’’بحضور رسالت مآب‘‘


[جناب جاوید احمد غامدی کی نظم ''لالہ'' سے انتخاب]

اے کہ ترے وجود سے راہِ حیات کا سراغ

اِس شب تار میں نہیں تیرے سوا کوئی چراغ

عقل تھی تشنہ لب، مگر مے کدۂ حیات میں

بادۂ ذوق و شوق کے تو نے لنڈھا دیے ایاغ

تیری تلاش میں رہی صدیوں سے میری آرزو

غم زدۂ فراق ہوں ، سینہ مرا ہے داغ داغ

-----------------------------

عرشِ بریں کی راہ داں تیری جبیں مرے لیے

راہ نما ترے سوا کوئی نہیں مرے لیے

قافلہ ہاے شوق میں تو ہے امیرِ کارواں

میں کہ غریبِ شہر ہوں ، ہم سفروں کے درمیاں

میری رگوں سے بہ گئی میرے لہو کی بوند بوند

اپنے جنوں کی داستاں، کیسے کہے مری زباں؟

خون کے لالہ زار سے لایا ہوں نذر کے لیے

لالہ کہ جس کے داغ میں میرا وجود ہے نہاں

'اے کہ زمن فزودۂ گرمیِ آہ و نالہ را

زندہ کن از صداے من خاکِ ہزار سالہ را'

______