دعاے ماثور ــــ الفاظ یا کیفیات


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ ادعیۂ ماثورہ کے معاملے میں آپ کا طریقہ صرف کیفیات کی تعلیم تک محدود نہیں تھا، بلکہ اِسی کے ساتھ آپ اپنے اصحاب کو دعا کے الفاظ بھی باقاعدہ طور پر سکھاتے تھے۔ مثلاً صبح و شام کی دعا کے متعلق صحابی رسول ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صبح وشام کے لیے یہ دعا سکھاتے تھے: 'کان رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم یعلّمنا إذا أصبحنا: ''أصبحنا علٰی فطرة الإسلام، وکلمة الإخلاص، وسنّة نبیّنا محمد صلی اللہ علیه وسلم، وملّة أبینا إبراہیم حنیفًا مسلمًا، وما کان من المشرکین''.وإذا أمسینا مثل ذٰلک'[1]۔

اِسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو صبح و شام پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھاتے تھے : 'کان رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم یعلّم أصحابه یقول:''إذا أصبح أحدکم فلیقل: اللّٰھم بک أصبحنا وبک أمسینا، وبک نحیا وبک نموت وإلیک المصیر.وإذا أمسٰی فلیقل: اللّٰھم بک أمسینا، وبک أصبحنا، وبک نحیا وبک نموت وإلیک النشور'''[2]۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تعلیم کردہ دعائیں اپنی اسپرٹ (عجز و بندگی) اور اپنے الفاظ، دونوں کے ساتھ مطلوب ہیں۔ اِس سلسلے میں یہاں چند حوالے نقل کیے جا رہے ہیں۔ اِن احادیث وآثار سے واضح طورپرمعلوم ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ کیا تھا:

٭ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اہم معاملات میں ہمیں اُسی طرح استخارہ اور اُس کی دعا کی تعلیم دیتے تھے،جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے: 'عنجابر بن عبد اللہ، قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یُعلِّمنا الاستخارةَ في الأمورکلِّھا، کما یُعلِّمنا السورةَ من القراٰن'[3]۔

٭ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوتے وقت کی دعا سکھانا اور پھراُسی مجلس میں اُن کا آپ کے سامنے اُس دعا کو دہرانا اور آپ کا اس کی اصلاح کرنا۔ اِس دعا کے الفاظ یہ ہیں: 'اللّٰھم أسلمتُ نفسي إلیک، ووجّھتُ وجھي إلیک، وفوّضتُ أمري إلیک، وألجأتُ ظھري إلیک، رغبةً ورھبةًإلیک، لا مَلجأولا مَنجا منک إلّا إلیک.آمنتُ بکتابک الّذي أنزلت، ونبیّک الذي أرسلت'[4]۔ مذکورہ صحابی کہتے ہیں کہ میں آپ سے سن کر اُسی وقت آپ کے الفاظ دہرانے لگا تاکہ دعا اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ تاہم دعا کو پڑھتے ہوئے جب میں نے کہا: 'وبرسولک' تو آپ نے میرے الفاظ کی تصحیح کرتے ہوئے فرمایا: نہیں،یہاں 'رسول' کے بجاے 'نبي' کے الفاظ ہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ تم اِس طرح کہو: 'و نبیّک الذي أرسلت'[5]۔

٭ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو ایک دعا اُسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ اُنھیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے: 'کان یُعلِّمھم ھٰذا الدعاء کما یُعلِّمھمالسورة من القراٰن'۔ اِس دعا کے الفاظ یہ ہیں: 'اللّٰھم إني أعوذبک من عذاب جہنم،وأعوذبک من عذاب القبر، وأعوذبک من فتنة المسیح الدجال، وأعوذبک من فتنة المَحیا والمَمات'[6]۔

اِس روایت سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ اِس قسم کی دعاے ماثور کے الفاظبعینہیاد کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ صاحب ''المنتقیٰ'' نے لکھا ہے: 'کان یعلّمھم ھٰذا الدعاء کما یعلّمھم السورة من القراٰن' دلیلٌعلٰی تأکّده وما ندب إلیه من تحفُّظ ألفاظه'[7]۔یعنی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان کہ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کویہ دعا اُسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ اُنھیں قرآن سکھاتے تھے''یہ دعا کے الفاظ کواچھی طرح یاد کرنے کی تلقین اور تاکید پردلالت کر رہاہے ۔

احادیث وآثارکے مطالعے سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ اِس سلسلے میں خود رسول اور اصحاب رسول نے اپنے اہل خانہ کوروح دعا کے ساتھ دعا کے الفاظ بھی سکھائے ہیں۔ اِس سلسلے میں دیگر اصحاب کے علاوہ، مشہور صحابی رسول سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا عمل بھی یہی تھا۔ مثلاًوہ اپنے بچوں کو نماز کے بعد پڑھنے کے لیے درج ذیل دعا کے الفاظ اُسی اہتمام کے ساتھ سکھاتے تھے، جس طرح ایک معلّم اپنے طلبہ کو لکھنے کا طریقہ سکھاتا ہے: 'عن سعد رضي اللہ عنہ، أنه کان یُعلِّم بنیه ھؤلاء الکلمات، کما یعلّم المُعلِّم الغِلمانالکتابة، ویقول: إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یتعوّذ بھنّ دُبرَ الصلاة: ''اللّٰھم إني أعوذبک من الجُبن، وأعوذبک من البخل، وأعوذبک من أرذل العُمُر، وأعوذبک من فتنة الدنیا، وعذاب القبر'''[8]۔

اِسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایاکہ وہ اِن الفاظ کے ساتھ اللہ سے دعا کریں: 'اللّٰھمإني أسئلک من الخیر کُلِّه، عاجله وآجله، ماعلمتُ منه ومالم أعلم.وأعوذبک من الشرِّ کلّہ، عاجلہ وآجلہ، ماعلمتُ منہ وما لم أعلم.وأسئلک الجنةوما قَرَّبَإلیھا من قولٍ أو عمل، وأعوذبک من النار وما قرّب إلیھا من قول أو عمل.وأسئلک خیرَ ما سألک به عبدُک ورسولُک محمّد صلی اللہ علیه وسلم.وأعوذبکمن شرِّ ما استعاذک منه عبدک ورسولک محمد صلی اللہ علیہ وسلم.وأسألک ما قضیتَلي مِن أمر أن تجعلَ عاقبتَه رَشَدًا'[9]۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود اپنی بیٹیوں کے معاملے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ یہی تھا۔چنانچہ اُن سے روایت ہے کہ صبح وشام اللہ کی حفاظت میں رہنے کے لیے آپ نے اُنھیں یہ دعا سکھائی: 'وعن بعض بنات النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یعلّمھا فیقول:''قُولي حین تُصبحین: سبحان اللہ وبحمده، ولاحولَ ولا قوةَ إلّا باللہ، ما شاء اللہ کان، وما لم یشأ لم یکُن، أعلمأنّ اللہ علٰی کلّ شيء قدیر، وأنّ اللہ قد أحاط بکلّ شيءعِلماً.فإنه مَن قالھا حین یُصبح، حُفظ حتی یُمسي؛ ومن قالھا حین یُمسي،حُفظ حتی یُصبح'''[10]۔

یہی نماز کے اذکار کا معاملہ بھی ہے۔ مثلاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز میں پڑھنے کے لیے 'التحیّات' کے الفاظ اُسی طرح سکھائے، جس طرح آپ مجھے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے: 'علّمني رسولُ اللہ صلی اللہ علیه وسلم، وکفِّي بین کفَّیه،التّشهُّد کما علَّمَني السُّورةَ من القرآن'[11]۔ اِسی طرح آپ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز میںآخری تشہد کے بعد پڑھنے کے لیے دعا کے درج ذیل الفاظ سکھائے: 'اللّٰھم إني ظلمتُ نفسي ظلمًا کثیرًا،ولا یغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي مغفرةً مِن عندک وارحمني، إنکأنت الغفورُ الرحیم'[12]۔

خلاصۂ کلام

مذکورہ احادیث وآثار کے مطالعے سے واضح طورپر درج ذیل دو باتیں معلوم ہوتی ہیں :

٭ ایک، یہ کہ دعاے ماثورکے معاملے میں اِس قسم کا تصور بے اصل ہے کہ کیفیات مسنون ہیں، نہ کہ الفاظ۔ دعا صرف دل کی ایک کیفیت ہے، نہ کہ کوئی مجموعۂ الفاظ۔ دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کرنا ایک غیر فطری نظریہ ہے۔دعادل کے جذبات کا نام ہے، نہ کہ کسی زبان کے الفاظ کا نام،وغیرہ۔

زندگی کے مختلف احوال میں ایک مومن کی زبان پر جاری ہونے والی عام دعا ؤں کے سلسلے میں یہ بات،بلاشبہ درست ہے؛تاہم مذکورہ احادیث وآثار کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دعا کے باب میں مطلق طورپر اِس قسم کا نظریہ ایک بے اصل نظریہ ہے۔ ادعیۂ ماثورہ کے معاملے میں ایسا سمجھنا یقیناً رسول اور اصحاب رسول کے ثابت شدہ اُسوے کے خلاف ہے۔یہ اِسی ذہن کا براہ راست نتیجہ ہے کہ اِس قسم کے افراد اور گروہ دعاے ماثور کے معاملے میں رسول اور اصحاب رسول کے ثابت شدہ اُسوے پرقائم نظر نہیں آتے۔

دعا کے معاملے میں اِس قسم کا نظریہ اختیار کرنا گویا ایک دوسری انتہاپر کھڑا ہونا ہے۔کچھ لوگ اگر دعا کو محض تکرار الفاظ یا صرف ایک پر اسرار' منتر' جیسی کوئی طلسماتی چیز سمجھتے ہیں، تو یہ دعا کو محض کیفیات کے ہم معنی قرار دینا ہے۔دونوں میں سے کسی بھی نظریے کو قرآن وسنت کی تائید حاصل نہیں۔

انسان ایک ایسے وجود کا نام ہے جو روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہے۔زندگی کے مختلف احوال میں اُس کی زبان پر دعا کے الفاظ بھی جاری ہوں گے اور اِسی کے ساتھ اُسے دعا کی کیفیات کا تجربہ بھی ہوگا۔کبھی وہ 'قال' کی زبان میں خدا سے ہم کلام ہوگا اور کبھی 'حال' کی زبان میں وہ خدا سے سرگوشی کرے گا۔ایسی حالت میں اِس قسم کا نظریہ بالکل غیر فطری ہوگا کہ انسان صرف کیفیات کی صورت میں دعا کرے؛بہ وقت دعا اُس کی زبان پر الفاظ کا جاری ہونا ایک غیر مطلوب عمل ہے،وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ دعاے ماثور کے معاملے میں، الفاظ اور کیفیات، دونوں یکساں درجے میں مطلوب ہیں۔ جس طرح مطلوب کیفیت کے بغیر الفاظ بے روح ہوجاتے ہیں،اُسی طرح مطلوب الفاظ کے بغیرکیفیت بسا اوقات محض ایک جذباتی چیز بن کر رہ جاتی ہے، نہ کہ کوئی منصوص ربانی چیز۔لہٰذا،مذکورہ احادیث وآثار کی روشنی میں یہ بات بالکل مبرہن ہوجاتی ہے کہ مسنون یا ماثور اذکار سے فائدہ اٹھانے کے لیے رو ح دعا کے ساتھ اُس کے اصل عربی الفاظ بھی مطلوب ہوں گے[13]۔

٭ دوسرے، یہ کہ والدین ،تعلیمی اداروں،مربیوں اور تحریکات کے ذمے داروں کو چاہیے کہ وہ عورتوں اور مردوں کی ذہن سازی کرتے ہو ئے اُسی طرح اُنھیں اِن دعاؤں کے سکھانے کا بھی ضرور اہتمام کریں، جس طرح وہ قرآن مجید کی لفظی اور معنوی تعلیم کے اہتمام کو ضروری سمجھتے ہیں۔والدین اگر ہوش مندی سے کام لیں تو وہ آسانی کے ساتھ اپنے بچوں کو تمام ضروری دعائیں سکھا سکتے ہیں۔

اِس طرح کی بہت سی دعائیں قرآن مجید میں بھی موجود ہیں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منقول ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ کم وبیش آپ ہی کے الفاظ میں یہ دعائیں ہمارے پاس موجود ہیں[14]۔ اِن کا حسن، لطافت اور معنویت زبان وبیان کا معجزہ بھی ہے اور خدا کے آخری پیغمبر کی اعلیٰ ربانی کیفیات کا ابدی خزانہ بھی۔ یہ اذکار مومن کے قلبی احساسات کے لیے موزوں الفاظ بھی فراہم کرتے ہیں، اور اِسی کے ساتھ آدمی کے اندر مطلوب ربانی کیفیات کاچشمہ جاری کرنے کے لیے ایک عظیم محرک بھی۔ بارگاہ الہٰی میں پیش کرنے کے لیے اِن سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی۔خدا کو یاد کرنے کی ایک بہترین صورت نماز کے بعد یہی اذکار ہیں۔آدمی کے اندر ذکر وفکر کا ذوق ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ صبح و شام اِن دعاؤں اوراذکار کوضرور اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرے۔ اِن دعاؤں کاشعوری اہتمام خدا کی سچی معرفت کا تقاضا بھی ہے اور بندے کی طرف سے دعا و مناجات بھی۔وہ اللہ کا ذکر بھی ہے اور خدا کے سامنے اپنے عجزو عبدیت کا اظہار بھی۔

____________

۱۔ احمد، رقم ۲۱۴۶۲۔ دارمی، رقم۲۶۸۸۔

۲۔ احمد ، رقم۸۶۳۴۔ ترمذی، رقم۳۳۹۱۔

۳۔ احمد ، رقم۲۴۴۹۸۔ ابن ماجہ ، رقم۲۸۴۶۔دعاے استخارہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: بخاری، رقم۱۱۶۲۔اِس سلسلے میں ایک مختصر دعاے استخارہ کے الفاظ یہ ہیں: 'اللّٰھمّ خِرْلي، واخْتَرْلي' (ترمذی، رقم۳۵۱۶)۔

۴۔ بخاری، رقم۶۳۱۵۔

۵۔ بخاری، رقم ۶۳۱۱۔

۶۔ بخاری ، رقم ۱۱۶۶۔

۷۔۱/ ۳۵۸۔

۸۔ موطا ، رقم ۳۳۔

۹۔ ابن ماجہ، رقم۳۸۴۶۔

۱۰۔ ابی داؤد، رقم ۵۰۷۵۔

۱۱۔ بخاری، رقم ۲۸۲۲۔

۱۲۔ بخاری، رقم ۵۹۱۰۔ مسلم، رقم ۴۰۰۔

۱۳۔ دعا کی اہمیت اور اُس کی تعلیم و تعلم کے سلسلے میں رسول اور اصحاب رسول کا اسوہ کیا تھا، اِ س کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:مجمعالزوائد ومنبع الفوائد، کتاب الأدعیة، باب الأدعیة المأثورة عن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم التي دعا بھا، وعلَّمھا،جلد۱۰؛ حیاة الصحابة، باب رغبة الصحابة في العلموترغیبھم فیه، جلد۳۔

۱۴۔ اِن دعاؤں کے بہت سے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔مختصراور متداول کتابوں میں 'حِصن المسلم منأذکار الکتاب والسنة' (سعید بن علی بن وہف القحطانی) اور عبد العزیز بن عبدالرحمٰن الفیصل آل سعود کی 'الوِرد المصفّی المختار من کلام اللہ تعالٰی وکلام سیّد الأبرار' (مطبوعہ دارالسلام) بہت عمدہ ہیں۔ یہ کتابیں عربی کے ساتھ، اردو اور انگریزی میں بھی دستیاب ہیں۔اِس سلسلے میں عبدالرزاق بن محسن البدر کی 'فقه الأدعیة والأذکار'(صفحات۹۵۵)بھی ایک اہم کتاب ہے۔اِس کے آخری حصۂ دعا کا اردو ترجمہالمرکز الإسلامي للبحوث العلمیة(کراچی)کی طرف سے چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔ اِس کے علاوہ، کتب احادیث خاص طور پر سنن الترمذی کا باب 'کتاب الدعوات' نسبتاً زیادہ وسیع ہے۔ اِس معاملے میں 'الأذکار' (النووی)، 'جامع صحیح الأذکار' (الالبانی) اور 'الجامع الصحیح للأدعیة والأذکار' (صہیب عبدالجبار) زیادہ جامع ہے۔۴۶۳صفحات پر مشتمل یہ آخر الذکر مجموعہ، دعا اور دعا سے متعلق 'الجامع الصحیح للسنن والمسانید' (کتاب العبادات) کی تقریباً تمام مستند روایات کا بہترین خزانہ ہے۔