دین کا صحیح تصور


[یہ ''میزان'' کا ایک باب ہے ۔ نئی طباعت کے لیے مصنف نے اس میں بعض اہم ترامیم کی ہیں ۔ یہ پورا باب ان ترامیم کے ساتھ ہم یہاں شائع کر رہے ہیں۔]

دین کی حقیقت اگر ایک لفظ میں بیان کی جائے تو قرآن کی اصطلاح میں وہ اللہ کی ''عبادت''ہے ۔ عالم کا پروردگار اس دنیا میں اپنے بندوں سے اصلاً جو کچھ چاہتا ہے ،وہ یہی ہے ۔ارشاد فرمایا ہے :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ.(الذاریات ۵۱: ۵۶)

''اور جنوں اور انسانوں کو میں نے صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔''

قرآنِ مجید نے جگہ جگہ بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ خداوند عالم نے اپنے پیغمبر انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کر دینے کے لیے بھیجے تھے :

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ ، وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ. (النحل ۱۶: ۳۶)

''اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ اٹھایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔''

اس ''عبادت''کے معنی کیا ہیں ؟ یہ اگر غور کیجیے تو سورۂ نحل کی اسی آیت سے واضح ہیں ۔ اللہ کی عبادت کے بالمقابل یہاں طاغوت سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔' الطاغوت'اور' الشیطان' قرآن میں بالکل ہم معنی استعمال ہوئے ہیں، یعنی جو خدا کے سامنے سرکشی ،تمرد اور استکبار اختیار کرے ۔اس کا ضد ظاہر ہے کہ عاجزی اور پستی ہی ہے ۔چنانچہ ''عبادت'' کے معنی ائمۂ لغت بالعموم اس طرح بیان کرتے ہیں کہ : 'اصل العبودیۃ الخضوع والتذلل، ۱ ؂ (عبادت اصل میں عاجزی اور پستی ہے )۔ یہ چیز اگر خدا کی رحمت ،قدرت ،ربوبیت اور حکمت کے صحیح شعور کے ساتھ پیدا ہو تو اپنے آپ کو بے انتہا محبت اور بے انتہا خوف کے ساتھ اس کے سامنے آخری حد تک جھکا دینے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ خشوع، خضوع، اخبات، انابت، خشیت، تضرع، قنوت وغیرہ، یہ سب الفاظ قرآن میں اسی حقیقت کی تعبیر کے لیے استعمال ہوئے ہیں ۔یہ دراصل ایک داخلی کیفیت ہے جو انسان کے اندر پیدا ہوتی اور اس کے نہاں خانۂ وجود کا احاطہ کر لیتی ہے ۔ذکر ،شکر ،تقویٰ ،اخلاص، توکل ،تفویض اور تسلیم و رضا یہ سب عبد و معبود کے مابین اس تعلق کے باطنی مظاہر ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ بندہ اس تعلق میں اپنے پروردگار کی یاد سے اطمینان حاصل کرتا،اس کی عنایتوں پر اس کے لیے شکر کے جذبات کو اپنے اندر ایک سیلِ بے پناہ کی طرح امڈتے ہوئے دیکھتا، اس کی ناراضی سے ڈرتا، اسی کا ہو رہتا، اس کے بھروسے پر جیتا، اپنا ہر معاملہ اس کے سپرد اور اپنے پورے وجود کو اس کے حوالے کر دیتا اور زندگی میں ہر قدم پر اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔انسان کے ظاہری وجود میں اس تعلق کا ظہور جن صورتوں میں ہوتا ہے ،ان کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے :

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا ، خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّھِمْ ، وَھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْن. تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ، یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ، وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ.(السجدہ ۳۲: ۱۵۔۱۶)

''ہماری آیتوں پر تو بس وہی ایمان لاتے ہیں جن کا معاملہ یہ ہے کہ جب ان کے ذریعے سے انھیں یاددہانی کی جاتی ہے تو سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور سرکشی کا رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے پروردگار کو خوف و طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں بخشا ہے ، اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں ۔''

یہ رکوع و سجود ،تسبیح و تحمید ،دعا و مناجات اور خدا کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اس کی راہ میں انفاق ۲؂ یہی اصل ''عبادت''ہے ۔لیکن انسان چونکہ اس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے ،اس وجہ سے اپنے اس ظہور سے آگے بڑھ کر یہ عبادت انسان کے اس عملی وجود سے متعلق ہوتی اور اس طرح پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہو جاتی ہے ۔اس وقت یہ انسان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کا باطن جس ہستی کے سامنے جھکا ہوا ہے، اس کا ظاہر بھی اس کے سامنے جھک جائے ۔اس نے اپنے آپ کو اندرونی طور پر جس کے حوالے کر دیا ہے ،اس کے خارج میں بھی اس کا حکم جاری ہو جائے ،یہاں تک کہ اس کی زندگی کا کوئی پہلو اس سے مستثنیٰ نہ رہے ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ہر لحاظ سے وہ اپنے پروردگار کا بندہ بن کر رہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ ، لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. (الحج ۲۲ : ۷۷)

''ایمان والو ، رکوع کرو اور سجدہ کرو ، اور اپنے پروردگار کے بندے بن کر رہو ، اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔''

اللہ اور بندے کے درمیان عبد و معبود کے اس تعلق کے لیے یہ عبادت جب مابعدالطبیعیاتی اور اخلاقی اساسات متعین کرتی ،مراسم طے کرتی اور دنیا میں اس تعلق کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے حدود و قیود مقرر کرتی ہے تو قرآن کی اصطلاح میں اسے دین سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اس کی جو صورت اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے بنی آدم پر واضح کی ہے، قرآن اسے ''الدین'' کہتا ہے اور اس کے بارے میں انھیں ہدایت کرتا ہے کہ وہ اسے بالکل درست اور اپنی زندگی میں پوری طرح برقرار رکھیں اور اس میں کوئی تفرقہ پیدا نہ کریں ۔سورۂ شوریٰ میں ہے :

شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ، وَّ الَّذِیٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ، وَ مَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ .(۴۲: ۱۳)

''اس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا ، اور جس کی وحی اب ہم نے تمھاری طرف کی ہے اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم ،موسیٰ اور عیسیٰ کو فرمائی ، اس تاکید کے ساتھ کہ (اپنی زندگی میں) اس دین کو قائم رکھو ۳؂ اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔''

اس ''عبادت'' کے لیے جو مابعد الطبیعیاتی اور اخلاقی اساسات خدا کے اس دین میں بیان ہوئی ہیں، انھیں قرآن 'الحکمۃ' اور اس کے مراسم اور حدود وقیود کو 'الکتاب' سے تعبیر کرتا ہے :

وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ، وَ عَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ، وَ کَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا. (النساء ۴ : ۱۱۳)

''اور اللہ نے تم پر ''الکتاب'' اور ''الحکمۃ'' نازل فرمائی اور اس طرح تمھیں وہ چیز سکھائی جس سے تم واقف نہ تھے ، اور اللہ کی تم پر بڑی عنایت ہے ۔''

وَّاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ، وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ ، یَعِظُکُمْ بِہٖ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ .(البقرہ ۲ : ۲۳۱)

''اور اپنے اوپر اللہ کی عنایت کو یاد رکھو اور اس ''الکتاب'' اور '' الحکمۃ'' کو یاد رکھوجواس نے تم پر اتاری ہے، جس کی وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے ، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔''

اس ''الکتاب'' کو وہ ''شریعت'' بھی کہتا ہے :

ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ، فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْن. (الجاثیہ ۴۵: ۱۸)

''پھر ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک واضح شریعت پر قائم کیا ہے ۔ اس لیے تم اسی کی پیروی کرو اور ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو علم نہیں رکھتے۔''

''الحکمۃ'' ہمیشہ سے ایک ہی ہے ،لیکن ''شریعت'' انسانی تمدن میں ارتقا اور تغیر کے باعث البتہ، بہت کچھ مختلف رہی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے :

لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا ، وَلَوْ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً.(المائدہ ۵: ۴۸)

''تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شرع و منہاج مقرر کیا ہے ،اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا۔''

الہامی لٹریچر کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات میں زیادہ تر شریعت اور انجیل میں حکمت بیان ہوئی ہے۔ زبور اِسی حکمت کی تمہید میں خداوند عالم کی تمجید کا مزمور ہے اور قرآن ان دونوں کے لیے ایک جامع شہ پارۂ ادب کی حیثیت سے نازل ہوا ہے ۔بقرہ و نساء کی جو آیات اوپر نقل ہوئی ہیں ،ان میں قرآن سے متعلق یہ حقیقت نہایت واضح الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔تورات و انجیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے ساتھ قیامت میں اپنا ایک مکالمہ نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے:

وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ، وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ . (المائدہ ۵: ۱۱۰)

''اور جب میں نے تمھیں شریعت اور حکمت ،یعنی تورات اور انجیل کی تعلیم دی ۔''

''الحکمۃ'' کی تعبیر جن مباحث کے لیے اختیار کی گئی ہے ،وہ بنیادی طور پر دو ہیں :

ایک ،ایمانیات ۔

دوسرے ،اخلاقیات ۔

''الکتاب'' کے تحت جو مباحث بیان ہوئے ہیں ،وہ یہ ہیں :

۱۔ قانونِ عبادات۔ ۲ ۔قانونِ معاشرت ۔ ۳ ۔قانونِ سیاست۔ ۴ ۔قانونِ معیشت۔ ۵۔قانونِ دعوت ۔۶۔ قانونِ جہاد ۔ ۷۔ حدودوتعزیرات۔ ۸۔ خورونوش۔ ۹۔رسوم و آداب ۔ ۱۰۔ قسم اور کفارۂ قسم ۔

یہی سارا دین ہے ۔خدا کے جو پیغمبر اس دین کو لے کر آئے ،انھیں ''نبی''کہا جاتا ہے ۔قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض ''نبوت''کے ساتھ ''رسالت'' کے منصب پر بھی فائز ہوئے تھے۔ ''نبوت'' یہ ہے کہ بنی آدم میں سے کوئی شخص آسمان سے وحی پا کر لوگوں کو حق بتائے اور اس کے ماننے والوں کو قیامت میں اچھے انجام کی خوش خبری دے اور نہ ماننے والوں کو برے انجام سے خبردار کرے ۔ قرآن اپنی اصطلاح میں اسے ''انذار'' اور ''بشارت'' سے تعبیر کرتا ہے :

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ، فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ . (البقرہ۲ : ۲۱۳)

''لوگ ایک ہی امت تھے۔ (اُنھوں نے اختلاف کیا) تو اللہ نے نبی بھیجے، بشارت دیتے اور انذار کرتے ہوئے۔''

''رسالت'' یہ ہے کہ نبوت کے منصب پر فائز کوئی شخص اپنی قوم کے لیے اس طرح خدا کی عدالت بن کر آئے کہ اس کی قوم اگر اسے جھٹلا دے تو اس کے بارے میں خدا کا فیصلہ اسی دنیا میں اس پر نافذ کر کے وہ حق کا غلبہ عملاً اس پر قائم کر دے :

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْلَتَعُوْدُنَّ فِی مِلَّتِنَا ، فَاَوْحٰیٓ اِلَیْھِمْ رَبُّھُمْ لَنُھْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْنَ، وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِھِمْ .(ابراہیم ۱۴: ۱۳۔۱۴)

''اور ان کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمھیں اِس سر زمین سے نکال دیں گے یا تم ہماری ملت میں واپس آؤ گے ۔ تب ان کے پروردگار نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو لازماً ہلاک کریں گے اور ان کے بعد تمھیں لازماً اس سرزمین میں بسائیں گے۔''

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ، اُولٰٓءِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ. کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ، اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ ۵۸: ۲۰۔۲۱)

''بے شک ،وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں ، وہی ذلیل ہوں گے ۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی ۔ بے شک، اللہ قوی ہے ، بڑا زبردست ہے ۔''

رسالت کا یہی قانون ہے جس کے مطابق خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے :

ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ، وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ.(الصف ۶۱: ۹)

''وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اوردین حق کے ساتھ بھیجا کہ اسے وہ (سرزمین عرب کے) تمام ادیان پر غالب کردے ، اگرچہ یہ بات (عرب کے) اِن مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو۔''

اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ ان کے ذریعے سے اسی دنیا میں برپا کر دیتے ہیں ۔ انھیں بتا دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے میثاق پر قائم رہیں گے تو اس کی جزا اور اس سے انحراف کریں گے تو اس کی سزا انھیں دنیا ہی میں مل جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کا وجود لوگوں کے لیے ایک آیت الہٰی بن جاتا ہے اور وہ خدا کو گویا ان کے ساتھ زمین پر چلتے پھرتے اور عدالت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ چنانچہ حق ان کی ذات سے اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد کسی شخص کے پاس اس سے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا ۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ ''شہادت علی الناس'' ہے ۔ یہ جب قائم ہو جاتی ہے تو جن کے ذریعے سے قائم ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ انھیں غلبہ عطا فرماتے اوران کی دعوت کے منکرین پر اپنا عذاب نازل کر دیتے ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا ، شَاھِداً عَلَیْکُمْ ، کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً.(المزمل۷۳: ۱۵)

''تمھاری طرف ، (اے قریشِ مکہ) ، ہم نے اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ،تم پر گواہ بنا کر ،جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا ۔''

شہادت کا یہ منصب رسولوں کے علاوہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو بھی عطا ہوا۔ قرآن نے اسی بنا پر انھیں خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ایک جماعت 'امۃ وسطاً، ۴؂ قرار دیا اور بتایا ہے کہ اس منصب کے لیے وہ اسی طرح منتخب کیے گئے جس طرح بنی آدم میں سے اللہ تعالیٰ بعض جلیل القدر ہستیوں کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَجاَھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ، ھُوَاجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ، مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ . ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ. (الحج ۲۲: ۷۸)

''اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو جیسا کہ اِس جدوجہد کا حق ہے ۔ اُسی نے تم کو (اِس ذمہ داری کے لیے) منتخب کیا ہے اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ۔ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ تمھارے لیے پسند فرمایا ہے ۔ اُس نے تمھارا نام مسلمان رکھا تھا، اِس سے پہلے بھی اور اِس (آخری بعثت کے دور) میں بھی ۔ اِس لیے (منتخب کیا ہے) کہ رسول تم پر گواہی دے اور دنیا کے باقی لوگوں پر تم (اِس دین کی) گواہی دینے والے بنو۔''

نبیوں اور رسولوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بالعموم اپنی کتابیں بھی نازل فرمائی ہیں ،ان کے نزول کا مقصد قرآن مجید میں یہ بیان ہوا ہے کہ حق و باطل کے لیے یہ میزان قرار پائیں تاکہ ان کے ذریعے سے لوگ اپنے اختلافات کا فیصلہ کر سکیں اور اس طرح حق کے معاملے میں ٹھیک انصاف پر قائم ہو جائیں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لَیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ. (البقرہ۲ : ۲۱۳)

''اور ان (نبیوں) کے ساتھ اپنی کتاب نازل کی ، قولِ فیصل کے ساتھ تاکہ لوگ جن چیزوں میں اختلاف کر رہے تھے ،ان کے درمیان یہ ان کے بارے میں فیصلہ کر دے۔''

وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ. (الحدید ۵۷: ۲۵)

''اور ان (رسولوں) کے ساتھ ہم نے اپنی کتاب ، یعنی (حق و باطل کے لیے ) میزان نازل کی تاکہ (اس کے ذریعے سے ) لوگ (حق کے معاملے میں) ٹھیک انصاف پر قائم ہوں ۔''

نبوت و رسالت کا یہ سلسلہ آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا ہے۔ آپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد وحی و الہام کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے اور خدا کی عدالت زمین سے اٹھا لی گئی ہے ۵ ؂ ۔ چنانچہ لوگوں کو دین پر قائم رکھنے کے لیے ''انذار'' کی ذمہ داری اب قیامت تک اس امت کے علما اداکریں گے ۔علما کی یہ ذمہ داری سورۂ توبہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے:

وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ، فَلَوْ لَا نَفَرَمِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ ، وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْآ اِلَیْھِمْ، لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ.( ۹ : ۱۲۲)

''اور سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہ تھا کہ (اس کام کے لیے ) نکل کھڑے ہوتے، لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں تفقہ حاصل کرتے،اور اپنی قوم کے لوگوں کو انذار کرتے ، جب (علم حاصل کر لینے کے بعد ) ان کی طرف لوٹتے، اس لیے کہ وہ بچتے ۔''

اس دین کا نام ''اسلام ''ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ بنی آدم سے وہ اس کے سوا ہر گز کوئی دوسرا دین قبول نہ کرے گا :

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ... وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا ، فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ، وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ.(آلِ عمران ۳ : ۱۹، ۸۵)

''اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ ... اورجس نے اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین چاہا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نامرادوں میں سے ہوگا۔''

''اسلام'' کا لفظ جس طرح پورے دین کے لیے استعمال ہوتا ہے ،اسی طرح دین کے ظاہر کو بھی بعض اوقات اسی لفظِ اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اپنے اس ظاہر کے لحاظ سے یہ پانچ چیزوں سے عبارت ہے :

۱۔ اس بات کی شہادت دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔

۲۔ نماز قائم کی جائے ۔

۳۔ زکوٰۃ ادا کی جائے۔

۴۔ رمضان کے روزے رکھے جائیں ۔

۵۔ بیت الحرام کا حج کیا جائے۔

قرآنِ مجید نے جگہ جگہ ان کی تاکید فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں یہ ایک ہی جگہ اس طرح بیان ہوئے ہیں :

الإسلام ، ان تشھد ان لا الہ الا اللّٰہ و ان محمداً رسول اللّٰہ ، و تقیم الصلوٰۃ ، و تؤتی الزکوٰۃ ، وتصوم رمضان ، و تحج البیت. ( مسلم ، رقم ۱)

''اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کے رسول ہیں اورنماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ، اور بیت الحرام کا حج کرو۔''

دین کا باطن ''ایمان'' ہے ۔اس کی جو تفصیل قرآن میں بیان ہوئی ہے ،اس کی رو سے یہ بھی پانچ ہی چیزوں سے عبارت ہے :

۱۔ اللہ پر ایمان ۔

۲۔ فرشتوں پر ایمان۔

۳۔ نبیوں پر ایمان۔

۴۔ کتابوں پر ایمان ۔

۵ ۔روزِ جزا پر ایمان۔

سورۂ بقرہ میں ہے :

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ،کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ، لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ، وَ قَالُوْا : سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا، غُفْرَانَکَ رَبَّنَا ، وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ. ( ۲ : ۲۸۵)

''رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر اتاری گئی اور اس کے ماننے والے بھی۔ یہ سب ایمان لائے اللہ پر، اُس کے فرشتوں پر ، اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں پر۔ ان کا اقرار ہے کہ ہم اُس کے پیغمبروں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ پروردگار، ہم تیری مغفرت چاہتے اور (اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قیامت میں ہم سب کو) تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ ہی کی ایک فرع تقدیر کے خیر و شر کو ان میں شامل کر کے انھیں اس طرح بیان فرمایا ہے :

الایمان : ان تؤمن باللّٰہ و مٰلئکتہ و کتبہ ورسلہ والیوم الاٰخر ، و تؤمن بالقدر خیرہ و شرہ. ( مسلم ، رقم ۱)

''ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو مانو اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانو ، اور آخرت کے دن کو مانو، اور اپنے پروردگار کی طرف سے تقدیر کے خیر و شر کو بھی۔''

یہ ایمان جب اپنی حقیقت کے اعتبار سے دل میں اترتا اور اس سے اپنی تصدیق حاصل کر لیتا ہے تو اپنے وجود ہی سے دو چیزوں کا تقاضا کرتا ہے :

ایک عملِ صالح۔

دوسرے تواصی بالحق اور تواصی بالصببر۔

ارشاد فرمایا ہے:

وَالْعَصْرِ ، اِنَّ الاِْنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ، اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ، وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ، وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ . ( العصر ۱۰۳: ۱۔۳)

''زمانہ گواہی دیتا ہے کہ یہ انسان خسارے میں پڑ کر رہیں گے۔ہاں ،مگر وہ نہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کی۔''

''عمل صالح'' سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی اس حکمت کے موافق ہو جس پر اس عالم کی تخلیق ہوئی اور جس کے مطابق اب اس کی تدبیر امور کی جاتی ہے ۔ اس کی تمام اساسات عقل و فطرت میں ثابت ہیں اور خدا کی شریعت اسی عمل کی طرف انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئی ہے ۔

''تواصی بالحق'' اور ''تواصی بالصببر''کے معنی اپنے ماحول میں ایک دوسرے کو حق اور حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کے ہیں۔ یہ حق کو ماننے کا بدیہی تقاضا ہے جسے قرآن نے ''امر بالمعروف'' اور ''نہی عن المنکر'' سے بھی تعبیر کیا ہے ،یعنی وہ باتیں جو عقل و فطرت کی رو سے معروف ہیں، اپنے قریبی ماحول میں لوگوں کو ان کی تلقین کی جائے اور جو منکر ہیں ان سے لوگوں کو روکا جائے:

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ، یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ. ( التوبہ ۹: ۷۱)

''اور مومن مرد اور مومن عورتیں ،یہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔بھلائی کی نصیحت کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔''

ایمان کا یہ تقاضا ہر مسلمان کو نصح و خیر خواہی کے جذبے سے پورا کرنا چاہیے ۔دین کی صحیح روح کے ساتھ یہ ذمہ داری اس جذبے کے بغیر کسی حال میں پوری نہیں کی جا سکتی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

الدین النصیحۃ ، للّٰہ و لرسولہ، ولائمۃ المسلمین، وعامتھم. ( بخاری ، رقم ۵۶)

''دین خیر خواہی ہے ۔ اللہ کے لیے ،اس کے رسول کے لیے ،مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے،اور ان کے عوام کے لیے۔''

عام حالات میں ایمان کے تقاضے یہی ہیں ،لیکن انسان کو اس کے خارج کے لحاظ سے جو حالتیں اس دنیا میں پیش آ سکتی ہیں،ا ن کی رعایت سے ان کے علاوہ تین اور تقاضے بھی اس سے پیدا ہوتے ہیں :

ایک ہجرت ،

دوسرے نصرت ،

تیسرے قیام بالقسط ۔

بندۂ مومن کے لیے اگر کسی جگہ اپنے پروردگار کی عبادت پر قائم رہنا جان جوکھم کا کام بن جائے؛ اسے دین کے لیے ستایا جائے ، یہاں تک کہ مسلمان کی حیثیت سے کھلا رہنا ہی اس کے لیے ممکن نہ رہے تو اس کا یہ ایمان اس سے تقاضا کرتا ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام کی طرف منتقل ہو جائے جہاں وہ علانیہ اپنے دین پر عمل پیرا ہو سکے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں یہ ''ہجرت'' ہے اور اپنے آپ کو اس طرح کی صورت حال میں دیکھ کر اس سے گریز کرنے والوں کو اس نے جہنم کی وعید سنائی ہے ۔سورۂ نساء میں ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰءِکَۃُ ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ، قَالُوْا : فِیْمَ کُنْتُمْ ؟ قَالُوْا: کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ. قَالُوْا: اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا ، فَاُولٰٓءِکَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ ، وَ سَآءَ تْ مَصِیْرًا. ( ۴: ۹۷)

''جن لوگوں کی روحیں فرشتے اس حال میں نکالیں گے کہ (دوسروں کے ڈر سے اپنے ایمان و اسلام کو چھپا کر) وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوئے تھے ،ان سے وہ پوچھیں گے: یہ تم کس حال میں پڑے رہے ؟ وہ جواب دیں گے: ہم اس ملک میں مجبور اور بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے : کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔''

اسی طرح دین کو اپنے فروغ یا اپنی حفاظت کے لیے اگر کسی اقدام کی ضرورت پیش آ جائے تو ایمان کا تقاضا ہے کہ دامے، درمے، سخنے دین کی مدد کی جائے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے اولوالامر اگر اس مقصد کے لیے کسی وقت جہادو قتال کا فیصلہ کریں تو ہر بندۂ مومن اپنی جان اور اپنا مال اس طرح ان کے حوالے کر دے کہ وہ جس محاذ پر اور جس طرح چاہیں اس سے کام لیں۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ اللہ پروردگارِ عالم کی ''نصرت'' ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مدینہ میں اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد اس کی ضرورت پیش آئی اور لوگوں سے جہاد وقتال کا مطالبہ کیا گیا تو قرآن نے ایک موقع پر اس کی دعوت اس طرح لوگوں کو دی:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ؟ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تُجَاھِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ، ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ ، اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ. یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ یُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ، ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ. وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا، نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ ، وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ.یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ،کُوْنُوْآ اَنْصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ: مَنْ اَنْصَارِیٓ اِلیَ اللّٰہِ ، قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ: نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ. (الصف ۶۱: ۱۰۔۱۴)

''ایمان والو ،کیا میں تمھیں وہ سودا بتاؤں جو تمھیں ایک دردناک عذاب سے نجات بخشے گا ؟تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ گے اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو گے۔ یہ تمھارے لیے بہترہے ،اگر تم سمجھو۔ (اس کے بدلے میں) اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ان باغوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ عمدہ گھر عطافرمائے گا جو ابد کے نخل زاروں میں ہوں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے اور (سنو) وہ چیز بھی جس کی تم تمنا رکھتے ہو، یعنی اللہ کی مدد اور وہ فتح جو عنقریب ظاہر ہو جائے گی۔ اور اہل ایمان کو، (اے پیغمبر)، اس کی بشارت دو۔ ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو جس طرح کہ عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا: اللہ کی راہ میں کون میرا مدد گار ہے ؟ حواریوں نے کہا :ہم ہیں اللہ کے مددگار۔''

سلف و خلف میں دین کی حفاظت ،بقا اور تجدید و احیا کے جتنے کام بھی ہوئے ہیں، ایمان کے اسی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ہوئے ہیں ۔امت کی تاریخ میں زبان و قلم، تیغ وسناں اور درہم و دینار سے دین کے لیے ہر جدوجہد کا ماخذ یہی ''نصرت'' ہے ۔قرآن کا مطالبہ ہے کہ ایمان کا یہ تقاضا اگر کسی وقت سامنے آ جائے تو بندۂ مومن کو دنیا کی کوئی چیز بھی اس سے عزیز تر نہیں ہونی چاہیے ۔ارشاد فرمایا ہے :

قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَ اَبْنَاؤُکُمْ وْ اِخْوَانُکُمْ وَ اَزْوَاجُکُمْ وَ عَشِیْرَتُکُمْ ، وَ اَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا ، وَ تِجَارۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا ، وَ مَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَ جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ، فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ، وَاللّٰہُ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ. (التوبہ ۹ : ۲۴)

''(اے پیغمبر)، ان سے کہہ دو کہ تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے ، اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اورتمھارا خاندان، اور تمھارا وہ مال جو تم نے کمایا اور وہ تجارت جس کے مندے سے تم ڈرتے ہو، اور تمھارے وہ گھر جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اگر اللہ سے ،اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو ،یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے اور (جان لو کہ) اس طرح کے بدعہدوں کو اللہ راہ یاب نہیں کرتا۔''

پھر اس عالم میں انسان کے جذبات، تعصبات، مفادات اور خواہشیں اگر دین و دنیا کے کسی معاملے میں اسے انصاف کی راہ سے ہٹا دینا چاہیں تو یہی ایمان تقاضا کرتا ہے کہ بندۂ مومن نہ صرف یہ کہ حق و انصاف پر قائم رہے ، بلکہ یہ اگر گواہی کا مطالبہ کریں تو جان کی بازی لگا کر ان کا یہ مطالبہ پورا کرے۔ حق کہے، حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ انصاف کرے، انصاف کی شہادت دے اور اپنے عقیدہ و عمل میں حق و انصاف کے سوا کبھی کوئی چیز اختیار نہ کرے۔ یہ ''قیام بالقسط'' ہے اور قرآنِ مجید میں اس کا حکم اس طرح بیان ہوا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ ، وَلَوْعَلٰی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ، اِنْ یَّکُنْ غَنِیّاً اَوْ فَقِیْراً فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا ، فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰی اَنْ تَعْدِلُوْا ، وَ اِنْ تَلْوٗآ اَوْ تُعْرِضُوْا ، فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا. ( النساء۴: ۱۳۵)

''ایمان والو ،انصاف پر قائم رہنے والے بنو ، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اگرچہ اس کی زد خود تمھاری اپنی ذات ، تمھارے والدین اور تمھارے اقربا ہی پر پڑے ۔کوئی امیر ہو یا غریب ، اللہ ہی دونوں کے لیے احق ہے ۔اس لیے تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر اسے بگاڑو گے یا اعراض کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔''

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ ، وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا، اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی، وَاتَّقُوا اللّٰہَ، اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ. ( المائدہ ۵: ۸)

''ایمان والو، عدل پر قائم رہنے والے بنو۔ اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس طرح نہ ابھارے کہ تم عدل سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے ۔''

ایمان کا یہی تقاضا ہے جس کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اس بات پربیعت لیاکرتے تھے کہ : ' نقول بالحق اینما کنا ، لانخاف فی اللّٰہ لومۃ لائم' ۶؂ ( ہم جہاں ہوں گے ، ہمیشہ حق کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پروا نہ کریں گے)۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:

افضل الجھاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر. ( ابن ماجہ ، رقم ۴۰۱۱)

''حق و انصاف کی بات ایک بڑا جہاد ہے ، جب وہ ظالم حکمران کے سامنے کہی جائے۔''

اس دین کا جو مقصد قرآن میں بیان ہوا ہے ، وہ قرآن کی اصطلاح میں ''تزکیہ'' ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے اس کے فکرو عمل کو صحیح سمت میں نشوونما دی جائے۔ قرآنِ مجید میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ انسان کا نصب العین بہشت بریں اور 'راضیۃ مرضیۃ ' کی بادشاہی ہے اور فوزوفلاح کے اس مقام تک پہنچنے کی ضمانت انھی لوگوں کے لیے ہے جو اس دنیا میں اپنا تزکیہ کر لیں :

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ ، وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی. بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا، وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی. ( الاعلیٰ ۸۷: ۱۴۔۱۷)

''(اس وقت)، البتہ کامیاب ہوا وہ جس نے اپنا تزکیہ کیا اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ (نہیں)، بلکہ تم دنیاکی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ، دراں حالیکہ (آخرت اس کے مقابلے میں) بہتر بھی ہے اور پائدار بھی۔''

لہٰذا دین میں غایت اور مقصود کی حیثیت تزکیہ ہی کو حاصل ہے۔ اللہ کے نبی اسی مقصد کے لیے مبعوث ہوئے اور سارا دین اسی مقصود کو پانے اور اسی غایت تک پہنچنے میں انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ، یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ، وَ یُزَکِّیْھِمْ ، وَ یُعَلِّمُھُمْ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ.( الجمعہ ۶۲: ۲)

''وہی ذات ہے جس نے ان امیوں میں ایک رسول اِنھی میں سے اٹھایا ہے جو اِن پر اس کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور (اِس کے لیے) اِنھیں شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔''

اس دین پر عمل کے لیے جو رویہ اس کے ماننے والوں کو اختیار کرنا چاہیے، وہ ''احسان'' ہے ۔احسان کے معنی کسی کام کو اس کے بہترین طریقے پر کرنے کے ہیں ۔دین میں جب کوئی عمل اس طرح کیا جائے کہ اس کی روح اور قالب ، دونوں پورے توازن کے ساتھ پیش نظر ہوں ، اس کا ہر جز بہ تمام وکمال ملحوظ رہے اور اس کے دوران میں آدمی اپنے آپ کو خدا کے حضور میں سمجھے تو اسے ''احسان'' کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ ، وَ ھُوَ مُحْسِنٌ ، وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا.( النساء۴ : ۱۲۵)

''اور اس سے بہتر دین کس شخص کا ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے، اس طرح کہ وہ ''احسان'' اختیار کرے اور ملت ابراہیم کی پیروی کرے جو بالکل یک سو تھا ۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بلیغ اسلوب میں اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے:

الاحسان ، ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ ، فان لم تکن تراہ، فانہ یراک.( مسلم ، رقم ۱)

''''احسان''یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ اس لیے کہ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمھیں دیکھ رہا ہے ۔''

____________

۱؂ لسان العرب ۹/۱۰۔

۲ ؂ اس کی ابتدا زمانۂ قدیم میں نذر اور قربانی سے ہوئی ۔

۳؂ یعنی ہر حال میں اس پر قائم رہو ۔ اقامت دین کا صحیح مفہوم یہی ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ،ہماری کتاب ''برہان'' میں مضمون : ''تاویل کی غلطی'' ۔

۴؂ البقرہ ۲: ۱۴۳۔

۵؂ الاحزاب ۳۳: ۴۰ ۔

۶؂ مسلم ، رقم ۳۴۲۶۔