البیان: النور ۲۴: ۵۸ - ۶۴ (۶)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة النور

(۶)

(گذشتہ سے پیوستہ)

يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَحِيْنَ تَضَعُوْنَ ثِيَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِيْرَةِ وَمِنْۣ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِﵪ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْﵧ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌۣ بَعْدَهُنَّﵧ طَوّٰفُوْنَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰي بَعْضٍﵧ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ٥٨ وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ٥٩ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۣ بِزِيْنَةٍ وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ٦٠ایمان والو، (تمھارے قلب ونظر کی پاکیزگی کے لیے جو ہدایات ہم نے دی ہیں، تم اُن کی مزید وضاحت چاہتے ہو تو سنو)، تمھارے غلام اور لونڈیاں اورتم میں جو بلوغ کو نہیں پہنچے، تین وقتوں میں تم سے اجازت لے کر تمھارے پاس آیا کریں: نماز فجر سے پہلے؛ جب دوپہر کو تم کپڑے اتارتے ہو اور نماز عشا کے بعد[98]۔ یہ تین وقت تمھارے لیے پردے کے وقت ہیں[99]۔ اِن کے علاوہ (وہ بلااجازت آجائیں تو) نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر، اِس لیے کہ تم ایک دوسرے کے پاس آنے جانے والے ہی ہو[100]۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ تم میں جو بچے ہیں، وہ جب بلوغ کو پہنچ جائیں تو اُسی طرح اجازت لے کر آئیں، جس طرح اُن کے اگلے اجازت لیتے رہے ہیں[101]۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ اور بڑی بوڑھی عورتیں جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، وہ اگر اپنے دوپٹے گریبانوں سے اتار دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں[102]، بشرطیکہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں[103]۔ تاہم وہ بھی احتیاط کریں تو اُن کے لیے بہتر ہے اور اللہ سمیع وعلیم ہے[104]۔ ۵۸ -۶۰لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰي حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلٰ٘ي اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۣ بُيُوْتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗ٘ اَوْ صَدِيْقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْتَاتًاﵧ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰ٘ي اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَيِّبَةً كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ٦١(اللہ اِن ہدایات سے تمھارے لیے کوئی تنگی پیدا نہیں کرنا چاہتا، اِس لیے) نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے، نہ لنگڑے کے لیے اور نہ مریض کے لیے اور نہ خود تمھارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یااپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے[105] یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں، چاہے (مرد وعورت) اکٹھے بیٹھ کر کھاؤیا الگ الگ[106]۔ البتہ، جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔ ۶۱اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰ٘ي اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوْا حَتّٰي يَسْتَاْذِنُوْهُ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ٦٢(یہی پاکیزگی تمھارے طرز عمل میں بھی چاہیے۔ اِس لیے کہ) مومن تو درحقیقت وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر سچا ایمان رکھتے ہیں[107] اور جب کسی اجتماعی کام کے لیے رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک اُس سے اجازت نہ لے لیں، وہاں سے نہیں جاتے۔ جو لوگ تم سے اجازت لے کر جاتے ہیں، وہی، (اے پیغمبر)، اللہ اور اُس کے رسول کے ماننے والے ہیں۔ سو جب وہ اپنے کسی کام کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو اُن میں سے جس کو چاہو، اجازت دے دیا کرو اور اُن کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتے رہو[108]۔ بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔۶۲ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاﵧ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًاﵐ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖ٘ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ٦٣ اَلَا٘ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قَدْ يَعْلَمُ مَا٘ اَنْتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُوْنَ اِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ٦٤ تم لوگ اپنے درمیان رسول کے بلانے کو اُس طرح کا بلانا نہ سمجھو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے چلے جاتے رہے ہیں[109]۔ سو اُن لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو رسول کے حکم سے گریز کرکے اُس کی مخالفت کرتے رہے ہیں[110] کہ اُن پر کوئی آزمایش آ جائے یا اُن کو دردناک عذاب آپکڑے۔سنو، زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا ہے۔ تم جس حال پر ہو، اللہ اُس کو جان چکا ہے۔ جس دن یہ اُس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ اِنھیں بتا دے گا جو کچھ یہ کرکے آئے ہیں۔ اور (یاد رکھو کہ) اللہ ہر چیز سے واقف ہے[111]۔ ۶۳- ۶۴

[98]۔ پیچھے ہدایت کی گئی ہے کہ گھروں میں داخل ہونے کے لیے اجازت لی جائے۔ یہ اُس کی وضاحت فرمائی ہے کہ گھروں میں آمد ورفت رکھنے والے غلاموں اور نابالغ بچوں کے لیے ہر موقع پر اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ اُن کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ تین اوقات میں اجازت لے لیا کریں۔

[99]۔ یہ دلیل بیان فرمائی ہے کہ اِن اوقات میں اگر کوئی اچانک آجائے گا تو ممکن ہے کہ گھر والوں کو ایسی حالت میں دیکھ لے، جس میں دیکھنا پسندیدہ نہ ہو۔

[100]۔ غلام اور بچے کیوں مستثنیٰ ہوں گے؟ یہ اُس کی حکمت کا بیان ہے۔

[101]۔ یعنی اِس دلیل کی بنا پر کہ یہ بچپن سے گھر میں آتے جاتے رہے ہیں، اِنھیں ہمیشہ کے لیے مستثنیٰ نہیں سمجھا جائے گا۔ بلوغ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد اِن کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ عام قانون کے مطابق اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوں۔

[102]۔ پیچھے ہدایت کی گئی ہے کہ عورتوں نے زینت کی ہو تو غیرمحرموں کی موجودگی میں وہ اپنا سینہ اور گریبان اوڑھنیوں کے آنچل سے ڈھانپ لیا کریں۔ یہ اُس کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کا یہ حکم اُن بوڑھی عورتوں کے لیے نہیں ہے جن کی خواہشات مر چکی ہیں اور اُنھیں دیکھ کر مردوں میں بھی کوئی صنفی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اگر چاہیں تو اپنی اوڑھنیاں مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں۔ اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

[103]۔ یعنی بن ٹھن کر رہنے اور دوسروں کو دکھانے کا شوق باقی نہ رہا ہو۔

[104]۔ یعنی پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ مردوں کی موجودگی میں دوپٹے نہ اتاریں اور اِن ہدایات پر اِن کی روح کے مطابق عمل کریں، اِس لیے کہ جس ہستی کی طرف سے یہ دی جا رہی ہیں، وہ سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔ اُس سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی۔

[105]۔ یہ اُن گھروں کی تعبیر ہے جو کسی شخص کی سرپرستی میں ہوں، جیسے یتیموں کا گھر اُن کے اولیا کے لیے۔

[106]۔ مطلب یہ ہے کہ اِن میں سے کسی چیز کو بھی ممنوع قرار دینا پیش نظر نہیں ہے۔ اِس سے مختلف کوئی بات اگر لوگوں نے سمجھی ہے تو غلط سمجھی ہے۔ ملنے جلنے کے جو آداب بتائے جا رہے ہیں، اُن سے ربط وتعلق کے لوگوں کو سہارے سے محروم کرنا یا لوگوں کی سوشل آزادیوں پر پابندی لگانا مقصود نہیں ہے۔ وہ اگر سمجھ بوجھ سے کام لیں تو یہ سارے تعلقات اِن آداب کی رعایت کے ساتھ بھی قائم رکھ سکتے ہیں۔

[107]۔ اصل میں فعل 'اٰمَنُوْا' استعمال ہوا ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہ یہاں اپنے کامل مفہوم میں ہے۔

[108]۔ اِس سے معلوم ہوا کہ خدا کے رسول سے اِس طرح کی اجازت کسی ناگزیر ضرورت ہی کے لیے مانگنی چاہیے، اِس لیے کہ یہ بھی کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...اِس لیے کہ رسول کی معیت ونصرت سے بڑھ کر، بالخصوص جب کہ کوئی اجتماعی ضرورت درپیش ہو، کوئی دوسرا کام نہیں ہو سکتا۔ لیکن انسانی کم زوریوں کو پیش نظر رکھ کر رسول کو یہ اجازت دے دی گئی کہ اگر وہ کسی کو اجازت دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں اور اُس کی اِس کم زوری کے لیے اللہ سے استغفار کریں۔''(تدبر قرآن۵/ ۴۳۴)

[109]۔ اصل الفاظ ہیں:'قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا'۔ 'يَتَسَلَّلُوْنَ' سے پہلے فعل ناقص اِس جملے میں محذوف ہے۔ ہر صاحب ذوق اندازہ کر سکتا ہے کہ اِس کے اسلوب بیان میں کس درجہ غصہ اور عتاب مضمر ہے۔

[110]۔ یہاں جس مخالفت کا ذکر ہے، اُس کی نوعیت درحقیقت گریز وفرارہی کی تھی۔ چنانچہ 'يُخَالِفُوْنَ' کا صلہ 'عَنْ ' کے ساتھ آیا ہے جس سے یہ گریز وفرار کے مفہوم پر متضمن ہو گیا ہے۔

[111]۔ اسلوب کی تبدیلی سے واضح ہے کہ یہ بات مخاطبین سے منہ پھیر کر فرمائی گئی ہے۔

کوالالمپور

۱۰ / اگست ۲۰۱۳ء

__________