ازواج مطہرات


دین و دانش

انسان کی تخلیق جس فطرت پر ہوئی ہے، اُس کی رو سے خاندان کا ادارہ اپنی اصلی خوبیوں کے ساتھ ایک ہی مرد و عورت میں رشتۂ نکاح سے قائم ہوتا ہے۔ انسان کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی زندگی میں یہی چیز ملحوظ رکھی اور ایک بیوی کی موجودگی میں کسی دوسری عورت سے نکاح کا خیال نہیں کیا۔ چنانچہ ۲۵ برس کی عمر میں آپ نے پہلی شادی سیدہ خدیجہ سے کی۔ یہ خاتون اگرچہ بچوں والی تھیں اور اِن کے دو شوہر اِس سے پہلے انتقال کر چکے تھے، لیکن اپنی پاکیزگی طینت کے باعث طاہرہ کی صفت سے موصوف تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شباب کا سارا زمانہ اِنھی کی رفاقت میں گزارا۔ یہ شادی کم و بیش ۲۵ برس تک قائم رہی، یہاں تک کہ اِن کا انتقال ہو گیا اور گھر بار کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیے آپ تنہا رہ گئے۔ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایک صحابیہ خولہ بنت حکیم نے آپ کو توجہ دلائی کہ سیدہ خدیجہ کی رفاقت سے محرومی کے بعد آپ کی ضرورت ہے کہ آپ شادی کر لیں۔ اُس نے عرض کیا:

یا رسول اللّٰہ، کأنی أراک قد دخلتک خُلَّۃٌ لفقد خدیجۃ ... أفلا أخطب علیک؟ (الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۸/ ۵۷)

''اللہ کے رسول، میں دیکھتی ہوں کہ خدیجہ کی رفاقت سے محرومی کے بعد آپ گویا محتاج سے ہو کر رہ گئے ہیں ... میں آپ کی طرف سے کسی کو نکاح کا پیغام نہ دوں؟''

آپ نے پوچھا: کیا کوئی رشتہ ہے؟ اُس نے جواب دیا: آپ چاہیں تو کنواری بھی ہے اور شوہر دیدہ بھی۔ آپ نے پوچھا: کنواری کون ہے؟ اُس نے کہا: آپ کے عزیز ترین دوست کی بیٹی عائشہ۔ اور شوہر دیدہ؟ اُس نے کہا: سودہ بنت زمعہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں اور آپ کے دین کی پیرو ہیں۔ آپ نے فرمایا: بات کر کے دیکھ لو۔ اُس نے بات کی تو دونوں جگہ منظور کر لی گئی۔* یہ بات چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کی گئی تھی، اِس لیے اب آپ انکار نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ آپ نے نکاح تو دونوں سے کر لیا، لیکن رخصتی صرف سیدہ سودہ بنت زمعہ کی کرائی جو بیوہ اور عمر میں آپ کے برابر تھیں اور گھر در کی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے پر پورا کر سکتی تھیں۔ چار سال تک یہی ایک خاتون آپ کے گھر میں رہیں، یہاں تک کہ سیدنا صدیق کے توجہ دلانے پر آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے گھر میں لائے تو ساتھ ہی فیصلہ کر لیا کہ آپ سودہ بنت زمعہ کو طلاق دے دیں گے۔ اِس پر سودہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ وہ اُس عمر کو پہنچ چکی ہیں کہ زن و شو کے تعلق سے اب اُن کی کوئی دل چسپی باقی نہیں رہی، لہٰذا وہ اپنے حقوق عائشہ کے لیے چھوڑ دیں گی، مگر آپ اُنھیں طلاق نہ دیں۔ اُن کی خواہش ہے کہ وہ قیامت کے دن آپ ہی کی ازواج میں اٹھائی جائیں۔ اِس پر آپ نے ارادہ ترک کر دیا،** لیکن اِس کے نتیجے میں عملاً ایک سیدہ عائشہ ہی آپ کی بیوی رہ گئیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت بشری میں یہی آپ کی ازواج ہیں۔ اِن کے علاوہ آپ نے اپنی اِس حیثیت میں کسی عورت کے ساتھ نکاح نہیں کیا۔ چنانچہ جو لوگ آپ کو تعدد ازواج کا الزام دیتے اور آپ کی پاکیزہ اور مطہر زندگی پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کے بارے میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ اُن کے سینے خدا کے خوف سے خالی ہیں۔ اِس لیے کہ جس ہستی کا حال یہ رہا ہو کہ ۲۵ سال کی ابتدائی زندگی میں کوئی شخص اُس کی سیرت و کردار پر حرف لانے کی جسارت نہ کر سکا؛ جس نے بھرپور جوانی میں شادی کی تو وہ بھی ایک ایسی خاتون سے جو بیوہ اور بچوں والی تھی؛ جس نے عرب کے معاشرے میں، جہاں تعدد ازواج کا عام رواج تھا، کم و بیش ۲۵ سال اِسی ایک خاتون کی رفاقت میں گزار دیے اور کبھی دوسری شادی کا سوچا تک نہیں؛ جس نے دوسرا نکاح کیا تو اُس کے انتقال کے بعد اور وہ بھی ایک پچاس سال کی بیوہ خاتون سے اور جس نے پوری زندگی میں ایک ہی باکرہ خاتون سے شادی کی اور اُس کی رخصتی کو بھی کئی برس تک موخر کیے رکھا تاکہ بڑی عمر کی جس خاتون کو گھر در کی ذمہ داریوں کے لیے لے آیا گیا ہے، اُس کو عدم التفات کی شکایت نہ ہو، اُس کے بارے میں صرف ایک بیمار ذہن کا شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ پچپن سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اُسے اچانک شادیوں کا ہوکا ہو گیا تھا اور اپنی خواہش نفس کی تسکین کے لیے اُس نے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون میں ترمیم کی اور ایک کے بعد دوسری عورت سے نکاح کرنا شروع کر دیے تھے۔

اِس میں شبہ نہیں کہ اپنی زندگی کے آخری آٹھ برسوں میں آپ نے مزید آٹھ خواتین سے نکاح کیا اور اِس کے لیے ایک خصوصی قانون بھی نازل کیا گیا، لیکن یہ نکاح نہ بشری حیثیت میں کیے گئے، نہ اپنی خواہش سے اور نہ خواہش نفس کی تسکین کے لیے، بلکہ خدا کے آخری پیغمبر کی حیثیت سے اپنی منصبی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اور خدا کے حکم پر یا اُس کے ایما سے کیے گئے تھے۔ کوئی سلیم الطبع آدمی جس نے تعصبات کو الگ رکھ کر کبھی اِس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، اِس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:

۱۔ بدر اور احد کی جنگوں میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے جن کی بیواؤں اور یتیم بچوں کی نگہداشت مدینے کی چھوٹی سی ریاست میں ایک اجتماعی مسئلہ بن گئی۔ لہٰذا قرآن نے توجہ دلائی کہ اِن یتیم بچوں کے اعزہ اور سرپرست اگر یہ اندیشہ رکھتے ہوں کہ یتیموں کے اموال و املاک اور حقوق کی نگہداشت جیسی کچھ ہونی چاہیے، وہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور وہ تنہا اِس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے تو اُنھیں چاہیے کہ اُن کی ماؤں میں سے جو اُن کے لیے جائز ہوں، اُن کے ساتھ نکاح کر لیں۔ یہ بات اللہ پروردگار عالم کی طرف سے کہی گئی تھی جس پر سب سے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو لبیک کہنا چاہیے تھی۔ چنانچہ آپ نے کہی اور تین بیوہ خواتین سے شادی کر لی۔ یہ تین خواتین حفصہ بنت عمر، زینب بنت خزیمہ اور ام سلمہ بنت ابی امیہ تھیں۔

۲۔ قرآن نے غلامی کو ختم کرنے اور معاشرے میں غلاموں کا مرتبہ بڑھانے کے لیے ہدایات دیں تو اُن پر عمل کا نمونہ پیش کرنے کے لیے آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب بنت جحش کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے زید رضی اللہ عنہ سے کرا دیا۔ یہ بڑا غیرمعمولی اور دوررس نتائج کا حامل اقدام تھا، مگر بدقسمتی سے دونوں میں نباہ نہیں ہو سکا اور زید نے اُنھیں طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا۔ سیدہ کے لیے یہ بڑے صدمے کی بات تھی۔ اِس لیے کہ پہلے ایک معاشرتی اصلاح کے لیے اُنھوں نے ایک آزاد کردہ غلام سے بیاہا جانا قبول کیا اور پھر مطلقہ بھی ہو گئیں۔ چنانچہ اُن کی دل داری اور متبنیٰ کی بیوی سے نکاح کی حرمت کے جاہلی تصور کو بالکل ختم کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ سیدہ سے خود نکاح کر لیں، دراں حالیکہ اُس وقت چار بیویاں پہلے سے آپ کے نکاح میں تھیں۔ اِس پر جو لوگ معترض ہو سکتے تھے، اُن کی تنبیہ کے لیے فرمایا کہ آپ خاتم النبیین ہیں، لہٰذا یہ اصلاح آپ ہی کو کرنی ہے، آپ کے بعد کوئی دوسرا اِس کے لیے آنے والا نہیں ہے۔ سیدہ اور اُن کے شوہر کے درمیان جو صورت حال پیدا ہو گئی تھی، اُس میں آپ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ یہی کرنا پڑے گا، لیکن اِسے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کھول دی اور آپ کو توجہ دلائی کہ اللہ کے پیغمبر اپنی منصبی ذمہ داریوں کے معاملے میں لوگوں کے ردعمل کی پروا نہیں کرتے۔ لہٰذا سیدہ کے ساتھ آپ کے نکاح کا اعلان خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں کر دیا گیا۔ سورۂ احزاب میں ہے:

وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ: اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ، وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ، وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ، فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآءِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا، وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا. (۳۳: ۳۷)

''اور یاد کرو، (اے پیغمبر)، جب تم اُس شخص سے بار بار کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تم نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو اور اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنے والا تھا اور لوگوں سے ڈر رہے تھے، دراں حالیکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو۔ چنانچہ جب زید نے اُس (خاتون) سے اپنا تعلق توڑ لیا تو ہم نے تمھیں اُس سے بیاہ دیا، اِس لیے کہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہے، جب وہ اُن سے تعلق توڑ چکے ہوں۔ اور اللہ کا یہ حکم تو عمل میں آنا ہی تھا۔''

۳۔ یہ اعلان ہوا تو اِس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح و طلاق کا ایک مفصل ضابطہ بھی اللہ تعالیٰ نے اِسی سورہ میں بیان کر دیا جس میں تعدد ازواج کے وہ شرائط تو اٹھا دیے گئے جو عام مسلمانوں پر عائد کیے گئے ہیں، لیکن اِس کے ساتھ بعض ایسی پابندیاں آپ پر عائد کر دی گئیں جو عام مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں۔ یہ ضابطہ سورۂ احزاب (۳۳) کی آیات ۵۰۔۵۲ میں بیان ہوا ہے اور جن نکات پر مبنی ہے، وہ یہ ہیں:

اولاً، سیدہ زینب سے نکاح کے بعد بھی آپ اگر چاہیں تو درج ذیل تین مقاصد کے لیے مزید نکاح کر سکتے ہیں:

اُن خاندانی عورتوں کی عزت افزائی کے لیے جو آپ کے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں قیدی بن کر آپ کے قبضے میں آ جائیں۔

اُن خواتین کی دل داری کے لیے جو محض حصول نسبت کی غرض سے آپ کے ساتھ نکاح کی خواہش مند ہوں اور آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ہبہ کر دیں۔

اپنی اُن چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں کی تالیف قلب کے لیے جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور اِس طرح اپنا گھربار اور اپنے اعزہ و اقربا، سب کو چھوڑ کر آپ کا ساتھ دیا ہے۔

ثانیاً، یہ نکاح چونکہ ایک دینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے کیے جائیں گے، اِس لیے اپنی اِن بیویوں کے ساتھ بالکل یکساں تعلق رکھنے کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی۔

ثالثاً، اِن خواتین کے سوا دوسری تمام عورتیں اب آپ کے لیے حرام ہیں*** اور اِن سے ایک مرتبہ نکاح کر لینے کے بعد اِنھیں الگ کر کے اِن کی جگہ کوئی دوسری بیوی بھی آپ نہیں لا سکتے، اگرچہ وہ آپ کو کتنی ہی پسند ہو۔

اِس کے صاف معنی یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جن عورتوں کو آپ کی دعوت پر لبیک کہنے یا آپ کے کسی اقدام کے نتیجے میں شدید صدموں سے دوچار ہونا پڑا ہے یا اُن کے اندر آپ سے حصول نسبت کی شدید خواہش ہے،آپ اُن سے نکاح کریں۔ یہ اِن عورتوں پر پروردگار عالم کی کمال شفقت کا اظہار تھا۔ چنانچہ اِس ایما کو سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ کے ساتھ پہلے مقصد کے لیے نکاح کیا۔ سیدہ میمونہ دوسرے مقصد سے آپ کی ازواج میں شامل ہوئیں اور سیدہ ام حبیبہ کے ساتھ آپ کا نکاح تیسرے مقصد کے پیش نظر ہوا۔

اِس سے واضح ہے کہ یہ ایک خالص دینی ذمہ داری تھی جو نبوت و رسالت کے منصبی تقاضوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد ہوئی اور آپ نے اِسے پورا کر دیا۔ بشری خواہشات سے اِس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ چنانچہ ضروری تھا کہ اِسے عام قانون سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ سورۂ احزاب کا جو ضابطہ اوپر مذکور ہے، وہ اِسی استثنا کو بیان کرتا ہے۔

[۲۰۱۴ء]

_____

* احمد، رقم ۲۵۲۴۱۔

** الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۸/ ۵۲۔

*** چنانچہ اِسی پابندی کے باعث سیدہ ماریہ کے ساتھ آپ نکاح نہیں کر سکے اور وہ ملک یمین ہی کے طریقے پر آپ کے گھر میں رہیں۔

____________