عنِ ’’البیان‘‘: سورۂ جن اور مرحلۂ انذار


[''عنِ البیان'' کا یہ عنوان صرف اُن سوالات کے لیے مختص ہے جوغامدی صاحب کی کتاب

''البیان'' کے ذیل میں محض تفہیم مدعاکی غرض سے پوچھے جاتے ہیں، وما توفیقی الا باللہ!]

''البیان''میں الملک سے لے کر الجن تک کی سورتوں کے بارے میں بیان ہواہے کہ یہ سب دعوت کے پہلے مرحلے،یعنی مرحلۂ اِنذارکی سورتیں ہیں ۔اس پرسوال ہواہے کہ سورۂ جن تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر طائف سے واپس آتے ہوئے نخلہ کے مقام پر نازل ہوئی ہے، جیساکہ صاحب ''البیان'' نے بھی ایک جگہ اس کی صراحت کی ہے،مگرکیاوجہ ہے کہ سنہ ۱۰ ؍نبوی میں نازل ہونے والی اس سورہ کو ''البیان'' میں دعوت کے پہلے مرحلہ کی سورہ قراردے دیاگیاہے؟

یہ سورہ ۱۰ ؍نبوی میں اترنے کے باوجود اگر مرحلۂ انذارمیں ترتیب دے دی گئی ہے تواصولی لحاظ سے یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے،اس لیے کہ رسولوں کی دعوت کے پہلے دومراحل،یعنی اِنذار اور اِنذار عام کے درمیان میں اس کے سواکوئی فرق نہیں ہوتاکہ اول الذکرمیں جودعوت محدودپیمانے پراورنج کی محفلوں میں دی جارہی ہوتی ہے ،ثانی الذکرمیں وہی دعوت اپنی شدت میں بڑھ جاتی اورہرممکن ذریعے سے اب کھلے عام پیش کی جاتی ہے۔وگرنہ جہاں تک اس کے اسلوب،اندازتخاطب اوراس میں پیش کیے جانے والے موادکاتعلق ہے تو اس میں کوئی جوہری فرق واقع نہیں ہوتا۔چنانچہ ان میں سے ایک مرحلہ کی سورہ کواگردوسرے مرحلہ میں نقل کردیاجائے تو یہ ہرطرح سے ایک جائزامرہوگا [1]۔

دوسرے یہ کہ قرآن کی موجودہ ترتیب ،ہم جانتے ہیں کہ نزولی کے بجاے توقیفی ہے اوراس میں بہت سا موادمضمون کی رعایت سے ترتیب دیا گیاہے۔اس کی سادہ مثال اس سے متصل بعدکی سورۂ مزمل میں بھی موجودہے جو اِنذارعام کی سورہ ہے ،مگراس کی آخری آیت ہجرت وبراء ت کے مرحلہ میں اترنے کے باوجود اسی سورہ کاحصہ بنادی گئی ہے۔چنانچہ مضمون کی مناسبت سے اگرسورۂ جن کو بھی مرحلۂ انذارمیں ترتیب دے دیا جائے تویہ کوئی قابل اعتراض بات نہ ہوگی۔

اب ہم عرض کرتے ہیں کہ وہ کیاضرورت اورمناسبت ہے جس کی وجہ سے سورۂ جن کویہاں ترتیب دیا گیا ہے۔اصل میں پچھلے جوڑے کی سورہ، الحاقہ میں 'فَلَا٘ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ' ۔'وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ' کی آیات میں ایک قسم کھائی گئی ہے ۔اس میں 'بِمَا تُبْصِرُوْنَ ' سے مراددنیامیں خداکی دینونت کاظہورہے جسے انسان نے بارباراپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔اور 'وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ' سے مرادنزول قرآن کے لیے آسمانوں میں ہونے والا خاص اہتمام ہے جوظاہری آنکھوں سے کبھی نظرنہیں آتا۔یہ آیات اس قَسم کااجمالی بیان ہیں، چنانچہ بعدکی دوسورتوں میں ان کاتفصیلی بیان اس طرح کیاگیاہے کہ سورۂ نوح میں 'بِمَا تُبْصِرُوْنَ' کی مثال میں حضرت نوح کی دینونت کاواقعہ پیش کیاگیا اورسورۂ جن میں 'وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ' کی مثال میں آسمانوں پر ہونے والاجنوں کاایک مشاہدہ بیان کیا گیا ہے۔ سومضمون کی یہی مناسبت ہے جو سنہ ۱۰؍نبوی ،یعنی اِنذارعام کے مرحلہ میں اترنے والی سورہ کویہاں اِنذارکے مرحلہ میں ترتیب دینے کاباعث ہوگئی ہے[2]۔

_________

۱۔ یہاں ایک اورنکتہ بھی سمجھ لیناچاہیے جوانذارکے مرحلوں کی تعیین میں بڑی حدتک معاون ہوسکتاہے ۔وہ یہ کہ رسولوں کی دعوت چاہے کسی بھی مرحلے میں داخل ہوچکی ہو،اس بات کا پورا امکان ہوتاہے کہ اگربعض لوگ اس کے اب مخاطب ہوئے ہیں اوروہ گزرچکے مرحلوں سے واقف بھی نہیں ہیں توان کے ساتھ بالکل ابتدائی اسلوب میں گفتگوکی جائے۔

۲۔ واضح رہے کہ سورۂ جن کویہاں لانے کی حکمت کایہ بیان ہم نے صاحب ''البیان'' کے موقف کی روشنی میں کیا ہے، وگرنہ اس معاملے میں ہماری ناچیزراے اس سے قدرے مختلف ہے کہ اس کے مطابق 'بِمَا تُبْصِرُوْنَ' اور 'وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ' کی مراد میں بھی فرق ہے اور سورۂ جن کو اس مقام پر نقل کرنے کی حکمت میں بھی فرق ہے ،مگراسے بیان کرنے کایہ کوئی مناسب موقع نہیں۔

____________