بابری مسجد کا تنازع ـــــ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف


[ایک سوال کے جواب میں گفتگو سے ماخوذ]

بھارت کی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں قائم تقریباً پانچ سو سال پرانی بابری مسجد کی زمین کے مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس میں ہندوؤں کے موقف کو قبول اور مسلمانوں کے موقف کو رد کرتے ہوئے یہ حکم دیا ہے کہ مسجد کو مسمار کر کے اُس کی جگہ مندر تعمیر کیا جائے اور مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے علیحدہ جگہ فراہم کی جائے۔اس فیصلے کے حوالے سے استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی سے سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں انھوں نے جو گفتگو فرمائی ، اُس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

اس فیصلے پر تبصرہ تو ا س کا تفصیلی مطالعہ کر نے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ غیر ذمہ داری کی بات ہو گی کہ فیصلے کو اس کے استدلال کے ساتھ پڑھے بغیر کوئی راے قائم کی جائے۔ البتہ، چند اصولی باتیں ضرور بیان کرنا چاہوں گا ۔ دیکھیے، آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے تک دنیا میں فتوحات کا دور رہا ہے۔ اس زمانے میں فاتحین جب کسی علاقے پر قبضہ کر کے اسے اپنی سلطنت کا حصہ بناتے تھے تو بعض اوقات تاریخی اور مذہبی عمارتوں کو منہدم کرنے اور ان کی ہیئت یا تشخص کو تبدیل کرنے جیسے جابرانہ اقدامات بھی کرتے تھے۔ ایسے اقدامات ہمیشہ انسانی تاریخ کا سیاہ باب رہے ہیں۔ اسلام نے ان کی بھر پور مذمت کی ہے اور ان کی تاخت سے حفاظت کے لیے جہاد و قتال کی اجازت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مسئلے کی اہمیت اس قدر غیر معمولی ہے کہ اس نے اس کے خلاف جدوجہد کو اپنی نسبت سے ارشاد فرمایا ہے۔ سورۂ حج میں ہے:

وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا.(۲۲: ۴۰) ''یہ اجازت اِس لیے دی گئی کہ)اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کنیسے اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، سب ڈھائے جاچکے ہوتے۔''

تاریخ میں اس نوعیت کے جو معاملات ہوئے یا جن کے بارے میں اس طرح کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اُن کی تین ممکنہ صورتیں ہیں:

ایک یہ کہ کسی عبادت گاہ کی عمارت کے بارے میں ایک مذہبی گروہ یہ دعویٰ کرے کہ یہ اُن کا معبد تھا، جسے صدیوں پہلے کسی دوسرے مذہبی گروہ نے مسمار کر کے اپنی عبادت گاہ میں تبدیل کر لیا تھا۔ اس دعوے کو اس گروہ کی مذہبی روایت تو قبول کرتی ہو، مگر تاریخی طور پر اسے ثابت نہ کیا جا سکتا ہو۔

دوسرے یہ کہ عبادت گاہ کے انہدام اور اُس کے مذہبی تشخص کو صدیوں پہلے تبدیل کیے جانے کا دعویٰ تاریخی لحاظ سے ثابت شدہ ہو۔ یعنی شواہد اس کی شہادت دیں اور مورخین اُس کی اصل کے بارے میں متفق ہوں۔

تیسرے یہ کہ عبادت گاہ کی نسبت و ملکیت کے دعوے دار بھی موجود ہوں، تاریخ کی گواہی بھی ان کے حق میں ہو اور عمارت بھی اپنی اصل ہیئت پر قائم ہو ۔

اس تیسری صورت کی چند مثالیں معلوم ومعروف ہیں۔ ایک مثال بیت اللہ کی ہے جو دین ابراہیمی کی روایت کے مطابق توحید کا مرکز تھا اور جسے خود اس کے متولیوں نے بت خانے میں بدل دیا تھا۔ دوسری مثال مسجد قرطبہ کی ہےجسے کلیسا بنا دیا گیا۔ تیسری مثال آیاصوفیہ (Ayasofya) کی ہے جسے پہلے مسجد میں اور بعد ازاں عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہ تیسری صورت جہاں پائی جاتی ہے ،وہاں کی قومی حکومت اگر عبادت گاہ کو اپنے اصل تشخص پر بحال کرتی ہے تو یہ مستحسن اقدام ہو گا جس کی ہر لحاظ سے تعریف کی جانی چاہیے۔ جہاں تک پہلی دو صورتوں کا تعلق ہے تو وہ جہاں پائی جاتی ہیں، وہاں کے مکینوں کوصدیوں کے تاریخی تعامل کو قبول کر لینا چاہیے۔ ایسے مقامات کو متنازع بنانا گڑے مردے اکھاڑنے کے مترادف ہے جس کا نتیجہ سواے انتشار اور فساد کے کچھ اور نہیں نکلے گا۔ یہ کام اگر صدیوں پہلے کسی عمارت کے ساتھ کیا گیا، تب بھی غلط تھا اور اگر آج صدیوں سے قائم کسی عمارت کے ساتھ کیا جائے گا، تب بھی غلط ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ صدیوں سے قائم کسی عبادت گاہ کو مسمار کر کے اس کی جگہ کوئی دوسری عبادت گاہ بناتے ہیں تو جس قوم کی اس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جذباتی وابستگی پیدا ہو چکی ہے، اُس کے جذبات کو برانگیختہ ہونے سے روکا نہیں جا سکتا ۔ یہ تاریخ کے پہیے کو پیچھے کی طرف چلانے کی کوشش ہے۔یہ روایت اگر ایک مرتبہ چل نکلی تو پھر اسے روکنا ممکن نہیں رہے گا، کیونکہ فتوحات کے زمانے میں شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں اس طرح کے اقدامات نہ کیے گئے ہوں یا لوگوں میں اس طرح کی مذہبی روایات پروان نہ چڑھی ہوں۔ یہ ایک غیر دانش مندانہ طرز عمل ہے جس سے دور حاضر کی قومی ریاست کو نہیں چلایا جا سکتا۔

بھارت کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا وطن نہیں ہے۔ وہاں مختلف اقوام کے افراد کروڑوں کی تعداد میں بستے ہیں۔ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، بدھوں کی عظیم آبادیاں ہیں۔ ایسے ملک کے ارباب اقتدار کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہییں۔بابری مسجد کا معاملہ محض یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگوں نے چار پانچ سو سال پرانے مزعومہ واقعے کو بنیاد بنا کر عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ معاملہ یہ ہے کہ ایک ہجوم اٹھا اور اس نے صدیوں سے قائم ایک عبادت گاہ کو مسمار کردیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس مجرمانہ سرگرمی پر بھارتی حکومت اور عدالتوں کا رویہ کیا ہے؟ کیا دور حاضر کی قومی ریاست میں ایسی سرگرمی کو قبول کیا جا سکتا ہے؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کے اہل دانش اپنی قوم کی تربیت کرتے کہ اگر تین چار سو سال پہلے فی الواقع کوئی حادثہ ہوا ہے تو اسے فراموش کر کے اب آگے بڑھنا چاہیے۔ان کی قومی قیادت اور ارباب حل و عقد کو بھی اسی وسعت نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ لاہور (پاکستان)کی مسجد شہید گنج کا معاملہ اس سے مختلف نہیں ہے۔ تاریخی طور پر یہی بیان کیا جاتا ہے کہ یہ مسجد شاہ جہاں کے زمانے میں تعمیر ہوئی تھی جسے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں گرا کر گرودوارے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے مسلمانوں نے اس کی بحالی کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں کئی مسلمان شہید بھی ہو گئے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اسے مسجد کی صورت میں بحال کرنا مشکل نہ تھا، مگر قیادت اور عوام نے اپنے مطالبے سے دست بردار ہو کر اس تنازعے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا ۔ چنانچہ آج بھی وہاں مسجد کے بجاے گرودوارہ قائم ہے۔ ہندوستان کےلوگوں کو بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

حکمت و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ اگر مذکورہ صورتوں میں سے تیسری صورت درپیش ہے تو عبادت گاہ کو اس کے اصل تشخص پر بحال کرنا بالکل بجا اور لائق تحسین ہو گا۔ اقوام، حکومتیں یا عدالتیں اگر ایسے اقدامات کرتی ہیں تو ہم انھیں سلام پیش کریں گے۔ چنانچہ مسجد قرطبہ یا آیا صوفیہ کو ان کی اصل صورت میں بحال کیا جاتا ہے تو یہ نہایت قابل قدر اقدام ہو گا۔ لیکن اگر کوئی مسجد، کوئی مندر، کوئی کلیسا ، کوئی صومعہ، کوئی معبد صدیوں سے قائم ہے تو اس کے تاریخی پس منظر سے قطع نظر کرتے ہوئے اسے ایک حقیقت واقعہ کے طور پر قبول کر لینا چاہیے۔ دور جدید کی کثیر القومی ریاستوں میں امن اور سلامتی کا یہی راستہ ہے۔

___________