البیان: النور ۲۴: ۲۷-۳۴ (۳)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة النور

(۳)

(گذشتہ سے پیوستہ)

يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰي تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰ٘ي اَهْلِهَاﵧ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ٢٧ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَا٘ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰي يُؤْذَنَ لَكُمْﵐ وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰي لَكُمْﵧ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ٢٨ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِيْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْﵧ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ٢٩ ایمان والو، (اِسی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے کہ) تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، جب تک کہ تعارف نہ پیدا کر لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو[38]۔ یہی طریقہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تمھیں یاددہانی حاصل رہے[39]۔ پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اُن میں داخل نہ ہو، جب تک کہ تمھیں اجازت نہ دے دی جائے۔ اور اگر تم سے کہاجائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ[40]۔ یہی طریقہ تمھارے لیے پاکیزہ ہے اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے خوب جانتا ہے[41]۔ اِس میں، البتہ تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جن میں تمھارے لیے کوئی منفعت ہے اور وہ رہنے کے گھر نہیں ہیں[42]۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو۔ ۲۷- ۲۹ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْﵧ ذٰلِكَ اَزْكٰي لَهُمْﵧ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۣ بِمَا يَصْنَعُوْنَ٣٠ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّﵣ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْ٘ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْ٘ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰي عَوْرٰتِ النِّسَآءِﵣ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّﵧ وَتُوْبُوْ٘ا اِلَي اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ٣١ (اے پیغمبر)، اپنے ماننے والوں کو ہدایت کرو کہ (اِن گھروں میں عورتیں ہوں تو) اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں [43]اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں[44]۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں[45]نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں[46] اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں[47]۔ اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں[48]، مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ، اپنے شوہروں کے باپ[49]، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں[50]، اپنے میل جول کی عورتوں [51] اور اپنے غلاموں[52] کے سامنے یا اُن زیردست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے [53] یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے۔ ایمان والو، (اب تک کی غلطیوں پر) سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ ۳۰- ۳۱وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰي مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَآئِكُمْﵧ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖﵧ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ٣٢ وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰي يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖﵧ وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًاﵲ وَّاٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيْ٘ اٰتٰىكُمْﵧ وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاﵧ وَمَنْ يُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۣ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ٣٣ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا٘ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ وَّمَثَلًا مِّنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ٣٤ (اِسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ) تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں[54]، اُن کے نکاح کر دو [55]اور اپنے اُن غلاموں او رلونڈیوں کے بھی جو اِس کی صلاحیت رکھتے ہوں[56]۔ اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ اُن کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا[57]۔ اللہ بڑی وسعت والا ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں[58]، اُنھیں چاہیے کہ اپنے آپ کو ضبط میں رکھیں[59]، یہاں تک کہ اللہ اُن کو اپنے فضل سے غنی کر دے[60]۔ اور تمھارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت[61] چاہیں، اُن سے مکاتبت کرلو، اگر تم اُن میں بہتری پاؤ (تاکہ وہ بھی پاکیزگی میں آگے بڑھیں) [62]۔ اور (اِس کے لیے اگرضرورت ہو تو مسلمانو)، اُنھیں اُس مال میں سے دو جو اللہ نے تمھیں عطا فرمایا ہے[63]۔ اور محض اِس لیے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ تمھیں حاصل ہو جائے، اپنی لونڈیوں[64] کو پیشہ پر مجبور نہ کرو، جب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں۔ اور جو اُنھیں مجبور کرے گا تو اِس کا گناہ اُسی پر ہے، اِس لیے کہ اُن پر اِس جبر کے بعد اللہ (اُن کے لیے) غفور ورحیم ہے[65]۔ ہم نے تمھاری طرف، (اے پیغمبر ،یہ) کھول کر بتانے والی آیتیں اتار دی ہیں او ر اُن لوگوں کی تمثیل بھی جو تم سے پہلے گزرے ہیں[66] اور خدا سے ڈرنے والوں کے لیے موعظت بھی۔ ۳۲- ۳۴

[باقی]

________________

Sign up now!

[38]۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اِس طرح کے موقعوں پر ضروری ہے کہ آدمی پہلے گھر والوں کو اپنا تعارف کرائے، جس کا شایستہ اور مہذب طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا جائے۔ اِس سے گھر والے معلوم کر لیں گے کہ آنے والا کون ہے، کیا چاہتا ہے اور اُس کا گھر میں داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں؟ اِس کے بعداگر وہ سلام کا جواب دیں اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو، ورنہ واپس ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس حکم کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ اجازت کے لیے تین مرتبہ پکارو، اگر تیسری مرتبہ پکارنے پر بھی جواب نہ ملے تو واپس ہو جاؤ۱؎ ۔ اِسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے، اِس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اِس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے۲؎۔

[39]۔ یعنی اِس بات کی یاددہانی کہ تم دوسروں کے حرم میں قدم رکھ رہے ہو، جہاں کچھ اخلاقی آداب کا لحاظ ضروری ہے اور گھر والے بھی آ گاہ رہیں کہ اُن کے اندر ایک ایسا شخص موجود ہے جس کے معاملے میں کچھ حدود و قیود ملحوظ رہنے چاہییں۔

[40]۔ مطلب یہ ہے کہ اجازت دینے کے لیے کوئی گھر میں موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اُس کی طرف سے کہہ دیا جائے کہ اِس وقت ملنا ممکن نہیں ہے تودل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلے جاؤ۔

[41]۔ اللہ تعالیٰ کی صفت علم کے حوالے سے یہ تنبیہ آگے بھی دو مرتبہ کی گئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''... یہ بار بار یاددہانی اِس وجہ سے کی جا رہی ہے کہ جن چیزوں سے یہاں روکا جا رہا ہے، اُن کے لیے نفس کے اندر چور دروازے بہت سے ہیں۔ جب تک خدا کے علیم وخبیر ہونے کا صحیح طور پر استحضار نہ ہو، مجرد احکام و ہدایات سے اِن رخنوں کو بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ شیطان کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتا ہے اور آدمی ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اِس تصور کا دل پر ہر وقت غلبہ رہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے تو یہ چیز شیطان کی مخفی سے مخفی چالوں سے بھی انسان کومحفوظ رکھتی ہے۔''(تدبر قرآن۵/ ۳۹۵)

[42]۔ آیت میں اِس کے لیے 'بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یعنی ہوٹل، سراے، مہمان خانے، دکانیں، دفاتر، مردانہ نشست گاہیں وغیرہ۔ اِن میں اگر کسی منفعت اورضرورت کا تقاضا ہو تو آدمی اجازت کے بغیر بھی جاسکتا ہے۔ اجازت لینے کی جو پابندی اوپر عائد کی گئی ہے، وہ اِن جگہوں سے متعلق نہیں ہے۔

[43]۔ یہ ہدایت آگے عورتوں کو بھی کی گئی ہے۔ اِس کے لیے اصل میں 'يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ' کے الفاظ آئے ہیں۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مرد وعورت ایک دوسرے کے حسن وجمال سے آنکھیں سینکنے، خط وخال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں تو اِس حکم کا منشا یقیناً پورا ہو جاتا ہے، اِس لیے کہ اِس سے مقصود نہ دیکھنا یاہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے، بلکہ نگاہ بھر کر نہ دیکھنا اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے۔ اِس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کی زناہے۔ اِس سے ابتدا ہو جائے تو شرم گاہ اِسے پورا کر دیتی ہے یا پورا کرنے سے رہ جاتی ہے۳؎۔ چنانچہ یہی نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اِسے فوراً پھیر لینا چاہیے۴؎۔

[44]۔ یعنی اُن پر پہرابٹھا دیں۔ چنانچہ اُن کو نہ دوسروں کے سامنے کھولیں، نہ اُن کے اندر دوسروں کے لیے کوئی میلان پیدا ہونے دیں۔ عورتیں اور مرد ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی اِن جگہوں کو اوربھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپائیں اور ہمیشہ ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی اچھی طرح چھپانے والا ہو۔

[45]۔ یعنی زیورات، بناؤ سنگھار او رملبوسات جو عورتیں خاص آرایش کے موقعوں پر پہنتی ہیں۔

[46]۔ اِس کے لیے اصل میں 'اِلاَّ مَا ظَهَرَ مِنْهَا' کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کا صحیح مفہوم عربیت کی رو سے وہی ہے جسے زمخشری نے 'إلاّ ما جرت العادة والجبلة علی ظھوره والأصل فیه الظهور'۵؎کے الفاظ میں بیان کردیا ہے، یعنی اُن اعضا کی زینتیں جنھیں انسان عادتاً او رجبلی طور پر چھپایا نہیں کرتے اور وہ اصلاً کھلی ہی ہوتی ہیں، جیسے ہاتھ، پاؤں اور چہرہ وغیرہ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی تالیف کے لحاظ سے یہ 'الظاهر منها' ہے، اِسے 'أن یظهر منها شيء' کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا، جس طرح کہ بعض اہل علم نے لیا ہے۔

[47]۔ یہ مقصد اگر دوپٹے کے سوا کسی او رطریقے سے حاصل ہو جائے تو اِس میں بھی مضایقہ نہیں ہے۔ مدعا یہی ہے کہ عورتوں نے زینت کی ہو تو اُنھیں اپنا سینہ اور گریبان مردوں کے سامنے کھولنا نہیں چاہیے، بلکہ اِس طرح ڈھانپ کر رکھنا چاہیے کہ اُس کی زینت کسی پہلو سے نمایاں نہ ہونے پائے۔

[48]۔ پہلا استثنا 'اِلاَّ مَا ظَهَرَ مِنْهَا' کا تھا۔ اب یہ دوسرا استثنا بیان فرمایا ہے کہ زینت کی چیزوں کو چھپا کر رکھنے کی پابندی کن اعزہ اور متعلقین کے سامنے نہیں ہے۔

[49]۔ اپنے اور شوہر کے باپ کے لیے اصل میں لفظ 'اٰبَآء' استعمال ہوا ہے۔ اِس کے مفہوم میں صرف باپ ہی نہیں، بلکہ اجداد واعمام، سب شامل ہیں۔ لہٰذا ایک عورت اپنی ددھیال اورننھیال، اور اپنے شوہر کی ددھیال اور ننھیال کے اِن سب بزرگوں کے سامنے زینت کی چیزیں اُسی طرح ظاہر کر سکتی ہے، جس طرح اپنے والد اور خسر کے سامنے کر سکتی ہے۔

[50]۔ بیٹوں میں پوتے، پرپوتے اور نواسے، پرنواسے، سب شامل ہیں اور اِس معاملے میں سگے اور سوتیلے کا بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ یہی حکم بھائیوں اور بھائی بہنوں کی اولاد کا ہے۔ اِن میں بھی سگے، سوتیلے اور رضاعی، تینوں قسم کے بھائی اور بھائی بہنوں کی اولاد شامل سمجھی جائے گی۔

[51]۔ اِس سے واضح ہے کہ اجنبی عورتوں کو بھی مردوں کے حکم میں سمجھنا چاہیے اور اُن کے سامنے بھی مسلمان عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کے صنفی جذبات بھی بعض اوقات عورتوں سے متعلق ہو جاتے ہیں۔ اِسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ اُن کے محاسن سے متاثر ہو کر وہ مردوں کو اُن کی طرف اور اُنھیں مردوں کی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

[52]۔ یہ اُس زمانے میں موجود تھے۔ 'مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ' کے جو الفاظ اِن کے لیے اصل میں آئے ہیں، اُن سے بعض فقہا نے صرف لونڈیاں مراد لی ہیں، لیکن اِس کا کوئی قرینہ الفاظ میں موجود نہیں ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...اگر صرف لونڈیاں ہی مراد ہوتیں تو صحیح او ر واضح تعبیر 'اَوْ اِمَآئِهِنَّ' کی ہوتی، ایک عام لفظ جو لونڈیوں اور غلاموں، دونوں پر مشتمل ہے، اِس کے لیے استعمال نہ ہوتا۔ پھر یہاں اِس سے پہلے 'نِسَآئِهِنَّ' کا لفظ آ چکا ہے جو اُن تمام عورتوں پر، جیساکہ واضح ہو چکا ہے، مشتمل ہے جو میل جول اور خدمت کی نوعیت کی وابستگی رکھتی ہیں۔ اِس کے بعد لونڈیوں کے علیحدہ ذکر کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔''(تدبر قرآن ۵/ ۳۹۸)

[53]۔ یعنی وہ لوگ جو گھر والوں کی سرپرستی میں رہتے ہوں او رزیردستی کے باعث یا کسی اور وجہ سے اُنھیں عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو سکتی ہو۔

[54]۔ یعنی بیوی یا شوہر سے محروم ہوں۔

[55]۔ بیوی یا شوہر سے محرومی بسااوقات اخلاقی مفاسد اور شیطان کی دراندازیوں کا دروازہ کھول دینے کا باعث بن جاتی ہے۔ پھر اِسی سے شریروں کو تہمتیں پھیلانے کے مواقع بھی ہاتھ آتے ہیں۔ چنانچہ تزکیہ وتطہیر کے لیے یہ ہدایت بھی ضروری تھی۔

[56]۔ یعنی اِس کی ذمہ داری سنبھال سکتے اور اِس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حقوق وفرائض ادا کر سکتے ہوں۔

[57]۔ یہ بشارت غریبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...جو آدمی اپنے ایمان واخلاق کی حفاظت کے لیے نکاح کرتا ہے، اُس پر اللہ تعالیٰ کی نظر کرم ہوتی ہے اور وہ اُس کی دست گیری فرماتا ہے۔ آدمی جب تک بیوی سے محروم رہتا ہے، وہ کچھ خانہ بدوش سا بنا رہتا ہے اور اُس کی بہت سی صلاحیتیں سکڑی اور دبی ہوئی رہتی ہیں۔ اِسی طرح عورت جب تک شوہر سے محروم رہتی ہے،اُس کی حیثیت بھی اُس بیل کی ہوتی ہے جو سہارا نہ ملنے کے باعث پھیلنے اور پھولنے پھلنے سے محروم ہو۔ لیکن جب عورت کو شوہر مل جاتا ہے اور مرد کو بیوی کی رفاقت حاصل ہو جاتی ہے تو دونوں کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور زندگی کے میدان میں جب وہ دونوں مل کر جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی جدوجہد میں برکت دیتا ہے اور اُن کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں۔''(تدبر قرآن۵ / ۴۰۰)

[58]۔ یعنی نکاح کرنا چاہیں، مگر اُن کی غربت کی وجہ سے کوئی عورت بھی اپنے آپ کو اُن کے حبالۂ عقد میں دینے پر راضی نہ ہو۔

[59]۔ اِس لیے کہ نکاح نہ ہو سکے تو خدا کی شریعت میں یہ چیز بدکاری کے لیے وجہ جواز نہیں بن جاتی۔

[60]۔ اِس میں بھی یہ بشارت مضمر ہے کہ جو شخص اپنے ایمان واخلاق کی حفاظت کے لیے ضبط نفس سے کام لے گا، اُسے توقع رکھنی چاہیے کہ اُس کا پروردگار ضرور اُس کے لیے کوئی راہ کھولے گا۔

[61]۔ یہ ایک اصطلاح ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی غلام اپنے مالک سے یہ معاہدہ کر لے کہ فلاں مدت میں وہ اُس کو اتنی رقم ادا کرے گا یا اُس کی کوئی متعین خدمت انجام دے گا اور اُس کے بعد آزاد ہو جائے گا۔

[62]۔ یعنی اگر وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور نیکی اور خیر کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے تو لازم ہے کہ اُس کو مکاتب بنا لو، اِس لیے کہ غلامی بجاے خود ذہنی آلودگی اور اخلاقی پستی کا باعث بن جاتی ہے۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں غلامی کو معیشت اور معاشرت کے لیے اِسی طرح ناگزیر سمجھا جاتا تھا، جس طرح اب سود کو سمجھا جاتا ہے۔ نخاسوں پر ہر جگہ غلاموں اور لونڈیوں کی خرید وفروخت ہوتی تھی اور کھاتے پیتے گھروں میں ہر سن وسال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔ اِس طرح کے حالات میں اگر یہ حکم دیا جاتا کہ تمام لونڈیاں اور غلام آزاد ہیں تو اُن کی ایک بڑی تعداد کے لیے جینے کی اِس کے سوا کوئی صورت باقی نہ رہتی کہ مرد بھیک مانگیں اور عورتیں جسم فروشی کے ذریعے سے اپنے پیٹ کا ایندھن فراہم کریں۔ یہ مصلحت تھی جس کی وجہ سے قرآن نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا اور اِس سلسلہ کے کئی اقدامات کے بعد بالآخر یہ حکم نازل فرمایا۔ یہ اِس بات کا اعلان تھا کہ لوح تقدیر اب غلاموں کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی آزادی کی تحریر، جب چاہیں، اُس پر رقم کر سکتے ہیں۔ اِس آخری حکم سے پہلے غلامی کے رواج کو ختم کرنے کے لیے جو اقدامات وقتًافوقتًا کیے گئے، اُن کی تفصیلات ہماری کتاب ''میزان'' کے باب ''قانون معاشرت'' میں دیکھ لی جا سکتی ہیں۔ اِس سلسلہ کا سب سے اہم حکم سورۂ محمد (۴۷) کی آیت ۴ میں بیان ہوا ہے، جہاں قرآن نے واضح کر دیا کہ آیندہ جو لوگ جنگ میں پکڑے جائیں گے، مسلمان اُنھیں غلام نہیں، بلکہ قیدی بنا کر رکھیں گے او راِس کے بعد بھی دو ہی صورتیں ہوں گی: اُنھیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے گا یا بغیر کسی معاوضے کے احسان کے طور پر رہا کیا جائے گا۔

[63]۔ یہ ہدایت معاشرے کو فرمائی ہے اور آیت میں 'مِنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيٓ اٰتٰكُمْ' کے الفاظ لوگوں کے اندر جذبۂ شکر کو ابھارنے کے لیے آئے ہیں کہ جو چیز خدا کی دی ہوئی ہے، اُس کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہ کرو۔ یہی حکم، ظاہر ہے کہ ارباب حل وعقد کے لیے بھی ہو گا کہ وہ بیت المال سے بھی ایسے غلاموں کی مدد کریں۔ چنانچہ مصارف زکوٰۃ میں 'فِي الرِّقَاب' کی مد اِسی مقصد سے رکھی گئی تھی۔

[64]۔ اصل میں لفظ 'فَتَيٰت' استعمال ہواہے۔ یہ 'فتاة' کی جمع ہے جس کے معنی لڑکی اور چھوکری کے ہیں۔ 'أمة' کے بجاے یہ لفظ قرآن نے اِس لیے استعمال کیا ہے کہ لونڈیوں اور غلاموں کے بارے میں لوگوں کی نفسیات بدلے اور صدیوں سے جو تصورات قائم کر لیے گئے ہیں، وہ تبدیل ہوں۔ قرآن کا یہی مدعا ہے جس کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ کوئی شخص اپنے غلام کو 'عبد' اور لونڈی کو 'أمة'نہ کہے، بلکہ 'فتٰي' (جوان) اور 'فتاة ' (لڑکی) کہہ کر بلائے۶؎۔ غلاموں کے معاشرتی درجے کو اونچا کرنے کے لیے یہ بھی ایک اہم اصلاح تھی جو غلامی کے بتدریج خاتمے کے لیے کی گئی۔

[65]۔ لونڈیوں کے اندر یہ احساس کہ وہ پاک دامنی کی زندگی بسر کریں، اسلام کی تعلیمات اور اُن اصلاحات کی وجہ سے پیدا ہوا جو اوپر مذکور ہیں۔ چنانچہ بانداز تنبیہ فرمایا ہے کہ اب کوئی شخص اِن لڑکیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرے، ورنہ یاد رکھے کہ جبر کی صورت میں اللہ اُنھیں تو معاف کر دے گا، لیکن اُن سے پیشہ کرانے والے اپنا انجام سوچ لیں، وہ اُس کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ اِس تنبیہ کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ اُس زمانے کے عرب میں لونڈیاں ہی زیادہ تر چکلوں میں بٹھائی جاتی تھیں اور اُن کے مالک جو کچھ اُن کے ذریعے سے کماتے تھے، اُس سے آسانی کے سا تھ دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اندیشہ تھا کہ وہ اپنے تمام ہتھکنڈے اُن کو پاک دامنی کی زندگی بسر کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کریں گے۔

[66]۔ یہ اُس تمثیل کی طرف اشارہ ہے جو آگے آرہی ہے۔

____________________

۱؎ بخاری، رقم۶۲۴۵۔مسلم، رقم۵۶۳۳۔

۲؎ بخاری، رقم۶۲۴۱۔ مسلم، رقم۵۶۳۸۔

۳؎ بخاری، رقم۶۲۴۳۔ مسلم، رقم۶۷۵۴۔

۴؎ بخاری، رقم۱۸۵۵۔ مسلم، رقم۵۶۴۴، ۳۲۵۱۔

۵؎ الکشاف۳ / ۲۳۶۔

۶؎ مسلم، رقم۵۸۷۵، ۵۸۷۷۔