باحجاب بے حیائی


دور جدید میں ایک نیاظاہرہ سامنے آیا ہے، اور وہ ہے خواتین کا ''مس ورلڈ'' اور ''مس یونی ورس'' وغیرہ بننا۔ عجیب بات ہے کہ بعض مسلم ممالک بھی اب اِس جاہلی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔چنانچہ حالیہ خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ مصر میں ہونے والے ''مقابلۂ حسن'' کے ایک پروگرام میں بڑی تعداد میں ''باحجاب مسلم خواتین'' نے حصہ لیا۔اِس مقابلے میں ایک عرب دوشیزہ نسرین الکتانی (مراکش) کو دنیا کی پہلی ''باحجاب مس عرب'' (Veiled Miss Arab) قرار دیا گیا ہے۔اِس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے موصوفہ نے کہا کہ ــــ مجھے فخر ہے کہ تاریخ میں میرا نام ایک ''باحجاب مس عرب'' (ملكة جمال المحجبات العرب) کی حیثیت سے درج کیا جائے گا۔

اِس قسم کا مقابلۂحسن دراصل اُسی قدیم تہذیب کا جدید اعادہ ہے جس کے ایک ظاہرے کو قرآن میں 'تَبَرُّج' (الاحزاب ۳۳: ۳۳) کہا گیا ہے۔اجنبی مردوں کے سامنے زیب وزینت کی نمایش بلاشبہ، جاہلیت کا طریقہ ہے۔اِس قسم کی نمایش دین فطرت کے بھی خلاف ہے اور عقل وشرافت کے بھی خلاف۔

حجاب کوئی رسمی یا روایتی چیز نہیں، وہ حیا وشرافت کی علامت اور عصمت کی ضمانت ہے۔حجاب کسی خاتون کے لیے عفت اور تزکیہ کا ایک فطری ذریعہ ہے۔ چنانچہ جب حیا ختم ہوجائے تو پھر مذکورہ قسم کا حجاب صرف بے حیائی اور حیا باختگی کا اظہار ہوگا، نہ کہ عفت وعصمت کا اظہار: 'إذا لم تستح، فاصنع ما شئت' (بخاری، رقم ۳۴۸۹)۔

افسوس کہ شیاطین الجن والانس کی خوب صورت تزئین (الحجر ۱۵: ۳۹ ) کے ذریعے سے موجودہ زمانے میں ایمان و اخلاق کے تقریباً تمام پیمانے یک سر بدل چکے ہیں۔یہ اِسی ابلیسی تزئین کا نتیجہ ہے کہ بے حیائی نے اب ''باحجاب بے حیائی '' کی صورت اختیار کرلی ہے:

تھا جو ناخوب، بہ تدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر!

(لکھنؤ، ۸ ؍جون ۲۰۱۸ء)

____________