’’درِ ادراک‘‘: ایک علمی و اصلاحی کاوش


کسی بھی فرد اور معاشرے کی درست سمت کی جانب رہنمائی ایک عظیم فریضہ ہے۔ اس فریضہ کی انجام دہی کے لیے غیر جانب دارانہ تحقیق و دعوت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ علم و تحقیق کے میدان میں سنجیدہ، صحت مند اور غیر متعصب تحقیقی اذہان ہی مؤثر دعوت و ابلاغ کا فریضہ ادا کر سکتے ہیں،جب کہ تعصب، جذباتیت، جمود و تقلید، مخصوص فکری ذہن، شخصیت پرستی اور مسلک پرستی، نہ صرف مذموم ہیں، بلکہ اس کے لیے سہم مسموم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

علم و استدلال جس معاشرے میں اپنی اساسات کھونے لگے؛ مثبت نقد و نظر کی فضا جس علمی میدان میں مکدر ہونے لگے اور علمی جمود جس قوم و ملت میں اپنے آپ کو وسعت نظری سے مقفل کر لے، جہالت اور ذلت و پستی اس کا قطعی مقدر ٹھیرتی ہے۔

ہماری اس خود ساختہ پیچیدہ دینی و سماجی اجتماعیت میں فکر و تدبر کے رجحان کو فروغ دینے؛ عقل و ذہن پر جمود کی اٹی ہوئی گرد کو صاف کرنے؛ اذہان کی منفی (negative) سے مثبت (positive) تفکر کی جانب رہنمائی کرنے؛ فرد اور معاشرے کی ظاہری و باطنی تعمیر کا اہتمام کرنے؛ دین کی درست تعبیر اور اس کے مطابق سماج کی تشکیل کرنے؛ مذہب اور سوسائٹی کے حوالے سے اصلاح طلب حقائق کی توضیح و تنقیح کرنے؛ فکری انتشار اور فرقہ دارانہ کشمکش کو رفع کرنے؛ تعصبات کے مصنوعی قلعوں اور فصیلوں کو گراتے ہوئے عزت و احترام ، ہم آہنگی اور غور وفکر کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ''درِ ادراک'' ایک نہایت ہی اعلیٰ اور قابل عمل سعی ہے۔ مزید برآں، اسلام کو بہ تکلف ثابت کرنا اس کا تقاضا نہیں، بلکہ وہ اصل میں ہے کیا؟ یہ بتانا اس کا تقاضا ہے، اور یہی اس کتاب کی اہم خصوصیت ہے۔

صاحب ''درِ ادراک'' برادرم محمد تہامی بشر علوی صاحب نے بنیادی دینی و سماجی مسائل اور اپنے تجرباتی و مشاہداتی احساسات کو اپنے دردمندانہ، بے آمیز اور خالص علمی منہج اور عامی و نفسیاتی پہلو سے جس طرح مبرہن کر دیا ہے،وہ لائق تحسین ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صاحب تصنیف کو دنیا و آخرت میں اس کے اجر سے نوازے؛ ہمیں اس علمی کاوش سے استفادہ کی توفیق فرمائے اور ہم سب کی کوتاہیوں سے درگذر فرمائے۔آمین

____________