دوزخ کے اعمال


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

- ۱ -

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ۱ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ مَاتَ یُشْرِکُ بِاللّٰہِ۲ شَیْءًا دَخَلَ النَّارَ''.

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موت اِس حالت میں آئی کہ(جانتے بوجھتے) اللہ کے شریک ٹھیراتا تھا،وہ دوزخ میں داخل ہوگا۱۔

_____

۱۔ یہ بات قرآن میں بھی اِسی صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ شرک خدا پر افترا ہے اور اِس لحاظ سے سب سے بڑا جرم ہے جس کا ارتکاب کوئی شخص خدا کی زمین پر کر سکتا ہے۔ اِس سے توبہ اور رجوع کے بغیر کوئی شخص اگر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو خدا کی بارگاہ میں پھر اُس کے لیے معافی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم۱۱۶۸سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے اِس روایت کو اِن مصادر میں دیکھا جا سکتا ہے: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۳۳۔مسند احمد ۳۰۹۶، ۴۰۸۵۔ صحیح بخاری،رقم۴۱۶۲۔صحیح مسلم،رقم۱۳۷۔مسند شاشی،رقم۵۱۲۔

یہی مضمون جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے ۔اُن سے اِس کے مصادر یہ ہیں:جامع معمربن راشد، رقم۳۹۵۔مسند احمد، رقم۱۴۱۹۵، ۱۴۴۱۵، ۱۴۷۱۹۔مسند عبد بن حمید، رقم ۱۰۴۵، ۱۰۶۷۔صحیح مسلم، رقم ۱۳۸، ۱۳۹۔ مسندابی یعلیٰ، رقم۱۸۰۳، ۲۲۴۹۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۲۵، ۲۶۔صحیح ابن حبان، رقم ۱۵۳، ۲۰۲۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۲۳۰۳۔

۲۔مسند طیالسی، رقم۲۵۲میں اِسی مضمون کو اِن الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: 'مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا، دَخَلَ النَّارَ'''جس شخص کی موت اِس حالت میں آئی کہ اللہ کے شریک ٹھیراتا تھا،وہ دوزخ میں داخل ہوگا''۔ مسند احمد، رقم۱۴۷۱۹میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے 'وَمَنْ لَقِيَ اللّٰہَ یُشْرِکُ بِہِ، دَخَلَ النَّارَ'اورصحیح بخاری، رقم ۴۱۶۲میں اُنھی سے 'مَنْ مَاتَ وَہْوَ یَدْعُوْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ نِدًّا، دَخَلَ النَّارَ' نقل ہوا ہے۔جابر بن عبد اللہ سے منقول بعض روایات، مثلاً صحیح بخاری،رقم۶۳۸۲میں شرک کے علاوہ مزید دو اعمال کو بھی بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔چنانچہ بخاری میں ہے:

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ''أَنْ تَدْعُوَ لِلّٰہِ نِدًّا، وَہُوَ خَلَقَکَ''، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ''ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ، خَشْیَۃَ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ''، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ''ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِیْلَۃِ جَارِکَ''.( رقم۶۳۸۲ )

''عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا :یا رسو ل اللہ، اللہ کے نزدیک سب سے بڑے گناہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھیراؤ، دراں حالیکہ وہ تمھارا خالق ہے ۔ اُس شخص نے پوچھا کہ اِس کے بعد؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو اِس اندیشے سے قتل کر دو کہ تمھارے ساتھ کھانے میں شریک ہو گی۔ پوچھا کہ اِس کے بعد؟ آپ نے فرمایا : پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرو۔''

- ۲ -

أَنَّ أَبَا أُمَامَۃَ الْبَاہِليَّ۱ مَرَّ عَلٰی خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ فَسَأَلَہُ عَنْ أَلْیَنِ کَلِمَۃٍ سَمِعَہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''أَلَا کُلُّکُمْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَی اللّٰہِ شِرَادَ الْبَعِیْرِ۲ عَلٰی أَہْلِہِ''.

ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا گزر ایک مرتبہ خالد بن یزید بن معاویہ کے ہاں ہوا تو اُس نے اُن سے فرمایش کی کہ کوئی ایسی نرم ترین بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ اُنھوں نے بتایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: یاد رکھو!تم میں سے ہر شخص جنت میں داخل ہوگا ،سواے اُس کے جو اللہ کی اطاعت سے اِس طرح بدک کر نکل جائے، جس طرح اونٹ اپنے مالک کے سامنے بدک جاتا ہے ۔۱

_____

۱۔یہ خدا کے مقابلے میں سرکشی کی تعبیر ہے ۔قرآن میں بھی جگہ جگہ بیان ہوا ہے کہ درحقیقت یہی وہ رویہ ہے جو آدمی کے لیے جنت کے دروازوں کو بند کرنے کا باعث بنتا ہے،ورنہ ایمان و اسلام کے ساتھ حسن عمل کاصلہ ہر حال میں جنت ہی ہے،جس طرح کہ روایت میں بیان ہوا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۲۱۶۴۰سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہیں، جن کی کنیت ابوامامہ تھی ۔اُن سے یہ روایت مستدرک حاکم، رقم ۱۷۰ اور رقم ۷۶۹۱میں نقل ہوئی ہے۔ اُن کے علاوہ یہی روایت صحیح ابن حبان،رقم ۱۷ میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔

۲۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں اِس جگہ 'کَشِرَادِ الْبَعِیْرِ' کے الفاظ آئے ہیں۔ملاحظہ ہو: صحیح ابن حبان، رقم۱۷۔

- ۳ -

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''کُلُّ أُمَّتِيْ یَدْخُلُوْنَ۲ الْجَنَّۃَ۳ إِلَّا مَنْ أَبٰی''، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَمَنْ یَأْبٰی؟، قَالَ: ''مَنْ أَطَاعَنِيْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ عَصَانِيْ فَقَدْ أَبٰی''.

۱۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری تمام امت جنت میں داخل ہو گی، سواے اُس کے جس نے جانے سے انکار کر دیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ایسا کون ہے جو خود جانے سے انکار کرے گا؟آپ نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا اورجس نے میری نافرمانی کی،سو وہی ہے جس نے انکار کر دیا۔۱

_____

۱۔ یعنی ایمان و اسلام نے جنت کا جو راستہ کھولا تھا، پیغمبر کی نافرمانی کرکے خود ہی اُس کو اپنے لیے بند کر لیا اور اِس طرح گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۶۷۶۴سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت جن کتابوں میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم۸۵۲۸۔ مستدرک حاکم، رقم۱۶۳، ۱۶۹۔

۲۔مستدرک حاکم ،رقم ۱۶۹ میں روایت کی ابتدا 'لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّۃَ'کے الفاظ سے ہوئی ہے۔

۳۔مسند احمد، رقم ۸۵۲۸ میں اِس جگہ 'یَوْمَ الْقِیَامَۃِ' کا اضافہ نقل ہوا ہے۔

- ۴ -

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ۱، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لا یَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الأُمَّۃِ،۲ وَلَا یَہُوْدِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌ،۳ وَمَاتَ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِہِ إِلاَّ کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ''.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے،اِس امت کا کوئی فرد ہو۱ یا کوئی یہودی اور نصرانی،۲ اِن میں سے جو شخص بھی میرے بارے میں سن لیتا ہے،۳پھر اُس چیز پر ایمان نہیں لاتا جس کے ساتھ مجھے اُس کی طرف بھیجا گیا ہے اور دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے،وہ دوزخ والوں میں ہوگا۔۴

_____

۱۔ یعنی بنی اسمٰعیل کا کوئی فرد جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لوگ تھے۔ اِنھیں 'ھذہ الأمۃ' اِسی تعلق کی بنا پر کہا ہے۔

۲۔ یعنی جزیرہ نماے عرب کا کوئی یہودی اور نصرانی جس میں آپ کی بعثت ہوئی اور جس کے لوگوں پر آپ نے براہ راست اتمام حجت کیا۔ یہی معاملہ اُن قوموں کا بھی ہے جن کو آپ نے خطوط لکھ کراپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی۔بعد کے لوگ یہاں زیر بحث نہیں ہیں اُن کا معاملہ اُسی کے مطابق ہوگا،جس حد تک خدا کی حجت آپ کے معاملے میں اُن پر پوری ہوجائے گی۔

۳۔ یعنی اُس کو یہ خبر پہنچ جاتی ہے کہ وہ ہستی اِس وقت دنیا میں موجود ہے جسے اُن لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے جن کا ایک فرد وہ بھی ہے۔

۴۔ اِس لیے کہ رسولوں کی طرف سے براہ راست اتمام حجت کے بعدکسی شخص کے لیے کوئی عذر اپنے پروردگار کے ہاں پیش کرنے کے لیے باقی نہیں رہتا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم۹۱ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کو اِن کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔مسند احمد، رقم ۸۰۰۴، ۸۴۰۷ ۔صحیح مسلم،رقم۲۲۲۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۲۲۴،۲۲۵۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ مضمون عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔اُن سے اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم۵۰۶۔مسند احمد، رقم۱۰۳۴۔مسند بزار، رقم ۲۶۵۰۔مسند رویانی، رقم۵۲۳۔ السنن الکبریٰ،نسائی، رقم۱۰۷۲۷۔

۲۔عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق میں 'مِنْ ہٰذِہِ الأُمَّۃ' کے بجاے 'مِنْ أُمَّتِيْ' نقل ہوا ہے، یعنی میری قوم،بنی اسمٰعیل کے لوگ۔ ملاحظہ ہو: مسند رویانی،رقم۵۲۳۔

۳۔عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ہی سے منقول بعض روایتوں میں اِس جگہ 'و' کے بجا ے حرف 'أو' آیا ہے۔ ملاحظہ ہو:مسند رویانی،رقم۳۲۵۔

- ۵ -

عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ، قَالَ: ذَہَبْتُ لِأَنْصُرَ [ابْنَ عَمِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ]۱ فَلَقِیَنِيْ أَبُوْ بَکْرَۃَ،۲ فَقَالَ: أَیْنَ تُرِیْدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ [ابْنَ عَمِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ]،۳ قَالَ: ارْجِعْ، فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:۴ ''إِذَا الْتَقَی۵ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا، [وَکِلاَہُمَا یُرِیْدُ أَنْ یَقْتُلَ صَاحِبَہُّ] ۶ [فَہُمَا عَلٰی جُرْفِ جَہَنَّمَّ]،۷ [فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ]۸ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِي النَّارِ''، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ہٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ: ''إِنَّہُ کَانَ حَرِیْصًا عَلٰی قَتْلِ صَاحِبِہِ''.۹

احنف بن قیس کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ کے چچا کے بیٹے ۱ کی مدد کرنے نکلا تو راستے میں مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے۔ اُنھوں نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا :رسول اللہ کے عم زاد کی مدد کرنے جارہا ہوں ۔اُنھوں نے کہا : لوٹ جاؤ ،اِس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل ہو جائیں اور دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو دونوں دوزخ کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ پھرجب اُن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو قاتل اور مقتول، دونوں دوزخ کی آگ میں جا پڑتے ہیں۔ اِس پر میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ، یہ قاتل تو ٹھیک ہے ، لیکن مقتول کس وجہ سے؟ آپ نے فرمایا :اِس لیے کہ وہ بھی اپنے حریف کو قتل کرنے کے لیے بے تاب تھا۔

_____

۱۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ مراد ہیں جن کی حکومت کو بعض لوگوں نے تسلیم نہیں کیااور اُن کے خلاف بغاوت کردی تھی۔

متن کے حواشی

۱۔ صحیح بخاری، رقم۶۵۸۳۔

۲۔ اِس روایت کا متن اصلاً صحیح بخاری، رقم۳۰سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی نفیع بن مسروح رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

جامع معمر بن راشد، رقم۱۳۴۲، ۱۳۵۳۔ مسند طیالسی، رقم ۹۱۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۶۶۸۳۔ مسند احمد، رقم۱۹۹۵۷، ۲۰۰۲۸۔صحیح بخاری، رقم۶۳۹۵، ۶۵۸۳۔صحیح مسلم، رقم۵۱۴۴، ۵۱۴۵۔سنن ابی داؤد،رقم۳۷۲۵۔سنن ابن ماجہ، رقم۳۹۶۳۔مسند بزار، رقم۳۰۹۷، ۳۱۰۰۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۳۴۷۲، ۳۴۷۹۔السنن الصغریٰ، نسائی،رقم۴۰۷۱، ۴۰۷۸۔صحیح ابن حبان،رقم۶۱۰۷۔المعجم الاوسط،طبرانی،رقم۸۷۹۸۔

نفیع بن مسروح رضی اللہ عنہ کے علاوہ جن دوسرے صحابہ نے یہ مضمون نقل کیا ہے، وہ یہ ہیں:عبد اللہ بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ ،وائل بن حجر رضی اللہ عنہ۔اِن صحابہ سے اِس روایت کو درج ذیل مصادر میں دیکھا جا سکتا ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۶۵۱۹۔مسند احمد، رقم۱۹۱۷۳، ۱۹۳۰۸۔مسند عبد بن حمید، رقم ۵۵۱۔ صحیح مسلم، رقم ۳۱۸۸۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۹۶۲۔ مسند بزار، رقم ۲۶۶۵۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۴۰۷۳، ۴۰۷۹، ۴۶۷۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۳۴۷۴، ۶۶۷۷۔ مستخر ج ابی عوانہ، رقم۴۹۱۰، ۴۹۱۱۔مسند رویانی،رقم۵۳۳۔

۳۔صحیح بخاری،رقم۶۵۸۳۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غالباً جنگ جمل کا موقع تھا۔

۴۔وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اِس سیاق میں نقل ہوا ہے کہ آپ کے سامنے ایک قاتل کو مقتول کا وارث گھسیٹتا ہوالایاتو آپ نے اُنھیں دیکھ کر فرمایا۔ملاحظہ ہو: مستخرج ابی عوانہ ، رقم۴۹۱۰۔

۵۔ صحیح مسلم، رقم۵۱۴۳ میں 'إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ' کے بجاے 'إِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ'نقل ہوا ہے۔ دونوں تعبیرات کم و بیش ایک ہی مفہوم میں ہیں۔ السنن الصغریٰ، نسائی،ر قم۴۰۷۱میں 'إِذَا أَشَارَ الْمُسْلِمُ عَلٰی أَخِیْہِ الْمُسْلِمِ بِالسِّلَاحِ' نقل ہوا ہے،یعنی جب مسلمان اپنے بھائی کی طرف اسلحے سے اشارہ کرے۔

۶۔صحیح مسلم،رقم ۵۱۴۵۔

۷۔مسند احمد،رقم۲۰۰۲۸۔

۸۔مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۳۶۶۸۳۔

۹۔صحیح مسلم ، رقم۵۱۴۳میں اِس جگہ 'إِنَّہُ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہِ' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں،جب کہ الجامع معمر بن راشد میں 'إِنَّہُ کَانَ یُرِیْدُ قَتْلَ أَخِیْہِ' منقول ہے۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجۃ. ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳.تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت).صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________