بعد از موت (۱۱)


[اس مضمون کی ۱۰ اقساط اگست ۲۰۱۴ء تا فروری ۲۰۱۶ء کے شماروں میں سلسلہ وار شائع ہوئی ہیں۔اگلی

قسطوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا تھا جسے اب دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔ ادارہ]

اہل جنت کے لباس کے بارے میں یوں نہیں فرمایا کہ وہ کسی چادر اور تہہ بند میں ملبوس ہوں گے، بلکہ ان سے اس وقت کے مصر اور ایران کے بیش قیمت ملبوسات کا وعدہ کیا گیا۔ اس لیے کہ اہل عرب لباس کے معاملے میں انھی ملکوں کی شاہانہ روایات کو عز و شرف کی دلیل جانتے تھے:

عٰلِیَھُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خَُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ.(الدھر ۷۶: ۲۱)

''اُن کی اوپرکی پوشاک ہی سبزریشم اوردیباواطلس کی ہے۔ان کوچاندی کے کنگن پہنادیے گئے ہیں۔''

یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّلُؤْلُؤًا، وَلِبَاسُھُمْ فِیْھَاحَرِیْرٌ.(الحج۲۲: ۲۳)

''اُن کووہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔ان کے لباس وہاں ریشم کے ہوں گے۔''

وہاں خدمت گاروں کی ایک فوج ہوگی جوہروقت چاق و چوبند اور اہل جنت کے اشارۂ ابروکی منتظررہے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ خدمت گاروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مالکوں کے مزاج آشنا ہوتے اوران کی ضروریات سے واقف ہوتے ہیں،مگراس کے ساتھ ساتھ یہ عمررسیدہ اور بوڑھے بھی ہوجاتے ہیں اوران میں وہ مستعدی اورہشیاری باقی نہیں رہتی جس کی توقع ایک جواں سال ملازم سے ہواکرتی ہے۔چنانچہ جنت میں موجود ان خدمت گاروں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایاہے کہ یہ نوخیزلڑکے ہوں گے اورہمیشہ اسی سن وسال کے رہیں گے تاکہ اہل جنت کی ضروریات اوران کے مزاج سے واقف ہوجانے کے ساتھ ساتھ وہ ہمیشہ کے لیے چست وچالاک اورحاضر باش بھی رہیں ۔مزیدیہ کہ وہ بدصورت ہوں گے اورنہ گندے اور اجڈ ہوں گے۔ان کی خوب صورتی اورنظافت کوبیان کرنے کے لیے انھیں موتیوں سے تشبیہ دی ہے اورموتی بھی وہ کہ جوبکھرے ہوئے ہوں۔گویااس تشبیہ کوکمال تک پہنچا دیااوراس طرح ان کے کثیرتعداد میں ہونے اورخدمت بہم پہنچانے کے لیے ان کے ہردم اور ہر جگہ موجودہونے کا بیان بھی کر دیا:

وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ، اِذَا رَاَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُم لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا.(الدھر ۷۶: ۱۹)

''اُن کی خدمت میں وہ لڑکے جوہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ تم اُن کو دیکھو گے تو یہی خیال کروگے کہ موتی ہیں جوبکھیردیے گئے ہیں۔''

کھانے پینے کے بہترین انتظامات ہوں گے۔ غلمانِ جنت قیمتی دھاتوں سے بنے ہوئے پیالوں اورطشتریوں میں ان کے من پسندکھانے اورمشروبات لیے ہوئے ان کے گردمنڈلا رہے ہوں گے کہ کب آقااشارہ کریں اوران لوازمات کوان کے سامنے پیش کر دیا جائے:

یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّاَکْوَابٍ.(الزخرف ۴۳: ۷۱)

''اُن کے آگے سونے کی رکابیاں اور سونے کے پیالے پیش کیے جائیں گے۔''

بیان ہواہے کہ وہاں کی ہرشے میں اس قدرجاذبیت ہوگی کہ وہ اہل جنت کی طبیعتوں اوران کی نگاہوں کو اپنی طرف کھینچتی ہوگی۔چنانچہ کھانابھی صرف جسم کی ضروریات کوپوراکرنے کے لیے نہیں دیاجائے گاکہ جوکچھ ملے،حلق سے اتارلیا جائے اورجوکچھ باورچی پکارکھیں،زہرمارکرلیا جائے۔ کھانے خوب لذت بھرے ہوں گے۔ مشروبات بھی انتہادرجے کے روح افزاہوں گے۔ ان کی تیاری میں اہل جنت کی اشتہا،ان کے ذوق اوران کے انتخاب کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے گا:

وَفِیْھَا مَا تَشْتَھِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ.(الزخرف ۴۳: ۷۱)

''اوراس میں وہ چیزیں ہوں گی جودل کوبھاتی اور نگاہوں کولذت دینے والی ہوں گی۔''

پھل غذائیت کے ساتھ ساتھ لذت کام ودہن کابھی ذریعہ ہوتے ہیں،اس لیے وہاں ان کا بھی اچھا خاصا انتظام ہو گا۔ یہ انواع واقسام کے ہوں گے اورذائقے میں بے نظیراورلاجواب ہوں گے۔ صرف کھانے کی میزپرنہ ملیں گے،بلکہ باغوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے اہل جنت کوجب طلب ہوگی، وہ ذراساہاتھ بڑھائیں گے اورتازہ پھل درختوں ہی سے توڑلیں گے۔انھیں کوئی پتھر اٹھانے اورتاک کرنشانہ لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ باغ بھی اپنی ملکیت میں ہوں گے اورپھلوں کے بوجھ سے جھکے ہوئے خوشے بھی ہروقت پہنچ میں ہوں گے:

لَکُمْ فِیْھَا فاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْھَا تَاْکُلُوْنَ.(الزخرف۴۳: ۷۳)

''تمھارے لیے اس میں کثرت سے میوے ہوں گے جن میں سے تم کھاؤ گے۔''

وَدَانِیَۃً عَلَیْھِمْ ظِلٰلُھَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُھَا تَذْلِیْلاً.(الدھر۷۶: ۱۴)

''اس کے درختوں کے سایے ان پرجھکے ہوئے اور اُن کے خوشے بالکل ان کی دسترس میں ہوں گے۔''

کھانے پینے کے لوازمات اورمختلف اقسام کے میوہ جات ہی پربات ختم نہ ہو گی،اس کے ساتھ ساتھ بادہ وجام کے دوربھی چل رہے ہوں گے۔ پینے والے پینے کے آداب سے واقف ہوں گے۔وہ گلیوں اور چوراہوں میں پیتے اور غل غپاڑہ نہ کرتے پھریں گے۔ان کے لیے خصوصی محفلیںآراستہ کی جائیں گی اوروہ تختوں پربراجمان بڑے ہی شاہانہ اندازمیں اس کا شغل کیا کریں گے:

مُتَّکِئِیْنَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ.(آ۳۸: ۵۱)

''وہ اُن میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بہت سے میوے اورمشروبات (اپنے خدام سے)طلب کر رہے ہوں گے۔''

ان محفلوں کا ایک خوب صورت پہلو یہ ہوگاکہ ان میں عزیزواقربا اوردوست واحباب،سب موجود ہوں گے۔ دوزخ کے قیدیوں کے برخلاف،ان میں محبت اورالفت کے رشتے ہوں گے ، اس لیے یہ ایک دوسرے سے رخ پھیر کر نہیں، بلکہ آمنے سامنے بیٹھ کرپئیں گے۔دنیامیں اگران کے درمیان میں کوئی رنجش پیداہوئی بھی ہو گی تو خداے رحمان اس کو ان کے دلوں سے بالکل صاف کردیں گے:

وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ.(الحجر ۱۵: ۴۷)

''اُن کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے۔ وہ آمنے سامنے تختوں پربھائی بھائی کی طرح بیٹھے ہوں گے۔''

مے نوشی کی ان مجلسوں میں دی جانے والی شراب ملاوٹ زدہ یاکسی اور کے پیمانے کی بچی ہوئی نہ ہوگی۔یہ خالص بھی ہوگی اورسربمہربھی۔اس پرمشک کی مہرہوگی جوان کی تاثیراورلذت کومحفوظ رکھے گی اوراس کی صراحیاں پہلی مرتبہ انھی کے لیے کھولی جائیں گی:

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ، خِتٰمُہٗ مِسْکٌ، وَ فِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ.(المطففین۸۳: ۲۵۔۲۶)

''انھیں سر بند مےِ ناب پلائی جائے گی،جس پر مُشک کی مہر لگی ہوگی۔یہ چیزہے کہ جس کی طلب میں طالبوں کو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے سرگرم ہونا چاہیے۔''

شراب میں مہک اورخوشبو،اس کی تندی وترشی میں اعتدال اور اس کے کیف وسرور میں اضافے کے لیے یہاں جو کچھ ملایا جاتا ہے، جنت میں اس کابھی انتظام ہوگا۔اس غرض سے وہاں تسنیم اورکافورکی اورزنجبیل کی کہ جن کی حقیقت خداہی بہترجانتاہے، ملونی ہوگی۔اس کے ملانے سے شراب کی تیزی جاتی رہے گی اوراس کا مزہ اورسرور دوچند ہو جائیں گے۔ مے نوشی کی تاریخ میں ایک روایت رہی ہے کہ اس کااہتمام لبِ جوکیاجاتاہے۔آنکھوں کے سامنے پانی کے جھرنے گررہے ہوں،ان کے جل ترنگ سے فضالہریں لے رہی ہو اورکناروں پربیٹھے ہوئے اُمرا کے ہاتھ میں چھلکتاہواجام ہوتواس طرح کی محفلوں کوچارچاندلگ جاتے ہیں۔جنت میں بھی تسنیم،کافوراور زنجبیل نام کے خوبصورت چشمے بہ رہے ہوں گے اوراہل جنت ان کے کناروں پربیٹھے ہوئے بادہ وجام سے لطف اندوز ہوا کریں گے:

وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ، عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ.(المطففین۸۳: ۲۷۔۲۸)

''اور اس میں تسنیم کی ملونی ہوگی۔ ایک خاص چشمہ جس کے کنارے بیٹھ کر خدا کے یہ مقرب بندے پئیں گے۔''

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا، عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا.(الدھر۷۶: ۵۔۶)

''وفاداربندے شراب کے جام پئیں گے،جن میں آب کافورکی ملونی ہوگی۔یہ ایک چشمہ ہے جس کے پاس (بیٹھ کر) اللہ کے یہ بندے پئیں گے اور جس طرف چاہیں گے، بہ سہولت اُس کی شاخیں نکال لیں گے۔''

وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلاً، عَیْنًا فِیْھَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلاً.(الدھر ۷۶: ۱۷۔۱۸)

''اُنھیں وہ شراب وہاں پلائی جائے گی جس میں آب زنجبیل کی ملونی ہوگی۔ یہ بھی جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہا جاتاہے۔''

دنیاکی شراب میں مزے توہیں،مگراس میں جومفاسد پائے جاتے ہیں ،ان سے بھی سب لوگ واقف ہیں۔ اچھا خاصا دانا و بینا آدمی، اس کے پیتے ہی مدہوش ہوجاتا،اول فول بکتا،شرم وحیاکے احساسات کو کھو بیٹھتا، حتیٰ کہ گندی نالیوں اورغلاظت کے ڈھیروں میں لڑھکتا پھرتا ہے۔اس حالت میں وہ وہ حماقتیں اس سے سرزدہوتی ہیں کہ گنوارسے گنوارآدمی بھی اس کافضیحتا کرتے ہیں۔مزیدیہ کہ نشہ اترجائے تونتیجے میں جسم کے قویٰ بھی مضمحل ہوجاتے اور ہاتھ پاؤں ہیں کہ ٹوٹنے لگتے ہیں۔جنت میں دی جانے والی شراب اس لحاظ سے یہاں کی خانہ خراب سے بالکل مختلف ہوگی۔اس میں لذت اورمزہ توحددرجے کا ہوگا،مگراس کوپینے سے جسمانی ضررواقع ہوگااورنہ کسی قسم کاکوئی اخلاقی نقصان ہوگا۔جنتی اسے پیتے چلے جائیں گے،مگرہوش وحواس میں رہیں گے اورمتوالے ہرگزنہ ہوں گے۔ ظاہرہے، جس شراب کو خدا کے وفاداربندے پئیں ،جو جنت میں اہتمام سے پلایاجانے والامشروب ہواورجسے خدا اپنی خصوصی عنایت سے پلائے، اس میں مفاسد ہوبھی کس طرح سکتے ہیں۔ارشاد ہواہے:

یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ،م بَیْضَآءَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ، لَا فِیْھَا غَوْلٌ وَّلَاھُمْ عَنْھَا یُنْزَفُوْنَ.(الصافات ۳۷: ۴۵۔۴۷)

'' اُن کے لیے شراب ناب کے جام گردش میں ہوں گے، بالکل صاف شفاف، پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت!نہ اس میں کوئی ضرر ہوگا اورنہ اس سے عقل خراب ہوگی۔''

کھانے پینے کے یہ لوازمات وافرمقدارمیں اوربے حدوحساب ہوں گے اوران میں کسی کمی یاانقطاع کاکوئی سوال نہ ہوگا۔ایک طرف اگر پانی کی نہریں ہوں گی تودوسری طرف دودھ اورشہد اورشراب کی بھی نہریں بہتی ہوں گی۔ مزید یہ کہ ہر چیز آلودگی سے مبرا اور مضر اثرات سے بالکل پاک ہوگی۔پانی میں گدلاپن ہویانقصان دہ اجزاکی آمیزش ہو، دودھ میں گوبریا خون کے اثرات ہوں،شراب میں تلخی اورشعورکھوجانے کی مصیبت ہو،یا شہدمیں گھاس پھوس اورموم نظرآتی ہو،جنت کی نعمتوں میں ایساکچھ نہ ہوگا:

مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِیْھَآ اَنْھٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ لَبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفَّی، وَلَھُمْ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ.(محمد ۴۷: ۱۵)

''وہ جنت جس کاوعدہ خداسے ڈرنے والوں کے ساتھ کیاگیاہے،اُس کی مثال یہ ہے کہ اُس میں پانی کی نہریں ہیں جس میں کوئی تغیرنہیں ہواہوگااوردودھ کی نہریں ہیں جس کے ذائقے میں ذرافرق نہیں آیا ہوگا اورشراب کی نہریں ہیں جوپینے والوں کے لیے یکسرلذت ہوگی اورشہدکی نہریں ہیں جوبالکل صاف شفاف ہوگااوراُن کے لیے اُس میں ہرقسم کے پھل ہیں اوراُن کے پروردگار کی طرف سے مغفرت بھی۔''

[باقی]

____________