البیان: النور ۲۴: ۱۱-۲۶ (۲)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة النور

(۲)

(گذشتہ سے پیوستہ)

اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْﵧ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْﵧ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْﵧ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِﵐ وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ١١ یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں[14]، وہ تمھارے ہی اندر کا ایک گروہ ہیں[15]۔ تم اِس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے[16]۔ اِن میں سے ہر ایک نے جو گناہ کمایا ہے، وہ اُس کے حساب میں پڑے گا اور (اِس فتنے کا بانی)، جس نے اُن میں سے اِس کا سب سے بڑا حصہ لیا ہے[17]، اُس کے لیے تو عذاب عظیم ہے ۔ ۱۱ لَوْلَا٘ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرًاﶈ وَّقَالُوْا هٰذَا٘ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ١٢ تم لوگوں نے جب یہ بات سنی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کے حق میں نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ ایک کھلا ہوا بہتان ہے[18]؟۱۲ لَوْلَا جَآءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَﵐ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ١٣ یہ (الزام لگانے والے) اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ کیوں نہ لائے[19]؟ پھر جب گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک[20] یہی جھوٹے ہیں۔۱۳ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِيْ مَا٘ اَفَضْتُمْ فِيْهِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ١٤ اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَهٗ هَيِّنًاﵲ وَّهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمٌ١٥ وَلَوْلَا٘ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَا٘ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَاﵲ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ١٦ تم (مسلمانوں) پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت نہ ہوتی تو جس راستے پر تم چل نکلے تھے، اُس میں تم پر کوئی بڑا عذاب آ جاتا۔ ذرا خیال کرو، جب تم اِس کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے[21] اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اُس کو معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالاں کہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی با ت تھی ۔ تم نے اُس کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں؟ معاذ اللہ، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ ۱۴- ۱۶ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖ٘ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ١٧ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِﵧ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ١٨ اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو پھر کبھی ایسا نہ کرنا[22]۔ اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے[23]۔ ۱۷ - ۱۸ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِﵧ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ١٩ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ٢٠ اِس میں شبہ نہیں کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بدکاری کا چرچا ہو[24]، اُن کے لیے دنیا میں بھی دردناک سزا ہے[25] اور آخرت میں بھی۔ اِن سب لوگوں کو اللہ جانتا ہے، مگر تم نہیں جانتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ رؤف و رحیم ہے تو اِس گناہ کی پاداش میں تم لوگوں پر بڑی آفت آجاتی [26]۔۱۹ -۲۰يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِﵧ وَمَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ فَاِنَّهٗ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِﵧ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًاﶈ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَآءُﵧ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ٢١ ایمان والو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو[27] اور (یاد رکھو کہ) جو شیطان کے نقش قدم پر چلے گا، وہ اپنے ہی کو برباد کرے گا، اِس لیے کہ وہ تو بے حیائی او ربرائی ہی کا راستہ سجھاتا ہے۔ (تم دوسروں پر الزام لگاتے اور اپنے آپ کو بہت پاکیزہ سمجھتے ہو)؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی کبھی پاک نہ ہو سکتا۔ لیکن اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) پاک کر دیتا ہے[28] اور اللہ سمیع وعلیم ہے[29]۔ ۲۱ وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْ٘ا اُولِي الْقُرْبٰي وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِﵤ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْاﵧ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْﵧ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ٢٢ تم میں سے جو لوگ صاحب فضل ہیں اور جن کو وسعت عطا ہوئی ہے[30]، وہ (اِس معاملے میں کسی کو ملوث دیکھ کر) اِس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اب وہ قرابت مندوں اور مسکینوں اور خدا کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے[31]۔ (نہیں، بلکہ) اُن کو چاہیے کہ بخش دیں اوردرگذر سے کام لیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو بخش دے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے[32]۔۲۲ اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِﵣوَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ٢٣ يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَاَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ٢٤ يَوْمَئِذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ٢٥ جو لوگ پاک دامن، بھولی بھالی[33]، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں[34]، اُن پر دنیا اور آخرت، دونوں میں لعنت کی گئی[35] اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ اُس دن، جب اُن کی زبانیں اور اُن کے ہاتھ پاؤں اُن کے مقابلے میں اُن کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ وہ جس بدلے کے مستحق ہیں، اُس دن اللہ اُنھیں پورا دے دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے، وہ تمام حقائق کو کھول دینے والا ہے۔ ۲۳ -۲۵اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِﵐ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِﵐ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَﵧ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ٢٦ اُس دن خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہوں گی اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ اِسی طرح پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہوں گی او ر پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے[36]۔ وہ اُن باتوں سے بری ہوں گے جو یہ لوگ (اُن کے بارے میں) کہتے ہیں۔ اُن کے لیے وہاں مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے[37]۔۲۶

____________________

[14]۔ یہ کس پر بہتان کا ذکر ہے؟ قرآن نے وضاحت نہیں کی، مگر روایتوں میں تصریح ہے کہ یہ اُس فتنے کی طرف اشارہ ہے جو غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر منافقین نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو متہم کرنے کے لیے برپا کیا تھا۔ اِس کی جو تفصیلات روایتوں میں بیان ہوئی ہیں، وہ تو بیش تر محل نظر ہیں، لیکن قرآن نے جس سیاق میں اور جس انداز سے اِس کا ذکر کیا ہے اور اِس کے مختلف کرداروں کی طرف جو اشارے کیے ہیں، اُن سے واضح ہے کہ معاملہ ایسی ہی کسی شخصیت پر تہمت کا ہے۔ چنانچہ استاذ امام لکھتے ہیں:

'' تاریخ وسیرت کی کتابوں سے واقعے کی نوعیت صرف یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بنی مصطلق (واقع ۶؍ہجری) سے مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ایک الگ اونٹ پر ہم سفر تھیں۔ راستے میں فوج نے شب میں کہیں پڑاؤ ڈالا۔ فوج کے کوچ سے پہلے ام المومنین ضرورت سے باہر نکلیں۔ اتنے میں فوج کے کوچ کا حکم ہو گیا۔ قافلہ روانہ ہو گیا اور ساتھ ہی ام المومنین کا ساربان بھی یہ سمجھ کر روانہ ہو گیا کہ آپ اپنے ہودج میں سوار ہیں۔ ام المومنین جب جگہ پر واپس آئیں اور دیکھا کہ قافلہ روانہ ہو گیا تو شب میں اِس کے سوا اُنھیں کوئی اور تدبیر نظر نہیں آئی کہ وہیں ٹھیر جائیں تاآں کہ اللہ تعالیٰ کوئی راہ پیدا کرے۔ حضرت صفوان صحابی اِس خدمت پر مامور تھے کہ وہ قافلے کے پیچھے پیچھے چلیں تاکہ بھولی بسری چیزوں کا جائزہ لے سکیں۔ جب صبح کو وہ پڑاؤ کی جگہ پر پہنچے اور دیکھا کہ ام المومنین پیچھے رہ گئیں تو اُنھوں نے 'اِنَّا لِلّٰهِ' پڑھا۔ بالآخر اپنا اونٹ بٹھایا۔ ام المومنین اُس پر سوار ہو گئیں اور اُنھوں نے مہار پکڑ کر اونٹ کو قافلے سے جا ملایا۔ فوج کے کوچ ومقام کے دوران میں اِس قسم کے واقعے کا پیش آجانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے، لیکن منافقین نے اِسی ذرا سی بات کو ایک افسانہ بنا ڈالا۔''(تدبر قرآن ۵/ ۳۸۲)

قرآن نے لفظ 'اِفْك' ہی سے اِس کی تردید کر دی ہے، اِس لیے کہ 'اِفْك' کے معنی قطعی جھوٹ اور افترا کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا کہ واقعے کی نوعیت اور اُس کے مختلف کرداروں کا ذکر کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت کے مخاطبین ہر چیز سے واقف تھے اور بعد والوں کے لیے اِس کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اُنھیں ایک بے ہودہ الزام کی تفصیلات سے واقف کرایا جائے۔

[15]۔ یعنی بظاہر مسلمان اور تمھاری جماعت کے افراد ہیں، مگر حقیقت میں منافقین ہیں جو ہر وقت تاک میں رہتے ہیں کہ تمھیں نقصان پہنچانے کے لیے اِس طرح کا کوئی موقع ہاتھ آئے۔

[16]۔ اِس میں بہتری کے کیا پہلو تھے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''خیر کا ایک نمایاں پہلو تو اِس کے اندر یہی تھا کہ اِس کے ذریعے سے مسلمانوں کو اپنے اندر کے ایک مار آستین گروہ کو اچھی طرح پہچان لینے کا موقع مل گیا۔ اگر یہ موقع نہ پیدا ہوتا تو معلوم نہیں، اندر ہی اندر یہ سرطانی پھوڑا کیا شکل اختیار کرتا اور اِس سے کیا مفاسد ظہورمیں آتے۔ دوسرا خیر کا پہلو اِس کے اندر یہ نکلا کہ مسلمانوں کے اندر جو بعض کم زوریاں دبی ہوئی تھیں، وہ اِس امتحان سے ابھر کر سامنے آ گئیں اور بروقت اُن کی اصلاح وتدبیر ہو گئی۔ معاشرے کے تزکیے کے نقطۂ نظر سے اِس کی جو اہمیت ہے، وہ بالکل واضح ہے۔ تیسرا پہلو اِس میں خیر کا یہ ہے کہ اِس واقعے نے معاشرے کی اصلاح وتنظیم سے متعلق بہت سے احکام و ہدایات کے نزول کے لیے ایک نہایت سازگار فضا پیدا کر دی۔ اگر اِس فضا کے پیدا ہوئے بغیر یہ احکام اترتے تو بہت سے لوگوں پر اِن کی حقیقی قدر وقیمت واضح نہ ہو سکتی۔''(تدبر قرآن ۵/ ۳۸۲)

[17]۔ روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ یہ اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف ہے جو اِس سے پہلے بھی اِس طرح کے فتنے برپا کر چکا تھا۔

[18]۔ یہ ہر مسلمان مرد وعورت کا حق ہے اور ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اُن کے اِس حق کا احترام کرے۔ چنانچہ جب تک دلیل سے ثابت نہ ہو جائے کہ وہ اِس حسن ظن کا حق دار نہیں ہے، اُس وقت تک اُسے یہی کہنا چاہیے۔

[19]۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ سورۂ نساء (۴) کی آیت ۱۵ میں زنا کی عادی عورتوں تک کے بارے میں یہی ہدایت کی گئی ہے۔

[20]۔ یعنی اللہ کے قانون کے مطابق، ورنہ، ظاہر ہے کہ اللہ کے علم میں تو یہ الزام بجاے خود جھوٹا تھا اور قرائن صاف بتا رہے تھے کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے، اُس کی سرے سے کوئی گنجایش ہی نہیں ہے۔

[21]۔ یعنی نقد ودرایت کے بغیر نقل در نقل کیے جا رہے تھے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ درایت کے بغیر روایت بعض اوقات کیسی سنگین غلطیوں کا باعث بن جاتی ہے۔

[22]۔ اصل الفاظ ہیں:'اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖٓ اَبَدًا'۔ یہ اگرچہ نہی ہے، لیکن ' اَنْ' کے بعد 'لا' نہیں آیا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ 'وَعْظ' اپنے مفہوم کے لحاظ سے اِس پر دلالت کرتا ہے۔

[23]۔ اِس لیے وہی بہتر سمجھتا ہے کہ تمھاری اِس غلطی پر تمھیں کیا بتائے اور سکھائے۔

[24]۔ یعنی عورتیں اور مرد، سب وہی کچھ کریں جس کی یہ تہمتیں گھڑ رہے ہیں تاکہ جو اخلاقی برتری اِس وقت مسلمانوں کو حاصل ہے، وہ جلد سے جلد ختم ہو جائے۔

[25]۔ دنیا میں اِس لیے کہ وہ اِس جرم کا ارتکاب اللہ ورسول کی براہ راست حکومت میں کر رہے تھے اور قرآن کی رو سے یہ حرابہ ہے جس کی سزائیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳ -۳۴ میں بیان کر دی ہیں۔

[26]۔ یعنی خدا گرفت کرتا اور توبہ واصلاح کی جو مہلت اِس وقت تمھیں دی جا رہی ہے، اُس کے بجاے اُس کا عذاب تم پر نازل ہو جاتا۔

[27]۔ یہ اُس رویے کی طرف اشارہ ہے جو ایک صریح بہتان کی نقل وروایت کے معاملے میں اُن لوگوں نے اختیار کیا جو منافقین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو گئے تھے۔

[28]۔ یہ نہایت لطیف تنبیہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...جو لوگ دوسروں کے عزت وناموس کے معاملے میں ہر قسم کی رطب ویابس باتیں بے پروائی سے قبول کر لیتے او ر اُن کی بنا پر اُن سے بدگمانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اُن کا یہ رویہ غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنے باب میں ضرورت سے زیادہ حسن ظن، بلکہ ایک قسم کے ادعاے تزکیہ میں مبتلا ہیں، خواہ اُن کو اپنے اِس باطن کا شعور ہو یا نہ ہو۔ اِسی مخفی چور سے یہاں اُن لوگوں کو آگاہ کیا ہے جنھوں نے ام المومنین کے باب میں دشمنوں کی اڑائی ہوئی افواہ کو بغیر کسی نکیر کے قبول کر لیا۔ فرمایا کہ ہر شخص یاد رکھے کہ جس کو بھی کوئی پاکی وپاکیزگی حاصل ہوتی ہے، محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر اُس کی توفیق شامل حال نہ ہو تو کوئی پاک نہیں ہو سکتا تو کسی کو اپنے تقویٰ وتزکیہ کا اتنا غرہ نہ ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کے معاملے میں ہر قسم کی باتیں بے تحقیق قبول کر لے۔''(تدبر قرآن ۵/ ۳۸۷)

[29]۔ مدعا یہ ہے کہ اِس طرح کا کوئی ادعا ہے تو متنبہ ہو جاؤ۔ تم میں سے کون پاکیزہ ہے اور کون آلودہ، خدا ہر ایک سے واقف ہے۔ اِس لیے کہ وہ تمھاری مخفی سے مخفی باتوں کو بھی سنتا اور جانتا ہے۔

[30]۔ یہ الفاظ حق اور ذمہ داری کی یاددہانی کے لیے ہیں کہ غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں، مگر جب تمھاری غلطیوں کے باوجود خدا نے تمھیں فضل ورزق سے نوازا ہے تو تمھارا رویہ بھی اِس سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔

[31]۔ یہ استحقاق کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ضرورت مند اپنی ضرورت کی بنیاد پر مدد کے مستحق ہیں۔ اُنھیں محض اِس لیے اُن کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دانستہ یا نادانستہ کسی غلطی کے مرتکب ہو گئے ہیں۔ روایتوں میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ کے خلاف طوفان اٹھانے والوں میں ایک نادار صحابی مسطح بن اثاثہ بھی تھے۔ یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عزیز تھے۔ حضرت ابوبکر اِن کی سرپرستی فرماتے تھے۔ آپ کو قدرتی طور پر مسطح بن اثاثہ کے رویے سے صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھا لی کہ آیندہ مسطح کی کوئی مدد نہ کریں گے۔ اِسی قسم کے رویے کا اندیشہ دوسرے غیرت مند مسلمانوں سے بھی تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے توجہ دلا دی۔

[32]۔ یہ بھی اُسی لطیف حقیقت کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...جس طرح کسی کے باب میں محض افواہوں کی بنا پر بدگمانی میں مبتلا ہو جانا خود اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ حسن ظن، بلکہ ادعاے تزکیہ کی دلیل ہے، اُسی طرح کسی کی غلطی پر اُس سے درگذر نہ کرنا اور اُس کو اپنی سرپرستی سے محروم کر دینا اپنے آپ کو غلطیوں سے مبرا سمجھنے کے ہم معنی ہے، اگرچہ آدمی کو اپنے اِس مخفی خیال کا شعور نہ ہو۔ اِس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ حکمت دین کے پہلو سے یہ دونوں غلطیاں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ اِسی وجہ سے اِن دونوں کا ذکر ایک ساتھ موزوں ہوا۔''(تدبر قرآن ۵/ ۳۸۸)

[33]۔ یعنی سیدھی سادھی شریف عورتیں جو دنیا کے چھل فریب نہیں جانتیں۔ اِس میں ایک لطیف اشارہ اُس طیبہ وطاہرہ کی طرف بھی ہے جس پر بہتان کا ذکر پیچھے ہوا ہے۔

[34]۔ اصل میں 'يَرْمُوْنَ' کا لفظ آیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...یہاں 'غٰفِلٰت' پر تہمت لگانے کے لیے اِس لفظ کے استعمال میں ایک خاص بلاغت ہے۔ اِس کے اندر یہ کنایہ ہے کہ جو لوگ بھولی بھالی پاک دامن بیبیوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ گویا سوتے میں اُن کو اپنی تیراندازی کا ہدف بناتے ہیں۔''(تدبر قرآن۵/ ۳۸۹)

[35]۔ یہ اِسی لعنت کا نتیجہ تھا کہ آخرت سے پہلے یہ اِسی دنیا میں رسوا ہو کر رہ گئے اور سرزمین عرب سے اِن کا یک قلم خاتمہ ہو گیا۔ قرآن نے جگہ جگہ بتایا ہے کہ رسولوں کی طرف سے براہ راست اتمام حجت کے بعد اُن کے منکرین کے لیے یہی سنت الہٰی ہے۔

[36]۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ تکویر (۸۱) کی آیت ۷ میں '

اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ' کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ لوگوں کے جوڑ اُس دن ایمان واخلاق کے لحاظ سے بندھیں گے۔

[37]۔ یہ ایک جامع تعبیر ہے جو قرآن میں آخرت کی تمام نعمتوں کے لیے اختیار کی گئی ہے۔

[باقی]

_________________