دوزخ کے اعمال (۵)


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الدَّیْلَمِيِّ،۱ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ فِي حَاءِطٍ لَہُ بِالطَّاءِفِ، یُقَالُ لَہُ: الْوَہْطُ، وَہُوَ مُخَاصِرٌ فَتًی مِنْ قُرَیْشٍ یُزَنُّ ذٰلِکَ الْفَتٰی بِشُرْبِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَۃً لَمْ تُقْبَلْ لَہُ تَوْبَۃٌ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُہُ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا،۲ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَإِنْ عَادَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یَّسْقِیَہُ مِنْ طِینَۃِ الْخَبَالِ۳ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ''.

عبداللہ بن دیلمی کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اُس وقت طائف میں، اپنے باغ میں تھے ،جسے 'وہط' کہا جاتاتھا۔وہ قریش کے ایک نوجوان کا ہاتھ پکڑے ہوئے ٹہل رہے تھے، جس کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ شراب پیتا ہے۔ میں وہاں پہنچا تواُنھوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص شراب کا ایک گھونٹ پیے گا، اُس کی توبہ چالیس روز تک قبول نہیں کی جا ئے گی۱۔ اِس کے بعد، البتہ اُس نے توبہ کی تو اللہ مہربانی فرمائے گا اور اُسے معاف کر دے گا۔ اُس نے پھر یہی کیا اور دوبارہ شراب پی لی تو دوبارہ یہی معاملہ ہوگا اور اُس کی توبہ چالیس روز تک قبول نہیں کی جائے گی۔اِس کے بعد، البتہ اُس نے توبہ کی تو اللہ دوبارہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کی توبہ قبول کرلے گا۔لیکن اُس نے پھر یہی کیا تو اللہ پر لازم ہے کہ اُس کو ہلاکت کی کیچڑ پلادے۲۔

_____

۱۔یعنی قبولیت کو مؤخر کیا جائے گا تاکہ معلوم ہو کہ ارادہ پختہ ہے اور وہ فی الواقع تائب رہے گا۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۹۴ 'سَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ'میں بیان ہوئی ہے۔ شراب چونکہ ایسی چیز ہے کہ اِس کی لت پڑ سکتی ہے اور منہ کو لگ جائے تو چھوڑنی آسان نہیں ہوتی، اِس لیے ضروری ہوا کہ قبولیت سے پہلے دیکھا جائے کہ توبہ دل سے کی گئی ہے اور کرنے والا اُس پر قائم بھی رہے گا۔

۲۔ آگے روایتوں میں وضاحت ہے کہ اِس سے مراد وہ کیچڑ ہے جو دوزخ کی زمین پر لوگوں کے خون، پسینے اور پیپ سے بنے گی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ پھر اِسی کا مستحق ہے کہ توبہ کی توفیق سے محروم رہے اور اِسی لت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو کر اِس کی جگہ دوزخ کی کیچڑ پیے۔ یہ بار بار توبہ کرکے توڑ دینے والوں کے لیے تنبیہ و تہدید کا اسلوب ہے۔ اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اِس کے بعد اُس کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن السنن الصغریٰ،نسائی،رقم ۵۶۰۴سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۵۰۲۵ ، مسند بزار ،رقم۷ ۲۲۰ اور شعب الایمان، بیہقی،رقم۵۱۶۲ میں نقل ہوئی ہے۔

۲۔مسند احمد ،رقم ۶۶۴۴ میں اِس جگہ یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ اللہ اُس شخص کی نماز بھی چالیس روز تک قبول نہیں کرتا،جب کہ سنن دارمی،رقم۲۰۲۶ میں اِس جگہ صرف نماز کے چالیس دن تک قبول نہ ہونے کی بات نقل ہوئی ہے،توبہ کا ذکر نہیں ہے۔

۳۔مسند احمد،رقم۶۴۶۵میں اِنھی عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے 'مِنْ طِیْنَۃِ الْخَبَالِ'کے بجاے 'رَدْغَۃِ الْخَبَالِ' کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔ دونوں تعبیرات کا مدعا ایک ہی ہے۔بعض روایات،مثلاً مسند طیالسی، رقم ۲۰۰۰ میں مزید وضاحت ہے کہ دوزخ کی یہ سزا بار بار توبہ کر کے اُس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ملے گی۔

—۲—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَکِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃٌ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا، وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ،۲ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَکِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃٌ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّہُ عَلَیْہِ، وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَکِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃٌ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَإِنْ عَادَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یَّسْقِیَہُ مِنْ رَدَغَۃِ الْخَبَالِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ''،۳ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ، وَمَا رَدَغَۃُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: ''عُصَارَۃُ أَہْلِ النَّارِ''.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص نے شراب پی اور پی کر مدہوش ہو گیا، اُس کی نماز چالیس روزتک قبول نہیں کی جائے گی۱ اور اِسی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔البتہ، اگر اُس نے توبہ کر لی تواللہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کو معاف کر دے گا۔ اُس نے پھر یہی کیا اور شراب پی کر مدہوش ہوگیا تو اُس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں کی جائے گی اور اِسی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا ۔البتہ، اگراُس نے توبہ کرلی تو اللہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کو معاف کر دے گا۔ اُس نے پھر شراب پی لی اور نشے سے مدہوش ہوگیا تو اُس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں کی جائے گی اور اِسی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔البتہ ،اگر اُس نے توبہ کرلی تواللہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کو معاف کر دے گا۔ لیکن اِس کے بعد اُس نے پھر یہی کیا تو اللہ پر لازم ہے کہ قیامت کے دن اُس کو ہلاکت کی کیچڑ پلادے۲ ۔ صحابہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ، یہ ہلاکت کی کیچڑ کیا چیز ہے؟ فرمایا: دوزخیوں کا خون اور اُن کی پیپ۔

_____

۱۔ پہلی روایت کے برخلاف یہ اُس صورت کا بیان ہے کہ نشے میں بدمست ہو کر پڑ رہا اور توبہ بھی نہیں کی۔ اِس کا نتیجہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس سے منہ پھیر لیں گے اور اپنی بارگاہ میں نماز کی حاضری کو بھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ اُسی اصول پر فرمایا ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے بعض رویے اور کرتوت اللہ تعالیٰ کے ہاں حبط اعمال کا باعث بن جاتے ہیں۔ ہر بندۂ مومن کو اِس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے اور بڑا یا چھوٹا جو گناہ بھی ہو جائے، اُس کے فوراً بعد توبہ و استغفار کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شراب نوشی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔ قرآن نے اِسے 'رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ' (گندے شیطانی کاموں میں سے) کہا ہے۔ آگے بعض روایتوں سے واضح ہو گا کہ یہ ام الخبائث ہے، جس کے بطن سے ایک نہیں، دسیوں گناہ پیدا ہو جاتے ہیں۔حبط اعمال کی یہ وعید اِسی بنا پر ہے اور اِس سے مقصود یہ ہے کہ بندۂ مومن اِس کی شناعت کو سمجھے اور نشے کی چیزوں سے باز آجائے۔ سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۹۱ میں قرآن نے اِسی حقیقت کو اپنے بلیغ اسلوب میں اِس طرح بیان فرمایا ہے کہ 'فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ' (پھر کیا اِس سے باز آتے ہو)؟

۲۔ یعنی اِس طرح بار بار توبہ کرکے اُس کو توڑ دینے کے بعد وہ اِسی کا مستحق ہے کہ توبہ کی توفیق ہی سے محروم کر دیا جائے اور نتیجے کے طور پر دوزخ میں پہنچ جائے، جہاں شراب کی جگہ اُس کے لیے پینے کی چیز دوزخیوں کا خون اور اُن کی پیپ ہی ہو گی۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن سنن ابن ماجہ ،رقم ۳۳۷۶ سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مسند احمد، رقم ۶۴۶۵، ۶۵۹۷۔ سنن دارمی، رقم۲۰۲۶۔ مسند بزار، رقم ۲۲۰۷۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۵۹۸، ۵۶۰۴۔صحیح ابن خزیمہ،رقم ۸۹۸۔مستدرک حاکم،رقم۸۰،۷۳۰۱،۱۳۳۱۸۔

عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ اُن سے اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند طیالسی،رقم۲۰۰۰۔مصنف عبدالرزاق،رقم ۱۶۵۴۰،۱۶۵۴۱ ۔مسند احمد، رقم ۴۷۷۵۔سنن ترمذی،رقم۱۷۸۱۔مسند ابی یعلیٰ،رقم ۵۶۲۹۔المعجم الکبیر،طبرانی،رقم۱۳۲۷۵،۱۳۳۱۸۔

۲۔مصنف عبد الرزاق،رقم۱۶۵۴۱ میں اِس جگہ یہ اضافہ منقول ہے: 'وَلَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ' ''اور اللہ اُس کی طرف نگاہ التفات سے نہیں دیکھیں گے''۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔

۳۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۶۲۹ میں اِس جگہ یہ اضافہ روایت ہوا ہے: 'فَإِنْ تَابَ، لَمْ یَتُبِ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَسَقَاہُ مِنْ نَہْرِ الْخَبَالِ'''پھر اگر اُس نے توبہ کی تو اللہ اُس پر مہربان نہ ہو گا اوراُسے ہلاکت کی نہر سے پلائے گا۔''

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________