’’الرسالہ‘‘ میں ماخذ دین کی بحث: جناب جاوید احمد غامدی سے ایک گفتگو (۳)


[یہ سوال و جواب استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے ساتھ میری ایک گفتگو سے ماخوذ ہیں۔ ۲۰۱۳ء میں امام شافعی کی کتاب ''الرسالہ''کی تدریس کے دوران میں ایک مبتدی طالب علم کے اشکالات کو رفع کرنے کے لیے استاذ گرامی نے جوگفتگو فرمائی، اسے میں نے اپنے فہم کے لحاظ سے مرتب کیا ہے۔ امید ہے کہ ماخذ دین کی بحث میں دل چسپی رکھنے والے طالب علموں کے لیے یہ افادیت کا باعث ہوگی۔]

سوال: گذشتہ نشست میں آپ نے 'بیان' کا جو مفہوم سمجھایا تھا، وہ یہ تھا کہ اِس کا اطلاق کسی لفظ کے اُن افراد پر ہوتا ہے جو اُس کی پیدایش کے وقت اُس کے اندر موجود یا اُس کے ساتھ متصل ہوتے ہیں۔ یہ بات اصولاً تو سمجھ میں آ گئی ہے،مگرمثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ نماز پڑھتے ہوئے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا جائے، کیسے' بیان' ہو سکتاہے؟ مزید برآں، اگر امام صاحب کے موقف اور آپ کے اُن سے اتفاق و اختلاف کی نوعیت کسی مثال سے واضح ہو جائے تو بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔

جواب: دیکھیے،امام شافعی کہتے ہیں کہ 'بیان' اُن معانی کے لیے جامع اسم ہے جو اصول میں مجتمع اور فروع میں مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی یہ معانی اصل حکم کے اندر مضمر ہوتے ہیں۔ کبھی یہ تفصیل کی صورت میں سامنے آتے ہیں، کبھی فرع کی صورت میں اور کبھی شرح کی صورت میں۔ سامنے آنے کی یہ صورتیں اگرچہ مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن چونکہ یہ اصل کے اندر ہی سے نکل رہی ہوتی ہیں، اِس لیے اُس کا حصہ ہوتی ہیں۔مثلاً جب قرآن مجید کہتا ہے کہ نماز پڑھو، تو ظاہر ہے کہ نماز ایک تصور ہے جس کا لازماً ایک مصداق ہو گا ۔ اِس مصداق میں جو چیز بھی شامل ہو گی، وہ 'بیان' قرار پائے گی۔ چنانچہ اگر قرآن میں یہ پڑھنے کے بعد کہ نماز قائم کرو، آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان آجائے کہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھو تو یہ بات بیان قرار پائے گی ، کیونکہ یہ ''نماز قائم کرو'' کے دائرۂ مصداق کے بالکل اندر ہے۔ یعنی جب لفظ'نماز ' بولا جائے گا تو اس کے اندر اس کے تمام لوازم و شرائط پوری طرح شامل ہوں گے ۔ـــــــ اِنھی لوازم و شرائط کو فنی زبان میں ہم اُس حکم کے افراد سے تعبیر کرتے ہیں ۔ـــــــ گویا جب فرع کے اندر اصل ایک روح کی طرح موجود ہے تو وہ فرع اصل کا بیان ہی ہے۔ بالفاظ دیگر اصل اگر فروع میں اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہو تو یہ فروع بیان ہی قرار پائیں گی۔ اِسی طرح فرع اگر اصل کے ساتھ اپنا جامع تعلق قائم رکھے ہوئے ہے تو وہ بیان ہی ہو گی۔

اِس بات کو ہمارے نقطۂنظر کے تقابل میں بھی سمجھ لیجیے۔ قرآن میں نماز قائم کرنے کے حکم کے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ جب یہ حکم دیا گیا تو اِس کا مصداق دین ابراہیمی کی روایت کے طور پر عرب معاشرے میں معلوم و معروف تھا۔گویا یہ اُسی طرح کا حکم تھا ،جس طرح کہ آج ہم اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ نماز پڑھو۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ جب یہ حکم دیا گیاتو اُس کے مصداق کو بتانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ ذات خود موجود تھے۔ اب آپ دیکھیے کہ ان دونوں صورتوں میں'بیان' کا مصدر تو مختلف ہے، لیکن اصل حکم اور اس کے 'بیان' کے تعلق میں کوئی فرق نہیں ہے۔

امام صاحب نے اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دی ہیں اور واضح کیا ہے کہ قرآن مجید کے احکام کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ صرف اور صرف 'بیان' ہے۔ اور چونکہ وہ قرآن کا بیان ہے، اِس لیے اُس کا منشا قرآن سے مختلف نہیں ہو سکتا، لہٰذا اُس کی پیروی قرآن ہی کی طرح لازم ہے۔ امام صاحب کا یہی موقف ہے جو بالکل برحق ہے اور جس کے بارے میں میں نے لکھا ہے کہ ''امام شافعی کی اِس بات سے سچی بات کیا ہو سکتی ہے!''

یہاں یہ واضح رہے کہ'بیان' کی یہ بالکل ابتدائی تعریف ہے، جب کہ فن کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا۔ ہم اسی بات کو دوسرے انداز سے بیان کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ کلام کے وہ مضمرات جو اُس کی پیدایش کے وقت اُس کے اندر موجود ہوتے ہیں، اُن کا اظہار 'بیان 'ہے۔چنانچہ وہ چیز بیان نہیں ہو سکتی جو کلام کی پید ایش کے بعد پیدا ہوئی ہو۔

اصل میں بحث یہ ہے کہ اگر قرآن کے حکم کی موجودگی میں ایک خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے آتی ہے تو اُس کی دو صورتیں ہوں گی: یا وہ قرآن کے حکم کا بیان ہو گی یا اُس کی ناسخ ہو گی، یعنی اُس میں کلی یا جزوی طور پر تغیر کرنے والی ہو گی۔ اب اگر وہ بیان ہے تو پھر تو وہ مصداق ہی کی وضاحت کر رہی ہے، لہٰذا اُسے قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہو گا۔لیکن اگر وہ ناسخ ہے تو اُس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟امام شافعی کہتے ہیں کہ اِس صورت میں وہ قابل قبول نہیں ہوگی، کیونکہ اللہ کا رسول کتاب الہٰی کو منسوخ نہیں کر سکتا۔احناف یہ کہتے ہیں کہ(اگر سند یقینی ہے، یعنی مشہور یا متواتر ہے تو) قابل قبول ہو گی، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ براہِ راست قرآن میں تغیر کر سکتے ہیں تو جس رسول کے ذریعے سے قرآن دیا ہے، اُس کی وساطت سے بھی کر سکتے ہیں۔

ہم اصول میں امام شافعی کی اِس راے کو درست مانتے ہیں کہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو کچھ مذکور ہے، وہ قرآن ہی کا بیان ہے، لہٰذااِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اللہ کا پیغمبر کتاب الہٰی کا تابع ہے۔ وہ اُس کی تفہیم و تبیین تو کرتا ہے، اُس میں تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ امام صاحب کی اِس بات سے اتفاق کے ساتھ ہمایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن سے باہر کوئی وحی خفی تو کیا کوئی وحی جلی بھی اُس کے حکم میں ترمیم و تغیر نہیں کر سکتی۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے قرآن کے بارے میں یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ ''میزان'' اور ''فرقان'' ہے اور فیصلہ کن اتھارٹی اُسی کو حاصل ہے ۔

اِس اصولی اتفاق کے بعد اب امام شافعی سے ہمارے اختلاف کو بھی سمجھ لیجیے ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ بعض روایتیںجنھیں امام صاحب نے 'بیان' قرار دیاہے، درحقیقت اُنھیں بیان قرار نہیں دیا جاسکتا۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے اور قرآن کے مابین لفظ اور معانی یااصل اور فرع یا حکم اور مصداق کا وہ تعلق پیدا نہیں ہوتا جو اُنھیں 'بیان' کے زمرے میں داخل کرے۔ مثلاً امام صاحب نے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے والی روایات کو 'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ'[1] کا بیان قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے، کیونکہ 'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ' کے الفاظ اپنے مصداق میں نہ 'غیر شادی شدہ کی تخصیص' کرتے ہیں اور نہ 'شادی شدہ 'کو اِس سے خارج کرتے ہیں۔ اگر 'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ' کے مصداق میں یہ تخصیص موجود ہوتی تو ہمیں اِس روایت کو مذکورہ آیت کا بیان ماننے میں ہر گز تردد نہ ہوتا۔مگر اِس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہم اِن روایات میں مذکور رجم کی سزا کا انکار کر رہے ہیں ۔ ہم اِسے قرآن ہی کے ایک دوسرے مقام سے متعلق کر رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ روایات سورۂ مائدہ کی آیات[2] میں مذکور محاربہ اور فساد فی الارض کی سزا کے نفاذ کو بیان کر رہی ہیں۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن میں بیان کیے گئے حکم'اَنْ يُّقَتَّلُوْا' (عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں)کے تحت اوباشی کے بعض مجرموں کو سنگ سار کرنے کا حکم دیا تھا۔

اِسی طرح ہم سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ سورۂ نساء میں مذکور لونڈیوں کا 'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ'[3] کے حکم سے استثنا کیسے اِس حکم کا 'بیان 'ہو سکتا ہے؟ تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ استثنا حکم کے مصداق کا وہ جز ہے جواُس کی پیدایش کے وقت اُس کے ساتھ موجود تھا،کیونکہ جب بھی کوئی سزا بیان کی جاتی ہے تو یہ عقلی تخصیص مسلمہ طور پراُس کے اندر موجود ہوتی ہے کہ یہ معذورین کو نہیں دی جائے گی ۔ـــــــ جیسا کہ قتل کی سزا میں کم سنی یا دیوانگی کے عذر کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ـــــــ چونکہ یہ تخصیص عقلی ہے، اِس لیے اِسے الفاظ میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ زانی کو کوڑے مارو تو اُس حکم کی پیدایش کے وقت ہی اُس میں یہ بات مضمر تھی کہ یہ سزا کسی معذور کو نہیں دی جائے گی یا کسی عذر کی بنا پر اِس میں تخفیف کر دی جائے گی۔لہٰذایہ لونڈیوں کے حالات کا عذر ہے جس کی وجہ سے اُن کی سزا میں تخفیف ہوئی ہے۔

اِس بنا پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اصول میں امام شافعی سے متفق ہیں، مگر اطلاق میںاُن سے اختلاف کر رہے ہیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اورتقریر و تصویب کا دین کی تفہیم و تبیین ہونا اور آپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کا دین کا ماخذ ہونا، دونوں الگ الگ بحثیں ہیں۔یعنی ' بیان' کی بحث الگ ہے اور یہ بحث الگ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے علاوہ کچھ دینے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔میرے نزدیک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف قرآن کے علاوہ دینے کا حق حاصل ہے ، بلکہ دین کے احکام و ہدایات کا ایک مستقل بالذات حصہ ہے جو آپ نے قرآن کے علاوہ دیا ہے اور جسے قبول کرنا اُسی طرح لازم ہے ،جس طرح قرآن کو قبول کرنا لازم ہے۔ اِس لیے اِن دونوں بحثوں کو آپس میں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

____________

[1]۔ النور ۲۴: ۲۔ "زانی عورت ہو یا زانی مرد، (اِن کا جرم ثابت ہو جائے) تو دونوں میں سے ہر ایک کوسو کوڑے مارو۔"

[2]۔ ۵: ۳۳ -۳۴۔ 'اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْا...'، "(اِنھیں بتا دیا جائے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور اِس طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے،اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں...۔ "

[3]۔ النور ۲۴: ۲۔ "زانی عورت ہو یا زانی مرد، (اِن کا جرم ثابت ہو جائے) تو دونوں میں سے ہر ایک کوسو کوڑے مارو۔"