عنِ ’’البیان‘‘


[ ''عنِ البیان'' کے عنوان سے یہ ایک نیاسلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس میں اُن سوالات کوزیربحث لایا جائے گاجوغامدی صاحب کی کتاب ''البیان'' کے ذیل میں محض تفہیم مدعاکی غرض سے پوچھے جاتے ہیں۔ وماتوفیقی الاباللہ!]

لَمْ يَحِضْنَ میں لَمْ کی دلالت

ایک آیت میں عدت کاحکم اس طرح سے بیان ہواہے:

وَالّٰٓـِٔيْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ. (الطلاق۶۵: ۴)

''تمھاری عورتوں میں سے جوحیض سے مایوس ہوچکی ہوں، اوروہ بھی جنھیں (حیض کی عمرکوپہنچنے کے باوجود)حیض نہیں آیا، ان کے بارے میں اگر کوئی شک ہے توان کی عدت تین مہینے ہوگی۔''

''البیان'' میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھاگیاہے:

''اصل میں 'وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ'کے الفاظ آئے ہیں۔ 'لَمْ 'عربی زبان میں نفی جحد کے لیے آتاہے۔ لہٰذا اِس سے وہ بچیاں مرادنہیں ہوسکتیں جنھیں ابھی حیض آناشروع نہیں ہوا، بلکہ وہی عورتیں مرادہوں گی جنھیں حیض کی عمرکوپہنچنے کے باوجودحیض نہیں آیا۔ ''(۵/ ۲۳۲)

اس پرسوال ہواہے کہ عربی زبان میں 'لَمْ ' کاحرف نفی کے لیے آتاہے اوریہاں 'لَمْ يَحِضْنَ' کامطلب بس اتنا ہے کہ جنھیں حیض نہیں آیا۔ چنانچہ اس سے مرادبچیاں بھی ہوسکتی ہیں اوربڑی عمرکی عورتیں بھی۔ مگر کیا وجہ ہے کہ ''البیان'' میں صرف 'لَمْ ' کی بنیادپرنہایت قطعیت کے ساتھ یہ دعویٰ کردیاگیاہے کہ اس سے مرادبچیاں ہرگز نہیں ہو سکتیں ؟

سوال کے جواب میں پہلی بات یہ واضح ہوجانی چاہیے کہ 'لَمْ ' محض نفی کے لیے نہیں ہوتاکہ اس کے لیے عربی زبان میں 'ما' کا حرف ہوتاہے، بلکہ اس کی نفی میں 'ما' سے زیادہ شدت پائی جاتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ اسے نفی جحد، یعنی انکاروالی نفی کہاجاتاہے۔ اب یہ انکار چونکہ کئی پہلوؤں سے ہوسکتاہے، اس لیے زبان میں اس کے ایک سے زائداستعمالات ہوگئے ہیں۔ مثال کے طورپر، کبھی مقصودہوتاہے کہ فعل کی نفی کرتے ہوئے اس میں اتنی شدت پیدا کر دی جائے کہ اس کے بارے میں ہرعقلی امکان کابھی انکار ہوجائے۔ ذیل کی آیت میں یہ اسی لحاظ سے آیاہے:

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ .(الاخلاص۱۱۲: ۳)

''وہ نہ باپ ہے نہ بیٹا۔ ''

یہ امکان اگرحقیقی ہوتوبعض اوقات اندیشے کی صورت میں ہوتاہے۔ اس کی نفی کرنے کے لیے بھی 'لَمْ ' لایا جاتا ہے، جیساکہ اُحدکے بعدکی مہم میں اس بات کاسخت اندیشہ تھاکہ مسلمانوں کوکوئی بڑانقصان پہنچ جائے، مگرفرمایاہے:

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ. (آل عمران۳: ۱۷۴)

''سووہ اللہ کی نعمت اوراس کافضل لے کر(اِس مہم سے)واپس آئے، ان کوکوئی گزندنہیں پہنچا۔''

فعل کی نفی کرتے ہوئے یہ وقت کے مفہوم پربھی مشتمل ہوجاتاہے اورکبھی صرف ماضی میں اورکبھی ماضی سے لے کر حال تک میں اُس فعل کاانکارکردیتاہے۔ اول الذکرکی مثال یہ آیت ہے:

هَلْ اَتٰي عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـًٔا مَّذْكُوْرًا. (الدھر ۷۶: ۱)

''کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکرچیزنہ تھا۔ ''

ثانی الذکرکی مثال یہ ہے:

لَمْ اَكُنْۣ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا.(مریم۱۹: ۴)

''اوراے پروردگار، تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں رہا۔ ''

وقت کے اسی مفہوم کی رعایت ہوتی ہے کہ اسے کسی متوقع بات کی نفی کے لیے بھی برت لیاجاتاہے۔ یہ بات ماضی میں بھی ہوتی ہے اورمستقبل میں بھی۔ یعنی اس کے ذریعے سے اُس بات کی نفی بھی کی جاتی ہے جس کی اس سے پہلے امید کی جارہی تھی اوراس سے اُس بات کی توقع بھی پیداہوجاتی ہے کہ جس کی اب نفی کردی گئی ہے[1]۔ پہلے کی مثال میں وہ آیت دیکھ لی جائے جس میں فرمایاہے کہ کھانے پینے کی چیزیں خراب نہیں ہوئیں، حالاں کہ ہوناتویہی چاہیے تھاکہ وہ گل سڑجاتیں:

فَانْظُرْ اِلٰي طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ. (البقرہ ۲: ۲۵۹)

''اب ذرا اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کو دیکھو، ان میں سے کوئی چیزسڑی نہیں۔ ''

دوسرے کی مثال میں وہ آیت دیکھ لی جائے جس میں فرمایاہے کہ ہم نے تمھیں اُس زمین کابھی وارث بنادیاہے جس پرتمھارے قدم نہیں پڑے، مطلب یہ کہ آنے والے وقت میں امیدہے کہ ایساہوجائے:

وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَـُٔوْهَا. (الاحزاب ۳۳: ۲۷)

''اوران کی زمین اوران کے گھروں اوران کے اموال کاتمھیں وارث بنا دیا اور ایک ایسی زمین کا بھی جس کو تمھارے قدموں نے چھوا بھی نہیں ہے۔''

حرف 'لَمْ' کے یہ تمام استعمالات اس میں اصلاًموجودہوتے ہیں، مگر کس مقام پر کون ساپہلومرادلیاگیاہے، یہ جاننے کے لیے ضروری ہوتاہے کہ سب سے پہلے کلام کے فحوا کومعلوم کیاجائے۔ سواس نظرسے دیکھاجائے تو بہ ادنیٰ تامل واضح ہوجاتاہے کہ یہاں طلاق دی ہوئی عورتوں کی عدت بیان ہورہی ہے۔ اب عدت کی پابندی چونکہ اولادکی وجہ سے ہوتی ہے کہ جس کاامکان بچیوں کے معاملے میں بالکل نہیں ہوتا، اس لیے طے ہے کہ یہاں صرف وہ عورتیں مراد ہیں جو اولاد پیدا کرنے کی عمر میں ہیں۔ مزید یہ کہ 'وَالّٰٓـِٔيْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ' میں حیض سے مایوس عورتوں کابیان ہوچکاہے، اس لیے 'وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ'میں لازماً اُن عورتوں کاذکرہے جو اولاد پیدا کرنے کی عمرمیں توہیں، مگر غیرآئسہ ہیں۔ اب ان عورتوں کے بارے میں جب یہ کہاجائے: 'لَمْ يَحِضْنَ' تواسے پڑھ کریہی متبادرہوتاہے کہ 'لَمْ'یہاں محض نفی کے لیے نہیں، بلکہ ماضی میں متوقع فعل کی نفی کے لیے آیاہے اوراب اس میں وہی عورتیں مرادہیں جوغیرآئسہ ہیں اور اولاد پیدا کرنے کی عمرمیں بھی ہیں، مگراُنھیں ابھی تک حیض نہیں آیا۔

بلکہ ہم عرض کریں کہ 'لَمْ يَحِضْنَ' کاجو مطلب فحواے کلام کی دلالت اورحرف 'لَمْ' کی تعیین سے واضح ہوتاہے، اس کی تائیدمیں مزید قرائن بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ان کے بارے میں 'اِنِ ارْتَبْتُمْ' کے الفاظ آئے ہیں[2]، یعنی یہ عدت اُس صورت میں ہے جب اُن سے خلوت ہوچکی ہے اوراس وجہ سے شک پیداہوگیاہے کہ انھیں حیض نہ آنے کے باوجودشایدان کے رحموں میں کچھ ہو۔ ظاہرہے، یہ بات بھی چھوٹی بچیوں کے بجاے بڑی عمر ہی کی عورتوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ دوسرے یہ کہ 'وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ' کے 'وَّالّٰٓـِٔيْ'کوکھول دیں تواب اس کی تالیف یہ بنتی ہے: 'وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ'۔ اس میں 'تمھاری عورتوں 'کے الفاظ بذات خوداس بات کی دلیل ہیں کہ یہاں بڑی عورتوں کاذکرمقصودہے، اس لیے کہ شادی اورطلاق کے پس منظرمیں ان الفاظ کا مطلق استعمال چھوٹی عمرکی بچیوں کے لیے کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔

اب جہاں تک ''البیان'' میں لکھے گئے وضاحتی نوٹ کا معاملہ ہے توہم عرض کریں کہ اس کے پیچھے مذکورہ بالا یہ تمام دلائل موجود ہیں، البتہ اس میں صرف 'لَمْ'کی دلالت کے ذکرپراس لیے اکتفا کرلیاگیاہے کہ مصنف کے نزدیک ہرحرف کے مرادی پہلو کی تعیین اور اس کے دلائل کو ہرہرمقام پربیان کرناضروری نہیں ہے، اوریہ ایساہی ہے جیسے اس کتاب میں جب 'لَمْ'کے دیگرپہلوؤں کوبھی اختیار کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ بالعموم اُن کی تعیین کے دلائل بیان نہیں کیے جاتے۔

________

بیان تخلیق میں حیرت کا پہلو

انسان کی پیدایش کابیان کرتے ہوئے فرمایاہے:

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ. ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاﵯ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَﵧ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ. (المؤمنون ۲۳: ۱۳- ۱۴)

ان آیات کے تحت''البیان'' میں یہ وضاحت کی گئی ہے:

''یہ دوسرے مرحلے کاذکرہے جس کے بعدانسان ماں باپ کے پیٹ سے پیداہوناشروع ہوئے اوراب تک ہورہے ہیں۔ اِس کی جوتفصیل آگے بیان ہوئی ہے، وہ معلوم ومعروف ہے۔ دورجدیدکاانسان اپنے مشینی مشاہدات کی بدولت اِس کی جزئیات تک سے واقف ہوگیاہے۔ قرآن کااعجازہے کہ اُس نے صدیوں پہلے جوکچھ کہاتھا، وہ حیرت انگیزطورپراُس کے مشاہدات کے عین مطابق ثابت ہوا ہے۔ ''(۳/ ۳۸۴)

اس وضاحت پرسوال ہواہے کہ قرآن اپنے مخاطبین پران کے موجودعلم کی بنیادپراتمام حجت کرتاہے، اس لیے طے ہے کہ جب ان کے سامنے پیدایش کے ان مراحل کاذکرکیاگیاتووہ ان سے پہلے ہی سے واقف تھے۔ مزیدیہ کہ سائنسی مشاہدات کے ذریعے سے جونئی معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ بھی قرآن کے کسی بیان کی نہیں، بلکہ اُسی ابتدائی علم کی تفصیل ہیں۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ اس تفصیل کی قرآن کے ساتھ مطابقت کو ''البیان'' میں قرآن کااعجازکیوں کہاگیا اور اسے حیرت انگیزکیوں قراردے دیاگیاہے؟

یہاں ایک بنیادی بات واضح ہوجانی چاہیے۔ اس طرح کی تمام آیات کے معاملے میں اہل علم کے ہاں دو انتہائی رویے پائے جاتے ہیں: ایک یہ کہ ہرآنے والی سائنسی تحقیق کاسہرا قرآن کے سرباندھ دیاجائے اور کہا جائے کہ یہ سب تواس کتاب میں چودہ سوسال پہلے بیان ہوچکا۔ دوسرے یہ کہ قرآن اپنے مخاطبین کی ہدایت کے لیے صرف اُن حقائق کوبیان کرتاہے جن کاوہ پہلے سے علم رکھتے ہوں، اس لیے کہ اُس علم ہی کی وجہ سے اُن پردلیل قائم ہوتی اور اتمام حجت ہواکرتاہے[3]۔ ہم عرض کریں گے کہ حق بات ان دو انتہاؤں کے درمیان میں ہے۔ وہ یہ کہ قرآن اپنی اصل میں ہدایت کی کتاب ہے، اس لیے حصول علم کے بجاے حصول ہدایت کوہدف بناکر اس میں مضامین بیان ہوتے ہیں۔ مگریہ بھی حقیقت ہے کہ وہ کسی انسان کی تصنیف کردہ کوئی کتاب نہیں، بلکہ تمام عالموں کے پروردگارکی طرف سے اُتاری ہوئی ایک کتاب ہے، چنانچہ اس میں نہ صرف مخاطبین کے موجودعلم کی رعایت کی جاتی ہے، بلکہ بارہااُن کے علم میں وہ باتیں بھی لائی جاتی ہیں جن سے وہ ناواقف محض ہوتے ہیں۔ یہ باتیں جس طرح آخرت کی دنیاسے متعلق ہوتی ہیں، اسی طرح دنیااوراس کے احوال کے بارے میں بھی ہوتی ہیں۔ مثال کے طورپر قرآن نے انسان کی پیدایش مٹی اورماں باپ کے ذریعے سے ہونے کے جب دومرحلے بیان کیے ہیں[4] یاچھ مختلف ادوار میں کائنات کوبنانے کا ذکر کیا ہے[5] یاہمارے زمین وآسمان کے علاوہ چھ مزید زمین وآسمان کے موجود ہونے کابیان کیا ہے[6]تویہ اصل میں اپنے مخاطبین کے علم میں اضافہ ہی کیاہے۔ سوقرآن کی تفہیم میں اس مغالطے کو ہرگز راہ نہیں دینی چاہیے کہ اس میں مخاطبین کے سامنے صرف اُن باتوں کاذکر کیاجاتاہے جو اُس زمانے میں اُن کے اپنے علم میں تھیں۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان آیات میں وہ کیاچیزبیان ہوئی ہے جسے ''البیان'' میں معجزہ اورحیرت انگیز قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک وہ دوباتیں ہیں، اوران میں سے اول بات کوسمجھنے کے لیے ہم پہلے ایک سادہ مثال پیش کرتے ہیں۔ فرض کیجیے، کارخانے کے بندکمرے میں ایک خودکارمشین پرکپڑا تیار ہورہا ہے۔ عام طورپر، اس میں سے کپڑاتیارحالت میں باہر نکلتاہے، مگرکبھی کبھار اس میں سے ویسٹیج بھی باہر آتی ہے جوکبھی دھاگے کی شکل میں ہوتی ہے توکبھی اَدھ بنے ہوئے کپڑے کی شکل میں۔ کمرے سے باہرایک بچہ کھڑاہے اوراُس کاعلم بس اتناہے کہ وہ مشین سے نکلنے والی کپڑوں کی ان مختلف صورتوں سے واقف ہے۔ ظاہر ہے، وہ اپنے اس علم کی بنیاد پر کبھی یہ نہیں بتاسکتاکہ یہ کپڑاکس طرح سے بنتاہے۔ یہ بتانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس کمرے کے اندردیکھ لینے کی صلاحیت ہو۔ اب مشین کو آپریٹ کرنے والاشخص اسے بتاتاہے کہ بیٹا، یہ کپڑااِس مشین پر میں تیارکرتاہوں اوراس کے بعداسے دھاگے سے لے کر کپڑابننے تک کا پورا عمل بھی بتاتاہے کہ پہلے میں دھاگالیتا ہوں، اسے تانے بانے کی شکل دیتاہوں اوراسے مشین پرچڑھاکرآخرکارکپڑے کی صورت دے دیتا ہوں۔ واضح سی بات ہے کہ اس شخص کی بتائی ہوئی یہ تفصیل اُس بچے کے لیے ایک بالکل نئی بات ہوگی اوریہ جاننے کے باوجودنئی بات ہوگی کہ ایک دھاگاہوتا ہے، ایک تانابانااورایک کپڑا۔ اب فرض کیجیے اس بچے سے یہ ساری تفصیل ایک دوسرے بچے نے سن رکھی ہے اوراُس دوسرے کو یہ موقع بھی مل جاتاہے کہ وہ اس کمرے میں جھانک کر خود اپنی آنکھوں سے یہ ساراعمل دیکھ لے تواس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب دیکھ لینے کے بعد وہ انتہائی حیرت میں جاپڑے گاکہ میں نے جھانک کر دیکھاتو جانا، مگراس نے بنادیکھے کس طرح سے اسے جان لیا۔

اسی طرح کی بات ان آیات میں بیان ہوئی ہے۔ اُس زمانے کے اہل عرب 'علقة' سے بھی واقف تھے اور 'مضغة' اور 'عظام' سے بھی کہ یہ اُن کی اپنی زبان میں استعمال ہونے والے عام الفاظ تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان میں سے جنین پہلے اور بوٹی اورہڈیوں کے مرحلے بعدمیں ہوتے ہیں کہ ان کے گردوپیش میں مختلف ارتقائی عمل واقع ہورہے اورخوداُن کے اپنے درمیان میں اِسقاط حمل کے کئی واقعات رونما ہو رہے تھے[7]۔ مگراس جزئی اورنتیجوں کے علم کی بنیادپروہ اس حیثیت میں ہرگز نہ تھے کہ انسان کے تخلیق ہونے کاعمل بھی بتاسکیں[8]۔ اوربفرض محال، اگر وہ اپنے ان مشاہدات کی بناپراندازہ کرتے ہوئے یہ بتابھی دیتے تواس میں شک نہیں کہ اس میں درست اورغلط ہونے کے احتمالات اُس وقت تک موجودرہتے، جب تک کسی یقینی ذریعے سے اسے جان نہ لیاجاتا۔ قرآن نے اصل میں یہ کیاہے کہ اُس زمانے کے موجودعلم سے آگے بڑھ کر انسان کی تخلیق کایہ عمل بناکسی تردد کے بیان کردیاہے اور مزیدیہ ہواہے کہ جوکچھ اس نے بیان کیا، اُس کی جدیدعلم میں تردیدکے بجاے تصدیق بھی ہوگئی ہے۔ اب ظاہر ہے، سائنسی علوم کے ماہرین کے لیے آج یہ بات حددرجہ حیرت کاباعث ہوجائے گی کہ صدیوں پہلے اس عمل کوکس طرح سے جان لیا گیا، اور مزید برآں یہ کہ اِس کامل درستی کے ساتھ اسے کس طرح سے بیان کردیا گیا۔ سو قرآن کایہی اعجازہے اورسائنس کے طلبہ کی یہی حیرت ہے کہ جس کا ''البیان'' میں ذکرکیاگیاہے۔

یہاں ہوسکتاہے کہ قرآن کے اسلوب سے اجنبیت کی وجہ سے بعض لوگوں کے لیے اس تخلیقی عمل کے بیان کواپنی گرفت میں لے لینا ذرا مشکل ہواوراس لیے ''البیان'' میں بیان کردہ حیرت کاذکربھی ان کے لیے اب تک ناقابل فہم ہو۔ اس پرہم گزارش کریں گے کہ وہ مذکورہ آیات کاباربارمطالعہ کریں اوراس ذیل میں یہ بات بھی سامنے رکھیں کہ ان آیات میں یہ نہیں بتایاگیاکہ ایک جنین ہوتاہے اورایک بوٹی اور ایک اُس کی ہڈی۔ نہ یہ بتایاگیاہے کہ ان میں سے جنین انسان کی بالکل خام اور بوٹیاں اورہڈیاں اُس کی پختہ صورت ہوتے ہیں، بلکہ اس میں انسان بننے کاپوراعمل بیان کیاگیاہے جوایک حقیرنطفے سے شروع ہوتااورمختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے ایک جیتا جاگتا انسان بن جانے پر منتج ہوتا ہے۔ ان میں تخلیق کے عمل کابیان ہواہے، اس بات کی دلیل اگرچہ 'وَلَقَدْ خَلَقْنَا' اور 'اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ 'کے الفاظ بھی ہیں کہ جن میں سے اول الذکرتویہ بتاتے ہیں کہ یہاں خداکے خالق ہونے کابیان ہورہاہے، مگرثانی الذکر بتاتے ہیں کہ تخلیق کس طرح سے ہوتی ہے، یہاں اس کابھی بیان ہورہاہے۔ سیاق میں اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ مذکورہ آیات میں بعدازموت زندگی کے منکرین کو جواب دیاگیاہے کہ ہم اسے دوبارہ زندگی دے دینے پربھی قادرہیں، سوواضح کیاگیاہے کہ ہم ہی ہیں جو آج بھی اسے بناتے اوراس طریقے سے بناتے ہیں۔ تاہم اس بات کی اصل دلیل ذیل کے جملوں اوران کی ساخت میں پائی جاتی ہے جوہرطرح سے واضح کررہے ہیں کہ ان کے ذریعے سے یہاں تخلیق کے عمل ہی کابیان ہواہے:

''پھرپانی کی اس بوندکوہم نے ایک جنین کی صورت دی اورجنین کوگوشت کاایک لوتھڑا بنایا اور لوتھڑے کی ہڈیاں پیداکیں اورہڈیوں پرگوشت چڑھادیا۔ پھرہم نے اس کوایک دوسری ہی مخلوق بناکھڑاکیا۔ سوبڑاہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیداکرنے والا۔ ''

دوسری چیز کہ جسے حیرت انگیزقراردیاجاسکتاہے، وہ ان آیتوں میں بیان کردہ بعض معلومات ہیں۔ اُس زمانے کے اہل عرب یہ بات توجانتے تھے کہ بچہ جسم اورروح کامجموعہ ہوتاہے اوریہ روح اُن کے نزدیک مختلف صلاحیتوں، جیسا کہ سننا اور سوچنا وغیرہ کا ذریعہ تھی، مگروہ اس بات میں ہرگزواضح نہیں تھے کہ یہ جسم اور صلاحیتیں ایک ہی وقت میں تخلیق پاتے ہیں یااس عمل میں ایک ترتیب ہوتی ہے۔

قرآن نے 'ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ' کے الفاظ لاکر واضح کردیاہے کہ ماں کے پیٹ میں پہلے بچے کے حیوانی وجودکی تکمیل ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ مرحلہ آتاہے جب اسے انسانی درجے کی صلاحیتیں عطاکی جاتی ہیں۔ آج یہ بات ہمارے لیے باعث حیرت ہے، جب ہمیں بھی مختلف ذرائع سے یہ معلوم ہوچکاہے کہ ماں کے پیٹ میں واقعتاً جسم کی اصل تیاری کے بعدہی وہ مرحلہ آتاہے جب بچہ سننا اور سوچنا، بلکہ سیکھنابھی شروع کردیتاہے۔

آخرمیں ہم عرض کریں گے کہ صاحب ''البیان'' چونکہ اختصاراورجامعیت کے ساتھ لکھنے کے عادی ہیں، اس لیے انھوں نے قاری کی ذہانت پراعتبارکرتے ہوئے اپنے وضاحتی نوٹ میں بعض تصریحات کو چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے خیال میں اگریہ تصریحات لفظوں میں بیان کردی جاتیں توزیربحث سوال سرے سے پیداہی نہ ہوتا۔

_________

[1]۔وقت کے مفہوم سے توقع کامعنی کس طرح سے پیداہوتا ہے، اس کے لیے اردوزبان میں ' ابھی' کااستعمال دیکھ لیاجاسکتاہے۔ یعنی اگر کہاجائے کہ یہ کام ابھی نہیں ہواتواس کامطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ یہ کام متوقع تھا، مگرابھی تک نہیں ہوا۔ اوراس کامطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ یہ کام ابھی تونہیں ہوا، مگراس کے ہونے کی توقع ضرورہے۔

[2]۔ یہاں کسی کویہ مغالطہ نہیں ہوناچاہیے کہ 'اِنِ ارْتَبْتُمْ' کے الفاظ 'وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ'کے ساتھ مذکورنہیں ہیں، اس لیے کہ وہ لفظوں میں چاہے نہ ہوں، مگراس کے حکم میں ہرطرح سے موجودہیں۔

[3]۔واضح رہے کہ اتمام حجت صرف مخاطبین کوحاصل مشاہداتی علم کی بنیادپرنہیں ہوتا، بلکہ اس کی اوربھی کئی بنیادیں ہوتی ہیں کہ جن کی تفصیل کایہ موقع نہیں۔

[4]۔ السجدہ ۳۲: ۷ - ۹۔

[5]۔ حٰمٓ السجدہ ۴۱: ۱۲۔

[6]۔ الطلاق ۶۵: ۱۲۔

[7]۔ اوریہی چیزیں ہیں جنھیں ''البیان'' میں ''معلوم ومعروف ''قراردیاگیاہے۔

[8]۔ جدید تعلیم سے دوراورخالص دیہاتی ماحول میں بچہ جنانے والی کوئی عورت اِس معاملے میں پرانے زمانے کے اہل عرب کے بالکل برابرہے۔ وہ بھی صرف یہ بتائے گی کہ اُس نے ابتداسے لے کرانتہاتک بچوں کی فلاں اورفلاں صورتیں دیکھ رکھی ہیں، مگراس بناپروہ کبھی آپ سے یہ نہیں کہے گی کہ آؤ، میں تمھیں بتاؤں کہ بچے کی تخلیق کاعمل کس طرح سے ہوتاہے۔

____________