’’درِ ادراک‘‘


مصنف : محمد تہامی بشر علوی

صفحات : ۶۵۹

ملنے کا پتہ : مکتبہ امام اہل سنت، نزد مدرسہ نصرۃ العلوم، گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ۔

فون حافظ ظاہر: ۶۴۲۶۰۰۱۔۰۳۰۶

تبصرہ نگار : ڈاکٹر عرفان شہزاد

ہمارے محترم دوست جناب محمد تہامی بشر علوی علم و فہم کی دنیا کی ایک منفرد اور نمایاں شخصیت ہیں۔ کم عمری میں ہی، سچ ہے کہ ان کا فہم و بصیرت حقائق کے ادراک میں اپنے معاصرین سے بہت آگے ہے۔ علمی اشغال ان کے لیے انسانی اور سماجی فہم کے لیے سد رہ نہیں بن سکے۔درد مند دل اور بیدار نگاہ بھی رکھتے ہیں، سماج کے نباض ہیں۔ مولوی کی نفسیات سے واقف ہیں، جدید تعلیم یافتہ طبقے کی ذہنی ساخت سے آشنا ہیں، علما کے ساتھ وابستہ ہیں اور دیہات کے مزاج و مسائل کی اصلاح سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ گویا عالم شش جہات میں شش جہات رکھتے ہیں۔ پھر ہر طبقے کی اصلاح احوال اور اصلاح فکر میں قلم و قرطاس سے لے کر زبان و بیان، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر عملی طور پر میدان میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سب کے ساتھ ایک نمایاں بات یہ ہے کہ ان کو زبان و قلم کی چاشنی بھی عطا ہوئی ہے۔ مشکل علمی گتھیاں وہ چٹکلوں میں حل کر دیتے ہیں۔ پندو نصائح میں ان کا اسلوب برزگانہ شفقت کے بجاے دوستانہ مزاج لیے ہوئے ہے۔ ان کے اصلاحی مضامین پڑھ کر آدمی کی فکر میں سنجیدگی تو آتی ہے، لیکن مزاج میں وہ قنوطیت پیدا نہیں ہوتی جو اصلاحی مضامین کا خاصہ ہوتا ہے۔ جگہ جگہ اشعار کا خوب صورت استعمال مصنف کے عمدہ ذوق کی ترجمانی کرتا ہے۔

اپنے رشحات فکر انھوں نے کتابی صورت میں مرتب کر دیے ہیں، جس کا عنوان ''در ادراک، اہم دینی و سماجی تفہیمات'' بہت خوب رکھا ہے۔ اس کتاب کو عکس پبلیکیشز نے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک میں ''دروس'' ہیں جو وقتاً فوقتاً انھوں نے سماج کے مختلف طبقات کو دیے اور لکھے ہیں۔ دوسرے حصے کو ''شذرات'' کا عنوان دیا ہے۔ اس حصے میں فرد اور سماج کے مختلف اصلاح طلب مسائل زیر بحث لائے ہیں۔ تیسرا حصہ علمی ''مقالات'' پر مشتمل ہے جو آسان اسلوب میں لکھے گئے ہیں۔ یہ سب زندہ مسائل ہیں جن سے آج کا فرد دوچار ہے۔ ہر قاری کو اس میں اپنا ذکر مل سکتا ہے۔

مصنف کی اعلی ظرفی ہے کہ اس نے اپنی اس کتاب میں دیگر حضرات کے مفید مطلب چند مضامین بھی شامل کیے ہیں۔ ناچیز کے چند مضامین کو بھی اس کتاب کے گوہر پاروں میں جگہ پانے کا شرف حاصل ہوا ہے۔

کتاب کا انتساب ہی اہل نظر کو ا س کتاب کو پڑھنے کی طرف مائل کرنے کے لیے کافی ہے۔ لکھتے ہیں:

''اپنے جلیل القدر استاذ، مولانا ابو عمار زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے نام کہ جن کی آغوش شفقت میں جگہ پانے کو ان کی فکری فرماں برداری ضروری نہیں۔''

آپ بشر صاحب کی حریت فکر کا اندازہ اس ایک جملے سے کر سکتے ہیں۔ دراصل خدا کے علوم ومعارف کھلتے ہی تب ہیں، جب آدمی حتی الوسع حریت فکر کا حامل ہو، دوسروں کی فکری غلامی اور اپنے گروہی اور مسلکی تعصبات سے آزاد ہو۔ اس کے لیے دیانت دار ہونا ضروری ہے، بشر صاحب کی اس فہم و فراست کے پیچھے مجھے یہی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔

کتاب میں شامل چند مضامین کے عناوین کتاب کی افادیت کو ظاہر کرنے کے لیے درج کیے جاتے ہیں:

دماغی کنڈیشننگ کا مسئلہ، قرآنی رہنمائی کا اسلوب، اولاد پر اختیار کہاں تک؟، علم کی ناموس کا مسئلہ، جمال میری جان تمھیں کیا ہوا؟، محبت پر بندشیں، رکشہ ڈرائیور، غریب ماں، اب ایسا نہیں چلے گا، مطالعہ بازی، موسیقی و آلات موسیقی کا مسئلہ، مصوری کی حرمت کے استدلال کا جائزہ، ڈاڑھی کے مسئلے کی تحقیق، کیا عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے؟ کیا عورت کی عقل ناقص ہے؟ عورت کی گواہی وغیرہ۔

ایک نوجوان کی خود کشی پر ان الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں:

''نوجوانوں کو موت کی وادی میں دھکیلنے میں ہمارا کتنا کردار ہے، وہ غور کرتے تو انہیں نوجوانوں کی حرام موت سے پہلے اپنی حرام زندگیاں پہلے نظر آتیں۔'' (۳۰۸)

ایک جگہ انسانی نفسیات کی دکھتی رگ پر یوں ہاتھ رکھتے ہیں:

''خدا سے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہم جیسے کمزوروں کو کسی ایسی مقبولیت سے بچائے جس کے حصار میں بندھ کر سچائی کی گواہی دینا ناممکن ہی ہو جائے۔'' (۴۳۳)

ایک جگہ یوں نصیحت کرتے ہیں:

''اچھا تو سنو!

یہ تمہیں کیا ہوا کہ صاحب مطالعہ کو صاحب علم کا مترادف سمجھنے لگ گئے ہو؟ ... ذوق مطالعہ سے سرشار میرے لائق تکریم دوستوں کے مطالعے کا وقت بھی مطالعہ میں برباد نہ ہو۔'' (۴۵۷)

ایک جگہ لکھتے ہیں:

''مہذب والدین امور میں فیصلہ سازی کی مشق بچوں سے کرواتے ہیں۔ ان کے بچے جوان ہونے تک منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کا ہنر سیکھ چکے ہوتے ہیں۔ ہماری اولادیں والدین کی ماتحتی اور فرماں برداری کے سوا کچھ نہیں سیکھ پاتیں۔ ہم نے انہیں بس ماتحت رہنا ہی سکھایا ہوتا ہے۔'' (۳۴۲۔ ۳۴۳)

''ذوق تجسس'' کے نام سے بہت عمدہ مضمون لکھا ہے کہ کس طرح بچپن کی خوئے تجسس جو ہر چھوٹی چھوٹی چیز پر حیرت میں پڑ جاتی ہے، در اصل معرفت الٰہی کاحقیقی ذریعہ ہے، لیکن بچوں کے سوالات سے عدم توجہی اور نامناسب جوابات یہ ذو ق تجسس ختم کردیتے ہیں تو یہ کائنات اپنی تمام نیرنگیوں کے باوجود انسانی تجسس کو ابھارتی نہیں۔ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی حس بچپن میں ہی مار ڈالی جاتی ہے۔ قرآن اسی حس کو بیدار کرتا ہے ۔ والدین کو بچوں کی یہ حس مرنے نہیں دینی چاہیے۔ ان کے سوالات کو ایڈریس کرنا چاہیے، مگر یہ بڑا مشکل فن ہے۔

نماز کے ایک ایک فعل کی بہت عمدہ اور ایمان افروز تشریح کی گئی ہے۔ کتاب حکمت و بصیرت کے جواہر سمیٹے ہوئے ہے۔

کچھ جگہ پروف کی اغلاط ہیں۔ شہ سرخیوں اور ذیلی سرخیوں میں فرق نہیں کیا گیا، سب کو ایک طرح ہی نمبر وار لکھا گیا ہے۔ کتاب پر قیمت درج نہیں۔ امید ہے، اگلی اشاعت میں یہ معمولی تسامحات بھی درست کر لیے جائیں گے۔

____________