دوسرے شخص کی جانب سے حج


ترجمہ و تدوین: شاہد رضا

رُوِيَ أَنَّہُ جَاءَ تْ إِمْرَأَۃٌ مِنْ خَثْعَمَ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ فَرِیْضَۃَ اللّٰہِ عَلٰی عِبَادِہِ فِی الْحَجِّ أَدْرَکَتْ أَبِيْ شَیْخًا کَبِیْرًا لاَیَسْتَطِیْعُ أَنْ یَّسْتَوِيَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ فَہَلْ یَقْضِيْ عَنْہُ أَنْ أَحُجَّ عَنْہُ؟ قَالَ: ''نَعَمْ''.(بخاری، رقم ۱۷۵۵)

روایت کیا گیا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلۂ خثعم کی ایک خاتون آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضۂ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے، اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے، مگر وہ اتنی بھی استطاعت نہیں رکھتے کہ (سفر حج کے لیے) سواری پر بھی بیٹھ سکیں ، اگر میں ان کی جانب سے حج ادا کر لوں تو کیا ان کی جانب سے حج ادا ہو جائے گا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ہاں۱۔

حاشیہ کی توضیح

۱۔ قرآن کریم نے فریضۂ حج کو بیان کرتے ہوئے اس حکم کو اس شرط کے ساتھ مقید فرمایا ہے کہ عازم حج بیت اللہ کی جانب سفر کی استطاعت رکھتا ہو۔ اگر کوئی شخص بعض مالی یا جسمانی وجوہ کی بنا پر خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے کی حالت میں نہیں تو اس پر حج کی ادائیگی فرض نہیں ہے۔ درج بالا مذکورہ روایت کو قرآن مجید کے اسی مشروط حکم کی روشنی میں مدنظر رکھنا چاہیے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی جسمانی عارضے کی وجہ سے بیت الحرام کی جانب عازم سفر ہونے کی حالت میں نہیں، اسے حج ادا نہ کرنے کی صورت میں جواب دہ نہیں گردانا جائے گا۔ اگر اس شخص کی اولاداس کی جانب سے حج کا فرض ادا کر دے تو اسے ایک عمل عظیم شمار کیا جائے گا اور اسی کے مثل اسے اجر سے نوازا جائے گا۔ اس شخص کو حج کی خواہش کی بنا پراجر عطا کیا جائے گا، یہاں تک کہ اگرچہ وہ جسمانی وجوہ کے سبب بیت اللہ کی جانب سفر سے قاصر رہے۔ دوسری جانب، اولاد کو بھی اپنے والدین کے لیے اصل میں حج ادا کرنے کے صلے میں اجر سے نوازا جائے گا۔

متون

اپنی اصل کے اعتبار سے یہ روایت بخاری، رقم۱۷۵۵ میں روایت کی گئی ہے۔

یہ روایت بعض اختلافات کے ساتھ بخاری، رقم۱۴۴۲، ۱۷۵۶، ۴۱۳۸، ۵۸۷۴؛ مسلم، رقم ۱۳۳۴۔۱۳۳۵؛ ترمذی، رقم۹۲۸، ۹۳۰؛ ابوداؤد، رقم۱۸۰۹۔۱۸۱۰؛ ابن ماجہ، رقم۲۹۰۶۔۲۹۰۹؛ نسائی، رقم۲۶۲۱، ۲۶۳۵۔۲۶۳۸، ۲۶۴۰۔۲۶۴۱، ۵۳۸۹۔۵۳۹۶؛ احمد، رقم۱۸۱۲۔۱۸۱۳، ۱۸۱۸، ۱۸۲۲، ۱۸۹۰، ۲۲۶۶، ۳۰۵۰، ۳۲۳۸، ۳۳۷۵، ۳۳۷۷، ۱۶۱۴۷، ۱۶۱۷۰، ۱۶۲۲۹۔۱۶۲۳۰، ۱۶۲۳۵، ۱۶۲۴۴، ۱۶۲۴۸، ۲۷۴۵۷؛ ابن حبان، رقم۳۹۸۹۔۳۹۹۱، ۳۹۹۴۔۳۹۹۷؛ بیہقی، رقم۸۴۰۸۔۸۴۱۷، ۸۴۱۹، ۸۴۵۶، ۸۵۳۸، ۹۶۳۲۔۹۶۳۳، ۱۲۴۰۸، ۱۳۲۹۰؛ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۳۶۰۰، ۳۶۱۵۔۳۶۱۸، ۳۶۲۰۔۳۶۲۴، ۵۹۴۷۔۵۹۵۵؛ ابن خزیمہ، رقم۳۰۳۰۔۳۰۳۳، ۳۰۳۵۔۳۰۳۸، ۳۰۴۰؛ دارمی، رقم۱۸۳۱۔۱۸۳۷؛ مسند حمیدی، رقم۵۰۷؛ موطا امام مالک، رقم۷۹۸؛ ابویعلیٰ، رقم۲۳۵۱، ۲۳۸۴، ۶۷۱۷، ۶۷۳۷، ۶۸۱۲، ۶۸۱۸ اور عبدالرزاق، رقم۱۶۳۴۱ میں روایت کی گئی ہے۔

بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم۱۴۴۲ میں اس واقعے میں کچھ مزید معلومات کا اضافہ ذکر کیا گیا ہے۔ روایت درج ذیل ہے:

عن عبد اللّٰہ بن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: کان الفضل ردیف رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فجاء ت إمرأۃ من خثعم فجعل الفضل ینظر إلیہا وتنظر إلیہ وجعل النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصرف وجہ الفضل إلی الشق الآخر، فقالت: یا رسول اللّٰہ، إن فریضۃ اللّٰہ علی عبادہ فی الحج أدرکت أبي شیخًا کبیرًا لایثبت علی الراحلۃ أفأحج عنہ؟ قال: ''نعم''. وذلک فی حجۃ الوداع.

''حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت فضل بن عباس (رضی اللہ عنہما) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلۂ خثعم کی ایک (خوب صورت) خاتون آئی، حضرت فضل اس کو دیکھنے لگے اور وہ بھی انھیں دیکھنے لگی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فضل (رضی اللہ عنہ) کا چہرہ دوسری طرف پھیر نے لگے۔ اس خاتون نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضۂ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے، اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے، مگر (سفر حج کے لیے) سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے ، کیا میں ان کی جانب سے حج ادا کر لوں ( تو کیا ان کی جانب سے حج ادا ہو جائے گا)؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ تھا۔''

بعض روایات، مثلاً نسائی، رقم۵۳۹۵ میں یہ واقعہ اس طرح روایت کیا گیا ہے:

روي أنہ جاء رجل إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال: یا نبي اللّٰہ، إن أبي شیخ کبیر لا یستطیع الحج وإن حملتہ لم یستمسک، أفأحج عنہ؟ قال: ''حج عن أبیک''.

''روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی، میرے والد بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور وہ حج ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ اگر میں انھیں سواری پر سوار کر دوں تو وہ اسے پکڑ کر بیٹھ نہیں سکیں گے، کیا میں ان کی جانب سے حج ادا کر سکتا ہوں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو۔''

بعض روایات، مثلاً ابن حبان، رقم ۵۳۹۵ میں 'حج عن أبیک' (اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو) کے الفاظ کے بجاے 'نعم، حج مکان أبیک' (ہاں، اپنے والد کی جگہ حج ادا کرو) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔

بعض روایات، مثلاً احمد، رقم ۱۶۲۲۹ میں یہ واقعہ ان درج ذیل الفاظ میں روایت کیا گیا ہے:

عن أبي رزین العقیلي أنہ أتی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال: إن أبي شیخ کبیر لایستطیع الحج ولا العمرۃ ولا الظعن، قال: ''حج عن أبیک واعتمر''.

''حضرت ابورزین العقیلی سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور وہ حج، عمرہ اور (ان کے لیے) سفر کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں، (کیا میں ان کی جانب سے ادا کر سکتا ہوں)؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج و عمرہ ادا کرو۔''

بعض روایات، مثلاً احمد، رقم ۱۶۲۴۸ میں 'إن أبي شیخ کبیر' (میرے والد بہت بوڑھے ہو گئے ہیں) کے الفاظ کے بجاے 'إن أبي أدرک الإسلام وہو شیخ کبیر...' (میرے والد نے اسلام کو پا لیا ہے، جبکہ وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں...) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۸۵۳۸ میں 'حج عن أبیک' (اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ 'أحجج عن أبیک' (اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو) روایت کیے گئے ہیں؛ بعض روایات، مثلاً احمد، رقم ۱۶۲۴۴ میں 'لا یستطیع' (وہ استطاعت نہیں رکھتے) کے الفاظ کے بجاے 'لا یطیق' (وہ طاقت نہیں رکھتے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔

بعض روایات، مثلاً ابن خزیمہ، رقم ۳۰۳۷ میں اسی طرح کا واقعہ روایت کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے الفاظ درج ذیل ہیں:

عن الحسن قال: بلغني أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أتاہ رجل، فقال: إن أبي شیخ کبیر أدرک الإسلام ولم یحج ولایستمسک علی الراحلۃ وإن شددتہ بالحبل علی الراحلۃ خشیت أن أقتلہ، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ''أحجج عن أبیک''.

حضرت حسن (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: (یارسول اللہ)، میرا ایک بوڑھا باپ ہے جنھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے، مگر انھوں نے حج ادا نہیں کیا اور نہ وہ سواری پر ٹھہر سکتے ہیں۔ اگر میں انھیں سواری پر کسی رسی سے باندھ دوں تو مجھے اندیشہ ہے کہ میں انھیں قتل کر دوں گا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو۔''

بعض روایات، مثلاً نسائی، رقم۲۶۴۰ میں یہ واقعہ ان الفاظ میں روایت کیا گیا ہے:

عن عبد اللّٰہ بن عباس أن رجلاً سأل النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن أبي أدرکہ الحج وہو شیخ کبیر لایثبت علی راحلتہ، فإن شددتہ خشیت أن یموت، أفأحج عنہ؟ قال: ''أرأیت لو کان علیہ دین فقضیتہ أکان مجزءًا''؟ قال: نعم، قال: ''فحج عن أبیک''.

''حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے باپ کو حج نے پا لیا ہے، جبکہ وہ بہت بوڑھے ہیں اور اپنی سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، اگر میں انھیں (کسی رسی سے) باندھ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ انتقال کر جائیں گے، کیا میں ان کی جانب سے حج ادا کر سکتا ہوں ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تمھارا کیا گمان ہے کہ اگر ان پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتے تو کیا یہ کافی نہ ہوتا؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: تو پھر اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو۔''

بعض روایات، مثلاً ابن خزیمہ، رقم ۳۰۳۵ میں اسی طرح کا واقعہ اس طرح روایت کیا گیا ہے:

قال بن عباس: قال فلان الجہني: یا رسول اللّٰہ، إن أبي مات وہو شیخ کبیر لم یحج أو لایستطیع الحج، قال: ''حج عن أبیک''.

''حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ فلاں جہنی نے کہا: یارسو ل اللہ، میرے والد وفات پا چکے ہیں، جبکہ وہ بہت بوڑھے تھے اور انھوں نے حج ادا نہیں کیا یا (کہا کہ) وہ حج ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو۔''

بعض روایات، مثلاً عبدالرزاق، رقم ۱۶۳۴۱ میں اسی نوعیت کا واقعہ اس طرح روایت کیا گیا ہے:

عن بن طاؤوس عن أبیہ أن رجلاً من خثعم جاء إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال: یا رسول اللّٰہ، إن أبي شیخ کبیر لا یستطیع أن یحج إلاّ معترضًا علی بعیرہ أفأحج عنہ؟ قال: ''نعم''.

''حضرت ابن طاؤس اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلۂ خثعم کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسول اللہ، میرے والد بہت بوڑھے ہیں اور وہ حج ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں، مگر اس طرح کہ انھیں ان کے اونٹ پر کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے، کیا میں ان کی جانب سے حج ادا کر سکتا ہوں؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ہاں۔''

بعض روایات، مثلاً ابن ماجہ، رقم۲۹۰۸ میں یہ واقعہ درج ذیل الفاظ میں روایت کیا گیا ہے:

عن بن عباس قال: أخبرني حصین بن عوف قال: قلت: یا رسول اللّٰہ، إن أبي أدرکہ الحج ولا یستطیع أن یحج إلاّ معترضًا، فصمت ساعۃ، ثم قال: ''حج عن أبیک''.

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ مجھے حصین بن عوف نے بتایا کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، میرے والد کو حج نے پا لیا ہے، جبکہ وہ حج ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ انھیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو۔''

بعض روایات، مثلاً نسائی، رقم۲۶۳۸ میں یہ واقعہ درج ذیل پیرائے میں منقول ہوا ہے:

روي أنہ جاء رجل من خثعم إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال: إن أبي شیخ کبیر لایستطیع الرکوب وأدرکتہ فریضۃ اللّٰہ فی الحج، فہل یجزء أن أحج عنہ؟ قال: ''آنت أکبر ولدہ''؟ قال: نعم، قال: ''أرأیت لو کان علیہ دین أکنت تقضیہ''؟ قال: نعم، قال: ''فحج عنہ''.

''روایت کیا گیا ہے کہ قبیلۂ خثعم کا ایک شخص رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسول اللہ، میرے والد بہت بوڑھے ہیں اور کسی جانور پر سوار ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے، جبکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ایک فریضہ حج عائد ہو گیا ہے، اگر میں ان کی جانب سے حج ادا کر دوں تو کیا یہ کافی ہو گا؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا: کیا تم ان کی اولاد میں سے سب سے بڑے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تمھارا کیا گمان ہے کہ اگر ان پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا نہ کرتے؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: ان کی جانب سے حج ادا کرو۔''

بعض روایات، مثلاً دارمی،رقم ۱۸۳۵ میں یہ واقعہ قدرے مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

روي أن رجلاً قال: یا رسول اللّٰہ، إن أبي أو أمي عجوز کبیر إن أنا حملتہا لم تستمسک وإن ربطتہا خشیت أن أقتلہا، قال: ''أرأیت إن کان علی أبیک أو أمک دین أکنت تقضیہ''؟ قال: نعم، قال: ''فحج عن أبیک أو أمک''.

''روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا: یارسول اللہ، میرے والد یا (کہا کہ) میری والدہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں، اگر میں انھیں سواری پر سوار کرا دوں تو وہ اسے پکڑ کر بیٹھ بھی نہیں سکتے اور اگر انھیں (کسی رسی سے) باندھ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں انھیں قتل کر دوں گا، (کیا میں ان کی جانب سے حج ادا کر سکتا ہوں)؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: تمھارا کیا گمان ہے کہ اگر تمھارے والد یا والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا نہ کرتے؟ انھوں نے جواب دیا: جی ہاں، اس جواب پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اپنے باپ یا ماں کی جانب سے حج ادا کرو۔''

نسائی، رقم۲۶۴۴ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بارے میں صرف یہ روایت بیان کی گئی ہے:

روي أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لرجل: ''أنت أکبر ولد أبیک فحج عنہ''.

''روایت کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: چونکہ تم اپنے والد کے سب سے بڑے بیٹے ہو، اس لیے تم ان کی جانب سے حج ادا کرو۔''

بیہقی، رقم۸۴۵۶ اور ۱۲۴۰۸ میں بعض اضافہ جات کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔ ان اضافہ جات کے ساتھ یہ روایت درج ذیل ہے:

عن أبي الغوث بن الحصین الخثعمي قال: قلت: یا رسول اللّٰہ، إن أبي أدرکتہ فریضۃ اللّٰہ في الحج وہو شیخ کبیر لایتمالک علی الراحلۃ فما تری أن أحج عنہ؟ قال: ''نعم، حج عنہ''. قال: یا رسول اللّٰہ، وکذلک من مات من أہلینا ولم یوص بحج فنحج عنہ؟ قال: ''نعم، وتؤجرون''. قال: ویتصدق عنہ ویصام عنہ؟ قال: ''نعم، والصدقۃ أفضل وکذلک فی النذور والمشی إلی المسجد''.

''حضرت ابوالغوث بن حصین خثعمی سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، میرے باپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضۂ حج عائد ہو گیا ہے، جبکہ وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور وہ سواری پر بیٹھنے سے قاصر ہیں، اگر میں ان کی جانب سے حج ادا کر دوں تو اس بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: ہاں، ان کی جانب سے حج کر لو۔ انھوں نے پھر عرض کیا: یارسول اللہ، اسی طرح ہمارے اہل خانہ میں جو وفات پا چکا ہے اور حج کی وصیت نہیں کی ہے، کیا ہم اس کی جانب سے بھی حج ادا کر سکتے ہیں؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: ہاں، تمھیں اس کا اجر بھی ملے گا۔ انھوں نے پھر پوچھا: اس کی جانب سے صدقہ دیا جاسکتا ہے اور روزے بھی رکھے جا سکتے ہیں؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: ہاں، صدقہ کرنا افضل ہے۔ نذروں اور مسجد کی طرف چلنے کا معاملہ بھی یہی ہے۔''

جیساکہ بیان کیا جا چکا ہے کہ درج بالا اضافہ صرف دو روایات میں بیان کیا گیا ہے جو امام بیہقی نے روایت کی ہیں۔ تاہم، دونوں روایات کی سند ایک ہی طرح کے الفاظ پر مشتمل ہے۔ مزید برآں، امام بیہقی رحمہ اللہ نے روایت ۸۴۵۶ کو روایت کرنے کے بعد 'إسنادہ ضعیف' (اس کی سند ضعیف ہے) کے الفاظ کا اضافہ بھی کیا ہے۔ لہٰذا اس روایت میں اضافے کی سند کے ضعف کی روشنی میں یہ بات عیاں ہے کہ اس اضافے کے ساتھ اس روایت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا خلاف حکمت ہے۔

____________