسلامی قانون میں یہ شرط ہے کہ وہ صرف اُنھی لوگوں کے مابین ہو سکتا ہے جو پاک دامن ہوں یا توبہ واصلاح کے بعد پاک دامنی اختیار کر لیں ۔ قرآن کا یہ ارشاد اُسی کی فرع ہے۔ آیت سے واضح ہے کہ زانی اگر ثبوت جرم کے بعد سزا کا مستحق قرار پا جائے تو اُسے کسی عفیفہ سے نکاح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہی معاملہ زانیہ کے ساتھ ہو گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اِس کے بعد وہ اگر نکاح کرنا چاہیں تو اُنھیں نکاح کے لیے کوئی زانی یا مشرک اور زانیہ یا مشرکہ ہی ملے۔ کسی مومنہ کے لیے وہ ہرگز اِس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ اپنے آپ کو کسی زانی کے حبالۂ عقد میں دینے کے لیے راضی ہو اور نہ کسی مومن کے لیے یہ جائز رکھتا ہے کہ وہ اِس نجاست کو اپنے گھر میں لانے کے لیے تیار ہو جائے۔ اِس طرح کا ہر نکاح باطل ہے۔

[10]۔ یہاں اور اِس سے آگے بھی اگرچہ عورتوں ہی پر تہمت کا ذکر ہوا ہے، لیکن عربی زبان میں یہ علیٰ سبیل التغلیب کا اسلوب ہے جو صرف اِس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ اِس طرح کے الزامات کا ہدف بالعموم عورتیں ہی بنتی ہیں اور معاشرہ اِس معاملے میں اُنھی کے بارے میں زیادہ حساس بھی ہوتا ہے، لہٰذا اشتراک علت کی بنا پر یہ حکم مرد و عورت، دونوں کے لیے عام ہے، اِسے صرف عورتوں کے ساتھ خاص قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی معاملہ آگے لعان کا بھی ہے۔

[11]۔ مطلب یہ ہے کہ تہمت لگانے والے کو ہر حال میں چار عینی گواہ پیش کرنا ہوں گے۔ اِس سے کم کسی صورت میں بھی اُس کا الزام ثابت قرار نہ پائے گا۔ قرائن، حالات، طبی معاینہ، یہ سب اِس معاملے میں بالکل بے معنی ہیں ۔ آدمی آبروباختہ اور بدچلن ہے تو ثبوت جرم کے لیے اِن میں سے ہر چیز بڑی اہمیت کی حامل ہے، لیکن اُس کی شہرت اگر ایک شریف اور پاک دامن شخص کی ہے تو قرآن یہی چاہتا ہے کہ اُس سے اگر کوئی لغزش ہوئی بھی ہے تو اُس پر پردہ ڈال دیا جائے اور اُسے معاشرے میں رسوا نہ کیا جائے ۔ چنانچہ فرمایا کہ اگر وہ گواہ پیش کرنے سے قاصر رہے تو اُسے اسی کوڑے مارے جائیں اور ہمیشہ کے لیے ساقط الشہادت قرار دے دیا جائے۔ یعنی اُس کی گواہی پھر کسی معاملے میں بھی قبول نہ کی جائے اور اِس طرح معاشرے میں اُس کی حیثیت عرفی بالکل ختم کر دی جائے۔

[12]۔ یعنی سو کوڑے کی سزا جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ آیت میں اِس کے لیے 'الْعَذَاب' کا لفظ آیا ہے۔ اِسی مفہوم کے لیے اوپر 'عَذَابَهُمَا' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ عربی زبان کے علما جانتے ہیں کہ اُس میں یہ قاعدہ بالکل مسلم ہے کہ معرفہ کا اعادہ اگر معرفہ کی صورت میں کیا جائے اور کوئی قرینہ مانع نہ ہو تو دوسرا بعینہٖ پہلا ہو گا۔ لہٰذا سو کوڑے کے سوا کوئی دوسری سزا اِس سے کسی طرح مراد نہیں لی جا سکتی۔ چنانچہ یہ بالکل قطعی ہے کہ شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کی سزا میں اگر علی الاطلاق کوئی فرق کیا جائے گا تو یہ قرآن کے بالکل خلاف ہوگا۔

[13]۔ یہ جواب شرط ہے جو عربیت کے قاعدے سے آیت میں محذوف ہے۔ آگے آیت ۱۴ میں اِس کو کھول دیا ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی رعایت سے کیا ہے۔

____________

* استثنا ۲۲: ۲۳- ۲۹۔

** النور۲۴: ۲۳۔

*** النساء ۴: ۲۵۔

_________________