عنِ ’’البیان‘‘: زنا کی سزا


[''عنِ البیان'' کا یہ عنوان صرف اُن سوالات کے لیے مختص ہے جوغامدی صاحب کی کتاب ''البیان'' کے ذیل میں محض تفہیم مدعاکی غرض سے پوچھے جاتے ہیں، وما توفیقی الا باللہ!]

سوال کیاگیاہے کہ دین اسلام میں زناکے لیے سوکوڑوں کی سزامقررکی گئی ہے اوراس قانون کویوں بیان فرمایا ہے:

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ.( النور۲۴: ۲) ''زانی عورت اورزانی مرد،(ان کاجرم ثابت ہو جائے) تو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔''

اس کے بعدنکاح کے معاملے میں زانیوں کاطرزعمل بیان کیااوراس ذیل میں مسلمانوں کوتعلیم دی گئی ہے کہ وہ ان کے ساتھ نکاح کرنے سے مکمل طورپراجتناب کریں :

اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا٘ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ.(النور۲۴: ۳) ''یہ زانی کسی زانیہ یامشرکہ ہی سے نکاح کرے گااوراس زانیہ کوبھی کوئی زانی یامشرک ہی اپنے نکاح میں لائے گا۔ایمان والوں پر اسے حرام کر دیا گیاہے۔''

سوال یہ ہے کہ''البیان'' میں اس دوسری آیت کوبھی قانون کاایک بیان کیوں مان لیاگیااورسوکوڑوں کی سزا میں یہ کہتے ہوئے کیوں اضافہ کر دیا گیا ہے کہ ''زانی اگر ثبوت جرم کے بعدسزاکامستحق قرارپاجائے تواسے کسی عفیفہ سے نکاح کی اجازت نہیں دی جائے گی''؟

صاحب'' البیان'' کا استدلال سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ آیت میں آنے والے چندالفاظ کوپہلے اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔آیت میں 'اَلزَّانِي' اور 'الزَّانِيَة' کے الفاظ معرف باللام ہوکرآئے ہیں۔اس الف لام میں پوری گنجایش موجودہے کہ اسے جنس کا مان کر اس سے زانیوں کی جماعت مراد لے لی جائے یا اسے معہود ذہنی کاقراردیتے ہوئے اس سے عادی اورغیرتائب زانی مرادلے لیے جائیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلی آیت میں بھی یہ الفاظ الف لام کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ جب معرف باللام کا اعادہ ہواور کوئی قرینہ بھی مانع نہ ہوتوجومطلب پہلے معرف باللام کاہوتاہے،وہی دوسرے سے بھی مرادلیاجاتاہے۔سواس نظر سے دیکھا جائے تو اب یہ الفاظ نہ جنس کے مفہوم میں رہے ہیں اورنہ معہودذہنی کے مفہوم میں،بلکہ یہ معہود خارجی کے لیے آئے ہیں اوران کامطلب اب بالکل وہی ہے جوپچھلی آیت میں آنے والے 'اَلزَّانِي' اور 'الزَّانِيَة' کے الفاظ کاہے۔یعنی،زناکاارتکاب کرنے والے وہ اشخاص کہ جن کاجرم پائے ثبوت کوپہنچ چکا ہے اوروہ اس بنیاد پر ہر طرح سے خدائی سزاکے مستحق ہوچکے ہیں [1]۔

اسی طرح زیربحث آیت میں 'لَا يَنْكِحُ ' کافعل استعمال ہواہے۔یہ مضارع کاصیغہ ہے اورعام طور پر خبر کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔لیکن یہاں اس سے خبرکومرادلیناممکن نہیں،اس لیے کہ اس صورت میں اس کا مطلب ہوجاتاہے کہ زانی لوگ ہمیشہ یاعام طورپر زانیوں اور مشرکوں ہی سے نکاح کیاکرتے ہیں،حالاں کہ یہ بات واقعہ کے بالکل خلاف ہے، اورخاص کرعرب کے اس معاشرے کے تناظرمیں کہ جس میں قرآن مجیدکی یہ آیات اتریں [2]۔ 'لَا يَنْكِحُ 'کے اس صیغے کوخبرکے بجاے انشا کے مفہوم میں لے کراس سے نہی بھی مرادلی جاسکتی ہے،مگرہم دیکھتے ہیں کہ یہاں اس سے مرادصرف نہی لے لینابھی کسی طرح درست نہیں،اس لیے کہ اس صورت میں کلام کارخ بدل کرزانیوں کی طرف ہوجاتاہے،اور بادنیٰ تامل جان لیاجاسکتاہے کہ اس سیاق میں دی جانے والی تمام ہدایات کااصل مخاطب ان کے بجاے مسلمان معاشرہ ہے۔اسی طرح اگراسے محض نہی مان لیا جائے تویہ زانیوں کودیاجانے والاایک حکم بھی ہو جاتا ہے کہ وہ صرف اورصرف زانیوں اورمشرکوں سے نکاح کریں، حالاں کہ یہ حکم زانیوں کے معاملے میں تو شایدمان لیاجائے،مگر مشرکین کے معاملے میں تو ہرگز نہیں مانا جا سکتا کہ دین میں مشرک مرداورعورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کی سختی سے ممانعت کردی گئی ہے۔

سواس آیت کی واقعہ کے ساتھ مطابقت اوراس میں ہونے والے خطاب کے رخ کی تعیین کے ساتھ ساتھ ایک تیسری چیز، یعنی 'وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ 'کے الفاظ بھی سامنے رکھے جائیں توبآسانی طے ہوجاتاہے کہ 'لَا يَنْكِحُ ' کافعل نہ خبرکے معنی میں آیا ہے اورنہ محض نہی کے معنی میں،بلکہ یہ اُس نہی کے لیے آیاہے کہ جس کا فعل اصل میں استطاعت فعل کے مفہوم میں ہوتا ہے،یعنی''زانی نکاح نہ کر سکیں،مگرزانی اور مشرکوں سے۔'' دوسرے لفظوں میں ''زانی صرف اورصرف زانیوں اور مشرکوں سے نکاح کرسکیں۔''اس تیسری چیز کی وضاحت یہ ہے کہ 'وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ ' کایہ جملہ اصل میں وہی حکم ہے جوقرآن میں مسلمانوں کو نکاح کے معاملے میں ایک سے زائد مقامات پردیاگیاہے اورجس کی روسے ضروری ہے کہ نکاح صرف پاک دامن مردوعورت کے درمیان میں ہو[3]۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تویہ جملہ اُسی حکم کی تذکیرکرنے کے لیے یہاں آیا ہے اورخاص اس سیاق میں یہ 'اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا ... 'کے ساتھ تعلیل کاتعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کا مطلب اب یہ ہوجاتاہے کہ پاک دامن مسلمانوں پراس طرح کے لوگوں کے ساتھ نکاح کرنا چونکہ حرام قرار دیا گیا ہے، اس لیے اب زانی ان سے کسی صورت بھی نکاح نہ کرنے پائیں،بلکہ وہ اپنے جیسے ناپاک زانی اور مشرکوں ہی سے نکاح کرسکیں۔نہی کے ساتھ ساتھ 'لَا يَنْكِحُ 'کے اندر پیداہونے والایہی استطاعت کامفہوم ہے جسے ہم نے اوپربیان کیاہے۔

بلکہ اس روشنی میں 'زَانِیَة' کے ساتھ 'مُشْرِكَة' کو لانے کی مناسبت بھی سمجھ لی جاسکتی ہے۔چونکہ پاک دامن مسلمانوں پرحرام ہے کہ وہ ان بدکاروں کے ساتھ نکاح کریں،اس لیے فرمایاہے کہ ان لوگوں کونکاح کے لیے اگر ملیں تواپنے جیسے ناپاک بدکارہی ملیں یاپھراس سے بھی بڑھ کرعقیدے کی ناپاکی میں مبتلامشرکین ہی انھیں میسر آئیں۔گویااس اعتبارسے یہ مشرکین کے ساتھ نکاح کرنے یانہ کرنے کا کوئی حکم نہیں،بلکہ غلیظ سے غلیظ تر کو بیان کرنے کاایک اسلوب ہے اورمعاملے کی شناعت کوآخری درجے میں بیان کرنے کے لیے اختیار کر لیا گیا ہے۔

'اَلزَّانِي' اور 'لَا يَنْكِحُ 'کے الفاظ کی اس ضاحت کے بعداب صاحب ''البیان''کی راے کو بہ خوبی سمجھ لیا جاسکتا ہے۔وہ یہ کہ 'اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً 'کی آیت میں نہ زانیوں کی جماعت اوراس فعل قبیح کے عادی اورغیرتائب لوگوں کا کوئی طرزعمل بیان ہواہے اورنہ اس میں کسی قسم کی اخلاقی تعلیم ہی دی گئی ہے کہ جس کے ذریعے سے زانیوں کے ساتھ نکاح کرنے کے معاملے میں مسلمانوں کی حس ایمانی کو بیدار کیا جاسکے، بلکہ یہ پچھلی آیت میں بیان کردہ سوکوڑوں کی سزا کی طرح ہرلحاظ سے ایک سزاکابیان ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زناکا ارتکاب کرنے والے مجرمین کہ جن کاجرم ہرطرح سے ثابت ہوچکااوروہ مستلزم سزاقراردے دیے گئے ہیں،اُن کے لیے سوکوڑوں کی سزا سنادینے کے بعد بیان سزاکے اسی تسلسل میں اورانھی مجرمین کاباقاعدہ نام لے کر،حتیٰ کہ پچھلی آیت کے اندازبیان کوبرقراررکھتے ہوئے اس آیت میں فرمایاہے کہ وہ اب کسی صورت بھی پاک دامن مسلمانوں سے نکاح نہ کر سکیں۔ظاہرہے، اس صورت حال میں اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ اس بات کو پہلی کی نوعیت میں سے قراردیاجائے اوراُسی کی طرح اسے بھی سزا کاایک بیان ماناجائے۔بلکہ اس راے کی توضیح مزیدکے لیے اس کے بعدکی وہ آیات بھی دیکھ لی جاسکتی ہیں جن میں قذف کے احکام بیان ہوئے ہیں اوروہ ہراعتبارسے زیربحث آیات کے مماثل ہیں،اس لیے کہ اُن میں بھی پہلے الزام لگانے والوں کے لیے اسّی (۸۰) کوڑوں کی سزاسنائی ہے اوراس کے بعد 'اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً 'کے طریقے پر اس سزا کا دوسرا حصہ بیان فرمایاہے کہ اب ان کی گواہی کوکبھی قبول نہ کرو،اورہم جانتے ہیں کہ کم وبیش سب اہل علم اس دوسری بات کوقذف کی ایک سزاہی قراردیتے ہیں۔

اصل میں قذف کے مقابلے میں جوزناکی اس دوسری سزاکوسمجھ لیناذرامشکل ہوگیاہے تواس لیے کہ یہاں قرآن میں برتا جانے والا زبان وبیان کاایک خاص اصول نظروں کے سامنے نہیں رہا۔ہمیں معلوم ہے کہ ایمان و اخلاق کے مباحث توایک طرف رہے،اس میں قانون بھی کبھی سپاٹ طریقے سے بیان نہیں ہوتا۔ اسے زبان و ادب کا ایک شاہ کار بنا کر اتارا گیا ہے،چنانچہ اس بات کا خصوصی التزام کیا جاتاہے کہ قوانین کے ذیل میں بھی بیان کی یکسانیت درنہ آنے پائے کہ جوذوق لطیف پرگراں گزرے اورطبیعت میں بے زاری اور اکتاہٹ پیدا کرنے کاباعث ہو۔چنانچہ یہی وجہ ہوتی ہے کہ ایک ہی نوعیت رکھنے والی دوباتوں کواس میں متعدداورمتنوع اسالیب میں بیان کیا جاتاہے،اوربالخصوص اُس وقت جب وہ دونوں ایک ہی مقام پراکٹھی بیان کی جارہی ہوں۔ قذف کی آیات میں 'فَاجْلِدُوْهُمْ 'کہہ کرکوڑے مارنے کا حکم دیااورپھراس حکم پر 'وَلَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا 'کو براہ راست عطف کردیاکہ ان کی شہادت اب کبھی قبول نہ کرو۔زناکی مذکورہ آیات میں بھی اگریہی انداز اپنایا جاتا تو اسے بھی قذف کی طرح فوری سمجھ لیا جاتا،مگرمذکورہ اصول کی رعایت تھی کہ ان میں اس سادہ اسلوب کے بجاے ایک اوراسلوب برتاگیا۔''البیان''میں اس مقام پرچونکہ اسالیب کے اس تنوع کا پورا پورا ادراک موجود ہے،اس لیے آیت میں موجودحکم کی نوعیت متعین کرنے میں ان کایہ تنوع ہرگز حائل نہیں ہو سکا اور بالکل درست طریقے سے جان لیاگیاکہ اس میں زنا کی دوسری سزاہی کوبیان کرنامقصودہے[4]۔

____________

۱۔ ایک روایت میں بھی 'اَلزَّانِي' کے اس لفظ کابالکل یہی معنی بیان ہواہے: 'لاینکح الزاني المجلود إلا مثله' (ابوداؤد، رقم۲۰۵۴)۔

۲۔ اوراگراس فعل کے فاعل 'اَلزَّانِي' کوپچھلی آیت کی طرح مستلزم سزاکے معنی میں لے لیاجائے تویہ خبر اوربھی زیادہ خلاف واقعہ ہوجاتی ہے۔

۳۔ النساء ۴: ۲۴- ۲۵۔

۴۔ بلکہ یہ اسلوب اس لیے بھی مختلف برتاگیاکہ متکلم کے پیش نظریہاں جس طرح زنا کی سزا کوبیان کرناہے،اسی طرح پاک دامن مسلمانوں کویہ موعظت بھی کرناہے کہ وہ اس میں ملوث ناپاک لوگوں سے ہرگز ہرگز نکاح نہ کریں۔