کورونا وائرس کی وبا: جناب جاوید احمد غامدی کے تاثرات (۲)


(میڈیا کے مختلف چینلز پر استاذ گرامی کی گفتگوؤں سے ماخوذ)

گذشتہ قسط میں عسر و اضطرار کے احکام کی نوعیت پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔ تاہم، اِس کے باوجود بعض اصولی اور اطلاقی سوالات کا پیدا ہونا فطری امرہے۔ اِن میں سے چند نمایاں یہ ہیں: کیا عسر و اضطرار میں رخصت پر عمل شریعت کا مطلوب ہے؟ اُس پر عمل لازمی ہے یا اختیاری ہے؟ کیا رخصت کے حکم کو اصل حکم کے متبادل کی حیثیت حاصل ہے؟ اِس سے مستفید ہوتے ہوئے ایمان و عمل کے کن پہلوؤں کا لحاظ ضروری ہے؟ حالت عسر و اضطرار میں اگر شریعت کے احکام متعارض ہو جائیں تو رد و قبول اور ترجیح و تاخیر کا معیار کیا ہو گا؟ اگر کوئی مسلمان رخصت کے بجاے عزیمت کی راہ اختیار کرنا چاہے تو اُسے کن چیزوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے؟

یہ اور اِس نوعیت کے بعض دیگر سوالوں کے بارے میں دین کا منشا جاننے کے لیے حسب ذیل نکات اہم ہیں:

اول، دین کا مطلوب وہ اصل احکام ہیں جن کا تقاضا اُس نے اپنے ماننے والوں سے کیا ہے۔ اِن میں بعض ایجاب اور تعمیل کے ہیں اور بعض حرمت و ممانعت پر مبنی ہیں، یعنی کچھ کام کرنے کے ہیں اور کچھ سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر نماز وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے؛ باوضو ہونا اور قبلہ رخ ہونا اِس کے لازمی شرائط میں سے ہے۔ مسجد کی حاضری اور اُس میں جماعت کے اہتمام کی غیر معمولی فضیلت ہے۔ زکوٰۃ بھی فرض ہے اور مال، مواشی اور پیداوار میں اُس کی شرحیں مقرر ہیں۔ اِسی طرح روزوں کے لیے رمضان کا مہینا مقرر فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ جو شخص اِس مہینے کو پائے، وہ اِس کے روزے پورے کرے۔ حج، عمرہ اور قربانی پرستش کا منتہاے کمال ہیں اور خدا کے حضور جان و مال نذر کرنے کی تمثیل کے طور پر مشروع ہیں۔ گویا اِن میں سے ہر عبادت کے لیے شریعت کا مطلوب پوری طرح واضح ہے۔ یہی معاملہ ممنوعات کا ہے۔ مثلاً جنابت، حیض و نفاس یا نشے کی حالت میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ حیض و نفاس میں روزہ رکھنا بھی ممنوع ہے۔ اِسی طرح جان بوجھ کر روزہ توڑنے سے منع فرمایا ہے۔ نشہ، جوا اورسود سے اجتناب کا حکم ہے۔ مردار، خون، سؤر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ کھانا حرام ہے۔ جان، مال اور آبرو کے خلاف تعدی کو بڑے جرائم میں شمار کیا گیا ہے اور اِن کے لیے قرار واقعی سزائیں مقرر فرمائی ہیں۔ احکام شریعت کی یہ چند مثالیں ہیں جن سے مقصود یہ سمجھانا ہے کہ شریعت کے معاملے میں دین کے مطلوبات پوری طرح متعین اور ہر لحاظ سے واضح ہیں۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اِن کے الفاظ و معانی اور مدعا و منشا کی عین بہ عین پابندی کریں۔ ہمارے دل و دماغ اور اعضا و جوارح کو اِن کے آگے سر تسلیم خم کرنا چاہیے اور کسی لیت و لعل، کسی حیلے بہانے، کسی غفلت، کسی بے پروائی کو قریب پھٹکنے نہیں دینا چاہیے۔ یہی دین کا مقصود ہے اور یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ تاہم، اگر کسی معاملے میں شریعت کا حکم موجود نہیں ہے یا حکم تو موجود ہے، مگر اُس کی جزئیات و تفصیلات کا تعین نہیں کیا گیا یا حالات کی تبدیلی سے اطلاق کی بعض نئی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں تو اُس معاملے میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے۔ شریعت کا اصول ہے کہ اگر کسی مسئلے میں قرآن و سنت خاموش ہوں تو ہم دین کی روشنی میں اپنی راے سے اجتہاد کر سکتے اور اپنے فہم و ادراک کے مطابق دین کے مطلوب کو پا سکتے ہیں۔

دوم، اضطرار اور جبر و اکراہ کی رخصتیں دین کے اصل احکام نہیں ہیں۔ یہ مستثنیات ہیں جو بہ اَمر مجبوری اختیار کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا اِن کی طرف رغبت کرنا اور ضرورت کی حد سے آگے بڑھنا ایمان و اخلاق کے منافی ہے۔ ''میزان'' میں بیان ہوا ہے:

''...محرمات سے استثنا صرف حالت اضطرار کا ہے اور وہ بھی 'غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ'،یعنی اِس طرح کہ آدمی نہ خواہش مند ہو، نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھنے والا ہو۔ بقرہ و نحل کی آیات میں بھی یہ بات بالکل اِنھی الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ مائدہ میں البتہ، الفاظ کا معمولی فرق ہے۔ ارشاد فرمایا ہے :''پھر جو بھوک سے مجبور ہو کر اِن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اِس کے کہ وہ گناہ کا میلان رکھتا ہو تو اِس میں حرج نہیں، اِس لیے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔''استاذ امام اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :'''مَخْمَصَة ' کے معنی بھوک کے ہیں۔ بھوک سے مضطر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی بھوک کی ایسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے کہ موت یا حرام میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے سوا کوئی اور راہ بظاہر کھلی ہوئی باقی ہی نہ رہ جائے۔ ایسی حالت میں اس کو اجازت ہے کہ حرام چیزوں میں سے بھی کسی چیز سے فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ 'غَيْرَ مُتَجَانِفٍ' کی قید اسی مضمون کو ظاہر کر رہی ہے جو دوسرے مقام میں 'غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ' سے ادا ہوا ہے۔ یعنی نہ تو دل سے چاہنے والا بنے اور نہ سدرمق کی حد سے آگے بڑھنے والا۔ 'مَخْمَصَة 'کی قید سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جہاں دوسرے غذائی بدل موجود ہوں وہاں مجرد اس عذر پر کہ شرعی ذبیحہ کا گوشت میسر نہیں آتا، جیسا کہ یورپ اور امریکا کے اکثر ملکوں کا حال ہے، ناجائز کو جائز بنا لینے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ گوشت زندگی کے بقا کے لیے ناگزیر نہیں ہے۔ دوسری غذاؤں سے نہ صرف زندگی، بلکہ صحت بھی نہایت اعلیٰ معیار پر قائم رکھی جاسکتی ہے۔'غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ' کی قید اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ رخصت بہرحال رخصت ہے اور حرام بہرشکل حرام ہے۔ نہ کوئی حرام چیز شیر مادر بن سکتی نہ رخصت کوئی ابدی پروانہ ہے۔ اس وجہ سے یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رفع اضطرار کی حد سے آگے بڑھے۔ اگر ان پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص کسی حرام سے اپنی زندگی بچا لے گا تو اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اگر اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر اپنے حظ نفس کی راہیں کھولے گا تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے، یہ اجازت اس کے لیے قیامت کے دن عذر خواہ نہیں بنے گی۔'''' (۶۴۰ - ۶۴۱)

سوم، عسر و اضطرار کے احکام مطلوب احکام کا متبادل بھی نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ مثال کے طور پر نمازوں کو قصر کرنا یا اُنھیں جمع کر کے پانچ کے بجاے تین اوقات تک محدود کرنا یا وضو اور غسل کی جگہ تیمم کر لینا یا سواری پر قبلہ رخ ہونے کا التزام نہ کرنا یا باجماعت نماز کے بجاے گھر پر نماز ادا کرنا یا فرض روزوں کو رمضان کا مہینا گزر جانے کے بعد رکھنا یا قحط یا معاشی بدحالی میں حکومت کا زکوٰۃ میں تخفیف کر دینا، شریعت کے اصل احکام کی متبادل یا قائم مقام صورتیں ہر گز نہیں ہیں۔ یہ اُس موقع کی رعایتیں ہیں جب انسان کے لیے مطلوب حکم پر عمل کرنا ممکن نہ رہے یا مشکل ہو جائے۔ اِن کی نوعیت ایسے ہی ہے، جیسے انسانی جان کے اضطرار کے باعث ایمبولینس کو اشارہ توڑنے کی اجازت ہوتی ہے یا بچوں کو عسر، یعنی مشقت سے بچانے کے لیےسخت موسم میں تعلیمی اداروں میں تعطیل کر دی جاتی ہے۔ چنانچہ جس طرح اِن استثنائی صورتوں کو متبادل نہیں سمجھا جاتا، اسی طرح شریعت کی رخصتوں کو بھی اصل احکام کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اِنھیں استثنا کے طور پر قبول کرنا چاہیےاور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں پورے جذبۂ ایمانی کے ساتھ مطلوب احکام کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔

[باقی]

___________