دوزخ کے اعمال (۴)


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ،۱ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ''مَنْ قَتَلَ مُعَاہَدًا۲ [بِغَیْرِ حَقٍّ]۳ لَمْ یَرِحْ رَاءِحَۃَ الْجَنَّۃِ،۴ وَإِنَّ رِیْحَہَا تُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ أَرْبَعِیْنَ عَامًا''.۵

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی معا۱ہد کو ناحق قتل کیا،وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا، دراں حالیکہ اُس کی خوشبو چالیس برس کی مسافت پر بھی محسوس ہوتی ہے۔

_____

۱۔ یعنی وہ شخص جو کسی معاہدے کے نتیجے میں مسلمانوں کی ریاست کا شہری بنا ہو۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ معاہدات کی اسلام کے سیاسی اخلاقیات میں کیا اہمیت ہے اور اِن سے روگردانی کے نتائج قیامت میں کس قدر سنگین ہو سکتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری ،رقم۲۹۴۶سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ۔اُن سے اِس کے مصادر یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۲۷۳۷۷۔مسند احمد،رقم۶۵۶۹۔صحیح بخاری،رقم۶۴۳۱۔سنن ابن ماجہ، رقم۲۶۷۸۔ مسند بزار، رقم ۲۱۰۲، ۲۱۱۰۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۶۹۵۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۶۶۹۸۔ مستدرک حاکم،رقم۲۵۰۸۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۵۱۴۸،۱۵۱۴۹۔

عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی مضمون نقیع بن مسروح رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔اُن سے اِس کے مصادر درج ذیل ہیں:

مسند طیالسی،رقم۹۱۲۔مصنف عبد الرزاق،رقم۱۷۹۰۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۲۷۳۷۷،۲۷۳۷۸۔مسند احمد، رقم ۱۹۹۰، ۱۹۸۹۶، ۱۹۹۱۵۔ سنن دارمی، رقم۲۴۲۴۔ سنن ابی داؤد، رقم۲۳۸۲۔ مسند بزار، رقم۳۱۳۰، ۳۱۴۷۔ السنن الصغریٰ،نسائی،رقم۴۶۹۳۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۶۶۹۶۔ المعجم الاوسط،طبرانی،رقم۳۰۰۷۔

۲۔اِس روایت کے کئی طریقوں میں اِس جگہ'أَہْلُ الذِّمَّۃِ' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔مثال کے طور پر دیکھیے: مسند احمد، رقم ۶۵۶۹۔

۳۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۵۱۴۸۔نقیع بن مسروح رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق میں 'بِغَیْرِ حَقٍّ' کے بجاے 'فِيْ غَیْرِ کُنْہِہِ' کے الفاظ ہیں،یعنی بغیر کسی مقصد کے۔مسند احمد،رقم۲۰۳۸۳میں اِنھی سے 'بِغَیْرِ حِلِّہَا' منقول ہے۔اِن سب تعبیرات کا مدعا ایک ہی ہے۔

۴۔ سنن ابی داؤد، رقم۲۳۸۲میں اِس جگہ'حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃ' ''اللہ اُس پر جنت حرام کردے گا'' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

۵۔صحیح ابن حبان،رقم۷۵۴۱ میں'أَرْبَعِیْنَ عَامًا' کے بجا ے 'مِئَۃِ عَامٍ' کے الفاظ ہیں ،یعنی سو برس،جب کہ مستدرک حاکم،رقم ۱۲۲ میں 'خَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ' کے الفاظ ہیں،یعنی پانچ سو برس۔یہ دونوں طریق نقیع بن مسروح رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہیں۔

—۲—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ،۱ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ''ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ، وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ، وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ: شَیْخٌ زَانٍ،۲ وَمَلِکٌ کَذَّابٌ، وَعَاءِلٌ مُسْتَکْبِرٌ''.۳

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین لوگ ایسے ہیں۱ کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے، نہ اُن کی طرف نگاہ التفات سے دیکھیں گے اورنہ اُنھیں پاک کریں گے۲اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے: ایک ،جو بڑھاپے میں بھی زنا سے باز نہ آئے،۳ دوسرا ، جو بادشاہ ہو کر بھی لوگوں سے جھوٹ بولتا ہو اور تیسرا وہ شخص جس کو مفلسی بھی اِس سے باز نہ رکھ سکے کہ وہ حق کے مقابلے میں اکڑ بیٹھے۴۔

_____

۱۔ یہ اسلوب اِس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کا انجام بیان کرنا پیش نظر ہے، وہ پوری طرح نمایاں ہو جائیں۔ اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اِن کے علاوہ کسی دوسرے کا یہ انجام نہیں ہو گا۔ چنانچہ آگے ہم دیکھیں گے کہ بعض دوسرے گناہوں کے مرتکبین کا ذکر بھی اِسی اسلوب میں کیا گیا ہے۔

۲۔ یعنی ایسا بھی نہیں ہو گا کہ اُنھیں تھوڑی بہت سزا دے کر معاف کر دیا جائے۔ اصل میں لفظ 'یُزَکِّیْھِمْ' استعمال ہوا ہے۔قیامت میں اِس کی یہی صورت متصور ہو سکتی ہے۔ چنانچہ سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۷۷ میں اہل کتاب کے اُن مجرموں کے لیے بھی یہ لفظ اِسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے جنھوں نے اُس عہد کو توڑ دیا جو اللہ کی شریعت اور آخری پیغمبر کی بعثت سے متعلق اُن سے لیا گیا تھا۔

۳۔یعنی اِس کے باوجود باز نہ آئے کہ ذہن پختہ ہو چکا،گناہ کے داعیات کمزور ہو گئے،اور جنسی ہیجان کی وہ کیفیت باقی نہیں رہی جس کا تجربہ نوجوانوں کو ہوتا ہے۔

۴۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ مال و دولت سے محرومی آدمی کے اندر عاجزی پیدا کرتی اور اُن حجابات کو بالعموم دور کر دیتی ہے جو مترفین کے ہاں حق کے مقابلے میں سرکشی کا باعث بن جاتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند اسحاق ،رقم ۱۶۸سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

مسند احمد، رقم، ۹۲۸۱، ۹۳۸۱، ۱۰۰۱۸۔ صحیح مسلم، رقم۱۵۹۔ السنن الصغریٰ،نسائی رقم ۲۵۴۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۶۸۶۶۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۱۶۰، ۶۱۷۶۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۶۵۶۲۔ صحیح ابن حبان، رقم ۴۵۰۵، ۷۴۹۶۔ المعجم الاوسط،طبرانی،رقم۸۶۲۲۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو: مسند بزار، رقم ۲۲۳۵ اور رقم ۳۴۳۰۔

۲۔مسند احمد رقم۹۳۸۱میں 'وَعَائِلٌ مُسْتَکْبِرٌ' کے بجاے'وَالْعَامِلُ الْمَزْہُوُّ'، یعنی متکبر مزدور کے الفاظ آئے ہیں۔

۳۔ المعجم الاوسط،طبرانی،رقم ۸۶۲۲ اِس جگہ 'وَلَا إِلَی الْعَجُوْزِ الزَّانِیَۃِ' کا اضافہ نقل ہوا ہے،یعنی وہ عورت جو بڑھیا ہو کر بھی زنا سے باز نہ آئے۔

—۳—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ [یَوْمَ الْقِیَامَۃِ]۲ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ: رَجُلٌ عَلٰی فَضْلِ مَاءٍ [بِالْفَلَاۃِ]،۳ یَمْنَعُ مِنْہُ ابْنَ السَّبِیْلِ،۴ وَرَجُلٌ بَایَعَ رَجُلًا لَا یُبَایِعُہُ إِلَّا لِلدُّنْیَا فَإِنْ أَعْطَاہُ مَا یُرِیْدُ وَفٰی لَہُ وَإِلَّا لَمْ یَفِ لَہُ،۵ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ [فِيْ سُوْقِ الْمَدِیْنَۃِ أَوْ بِالْبَقِیْعِ]، ۶ فَحَلَفَ بِاللّٰہِ لَقَدْ أَعْطٰی بِہَا کَذَا وَکَذَا فَأَخَذَہَا''.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کریں گے،نہ اُن کی طرف نگاہ التفات سے دیکھیں گے اور نہ اُنھیں پاک کریں گے اور اُن کے لیے درد ناک عذاب ہے:ایک وہ شخص جو کسی بیابان میں ضرورت سے زیادہ پانی پر قبضہ جمائے بیٹھا ہو اور مسافر کو اُس سے روک دے۱۔ دوسرا جو کسی شخص کی بیعت۲ محض دنیا کے لیے کرے،۳پھر وہ اُس کی خواہش کے مطابق دے دے تو اپنا عہد نباہے اور نہ دے تو بے وفائی کرے۔ اور تیسرا وہ شخص جو عصر کے بعد۴ مدینے یا بقیع کے بازار میں۵ کسی سامان کا بھاؤ تاؤ کر رہا ہو اور اللہ کی قسم کھا ۶لے کہ اُس نے تو اِس کے عوض اتنی اور اتنی قیمت ادا کر رکھی ہے۔ چنانچہ دوسرا اُس پر بھروسا کرکے وہ سامان خریدلے۔

_____

۱۔یہ جرم عام حالات میں بھی شنیع ہے، لیکن اِس کی شناعت اُس وقت بہت زیادہ ہو جاتی ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں اور جس زمانے میں یہ بات کہی گئی، اُس میں یہ ممانعت کسی مسافر کی جان بھی لے سکتی تھی۔

۲۔ اِس سے مراد سیاسی وفاداری کا عہد ہے جو اُس زمانے میں قیام حکومت کے بعد ہر شہری کے لیے کرنا ضروری تھا۔

۳۔ یعنی خدا اور رسول کے حکم پر نظم اجتماعی کو قائم رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ حکمران سے مال و دولت، زمین، جایداد، عہدے اور مناصب حاصل کرنے کے لیے۔

۴۔ عصر کے بعد، اِس لیے فرمایا کہ اُس زمانے میں یہی وقت جلد سے جلد سامان بیچ کر دکان بڑھانے کا ہوتا تھا۔چنانچہ آگے جو جرم بیان ہوا ہے، اُس کے ارتکاب کے زیادہ مواقع بھی اِسی وقت پیش آتے تھے۔

۵۔ یہ محض بیان واقعہ ہے، اِس کا جرم کی شناعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

۶۔یعنی جھوٹی قسم کھالے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم ۲۴۸۹سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کو درج ذیل مصادر میں نقل کیا گیا ہے:

مسند احمد، رقم ۷۲۶۱، ۱۰۰۱۷۔ مسند عبد بن حمید، رقم۱۴۷۵۔صحیح بخاری، رقم۲۱۹۷،۲۲۰۷، ۲۴۸۹، ۶۶۹۹، ۶۹۱۶۔ صحیح مسلم، رقم ۱۵۹، ۱۶۰،۱۶۱۔ سنن ترمذی، رقم۱۵۱۹۔ سنن ابن ماجہ،رقم ۲۱۹۸،۲۸۶۵۔ سنن ابی داؤد، رقم ۳۰۱۷۔ السنن الکبریٰ،نسائی، رقم۵۸۰۶،۵۸۴۳،۶۸۶۶۔السنن الصغریٰ، نسائی،رقم۲۵۴۱،۴۴۱۰۔تہذیب الآثار، طبری، رقم ۱۳۷۳۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم۲۹۸۵۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۹۲، ۹۵، ۴۲۰۵، ۴۷۵۱۔ صحیح ابن حبان،رقم ۵۰۱۷۔

۲۔ صحیح بخاری، رقم۲۱۹۷۔

۳۔صحیح مسلم، رقم۱۶۰۔اصل روایت میں اِس جگہ 'بِطَرِیْقٍ' کے الفاظ ہیں،یعنی راستے میں۔

۴۔صحیح ابن حبان،رقم ۵۰۱۷ میں اُس آدمی کے متعلق جو پانی دینے سے انکار کردے ،یہ اضافہ بھی نقل ہوا ہے: 'یَقُوْلُ اللّٰہُ: الْیَوْمَ أَمْنَعُکَ فَضْلِيْ، کَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْہُ یَدَاکَ' ''اللہ تعالیٰ کہیں گے: آج میں تم کو اُسی طرح اپنے فضل سے محروم کر رہا ہوں، جس طرح تو نے اُس چیز کے فضل سے محروم کیا تھا جسے تمھارے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا''۔

۵۔ طبری کی تہذیب الآثار، رقم ۱۳۷۳میں یہ بات اِس اسلوب میں نقل ہو ئی ہے:'إِنْ أَعْطَاہُ وَفٰی، وَإِنْ مَنَعَہُ نَکَثَ' ''اگر وہ دے دے تو عہد پورا کرے اور دینے سے انکار کردے تو اُس کو توڑ دے''۔صحیح بخاری، رقم ۲۱۹۷ میں یہ بات اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:'فَإِنْ أَعْطَاہُ مِنْہَا رَضِيَ وَإِنْ لَمْ یُعْطِہِ مِنْہَا سَخِطَ'''اگر وہ دے دے تو راضی رہے، اور اگر دینے سے انکار کردے تو نا راض ہو جائے''۔طحاوی کی مشکل الآثار،رقم ۲۹۸۵ میں نقل ہوا ہے کہ اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ آل عمران(۳) کی آیت۷۷ تلاوت فرمائی۔ آیت یہ ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا، اُولٰٓءِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ، وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ.

''جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اور اللہ قیامت کے دن نہ اُن سے بات کرے گا، نہ اُن کی طرف نگاہ التفات سے دیکھے گا اور نہ اُنھیں (گناہوں سے)پاک کرے گا، بلکہ وہاں اُن کے لیے ایک درد ناک سزا ہے''۔

۶۔مستخرج ابی عوانہ،رقم ۹۵۔مسند احمد، رقم۱۰۰۱۷میں اِس جگہ یہ اضافہ ہے: 'وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلٰی سِلْعَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ یَعْنِيْ کَاذِبًا'''اور وہ شخص جس نے عصر کے بعد سامان بیچنے پر قسم کھائی ،مطلب یہ ہے کہ جھوٹی قسم کھائی''۔ صحیح بخاری ،رقم ۷ ۲۱۹ میں بیان ہوا ہے کہ اِس کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ آل عمران (۳) کی وہی آیت تلاوت فرمائی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اِس سے غالباً یہ اشارہ مقصود تھا کہ اللہ کو گواہ ٹھیرا کر اللہ سے جھوٹ بولا جائے یا بندوں سے، اُس کا نتیجہ قیامت میں ایک ہی ہو گا۔

—۴—

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ، ۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ، وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ''، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَنْ ہُمْ خَابُوْا وَخَسِرُوْا؟ فَقَالَ: ''[الْمَنَّانُ الَّذِيْ لَا یُعْطِيْ شَیْءًا إِلَّا مَنَّہُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَہُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ، ۲ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَہُ]''. ۳

ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ نہ بات کریں گے،نہ قیامت کے دن اُن کی طرف نگا ہ التفات سے دیکھیں گے اور نہ اُنھیں پاک کریں گے اور اُن کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ابوذر کہتے ہیں،میں نے کہا:یا رسول اللہ، کون ہیں وہ لوگ؟ وہ تو پھر سخت نقصان اور خسارے میں پڑ گئے ۔ آپ نے فرمایا:ایک وہ احسان جتانے والا جو کوئی چیز بھی دے تو لازماً احسان جتاتا ہے۱۔ دوسرا جو جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچتا ہے اور تیسرا جو اپنا تہ بند (متکبرانہ) نیچے لٹکائے رکھتا ہے۲۔

_____

۱۔ یہ، ظاہر ہے کہ آخری درجے کی دناء ت ہے جس کے ساتھ کسی شخص کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھل سکتے۔

۲۔ اِس باب کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب جاہلی میں متکبرین کا یہ عام طریقہ تھا کہ لمبا قمیص پہنیں گے، پگڑی کا شملہ کمر سے نیچے تک لٹکا ہوا ہوگا، تہ بند ٹخنوں سے اِس قدر نیچے ہوگا کہ گویا آدھا زمین پر گھسٹ رہا ہے۔ روایتوں میں 'اسبال' کا لفظ اِسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لباس کی اِسی وضع پر وعید سنائی ہے۔اور اِس لیے سنائی ہے کہ تکبر من جملہ کبائر ہے اور مستکبرین کے بارے میں قرآن نے تصریح کر دی ہے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو سکتا ہے، لیکن کوئی مستکبر جنت میں نہیں جا سکتا۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاًسنن دارمی، رقم ۲۴۲۵سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کو درج ذیل مصادر میں نقل کیا گیا ہے:

مسند طیالسی، رقم۴۶۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۲۱۶۰۴، ۲۴۲۱۹، ۲۶۰۰۸۔ مسند احمد، رقم ۲۰۸۰۰، ۲۰۸۸۶، ۲۰۹۱۱، ۲۰۹۵۴، ۲۴۲۱۹۔ سنن دارمی، رقم ۲۵۲۴۔ صحیح مسلم، رقم ۱۵۷۔سنن ترمذی، رقم ۱۱۲۸۔سنن ابی داؤد، رقم۳۵۶۷۔سنن ابن ماجہ،رقم ۲۱۹۹۔مسند بزار،رقم ۳۴۳۱۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم ۲۳۲۷، ۲۳۲۸، ۹۳۲۱، ۱۰۵۰۰۔ السنن الصغریٰ، نسائی رقم۲۵۲۹، ۴۴۰۶، ۴۴۰۷۔

۲۔ صحیح مسلم،رقم ۱۵۷۔صحیح مسلم ،رقم ۱۵۸کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تین مرتبہ تلاوت فرمائی۔

۳۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۲۱۹میں'فاجر' کی جگہ'کاذب'نقل ہوا ہے۔دونوں کا مدعا ایک ہی ہے۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________