دعوت اور قرآن کا تعلق


جاوید احمد غامدی؍ منظوالحسن

[مدیر ''اشراق'' اپنے ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے جواب دیتے رہے

ہیں، یہاں ہم ان میں سے بعض سوال و جواب مرتب کرکے پیش کر رہے ہیں۔ نائب مدیر]

سوال: غامدی صاحب ہماری دعوت بالعموم ہمارے اس فہم پر مبنی ہوتی ہے جو ہم آپ کے افکار سے حاصل کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ کے افکار آپ کے اپنے فہم ہی پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ہماری دعوت قرآنِ مجید کی دعوت کس طرح بن سکتی ہے؟

جواب: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دعوت ہمیشہ قرآنِ مجید ہی کی طرف ہونی چاہیے، لیکن قرآنِ مجید کی دعوت کو پیش کرنے کا کام اصحابِ علم ہی انجام دے سکتے ہیں۔ قرآنِ مجید کے فہم کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنے کے لیے انسان کو ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ یہ صلاحیت پیدا کرنے کے بعد ہی کوئی شخص قرآن کے درس و تدریس اور ترجمہ و تفسیر کی خدمت انجام دے سکتا ہے۔ یہی طریقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں ودیعت کیا ہے ۔

جو اصحابِ علم دین کے بارے میں رہنمائی کرتے ہیں، وہ بہرحال اپنا ایک نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے دین کو اخذ کرنے کے لیے کچھ اصول بھی متعین کیے ہوتے ہیں۔ ان کے کام پر ایک عمومی اعتماد ہی آپ کو ان سے وابستہ کرتا ہے۔ ہر صاحبِ علم جب اپنا نقطۂ نظر پیش کرے گا تو اس کے دلائل دے گا۔ آپ اگر ان دلائل پر مطمئن ہیں تو اسے قبول کیجیے اور اگر آپ کو اطمینان نہیں ہے تو اسے قبول نہ کیجیے۔ لیکن جہاں تک دین کی دعوت کا تعلق ہے تو وہ قرآن اور سنت کو لوگوں تک پہنچانے کا نام ہے۔ دعوت کی بنیاد ہر حال میں انھی کو بننا چاہیے۔قرآن و سنت کے علاوہ آپ جس چیز کو بھی دعوت کا موضوع بنائیں گے، وہ محض فرقہ بندیوں کا باعث بنے گی۔ البتہ آپ جن اہلِ علم پر اعتماد کرتے ہیںیا جن سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، ان کی تحریروں یا تقریروں سے لوگوں کو متعارف کرانے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ اس سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے کہ کسی نقطۂ نظر کے بارے میں جو فہم آپ کو حاصل ہے، وہ دوسروں کو بھی حاصل ہو جائے۔

_______

دینی جماعتوں میں اتحاد

سوال : دینی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد کیسے ممکن ہے؟

جواب : یہ مسئلہ میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ مختلف نقطۂ نظر کے حامل لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟ دین کی دعوت کا کام بہرحال اہلِ علم کو کرنا ہے۔ اہلِ علم کے مابین دین کی تعبیر کے بارے میں کچھ اختلاف بھی ہو گا۔ اس اختلاف پر دین نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ یہ علمی اختلاف صحابۂ کرام کے درمیان بھی موجود رہا ہے۔ چنانچہ ہر صاحبِ فکر کو اپنی بات دلائل کے ساتھ پیش کرنی چاہیے اور عام آدمی کو دلائل ہی کی بنیاد پر اس کی بات کو رد یا قبول کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے میں نہیں سمجھتا کہ دین کی تفہیم کے کاموں میں کسی نوعیت کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ آپ جیسے ہی اس کے لیے کوشش کریں گے، حق کے بارے میں گریز اور منافقت کے رویے کا شکار ہو جائیں گے ۔ جبکہ دعوت کی ذمہ داری میں بنیادی چیز یہی ہے کہ آپ حق کی سچی شہادت دیں اور صاف صاف طریقے سے اس کو واضح کریں۔

اس وجہ سے میرے نزدیک اس معاملے میں ہمیں کسی اتحاد کی ضرورت نہیں ، بلکہ مختلف دینی آرا کے بارے میں رواداری کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اختلافِ رائے کو ذاتی عناد اور دشمنی کی بنیاد نہ بنائیں اور اس کی بنا پر فرقہ بندیوں کی دیواریں کھڑی نہ کریں۔ اتحاد قومی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے ہونا چاہیے۔ ان امور میں اگر مختلف گروہ یا جماعتیں چند نکات پر متفق ہو جاتی ہیں تو یہ خیر کی بات ہے۔

_______

اردو کی منتخب تفاسیر

سوال: دعوت کا کام کرتے ہوئے کیا ہم کسی شخص کو مولانا مودودی صاحب کی تفسیر '' تفہیم القرآن'' پڑھنے کا مشورہ دے سکتے ہیں؟

جواب: جو شخص قرآنِ مجید کی زبان سے واقف نہیں ہے وہ لازماً ترجمہ اور تفسیر ہی کے ذریعے سے قرآنِ مجید کو سمجھے گا۔ ایسے شخص کو یہی مشورہ دینا چاہیے کہ وہ ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ تفسیروں کا بغورمطالعہ کرے۔ اس کے بعد جن آرا پر اس کا اطمینان ہو جائے انھیں وہ اختیار کر لے۔ آپ اسے اردو زبان میں نمائندہ تفسیروں کا انتخاب کر کے دیں تو یہ اس کے لیے زیادہ مفید ہو گا۔ مثال کے طور پر آپ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی ''بیان القرآن''، مفتی محمد شفیع صاحب کی ''معارف القرآن''، مولانا ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کی ''تفہیم القرآن'' اور مولانا امین احسن صاحب اصلاحی کی ''تدبرِ قرآن'' مطالعے کے لیے تجویز کر سکتے ہیں۔

_______

حافظِ قرآن کے توسط سے جنت میں جانا

سوال : ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک باعمل حافظِ قرآن اپنے ساتھ دس افراد کو جنت میں لے جا سکتا ہے۔ اس روایت کی کیا حقیقت ہے؟

جواب : یہ کوئی ثابت شدہ روایت نہیں ہے ۔ ایسی بہت سی روایات فضائل کے باب میں بیان کی جاتی ہیں۔ اور بسااوقات اس طرح بیان ہوتی ہیں کہ دین کی اساسات کو متاثر کر دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قیامت میں فیصلہ اصلاً عمل کی بنیاد پر ہو گا ۔ یہ دیکھا جائے گا کہ ایمان انسان کے اندر کتنا جاگزیں ہے اور اس نے اس کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کیا ہے۔ فیصلے کی اصل بنیاد یہی ہے۔ باقی سب چیزیں اس کے بعد مؤثر ہوتی ہیں۔

_______

اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ

سوال :تزکیۂ نفس کسے کہتے ہیں؟ تزکیہ کون کرتا ہے ؟اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ کیسے کرنا چاہیے؟

جواب :دین کا مقصود تزکیۂ نفس ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے ان کے فکر و عمل کو صحیح سمت میں نشو و نما دی جائے۔ اللہ نے اپنے پیغمبر اسی مقصد کے لیے بھیجے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا اس اصول پر بنائی ہے کہ یہاں پر انسان اپنے نفس کی آلایشوں کو دور کرنے کی سعی کرے اور پیغمبروں کی تعلیمات کی رہنمائی میں اپنی ایسی تربیت کرے کہ جنت میں آباد ہونے کے قابل ہو جائے۔ جنت میں آباد ہونے کے لیے بنیادی شرط ہی تزکیہ نفس ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

''(اس وقت)، البتہ کامیاب ہوا وہ جس نے اپنا تزکیہ کیا اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ (نہیں) ، بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، دراں حالیکہ آخرت ( اس کے مقابلے میں) بہتر بھی ہے اور پائدار بھی۔''

قرآنِ مجید انسان کے علم اور عمل دونوں کا تزکیہ کرتا ہے۔قرآن علم کے تزکیے کے لیے جو تعلیم دیتا ہے اسے اپنی اصطلاح میں ''حکمت '' سے تعبیر کرتا ہے اور جو تعلیم عمل کے تزکیے لیے دیتا ہے اسے''شریعت'' سے تعبیر کرتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ جو ہدایات ایمانیات کے بارے میں ہیں، وہ علم کا تزکیہ کرتی ہیں اور جو ہدایات قانون اور ضابطوں سے متعلق ہیں، وہ عمل کا تزکیہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب قرآنِ مجیدشرک کی تردید کرتا ہے تو وہ ذاتِ خداوندی کے بارے میں ہمارے علم کا تزکیہ کرتا ہے اور جب خالص اسی کی عبادت میں سرگرمی کی ترغیب دیتا ہے تو عمل کاتزکیہ کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ تزکیہ دین کرتا ہے، کوئی انسان نہیں کرتا۔ ہر زمانے میں بہت سے اہلِ علم پیدا ہوتے ہیں۔ ان سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اللہ کی کتاب بالکل محفوظ شکل میں ہمارے پاس موجود ہے ، اس کا مطالعہ کر کے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کون سی بات صحیح اور کون سی بات غلط ہے۔کوئی عالم یا دینی تربیت کرنے والا صرف یہ کام کرتا ہے کہ وہ آپ کو دین کی تعلیمات سے آگاہ کرتا ہے اور دینی ماحول اور اچھی صحبت فراہم کرتا ہے۔گویا وہ بذاتِ خود ہمارا تزکیہ نہیں کرتا ، بلکہ تزکیہ کرنے والے دین سے ہمیں وابستہ کر دیتا ہے۔یعنی وہ مزکی (تزکیہ کرنے والا) نہیں ہوتا، بلکہ معلم (تعلیم دینے والا) ہوتا ہے۔

جن اصحابِ علم پر آپ کو اعتماد ہے ، ان سے دین سیکھیے۔جب آپ دین کو سمجھ لیں گے تو پھر آپ کی فطرت بیدار ہو گی اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اپنے علم اور عمل کو کن کن چیزوں سے پاک کرنا ہے۔ جہاں تک اپنے اہل و عیال کا تعلق ہے تو ان کی آخرت کے بارے میں آپ کو لازماً فکر مند ہونا چاہیے۔ ان کو تزکیۂ نفس کی منزل تک پہنچانے کے لیے آپ کو جدوجہد کرنی چاہیے،لیکن اس جدوجہد کا واحد راستہ دینی تعلیم وتربیت اور صالحین کی صحبت ہے۔دینی تعلیم خود بھی حاصل کیجیے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھی اس کا بندوبست کیجیے۔دین کے معلمین کی مجالس میں بیٹھیے اور ان لوگوں کی صحبت اختیار کیجیے جنھوں نے اپنی زند گی کو دین کے سانچے میں ڈھالا ہوا ہے۔ اپنے اہل و عیال اور احباب کو بھی صاحبِ کردار علماکی صحبت میں بیٹھنے کی ترغیب دیجیے۔ گھر والوں کو نماز کا پابند بنائیے اور ان کے دل و دماغ میں یہ شعور پیدا کیجیے کہ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ اس دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے اور یہ محض ایک آزمایش ہے۔ان کے ذہنوں میں، ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دیجیے کہ آخرت کی کامیابی صرف اور صرف انھی لوگوں کو نصیب ہو گی جو اس دنیا میں خدا کے دین کی طرف متوجہ ہوں گے اور اپنے علم و عمل کو آلایشوں سے پاک کر لیں گے۔

_______

انسانی اعضا کا عطیہ

سوال : مرنے سے پہلے انسان اپنے جسمانی اعضا کے عطیے کی وصیت کر سکتا ہے؟

جواب: دین میں اس کے متعلق کوئی منفی یا مثبت بات بیان نہیں ہوئی۔ اس کے نا جائز ہونے کے بارے میں بعض علما نے جو دلائل دیے ہیں، ان میں ، میرے نزدیک کوئی دلیل بھی ایسی نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے ممنوع قرار دیا جائے۔ اس لیے اس معاملے میں خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ جو شخص اس کو جائز سمجھتا ہے وہ اپنے اعضا کے عطیے کی وصیت کر سکتا ہے۔

_______

رفع یدین

سوال: نماز میں رفع یدین کے بارے میں آپ کا کیا نقطۂ نظر ہے؟ بعض لوگوں کے نزدیک یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اورقرآنِ مجید میں بھی اس کے خلاف کوئی بات نہیں ہے، وضاحت فرما دیجیے؟

جواب:میرے نزدیک صرف وہی چیزیں سنت کی حیثیت رکھتی ہیں جو صحابۂ کرام کے اجماع سے ہم تک منتقل ہوئی ہیں۔ ہم انھی چیزوں پر اصرار کر سکتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر لوگوں کو توجہ بھی دلا سکتے ہیں۔ جن امور میں صحابۂ کرام کا اجماع نہیں ہے ،انھیں نہ سنت کی حیثیت سے پیش کیا جاسکتا ہے اور نہ ان پر عمل کے لیے اصرار کیا جا سکتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق رفع یدین بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن پر صحابہ کا اجماع نہیں ہو سکا، اس وجہ سے میں اسے سنت نہیں سمجھتا۔ اس کے بعد چاہے ساری دنیا متفق ہو کر اسے سنت قرار دینے لگے تو میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

_______

یتیم پوتے کی وراثت

سوال: یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس بارے میں قرآن و سنت کے کیا دلائل ہیں؟

جواب:یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں قرآن و سنت بالکل خاموش ہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی اس کے متعلق کوئی بات وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں ہمارے علما نے قرآنِ مجید کے اصولوں کو سامنے رکھ کر اجتہاد کیا ہے۔ اس لیے یہ بالکل ایک اجتہادی نوعیت کا معاملہ ہے۔ اس وجہ سے اس میں اگر کوئی اختلافِ رائے ہو تو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے اور اسے قرآن و سنت کی تردید یا تقلید کا مسئلہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ جس رائے پر اطمینان ہو، اس کو اختیار کر لینا چاہیے۔جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے تو میں میراث میں یتیم پوتے کا حق مانتاہوں۔

_______

نماز کے بارے میں اختلافات

سوال:کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مختلف طریقوں سے نماز ادا کی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو مسلمانوں میں نماز کے بارے میں عملی اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں؟

جواب:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز مسلمانوں کو سکھائی ،اس میں دو طرح کے امور ہیں۔ ایک وہ امور ہیں جنھیں آپ نے سنت کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ یہ نماز کے لازمی اجزا ہیں اور ان میں کسی تبدیلی کی گنجایش نہیں ہے۔مثال کے طور پر نمازوں کی تعداد، ان کے اوقات، اذان کے الفاظ، نمازوں کی رکعتیں، قیام میں سورۂ فاتحہ اور قرآن کے کچھ حصے کی تلاوت، رکوع کا طریقہ ، سجدے کا طریقہ اور تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا وغیرہ۔

دوسرے امور وہ ہیں جنھیں آپ نے سنت کی حیثیت سے جاری نہیں فرمایا، بلکہ کچھ اصولی ہدایات دے کر انھیں لوگوں کے اختیار پر چھوڑ دیا ہے ۔ مثال کے طور پر ثنا،قعدے میں پڑھی جانے والی دعائیں،حضور کے لیے دعا (درود)، قیام کی صورت میں ہاتھ باندھنا ، سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو بلند یا پست رکھنااور تکبیریں کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانا وغیرہ۔

پہلی نوعیت کے امور میں امت میں ہمیشہ اتفاق رہا ہے اور یہی وہ معاملات ہیں جن پر ہمیں اصرار کرنا چاہیے۔ جہاں تک دوسری نوعیت کے امور کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں ہم اپنے ذوق کے مطابق کوئی چیز اختیار کر سکتے ہیں۔یہی وہ امور ہیں جن میں علما کی آرا مختلف رہی ہیں۔ ان اختلافات سے نماز کی اصل ہیئت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ان معاملات کو چونکہ خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے اختیار پر چھوڑ دیا ہے، اس لیے ہمیں بھی ان میں سے کسی چیز پر اصرارنہیں کرنا چاہیے ۔

ان معاملات کو جنھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کے طور پر جاری نہیں فرمایا یا جن کے بارے میں لوگوں کو اختیار دیا، انھیں چند مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک مرتبہ حضور نے دیکھا کہ ایک صحابی قعدے میں دعا کے موقع پر اس طرح کے کلمات ادا کر رہے ہیں: 'السلام علی اللّٰہ 'یعنی اللہ پر سلامتی ہو۔ حضور نے انھیں سمجھایاکہ اللہ تعالیٰ تو سراسر سلامتی ہیں۔ انسانوں کا ان کے لیے سلامتی کی دعا کرنابے ادبی کے مترادف ہے۔پھر آپ نے ''التحیات'' کے کلمات سکھائے۔ گویا ایسا نہیں ہوا کہ حضور نے ابتدائی طور پر نماز سکھاتے ہوئے ''التحیات '' سکھائی ہو، بلکہ ایک غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور سلام پیش کرنے کا صحیح اسلوب بتایا۔

سورۂ فاتحہ سے پہلے ثنا پڑھنے کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے۔لوگوں نے محسوس کیا کہ حضور امامت کرتے وقت سورۂ فاتحہ کی تلاوت سے پہلے کچھ دیر خاموش کھڑے رہتے ہیں۔ انھوں نے آپ سے اس کی وجہ دریافت کی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز شروع کرتے وقت پروردگار کے حضور میں اپنی طرف سے کچھ حمد و ثنا کے کلمات پیش کرتا ہوں۔ لوگوں نے سیکھنے کی خواہش ظاہرکی تو آپ نے انھیں 'سبحانک الھم وبحمدک۔۔۔'اور اس طرح کے بعض دوسرے کلمات سکھائے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا یعنی درود بھی لوگوں نے اسی طرح سیکھا۔

ا ن مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز کے بعض حصوں کو حضور نے سنت کے طور پر جاری نہیں فرمایا۔ ان کی حیثیت اختیاری ہے۔ ان اختیاری امور میں ہر مسلمان فطری طور پرچاہے گا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مختارات جاننے کی کوشش کرے ۔ نہیں جان سکے گا تو لازماً اجتہاد کرے گا ۔ اس میں ظاہر ہے کہ اختلاف ایک فطری بات ہے ۔

_______

بیرونِ ملک بذریعہ ہنڈی رقم بھجوانا

سوال: کیا بیرونِ ملک اپنی رقم بذریعہ ہنڈی بھجوائی جا سکتی ہے؟ اس کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کہ بینک بالعموم ڈالر یا درہم کا ریٹ کم کر کے اور تاخیر سے ادائیگی کرتے ہیں۔

جواب: اس معاملے کا تعلق دین یا شریعت سے نہیں ، بلکہ ملکی قانون سے ہے۔ اگر ملکی قانون میں اس کی گنجایش ہے تو آپ یہ طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر ملکی قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے تو پھر ہر گز یہ طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ملکی قانون کی خلاف ورزی جس طرح نظمِ ریاست میں جرم ہے ، اسی طرح شریعت میں بھی جرم ہے۔

_______

ملکۂ سبا کا تخت

سوال:قرآنِ مجید کے مطابق ایک شخصیت نے ملکۂ سبا کا تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پلک جھپکتے میں حاضر کر دیا تھا۔ یہ کام کس علم کے تحت انجام دیا گیا؟

جواب : موجودہ زمانے میں لوگوں کو اس پر تعجب کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ مادی علوم پر کچھ دسترس حاصل کرنے کے بعدہم ہزاروں میل دور ہونے والے عمل کو اسی وقت اپنے سامنے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کسی شخص کی تصویر، گفتگو اور حرکات وسکنات براہِ راست ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر کی ایجاد جو معجزے دکھا رہی ہے ، چند سال پہلے ان کا تصور ہی کیا جا سکتا تھا۔ موجودہ زمانے میں جس طرح مادی علوم حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہے ہیں ، قدیم زمانے میں اسی طرح کے کارنامے نفسی علوم کے ذریعے سے انجام دیے جاتے تھے ۔ چنانچہ جس طرح مادی علوم کا دین سے کوئی تعلق نہیں ، اسی طرح نفسی علوم کا بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جو صاحب ملکۂ سبا کا تخت لے کر آئے ، ان کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے کہ: ''ان کے پاس قانونِ خداوندی کا ایک علم تھا۔'' ہو سکتا ہے کہ دورِ جدید کے مادی علوم بھی کبھی اس مقام پر پہنچ جائیں کہ ہمارے سامنے پڑی ہوئی چیز چشم زدن میں امریکہ اور آسٹریلیا پہنچ جائے۔ ان صاحب کے کارنامے کی نوعیت ایسی ہی ہے جیسی ہمارے زمانے میں کسی موجد یا سائنس دان کے کسی کارنامے کی ہے۔

_______

''اقامتِ دین'' کا مفہوم

سوال: قرآنِ مجید کی اصطلاح ''اقامتِ دین '' کا کیا مفہوم ہے؟

جواب: ''اقامتِ دین '' کا مفہوم ہے دین کو پوری طرح اختیار کرنا ۔ یعنی دین کو اس کی روح اور اس کے قالب کے لحاظ سے اپنا لینا۔ ''اقامتِ دین'' کے الفاظ میں لفظِ اقامت کے وہی معنی ہیں جو ''اقامتِ صلوٰۃ '' میں اس لفظ کے ہیں۔ تاریخِ اسلام کے جید علما نے ہر زمانے میں ان الفاظ کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بعض اہلِ علم نے ان الفاظ سے مختلف معنی اخذ کرنے کی جو کوشش کی ہے ، وہ محض غلط فہمی پرمبنی ہے۔

_______

نظمِ قرآن

سوال: نظمِ قرآن سے کیا مراد ہے؟

جواب: نظمِ قرآن کا مطلب یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں تمام سورتیں موضوعات کی ایک خاص ترتیب کے ساتھ رکھی گئی ہیں۔ ہر سورہ اپنا ایک خاص موضوع رکھتی ہے۔ اس موضوع کے مطالب ایک خاص ترتیب کے ساتھ بیان ہوتے ہیں۔ ہرسورہ کی ایک تمہید ہوتی ہے اور ایک خاتمہ ہوتا ہے۔ ہر آیت اپنا ایک سیاق و سباق رکھتی ہے۔ اس طرح قرآنِ مجید ایک منظم، مرتب اور مربوط کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی نوعیت اقوال کے کسی ایسے مجموعے کی نہیں ہے جس کے ہر قول کے مختلف مطالب اخذ کیے جا سکتے ہوں، بلکہ اس کی نوعیت ایک ایسی منظم کتاب کی ہے جس کا ہر جملہ اپنا ایک متعین مفہوم اور طے شدہ پیغام رکھتا ہے۔

_______

احادیث کی تدوین

سوال : احادیث کی تدوین کب شروع ہوئی اور اس کا محرک کیا تھا، بعض جلیل القدر صحابہ سے کم روایات کیوں منقول ہیں؟

جواب: احادیث کی تدوین صحابۂ کرام کے زمانے ہی میں شروع ہوگئی تھی۔ بعض اصحاب نے اپنے چھوٹے چھوٹے مجموعے بھی مرتب کر لیے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ کام ایک باقاعدہ فن کی صورت اختیار کر گیا اور تقریباً ڈھائی تین سو سال میں یہ کام منظم مجموعوں کی شکل میں مرتب ہو گیا۔ جہاں تک اس کام کے محرکات کا تعلق ہے تو یہ بات ہم سب پر واضح ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معمولی ہستی نہیں تھے۔جس ہستی کے جسمِ اطہر سے چھو کر ٹپکنے والے پانی کے قطروں کو لوگ زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے ، اس کی زبان سے نکلنے والے لافانی الفاظ سے وہ کیونکر صرفِ نظر کر سکتے تھے۔لوگ تو ہم آپ جیسوں کی باتوں کومحفوظ کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ وہ ہستی تو پیغمبر کی ہستی تھی۔ہم جیسے تو ان کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں ہیں۔ جو لوگ ان کے زمانے میں موجود تھے ، انھوں نے بالکل فطری طور پر آپ کے علم و عمل کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ بلا شبہ انسانیت پر یہ ان کا عظیم احسان ہے۔ آپ کے علم و عمل کی روایات کو آگے بیان کرنے میں بعض لوگ البتہ ، بے حد احتیاط کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔ مثال کے طور پر سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمرِ فاروق اس معاملے میں حددرجہ محتاط تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے بہت کم روایات بیان ہوئی ہیں۔

_______

عورتوں کا بال ترشوانا

سوال:کیاعورتوں کا بال ترشوانا جائز ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں مردوں سے مشابہت ہو جاتی ہے، لیکن یہ بات دل کو نہیں لگتی۔

جواب:عورتوں کے بال ترشوانے میں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ بال تراش کر ایسی ہیئت نہیں بنانی چاہیے کہ عورت مرد کے مشابہ محسوس ہو۔اسی طرح مردوں کو بھی ایسے بال نہیں رکھنے چاہییں کہ وہ عورتوں جیسے لگیں۔ یہ طرزِ عمل فطرت کے خلاف ہے۔ اور ہر خلافِ فطرت چیز اللہ کو ناپسند ہے۔

_______

قرآن کا مردوں کو زیادہ اہمیت دینا

سوال : میری بہن کو اس بات کا بہت گلہ ہے کہ قرآن نے مردوں ہی کو کیوں زیادہ مخاطب کیا ہے، جبکہ خواتین زیادہ نازک اور حساس طبیعت کی مالک ہوتی ہیں۔ انھیں اسلام میں دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے وہ مردوں کے برابر ہیں۔کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ جنت میں عورتوں کو ملنے والی نعمتوں کو عورتوں ہی کے حوالے سے بیان کیا جاتا، جیسا کہ مردوں کے لیے حوروں کا ذکر کیا گیا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ اپنا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے کوئی نئی زبان ایجاد نہیں کرتے، بلکہ جس قوم میں وہ اپنا پیغام نازل کرتے ہیں، اسی کی زبان کو اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں۔ دنیا کی زبانوں میں مرد و عورت کو مشترک طور پر مخاطب کرنے کے لیے مذکر ہی کا صیغہ استعمال کیا جاتاہے۔ چنانچہ جب قرآنِ مجید یہ صیغہ استعمال کرتا ہے تو عورتیں مردوں کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔

یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ مردوں کے لیے جنت کی کچھ خاص نعمتیں ہیں۔ عورتوں کے لیے بھی اسی طرح جنت کی نعمتیں ہیں جس طرح مردوں کے لیے ہیں۔ جہاں تک ازواج کا تعلق ہے تو اس کے لیے قرآن نے ازواجِ مطہرہ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ طرفین کے لیے پاکیزہ جوڑے ہوں گے۔ اس کے بجائے اگر یہ بات کہی جاتی کہ وہاں عورتوں کو دس دس مرد ملیں گے تو آپ خود سوچیے کہ کیا یہ کوئی شایستہ اسلوب ہوتا ؟میرا خیال ہے کہ ہماری بہنوں کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عفت کا لحاظ کرتے ہوئے ساری بات ایک جملے میں بیان کر دی ہے ۔

_______

قضا نمازوں کی تسبیحات سے تلافی

سوال: کئی کتابوں میں پڑھا ہے کہ قضا نمازوں کے لیے اگر چند خاص نمازوں میں بعض تسبیحات پڑھ لی جائیں تو ان سے قضا نمازوں کی تلافی ہو سکتی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟

جواب: قضا نمازوں کے حوالے سے علماے امت میں، بالعموم دو ہی مسلک پائے جاتے ہیں: ایک یہ کہ آپ ہر فرض نماز کو ادا کرتے ہوئے، نوافل کی جگہ پر یا ان کے علاوہ قضانمازبھی پڑھ لیں ۔ دوسرے یہ کہ آپ اپنی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر معافی مانگیں اور آیندہ کوتاہی نہ کرنے کا عہد کریں اوراس کے بعدامید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی توبہ قبول فرمائیں گے ۔ ان دونوں طریقوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں ۔ آپ ان میں سے کسی پر بھی عمل کر سکتے ہیں۔ یہ بات، البتہ درست نہیں ہے کہ بعض تسبیحات قضا نمازوں کی تلافی کر سکتی ہیں۔

_______

لڑکے اور لڑکی کی محبت کا جواز

سوال: کیا اسلام کے مطابق لڑکے اور لڑکی کی محبت جائز ہے؟

جواب: جہاں تک کسی سے محبت ہو جانے کا تعلق ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر اس کا تعلق انسان کے شعوری فیصلے سے نہیں ہوتا۔ البتہ،اگر محبت ہو گئی ہے تو اس کے اظہار کے لیے جو آداب ملحوظ رہنے چاہییں، اسلام ان کی طرف متوجہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کن حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے ۔ اس ضمن میں بنیادی باتیں بس یہی ہیں کہ:

۱۔حیا کا دامن کسی حال میں بھی نہیں چھوٹنا چاہیے۔

۲۔نکاح سے قبل ہر طرح کا جسمانی تعلق ممنوع ہے۔

_______

حضور سے زیادہ نمازیں پڑھنا

سوال : آپ نے اپنے ایک درس میں فرمایا تھا کہ آدمی کو اتنی ہی نمازیں پڑھنی چاہییں جتنی حضور نے پڑھی ہیں ۔ لیکن حضور کی زندگی میں تو گناہ بہت کم تھے ، جبکہ ہماری زندگیاں گناہوں سے بھری پڑی ہیں۔ اس وجہ سے کیا ہمیں زیادہ نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے؟

جواب:اسی طرح کا سوال جب بعض لوگوں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس طرح تم لوگ بدعتیں پیدا کر لو گے ۔ میں خدا سے، تمھارے مقابلے میں زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ تم کو جو نیکی بھی کرنی ہے ، وہ میری سنت اور میرے اسوہ کے مطابق کرو۔ چنانچہ ہمیں پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

_______

حکمرانوں کی اصلاح

سوال: حکمرانوں کی اصلاح کا کام انفرادی سطح پرہوناچاہیے یا اس کے لیے اجتماعی سطح پر تنظیم سازی ہونی چاہیے؟

جواب :اس کا انحصار آپ کی اپنی صلاحیت اور آپ کے حالات پر ہے۔ اگر آپ یہ کام انفرادی طور پر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ ہماری تاریخ میں امت کے اکابرین نے زیادہ تر انفرادی سطح ہی پر کام کیا ہے۔ اگر آپ موجودہ جمہوری نظام میں کوئی تنظیم قائم کرکے یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو یہ بھی بالکل جائز ہے۔ ان میں سے کوئی طریقہ نہ واجب ہے نہ فرض ہے ۔ آپ کا فیصلہ اپنی صلاحیت ، اپنے حالات اوراپنے تمدن کے تقاضوں کے لحاظ سے ہونا چاہیے۔

_______

دین کے بنیادی نظریات کا اثبات

سوال: دین کے بنیادی نظریات نظری طور پر ہی ثابت ہو سکتے ہیں، کیا جزا و سزا کے لیے یہ بنیاد کافی ہے؟

جواب: دین کے بنیادی عقائد یعنی وجودِ باری اور آخرت کے اثبات کے بارے میں انسان کی فطرت کی شہادت ہے، کائنات کے مجموعی نظام کی گواہی ہے، انبیا علیھم السلام نے نہایت وضاحت کے ساتھ انسانوں کو ان سے آگاہ کیا ہے، تاریخِ انسانی نے قطعی حسی دلائل اس ضمن میں پیش کیے ہیں۔ کیا اس کے بعد انسان کے پاس کوئی عذر باقی رہ جاتا ہے؟

_______

وضو کے دوران میں ریح کا اخراج

سوال : وضو کے دوران میں ریح خارج ہو جائے تو لوگ آلودہ مقام کے بجائے ، پھر سے ہاتھوں اور دوسرے اعضا کو دھونا شروع کر دیتے ہیں، یعنی وضو کرنے لگتے ہیں۔اس کی کیا حکمت ہے؟

جواب:جب ریح خارج ہو تو آپ کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور جب وضو ٹوٹ جائے گا تو پھر لازماً دوبارہ وضو کرنا ہو گا۔ریح خارج ہونے سے آلودگی کی نوعیت ایسی نہیں ہوتی کہ اسے دھونے کو ضروری قرار دیا جائے۔

_______

درود شریف پڑھنے کی دینی حیثیت

سوال : کثرت سے درود شریف پڑھنے کی دینی حیثیت کیا ہے؟ نیز جو فضائل و برکات اور کمالات درود شریف سے منسوب کیے جاتے ہیں، وہ کس حد تک درست ہیں؟

جواب: درود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور میں رحمت و برکت اور بلندیِ درجات کی دعا ہے۔ یہ دعا آپ جتنی زیادہ کریں گے، وہ آپ لیے باعثِ اجر ہو گی۔ درود فارسی زبان کا لفظ ہے اور دعا ہی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ہم اپنے لیے دعا کرتے ہیں ، اپنے اہل وعیال کے لیے دعا کرتے ہیں ،اپنے والدین کے لیے دعا کرتے ہیں، اسی طرح ہم اپنے عظیم محسن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی دعا کرتے ہیں۔ یہ دعا آپ کے ایمان کی علامت ہے، حضور کے ساتھ آپ کے تعلق کی علامت ہے۔ حضور کے ساتھ تعلق دین ہے۔ حضور کے ساتھ تعلق کا اظہار دین ہے۔ حضور سے محبت دین ہے ۔باقی جہاں تک ان فضائل ،برکات اور کمالات کا تعلق ہے جو اس ضمن میں بیان کیے جاتے ہیں تو ان میں سے کچھ چیزیں تو بے شک درست ہیں ،لیکن زیادہ تر چیزیں محض افسانہ ہیں۔

_______

قرآن کا صرف اردو ترجمہ پڑھنے کا اجر

سوال: اگر کوئی شخص عربی پڑھنا نہیں جانتا اور قرآنِ مجید کا صرف اردو ترجمہ پڑھ سکتا ہے تو کیااسے اتنا ہی ثواب ملے گاجتنا عربی میں قرآن کی تلاوت کرنے والے کو ملتا ہے؟

جواب :جی ہاں، اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا ،کیونکہ وہ قرآنِ مجید کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی ہدایت کو پانے کی سعی کر رہا ہے۔ لیکن قرآن کی عربی کے اندر جو نور ہے اور اس کے ذریعے سے خدا کے ساتھ جوتعلق پیدا ہوتا ہے، اس کے حصول کے لیے اسے ہر ممکن کوشش کرنے چاہیے کہ قرآن کے الفاظ اس کی زبان پر جاری ہوں۔ جو شخص اردو پڑھ سکتا ہے، اس کے لیے تو قرآن کی عربی عبارت پڑھنے میں زیادہ مشکل نہیں ہونی چاہیے۔ تھوڑی سی رہنمائی کے بعد وہ بآسانی قرآن پڑھ سکے گا۔

_______

گالی دینے سے وضو ٹوٹنا

سوال: کیا گالی دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب : گالی دینا بجائے خود اچھی بات نہیں ہے ۔ گالی دینے سے اگرچہ وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر کوئی شخص گالیاں دے کر نماز کے لیے کھڑا ہو گیا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جتنا زیادہ پاکیزہ ہو کر خدا کے حضور میں کھڑا ہو گا، اس کی نماز اتنی ہی مقبول ہو گی۔ اس وجہ سے بہتر یہی ہے کہ وہ دوبارہ وضو کر لے۔

_______

ٹیلی وژن کے مضر اثرات

سوال:اب جبکہ ٹیلی وژن ہر گھر کا لازمی حصہ بن گیا ہے تو گھریلو خواتین کو اس کے مضر اثرات سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

جواب: تمدن کے ارتقا کے نتیجے میں ٹیلی وژن نے جو سماجی اور معاشرتی حیثیت حاصل کر لی ہے، اس کے بعد اسے گھر سے نکالنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اس طرح کی کوشش خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ہر شخص کو دو کام کرنے چاہییں: ایک یہ کہ وہ جب بھی موقع پائے کار پرداز لوگوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے اندر خیر و شر کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ وہ ان کے دلوں میں جنت کی طلب پیدا کرے۔ انھیں سمجھائے کہ نفس کی یہ معمولی سی آلایش وہاں کتنے بڑے خسارے کا باعث بن جائے گی۔ آخرت کے صحیح شعور کو جب آپ اپنے اہلِ خانہ کے اندر اجاگر کر دیں گے تو یہ چیزیں آپ سے آپ بے معنی ہوتی چلی جائیں گی۔

_______

صحیح مسالک

سوال:دین کے اعتبار سے کون کون سے مسالک صحیح ہیں؟

جواب: دین کے بارے میں جو مسالک ، مکاتبِ فکر یا نقطہ ہاے نظر اس وقت موجود ہیں انھیں انسانوں ہی نے اپنے فہم کی روشنی میں قائم کیا ہے۔ ان میں سے کسی مکتبِ فکر کی ضروری نہیں کہ ہر بات صحیح ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر بات غلط ہو۔ علم و فکر کے اعتبار سے کسی بھی انسانی کاوش کو بالکلیہ صحیح نہیں کہا جا سکتا۔ میں جو دین آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کے بارے میں یہ دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا کہ یہ سارے کا سارا لازماً صحیح ہو گا۔میری اپنی تاریخ مجھے بتاتی ہے کہ میں نے اپنی قائم کی ہوئی بہت سی آرا سے رجوع کیا ہے۔ اب سے پہلے کسی رائے کو میں اپنے علم و عقل کے مطابق صحیح سمجھتا تھا اور پورے یقین کے ساتھ اس کو بیان کرتا تھا ، آج میں اپنے علم وعقل کی روشنی میں اس رائے کو غلط سمجھتا ہوں۔میرے ایمان و یقین کا معاملہ اصل میں میرے فہم کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس معاملے میں صحیح رویہ یہی ہے کہ ہمیں ہر وقت اپنے دل و دماغ کو کھلا رکھنا چاہیے اور اپنی رائے کے تعصب میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ مکاتبِ فکر کے بارے یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ فلاں مکتبِ فکر حقیقت کے زیادہ قریب ہے ،لیکن یہ نہیں کہا جا سکتاکہ فلاں مکتبِ فکر سر تا سر حق ہے۔ حق کی حتمی حجت کی حیثیت صرف اورصرف اللہ کے پیغمبر کی بات کو حاصل ہے۔ اس کو معیار بنا کر آپ کسی بات کے رد یا قبول کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

_______

ڈش انٹینا پر پابندی

سوال: ڈش انٹینا کے ذریعے سے عریانی اور فحاشی کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں کیا اس پر پابندی نہیں لگنی چاہیے؟

جواب: موجودہ زمانے میں سائنس نے جوغیر معمولی ترقی کر لی ہے، اس کے بعد اب اس طرح کی چیزوں پر پابندی لگانا عملی طور پر ممکن نہیں رہا۔ آپ ایک دروازہ بند کریں گے تو کئی چور دروازے کھل جائیں گے۔اس لیے ہمیں اس طرح کی ایجادات سے گریز کے راستے تلاش کرنے کے بجائے اس بات کو ہدف بنا لینا چاہیے کہ ہم انھیں زیادہ سے زیادہ دینی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ میڈیا کی قوت کے ذریعے سے ہمیں دین کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی جدو جہد کرنی چاہیے۔

_______

ڈش انٹینا کا تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال

سوال : کیا ڈش انٹینا کو تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے لگایا جا سکتا ہے؟

جواب:اگر آپ اس پر کنٹرول کر سکیں اور گھریلو ماحول کو اس کے مفاسد سے محفوظ رکھ سکیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔بلا شبہ اس پر ایسے چینل موجود ہیں کہ اگر لوگ ان کا اچھا ذوق پیدا کر لیں تو وہ اس میڈیا کی دوسری غلاظتوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ جیسے ڈسکوری اور نیشنل جغرافیہ کے چینل ہیں ، جنھیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیا کیا قدرتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کارفرما کر رکھی ہیں، کیسی کیسی مخلوقات ہیں جو اس نے تخلیق کر رکھی ہیں، کیا کیا رعنائیاں ہیں جو اس اس نے کائنات میں بکھیر رکھی ہیں۔

_______

کسی کو کافر قرار دینا

سوال : کیا اسلامی شریعت کے مطابق ہم کسی کو کافر قرار دے سکتے ہیں؟

جواب:اسلامی شریعت کے مطابق کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا، حتیٰ کہ کوئی اسلامی ریاست بھی کسی کی تکفیر کا حق نہیں رکھتی۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی ہے کہ اسلام سے واضح انحراف کی صورت میں کسی شخص یا گروہ کو غیر مسلم قرار دے دے ، کافر قرار دینے کا حق اس کو بھی نہیں ہے ۔ دین کی اصطلاح میں کافر قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس نے ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر دین کا انکار کیا ہے۔ دین کی کامل وضاحت جس میں غلطی کا کوئی شائبہ نہ ہو ، صرف اللہ کا پیغمبر اور ان کے تربیت یافتہ صحابہ ہی کر سکتے تھے ۔ اس وجہ سے اتمامِ حجت کے بعد تکفیر کا حق دین نے انھی کو دیا ہے ۔ ان کے بعددین کی کامل وضاحت چونکہ کسی فرد یا اجتماع کے بس کی بات نہیں ہے ، اس لیے اب تکفیر کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ ہم لوگوں کو اب اس کی جسارت بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ہم کسی کے عقیدے کو باطل یا کفر سمجھتے ہیں تو ہمیں پوری درد مندی کے ساتھ اسے نصیحت کرنی چاہیے اوردلائل اور حکمت کے ساتھ اس کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے زیادہ ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

_______

تزکیۂ نفس کا طریقہ

سوال : کیا کوئی ایسی ترکیب ہے جسے استعمال کر کے تزکیۂ نفس کی منزل کو حاصل کیا جا سکتا اور آفات اور شیطانی وسوسوں سے بچا جا سکتا ہے؟

جواب: میں نے ہمیشہ یہ عرض کیا ہے کہ اس معاملے میں ادھر اُدھر سے ترکیبیں پوچھنے کے بجائے اس راستے پر گامزن رہنا چاہیے جو اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے اور جس پر صحابۂ کرام چلے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے نتائج ، بے شک جلدنہیں نکلتے، مگر جب نکلتے ہیں تو بڑے محکم اور پائدار ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ان تین باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیجیے:

۱۔ قرآنِ مجید کی تلاوت کو روز مرہ کا معمول بنائیے۔

تلاوت سے مراد بے سوچے سمجھے الفاظ کی تکرار کرنا نہیں ہے ،بلکہ ہدایت طلبی کے پورے شعور کے ساتھ مطالعہ کرنا ہے۔

۲۔مسجد کے ساتھ اپنے تعلق کو پوری طرح قائم رکھیے۔

۳۔ہفتے میں کچھ نہ کچھ وقت نیک لوگوں کی صحبت میں گزاریے۔

یہ تین نکات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ماخوذ ہیں۔ یہی سلوکِ محمدی ہے۔ آپ اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا سلوک یا طریقہ اختیار کریں گے تو اس کا شدید اندیشہ ہے کہ آپ آفات سے بچنے کے بجائے آفات کا شکار ہو جائیں۔اپنے نفس کو آلایشوں سے پا ک کرنے کے بجائے اسے آلودہ کر لیں ۔ اللہ کے قرب اور اس کی فرماں برداری کی منزل کو پانے کے بجائے مشرکانہ مشاغل اختیار کر کے اس منزل سے دور ہوتے چلے جائیں اوراپنی دانست میں تزکیۂ نفس کو حاصل کرنے کے باوجود ،حقیقت میں اس سے محروم رہیں۔

_______

شادی میں والدین کی رضا مندی

سوال: کیا شادی میں والدین کی رضا مندی ضروری ہے؟

جواب:قرآنِ مجید نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے کہ نکاح معاشرے کے معروف کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی صالح معاشرے کے اندر اس معاملے میں جو ضوابط ہیں، جو روایات ہیں،جو رسوم و رواج ہیں، انھی کے مطابق اس ذمہ داری کو انجام پانا چاہیے۔ہمارے معاشرے میں اس ذمہ داری کو انجام دینے کے لیے نہ صرف والدین سرگرم ہوتے ہیں ، بلکہ دیگر اعزہ اوراحباب بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔اسی سے رشتوں میں حسن پیدا ہوتاہے، اسی سے اچھی معاشرت وجود میں آتی ہے اور یہی ہمارا معروف ہے۔

اگر کسی موقع پر والدین اپنے بچوں کی ترجیحات کو یکسر نظر انداز کردیں اور ناجائز طور پر اپنی مرضی ان پر مسلط کرنا چاہیں تواس معروف کی خلاف ورزی جائز ہو سکتی ہے،لیکن اس معاملے میں غلط یا صحیح کا تعین کسی معاملے کو سامنے رکھ کرہی کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی موقع پر والدین کا موقف درست ہو اور کسی موقع پر اولاد کی بات ٹھیک ہو ۔

صحیح بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اولاد اور والدین دونوں ہی کو اعتدال کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ نہ والدین کو سختی اور جبر سے کام لینا چاہیے اور نہ اولاد کونافرمانی اور انحراف کی روش اختیار کرنی چاہیے۔ باہمی موافقت اور محبت سے یہ معاملہ انجام پانا چاہیے۔

_______

وتر کی قضا

سوال: نمازِ وتر اگر چھوٹ جائے تو کیا اس کی قضا پڑھی جائے گی؟

جواب: حنفی نمازِ وتر کو واجب قرار دیتے ہیں، اس لیے ان کے نزدیک وتر اگر چھوٹ جائیں تو ان کی قضا ہو گی۔

میرے نزدیک وتر اصل میں تہجد کی نماز ہے ۔ تہجد کی نماز نفل ہے ،اس لیے اس کی قضا نہیں ہوگی۔ بعض لوگوں کی کمزوری کے پیشِ نظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز کو اس کے اصل وقت سے پہلے پڑھنے کی اجازت دی، اس لیے عام لوگوں نے اسے عشا سے متصل کر کے پڑھنا شروع کر دیا۔ یہ نماز چونکہ وتر یعنی طاق ہوتی ہے ،اس لیے اس کو وتر کہا جانے لگا۔ بہرحال یہ ایک نفل نماز ہے اور نفل نماز کی قضا نہیں ہوتی۔

_______

خود کشی میں رضاے الٰہی

سوال:کیا خود کشی کرنے والے کی تقدیر میں یہ بات پہلے سے لکھ دی جاتی ہے کہ وہ خود کشی کرے گا، اور کیا اس میں اللہ کی مرضی بھی شامل ہوتی ہے؟

جواب:خود کشی کے عمل میں اللہ تعالیٰ کی مرضی شامل نہیں ہوتی ، بلکہ اس کا اذن شامل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آزمایش کے لیے انسانوں کو اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے برائی یا ظلم کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ اجازت نہ دیتے تو آزمایش نا ممکن تھی۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے برائی اور بھلائی کا شعور دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔اس صورتِ حال میں جب کوئی شخص خود کشی کا اقدام کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے عمل سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مجھے دنیا میں بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک بڑا سنگین جرم ہے، اس میں خدا کی رضا کیسے شامل ہو سکتی ہے؟

_______

آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار

سوال: کیا آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا؟

جواب: یہ بات کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا، امورِ متشابہات میں سے ہے۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب بعض روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ سعادت نصیب ہوگی۔ لیکن یہ سعادت کیسے نصیب ہو گی، اس کا ذکر روایات میں نہیں ملتا۔احادیث میں جو باتیں درج ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی دیکھو گے جیسے کھلے آسمان پر چاند کو دیکھتے ہو۔

اس موقع پر ہماری کیفیت کیا ہو گی ؟ ہماری آنکھیں اس نظارے کا کیسے تحمل کر سکیں گی؟ یہ سب باتیں امورِ متشابہات میں شامل ہیں ۔ ان کے بارے میں ہمیں اپنے اندازے لگانے کے بجائے اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔

_______

خضر علیہ السلام

سوال: حضرت خضر علیہ السلام کون تھے؟

جواب: اس بارے میں مولانا امین احسن اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی تھے۔ اس رائے کا اظہار انھوں نے''تدبرِ قرآن '' میں سورۂ کہف کی تفسیر میں کیا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی رائے یہ ہے کہ وہ فرشتہ تھے ۔ اس معاملے میں،میں اپنے جلیل القدر استاد کی رائے کے بجائے مولانا مودودی صاحب کی رائے کو صحیح سمجھتا ہوں۔ وہ میرے نزدیک کارکنانِ قضا و قدر ہی میں سے تھے۔

____________