عمل صالح


جب انسان کا باطن حسن خُلق سے رونق افروز ہو چکتا ہے تو انسان کی اسی پررونق باطنی شخصیت کا خارجی ظہور ہونے لگتا ہے۔حسن خُلق کے پودے پر عمل صالح کا پھل لگنے لگتا ہے۔ انسان دنیا میں ٹھیک اسی طرح رہنے لگتا ہے، جس طرح کہ ایک ربانی انسان کو رہنا چاہیے۔ایسا انسان خالق کے سامنے مراسم بندگی ادا کر رہا ہو یا مخلوق سے کوئی برتاؤ کر رہا ہو، اس کے ہر انداز و عمل میں حسن خُلق جھلک رہا ہوتا ہے۔انسان کی باطنی پاکیزہ زندگی کا خارج میں پاکیزہ ظہور ہو رہا ہوتا ہے۔ایسے شخص کا ہر عمل صرف خیر ہی ہوتاہے۔اس کی فطرت کی بھلائی اس کے عمل سے ظہور کر رہی ہوتی ہے۔

جہاں جہاں ایسا شخص جاتا ہے ،صلہ رحمی، خدا ترسی اور بندہ پروری اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔یہ خالق سے تعلق استوار اور تازہ رکھنے کے لیے اس کے سامنے جھکنے کا عادی ہوتا ہے۔ یہ خالق کے سامنے قیام و رکوع و سجود و قنوت بجا لاتاہے۔اس کا تقویٰ پانے کی خاطر روزے گوارا کرتا ہے۔ اس سے بندگی کا عہد تازہ کرنے کے لیے اس کے گھر کا طواف کرتا اور حجراسود کو چوم کر گویا اس خالق کی دست بوسی کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے مال میں ناداروں کا حق ہوتا ہے اورمحتاجوں کا بھی۔ اس کی رقم سے زکوٰۃ بٹتی ہے تاکہ اس کا مال پاکیزہ ہو اور کسی غریب و نادار کا بھلا ہو۔یہ جب تک جیتا ہے، لوگوں کو اپنے ہاتھ اور زبان کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس کے بول لوگوں کے دل نہیں دکھاتے۔ اس کے پڑوس میں رہنا یقین دلاتا ہے کہ انسان کسی جنتی کے پڑوس میں رہ رہا ہے۔اس کی دوستی انسان کے لیے بڑی سعادت ہوتی ہے۔اس سے تعلق داری بڑی مبارک ہوتی ہے۔ اس سے رشتہ داری میں خیر ہی خیر ہوتی ہے۔ اس کا قول ہی اس کا وعدہ ہوتاہے۔اس پر بہ آسانی یقین کیا جاسکتا ہے۔ یہ مر تو سکتا ہے، مگر وعدہ شکنی نہیں کر سکتا۔اس کے پاس امانت رکھ لینے کے بعد دل میں کوئی کھٹکا باقی نہیں رہتا۔اس کے کہے میں جھوٹ اور نیت میں کھوٹ نہیں ہو سکتی۔یہ دوسروں کی توہین سہ تو سکتاہے، مگر خود دوسروں کی توہین نہیں کر سکتا۔لوگوں کی جان، مال، عزت اور آبرو اس سے مکمل محفوظ رہتی ہے۔ یہ مشکل میں کام آنے والا، غریبوں کی دادرسی کرنے والا اور خلق خدا سے محبت رکھنے والا ہوتا ہے۔خدا کی بندگی اس کی پہچان اور خلق خدا کی خدمت اس کا شعار ہوتا ہے۔

____________