بعد از موت (۱۲)


فرض کیجیے کہ جنت میں سب کچھ ہوتا،مگروہاں کے باسی اپنے جیون ساتھیوں سے محروم ہوتے تو لازم ہے کہ وہ جنت جنت ہو کر بھی ویران اور سونی ہوتی۔وہاں کے آدم سب کچھ پاکربھی وصال یار کے لیے تڑپتے اورحوائیں ہجر و فراق میں سسکتیں اور رویا کرتیں۔بلکہ جب بھی شراب وکباب کی محفلیں آراستہ ہوتیں تو ان سے حظ اٹھانا تو دورکی بات، یہ تنہائیاں انھیں مزیداضطراب اوربے کلی میں مبتلاکردیا کرتیں۔ سو جنت میں جہاں بہت سی دوسری چیزوں کا ذکر ہوا، وہاں اہل جنت کوان کے رفیق اورہم نشین دیے جانے کا مژدہ بھی سنایا گیا۔۱؂ انھیں بتایاگیاکہ وہاں کی رعنائیوں اور رنگینیوں میں اور زیادہ رنگ بھرنے کے لیے نازنینوں کی رفاقت بھی میسر ہو گی۔ ان کی خدمت میں انواع و اقسام کے کھانے ہی پیش نہ کیے جائیں گے، اپنے قیس کولقمے بنا بنا کر کھلانے والی لیلائیں بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔ صرف پینے کے لوازمات نہ ہوں گے،جن پر خود پیالوں کے سینے بھی دھڑک اُٹھیں ،وہ نازک اندام ساقی بھی وہاں موجود ہوں گے۔

حسن کی ان شہزادیوں کاقرآن نے تفصیل سے تعارف کرایاہے۲؂ اوران کے وہ خصائل بیان کیے ہیں جوکسی بھی فرہاد کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اُٹھے ،اپناتیشااٹھائے ،کوہ ستوں کھودے اور جوے شیرنکال دکھا ئے۔ان کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ وہ مردآشنااورکسی کی چھوڑی ہوئی نہ ہوں گی۔ان کے قریب ہوناتودرکنار،اہل جنت سے پہلے انھیں کسی نے چھواتک نہ ہوگا۔فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں ایک خاص اٹھان پراٹھایاہے۔وہ عام عورتوں جیسے نسوانی عوارض سے مبرا اور جسمانی تبدیلیوں سے بالکل پاک ہوں گی۔ان کاحسن وجمال اگراپنی مثال آپ ہوگاتویہ زوال سے بھی یک سر ناآشناہوگا۔وقت گزرنے کے ساتھ ان کی جوانی میں فرق آئے گانہ دل ربائی میں۔ پہلی ملاقات پریہ جس طرح کی ہوں گی،ہرمرتبہ ملنے پراسی طرح کی ملیں گی:

لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلَاجَآنٌّ.(الرحمٰن ۵۵: ۵۶)

''ان (عورتوں) کواُن سے پہلے کسی انسان یاجن نے ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔''

یہ ایک سے زیادہ ہوں گی،اس لیے ہوسکتاتھا کہ ان کے درمیان میں سوتنوں کی چشمک اور جلاپا ہو۔مگران پری چہروں میں وہ کمزوریاں ہی نہ ہوں گی جوباہمی حسدکوپیداکیاکرتی ہیں۔ایک بے حدحسین ہواور دوسری انتہا درجے کی بدصورت ہو،ایک میں دل کولبھانے اورپھراسے چرالینے کی ہر اداہواور دوسری مزاج کی درشت اور طبیعت کی آدم بے زار ہو،ایک جوان ہو،شباب کی نمایاں مثال ہواور دوسری بڑھاپے کی طرف مائل ہو زوال اورتنزل کی نظیر ہو اور اس کے بال بال میں چاندی بھی جھلک آئی ہو،یہی چیزیں ہوتی ہیں جن سے مردکامیلان ایک طرف ہونے لگتا اور پھر لازمی نتیجے کے طورپرعورتوں کے درمیان میں حسداوررشک پیداہونے لگتا ہے۔جنت کی عورتوں میں اس طرح کا تفاوت بالکل نہیں ہو گا۔ حسینائیں توسب ہوں گی اوردل ربائی بھی ہرایک کی فطرت میں ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ وہ سب ہم سن بھی ہوں گی۔چنانچہ اہل جنت کے ہاں نہ ایک کی طرف رجحان اوردوسری سے بے زاری پیدا ہو گی اورنہ ان عورتوں میں باہمی چپقلش کا احساس پیدا ہوگا۔یہ سب آپس میں شیروشکراورجنتیوں کی دل جوئی کرتی ہوں گی۔قرآن مجید نے 'وَکَوَاعِبَ اَتْرَابًا' اور 'عُرُبًا اَتْرَابًا' کے الفاظ استعمال کرکے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔

یہ عورتیں صرف حسن وجمال کی مالک نہ ہوں گی،عصمت کی دیویاں اورعفت کی مورتیاں بھی ہوں گی ۔خوب صورت نہیں،خوب سیرت بھی ہوں گی۔یہ اخلاق باختہ نہیں،پاکیزہ ہوں گی۔ جفا کارا وربے وفانہیں،باوفا،شرمیلی اور باحیا ہوں گی۔ قرآن مجید میں ان کے غزال چشم ہونے اور سنہری اورسفید رنگ ہونے کاذکرہواتواس کے ساتھ ساتھ ان کی شرمگیں نگاہوں کااورموتیوں کے مانندان کے اچھوتے اورمحفوظ ہونے کابھی ذکرہوا:

وَحُوْرٌ عِیْنٌ،کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنَوْنِ.(الواقعہ ۵۶: ۲۲۔۲۳)

''اوراُن کے لیے آہوچشم گوریاں ہوں گی، چھپا کر رکھے ہوئے موتیوں کی طرح۔''

وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ، کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ.(الصافات ۳۷: ۴۸۔۴۹)

''اُن کے پاس نیچی نگاہوں والی غزال چشم حوریں ہوں گی گویا کہ (شترمرغ کے) چھپے ہوئے انڈے ہیں۔''

فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ، فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ، حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِ، فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمََا تُکَذِّبٰنِ.(الرحمن ۵۵: ۷۰۔۷۳)

''اُن میں خوب سیرت،خوب صورت بیویاں۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلاؤگے!خیموں میں ٹھیرائی ہوئی گوریاں۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن شانوں کوجھٹلاؤگے!''

وہاں اہل جنت کی خوشی کااس قدرلحاظ ہوگاکہ ان میں سے ہرایک کی ذاتی آرزوئیں پوری کرنے کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ ہرکسی کے ارمانوں کی ایک اپنی ہی دنیاہوتی ہے،سواس کے لیے ویسی ہی دنیابنادی جائے گی۔کسی کوجنت میں بیٹھ کرباتیں کرنااورخوش گپیوں میں مگن رہنا اچھالگے گاتوکسی کودوستوں سے ملاقاتیں کرنااوران کے ساتھ ضیافتیں اڑانا۔کسی کوچاندراتوں میں نشستیں جمانا اورماضی کی داستانوں سے حظ اٹھانامسرت دے گااورکسی کو مزاح کی محفلیں بپاکرنا اورخوب خوب مزے اڑانا۔ کوئی لفظوں کی شاعری سے لطف اندوز ہوناچاہے گااور کوئی جسم کی شاعری سے شادکام ہونا۔کسی کا ذوق ہوگا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے پتھرتراشے اورکسی کااشتیاق ہوگاکہ خود صنم بن کررہ جائے۔ کسی کی انگلیاں بے تاب ہوئی جائیں گی کہ بے جان تاروں میں روح پھونک دیں اورکسی کاگلہ لحن داؤدی کو گانے اور ہم نواؤں کوسنانے کے لیے تڑپتا ہوگا۔کوئی موے قلم سے ہرسورنگ بکھیرتاہوگااورکسی کامن رنگ اورشباب میں ڈوب جانے کو کرتاہوگا۔کچھ ایسے بھی ہوں گے جنھیں وہاں جاکر بھی فلسفے کی اُلجھنوں میں اُلجھنا اچھا لگے گا اور کچھ وہ بھی ہوں گے جنھیں فقہی مسائل میں اترکردورکی کوڑی لانااوربال کی کھال اتارنا بھلالگے گا۔کسی کوسونا چاندی پا لینے کے بعدبھی کیمیاگری کاسوداہواکرے گااورکسی کوڈھیروں مال کا مالک ہو جانے کے بعدبھی تجارت اورسوداگری کا نشہ ہواکرے گا۔کسی کادل چاہے گاکہ وہ سوت کاتے اورکھڈی بنے اورکسی کادل چاہے گاکہ وہ کھال اور پوست سے پاپوش سیے۔ کوئی آب وگِل کوکام میں لاکردانا اُگانا چاہے گاتوکوئی چاہے گاکہ وہ آتش اورآہن سے کھیلے اور تیر و تفنگ ڈھالے۔ غرض یہ کہ جو جنتی جس طرح بھی شادمان ہونا چاہے گا،جنت میں اس کاانتظام کر دیاجائے گا:

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَھُمْ فِیْ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوْنَ.(الروم ۳۰: ۱۵)

''پھرجوایمان لائے اورجنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے، وہ ایک شان دار باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے۔''

اہل جنت کی نعمتیں ان کی قیام گاہوں تک محدودنہ ہوں گی،بلکہ وہ جس طرف نظر اٹھاکر دیکھیں گے،اپنے لیے انعام ہی انعام پائیں گے۔ حدنگاہ تک ان کی بادشاہی کی دھوم مچی ہوگی۔جہاں چاہیں گے فروکش ہوں گے،جب دل میں آئے گی،کوچ کریں گے اورکوئی رکاوٹ ان کے سامنے نہ ہوگی۔ رکاوٹیں توان کے سامنے ہوتی ہیں جن کی بادشاہیاں ناقص ہوں اورکسی خاص علاقے تک محدودہوکررہ جائیں۔اس کے مقابلے میں اہل جنت اُس بادشاہی کے وارث ٹھیرائے جائیں گے جو بہت بڑی بھی ہے اورکسی نقص کے بغیربھی۔اس کی کامل ترین تعبیرقرآن کے الفاظ میں یہ ہے کہ وہاں نہ ماضی کاکوئی غم ہوگا اورنہ مستقبل کاکوئی اندیشہ۔ مزیدیہ کہ پروردگاراہل جنت پراِتمام نعمت کرے گا اورانھیں اس شاہانہ طرز کی صرف ایک نہیں، دو دو جنتیں عطافرمائے گا:

وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکًا کَبِیْرًا.(الدھر ۷۶: ۲۰)

''اور دیکھوگے توجہاں دیکھو گے، وہاں بڑی نعمت اور بڑی بادشاہی دیکھوگے۔''

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآءُ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ.(الزمر ۳۹: ۷۴)

''اور وہ کہیں گے کہ شکرہے اُس خداکا جس نے ہمارے ساتھ اپناوعدہ سچ کر دکھایااورہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ اب ہم جنت میں ،جہاں چاہیں، ٹھیریں (تو یہ صلہ ہوگااُن کا)،سونیک عمل کرنے والوں کایہ کیا ہی اچھاصلہ ہے!''

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ، فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ.(الرحمٰن ۵۵: ۴۶۔۴۷)

''اورجو اپنے رب کے حضورمیں پیشی سے ڈرتے رہے، اُن کے لیے دوباغ ہیں۔''

وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ.(البقرہ۲: ۲۷۷)

''اور (وہاں)اُن کے لیے کوئی اندیشہ ہو گااورنہ وہ کوئی غم کبھی کھائیں گے۔''

مہربانیوں کایہ سلسلہ اسی پربس نہیں ہوگا۔انھیں ایک اورنعمت سے کہ جس کو خدا نے اپنی رضوان سے تعبیر کیا ہے، نوازا جائے گا۔ خداکی یہی رضوان ہے جودنیامیں صالحین کی زندگیوں کا اصل مقصد اوران کی کوششوں کا مدعا رہتی ہے۔ یہ دنیامیں اسی کی خاطرجیتے ہیں، بلکہ دنیامیں تو یہ لوگ فقط رہتے ہیں،جیتے صرف اورصرف خداکی رضوان ہیں۔ جنت وہ مقام ہے جہاں یہ بیش قیمت اورنایاب نعمت ،اپنی کامل صورت میں ان کوحاصل ہوجائے گی:

وَعَدَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ، ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ.(التوبہ ۹: ۷۲)

''ان مومن مردوں اورمومن عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے اُن باغوں کے لیے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے،اورابد کے باغوں میں پاکیزہ مکانوں کے لیے۔ اور خدا کی خوشنودی، وہ سب سے بڑھ کرہے۔یہی بڑی کامیابی ہے۔''

کھانے پینے کے لوازمات،عیش وطرب کے انتظامات اوررضاے الٰہی کے انعامات کی، چاہے نامکمل اور ناقص ہی سہی، ایک طرح کی واقفیت ہمیں ضرورہوتی ہے۔ پروردگار عالم کی ایک رحمت وہ ہے کہ جس کا اس دنیا میں دھندلا سا تصور کر لینا بھی محال ہے۔ جب یہ برسے گی تو وہ وہ برکتیں نازل ہوں گی کہ سمیٹنا بھی چاہیں تو نہ سمیٹ سکیں۔ ظاہر ہے کہ اہل جنت کے لیے یہ بہت بڑی رحمت ہوگی کہ ان کارب انھیں سلام بھیجے،اُس کی نظر التفات ہردم ان پررہا کرے اوریہ اُس کے انوارکی جھلک دیکھاکریں اوراس کی تجلیات کامشاہدہ کیاکریں۔ان کے نزدیک یہ رحمت اتنی گراں مایہ ہو گی کہ انھیں اس کے سامنے کائنات کی ہرشے کم تر،بلکہ خود جنت کی ہرچیز فروتراوربے قدرمحسوس ہوگی۔ صالحین کااصل رزق یہی ہوگا،اس لیے صبح وشام انھیں اس رزق سے نوازاجائے گا:

سَلٰمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ.(یٰسٓ ۳۶: ۵۸)

''اُنھیں اُس پروردگارکی طرف سے سلام کہلایا جائے گا جس کی شفقت ابدی ہے۔''

وَلَھُمْ رِزْقُھُمْ فِیْھَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا.(مریم ۱۹: ۶۲)

''اُن کارزق ان کے لیے صبح وشام اُس میں مہیا ہوگا۔''

اہل جنت کواب یہی زیباہوگاکہ وہ اپنے رب کی اِن تمام عنایتوں پراُس کاشکربجا لائیں۔ چنانچہ وہ ہردم ان کا چرچا کریں گے اوراُس کی حمد کے ترانے پڑھیں گے اوراپنے عجز کااظہار اوراُس کے کرم کی باتیں کریں گے۔لیکن دوسری طرف بھی ان کاوہ پروردگار ہوگاجوسب قدر دانوں سے بڑھ کرقدردان ہے۔وہ کبھی نہیں چاہے گاکہ اُس کے بندے اِس احساس میں زندگی گزاریں کہ یہ سب حاصل کرنے میں ان کااپناکوئی کمال نہیں۔ یہ تومحض خیرات تھی جو ان کی جھولی میں ڈال دی گئی ۔ظاہرہے ،یہ احساس وہ چیزہے جسے انسان دل سے نہیں،بلکہ انتہائی ناگواری سے قبول کرتا ہے۔ چنانچہ ان کے شکریے اورعجزوانکساری کے جواب میں اعلان کرادیاجائے گا کہ یہ جنت تمھیں محض ہماری عنایت سے نہیں ملی،بلکہ اس میں اصل عامل تمھارے اپنے نیک عمل ہیں۔ یہ محض ہمارافضل نہیں ہے،بلکہ تمھاری ریاضتوں اورجفاکشیوں کاثمرہ اورتمھاری عمر بھرکی اپنی کمائی ہے۔گویاوہی ہوگاجوایک سخی دل اور قدردان مالک اور اس کے محنتی اورعاجز غلام کے درمیان میں ہوتاہے۔غلام اپنی محنت کے بعدبھی کسرنفسی دکھاتاہے اورمالک اپنی نوازشوں کے باوجوداُس کے کام کی تعریف کرکے اس کی قدربڑھاتاہے:

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا، وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ھَدٰنَا اللّٰہُ لَقَدْ جَآءَ تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ، وَ نُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ.(الاعراف ۷: ۴۳)

''اوروہ کہیں گے: اللہ کاشکرہے جس نے ہمیں اس راستے کی ہدایت بخشی، اور اگر اللہ ہدایت نہ بخشتاتوہم یہ راستہ خود نہیں پاسکتے تھے۔ ہمارے پروردگار کے بھیجے ہوئے رسول بالکل سچی بات لے کر آئے تھے۔ (اُس وقت) ندا آئے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے اعمال کے صلے میں وارث بنائے گئے ہو۔''

یہاں ایک سوال پیداہوتاہے۔انسان کی طبیعت ہے کہ وہ معمول اور یکسانیت سے جلدہی اُکتا جاتااورہرروز اپنے اندرایک نئی آرزواورایک نئی خواہش پال لیتاہے۔کیاایسا تونہیں ہوگاکہ اہل جنت کودیے جانے والے لذیذ کھانے، رنگ وشباب سے بھرپوران کی محفلیں اوررحمت برساتے ان کے شب و روز، ان کواُکتاہٹ کا شکار کر دیں؟ اور یہ ان سب چیزوں کا مزہ کھو بیٹھیں اوران کے بجاے کچھ اورچاہنے لگیں؟اس سوال کے جواب میں عرض ہے کہ اکتاہٹ کایہ جذبہ دوہی صورتوں میں پیداہوتاہے: ایک یہ کہ چیزیں اتنی گنی چنی ہوں کہ بار بارکے استعمال سے آدمی کا جی بھر جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایک جیسی ہی رہیں اور آخرکاردل سے اترجائیں۔

پروردگار عالم نے انسان کی اس کمزوری کایااسے خوبی کہہ لیجیے،جنت میں بھی لحاظ رکھاہے اور اس پہلی صورت کا جواب دو طرح سے دیاہے: ایک یہ کہ اس نے واضح کردیاہے کہ جوچیزیں تم کو گن کربتادی گئی ہیں وہ وہاں کی نعمتوں کا ایک مختصراوراجمالی ساتعارف ہے۔وگرنہ تمھارے لیے وہ کچھ تیاررکھاگیاہے کہ جس کاتمھیں سان گمان بھی نہیں۔ دوسرے یہ کہ جنت آرزوؤں کی تکمیل کا مقام ہے،اس لیے ان چیزوں کے علاوہ جوتمھارے دل میں آرزو پیدا ہو گی، فوراً پوری کی جائے گی:

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآءًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ.(السجدہ ۳۲: ۱۷)

''سوکسی کوپتانہیں کہ اُن کے اعمال کے صلے میں اُن کے لیے آنکھوں کی کیاٹھنڈک چھپارکھی گئی ہے۔''

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ، لَھُمْ مَّا یَشَآءُ وْنَ عِنْدَ رَبِّھِمْ، ذٰلِکَ ھُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ.(الشورٰی ۴۲: ۲۲)

''جولوگ ایمان لائے اوراُنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے، وہ بہشت کے باغیچوں میں ہوں گے۔ اُن کے لیے، جو کچھ چاہیں گے، اُن کے پروردگارکے پاس موجود ہو گا۔ سب سے بڑا فضل درحقیقت یہی ہے۔''

قرآن نے جی اُکتاجانے کی دوسر ی صورت کا جواب بھی دوطرح سے دیا ہے: پہلے یہ بتایا ہے کہ وہاں کی نعمتیں ایک حالت پرنہیں ہوں گی،بلکہ ان میں ہردم ارتقا ہوتارہے گا۔جنتی کھانے کے لیے جب دوسری مرتبہ ہاتھ بڑھائیں گے توخیال کریں گے کہ یہ سب توہم پہلے سے کھائے ہوئے ہیں،مگرکھانے کے بعدمعلوم ہوگاکہ اس ظاہری مشابہت کے باوجود، یہ سب لذت اورذائقے میں بالکل نیاہے۔دوسرے یہ کہ اہل جنت کی ہرخواہش پوری کر دینے کے بعدان پر مزیدایک فضل کرنے کاوعدہ فرمایا۔اوراس کی تفصیل کرناتودورکی بات، اس کے بارے میں اشارے کنایے میں بھی کچھ نہیں بتایا۔ارشادہواتوصرف یہ کہ تمھیں دینے کے لیے ہمارے پاس مزیدبھی بہت کچھ ہے۔ اب ظاہرہے کہ اس ارشادمیں پایاجانے والاابہام ہی اصل شے ہے۔ دینے والادینے کاوعدہ کرتاہواوریہ نہ بتاتا ہو کہ وہ کیاکچھ دے گاتوسننے والوں کے لیے یہی بات کفایت کرتی ہے کہ دینے والاعالم کاپروردگارہے،اس لیے وہ جوکچھ بھی دے گا،وہ اتنازیادہ ہوگا کہ انھیں راضی کردے گا:

کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا.(البقرہ ۲: ۲۵)

''اُن کاکوئی پھل جب اُنھیں کھانے کے لیے دیا جائے گا توکہیں گے: یہ وہی ہے جواس سے پہلے ہمیں دیا گیا، دراں حالیکہ اُن کویہ اُس سے ملتاجلتا دیاجائے گا۔''

لَھُمْ مَّا یَّشَآءُ وْنَ فِیْھَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ.(قٓ ۵۰: ۳۵)

''اُنھیں وہاں جو چاہیں گے، ملے گا اور ہمارے پاس مزیدبھی بہت کچھ ہے۔''

اے پروردگار، تیرے فضل کے بھروسے پر ہم بھی اس جنت کی طلب رکھتے ہیں !!

________

۱؂ واضح رہے کہ جنت میں اباحیت بالکل نہ ہوگی کہ جوکوئی جنسی جذبے سے مغلوب ہواوہ جانوروں کی طرح جدھر کوسینگ سمایا، ادھر کو ہو لیا، بلکہ جس طرح یہاں نکاح کے ذریعے سے افراد ایک دوسرے کے ساتھ مخصوص ہوجاتے اور ایک رشتے میں بندھ جاتے ہیں،اسی طرح وہاں بھی یہ رشتہ باقاعدہ بنایاجائے گا:

وَزَوَّجْنٰھُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ.(الطور۵۲: ۲۰)

''اورآہوچشم گوریاں ہم نے اُن سے بیاہ دی ہوں گی۔''

۲؂ مرد و زن، دونوں کو جیون ساتھی ملنے چاہییں، مگر جنت کے بیان میں صرف عورتوں کاذکر ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ مردکے لیے عورت بنیادی طورپرایک نعمت ہے اور مرد اس کے لیے ایک ضرورت۔جنت چونکہ اپنی حقیقت میں سراسر نعمت ہے، اس لیے یہی موزوں ہواکہ اس کے بیان کے ذیل میں صرف عورتوں کاذکرکیاجائے:

اِنَّآ اَنْشَاْنٰھُنَّ اِنْشَآءً، فَجَعَلْنٰھُنَّ اَبْکَارًا، عُرُبًا اَتْرَابًا. (الواقعہ ۵۶: ۳۵۔ ۳۷)

''ہم نے اُنھیں ایک خاص اٹھان پراٹھایا ہوگااوراُنھیں کنواری،دل ربااور ہم سن بنادیا ہوگا۔''

____________