اہلِ ’’محدث‘‘ کے نام


ماہنامہ ''محدث''مکتبِ اہل حدیث کا ترجمان ہے۔ یہ ان جرائد میں شمار کیا جاتا ہے جن کا مزاج سنجیدہ اور اسلوبِ بیان علمی ہے۔ سنجیدہ اور علمی جریدوں کے مصنفین اپنی بات کو دلیل و برہان کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں ۔ اگر کبھی نقد وجرح کی ضرورت پیش آئے تو وہ طنز و تعریض، طعن و تشنیع اور دشنام طرازی کے بجائے مکالمے اور تبادلۂ خیالات کا انداز اختیار کرتے اور زبان و بیان کے ان مسلمات کو پیشِ نظر رکھتے ہیں جو تہذیب، شایستگی اور اخلاق کے بنیادی اصولوں کو مستلزم ہیں۔

ہمارے لیے باعثِ تعجب ہے کہ اگست ۲۰۰۱ کا ''محدث '' اس تاثر سے بہت مختلف ہے۔یہ شمارہ مولانا امین احسن صاحب اصلاحی کے بارے میں نقد و تبصرے پر مبنی ہے۔اس کے تقریباً سبھی مضامین میں ان کے طرزِ فکر ، بالخصوص حدیث کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔اس وقت ہمارے پیشِ نظر زیرِ تنقید موضوعات کے حوالے سے کوئی علمی مکالمہ نہیں ہے، ہمارا منشامحض اہلِ محدث کوان مسلمات کی طرف متوجہ کرناہے جو تنقید و اختلاف کے حوالے سے دین و اخلاق کا تقاضا ہیں۔ ہم اسے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ پورے اخلاص کے ساتھ اپنے بھائیوں کو ان تجاوزات سے آگاہ کریں جو دانستہ یا نا دانستہ طور پر ان سے صادر ہو گئے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اہلِ محدث ہماری معروضات پر غور فرمائیں گے۔

تنقیداپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مستحسن عمل ہے ۔ اس کے نتیجے میں حق کے وضوح کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ لیکن اہلِ علم ودانش جانتے ہیں کہ وہی تنقید موثر اور باعثِ خیر ہوتی ہے جس میں حسبِ ذیل مسلمات کو سامنے رکھا گیا ہو:

۱۔ جس شخص پر تنقید پیشِ نظر ہے، اس کا نقطۂ نظر پوری دیانت داری سے سمجھا جائے۔

۲۔اگر اسے کہیں بیان کرنا مقصود ہو تو بے کم و کاست بیان کیا جائے۔

۳۔جس دائرے میں تنقید کی جا رہی ہے ، اپنی بات اسی دائرے تک محدود رکھی جائے۔

۴۔ اگر کوئی الزام یا مقدمہ قائم کیا جائے تو وہ ہر لحاظ سے ثابت اور موکد ہو۔

۵۔ مخاطب کی نیت پر حملہ نہ کیا جائے، بلکہ استدلال تک محدود رہا جائے۔

۶۔بات کو اتفاق سے اختلاف کی طرف لے جایا جائے نہ کہ اختلاف سے اتفاق کی طرف۔

۷۔ پیشِ نظر ابطال نہیں ، بلکہ اصلاح ہو۔

۸۔اسلوبِ بیان شایستہ ہو ۔

یہ اور اس نوعیت کے بعض دوسرے امور تنقید کے مسلمات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اہلِ محدث کا کوئی خیر خواہ درج بالا نکات میں سے ایک ایک نکتے کو سامنے رکھ کر ان کے لیے تذکیر و نصیحت کا فریضہ انجام دے ، مگر ہم یہاں صرف ان مقامات کے بارے میں متوجہ کریں گے جن میں علمی دیانت کا لحاظ نہیں رکھا جا سکا اور بات کی پوری تحقیق کیے بغیر محض الزام عائد کرنے کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔

_____

مولانا اصلاحی کے حدیث کے بارے میں طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے اہلِ محدث نے لکھا ہے:

'' (مولانا اصلاحی) نے قرآن پر تدبر کرنے ، یعنی اپنی عقل و قیاس سے قرآنی حقائق کا حلیہ بگاڑنے کے بعد ، اب حدیث کا روئے آبدار مسخ کرنے کی طرف عنانِ توجہ مبذول فرمائی ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں انھوں نے چند محاضرات (لیکچروں) کا اہتمام فرمایا۔ انھی محاضرات کے مجموعے کا نام 'مبادیِ تدبرِ حدیث' نامی کتاب ہے جس میں حدیث کے پرکھنے کے تمام اصولوں کو ناکافی اور بے وقعت قرار دیتے ہوئے نئے اصول وضع کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے تاکہ محدثین کی بے مثال کاوشوں پر پانی پھیر دیا جائے اور لوگوں کو ایسے ہتھیار فراہم کر دیے جائیں جنھیں استعمال کر کے وہ جس حدیثِ صحیح کو چاہیں رد کر دیں اور جس ضعیف اور باطل حدیث کو چاہیں ، صحیح قرار دے لیں۔دعویٰ یہ کیا گیا گیا ہے کہ حدیث کے پرکھنے کے لیے محدثانہ اصول و قواعد میں جو خامیاں رہ گئی تھیں، اس کتاب میں ان کا ازالہ کیا گیا ہے اور ایسے نئے قواعد و اصول وضع کیے گئے ہیں کہ ان کی روشنی میں تمام احادیث کو نئے سرے سے پرکھا جا سکے۔ کتنا بڑا دعویٰ ہے؟ لیکن اسی بلند و بانگ دعوے میں حدیث کا انکار مضمر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام بخاری جیسے امامِ فن نے بھی اگر کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف قرار دیا ہے تو محدثین کے اصول و قواعد میں ایسی خامیاں ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے امام بخاری کے فیصلے کے برعکس صحیح حدیث ، ضعیف اور ضعیف حدیث صحیح ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اصلاحی صاحب کے گھڑے ہوئے اصولوں کی روشنی میں تمام ذخیرۂ حدیث کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے۔ یہ انکارِ حدیث کا راستہ چوپٹ کھولنے کے مترادف نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اور کیا یہ محدثین کی تمام کاوشوں پر خطِ نسخ پھیرنا نہیں ہے؟

برعکس نہند نام زنگی کافور ، دنیا کی عام روش ہے۔ لیکن فساد کا نام اصلاح یا شراب کا نام روح افزا رکھ لینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی ہے۔۔ یہ غرورِ نفس، دل کا بہلاوا اور تسویلِ شیطان ہے۔'' ( محدث ۳۳)

آئیے اس پیرا گراف میں عائد کیے گئے الزامات کا ایک نظر میں جائزہ لیتے ہیں:

ایک الزام یہ عائد کیا گیا گیا ہے کہ مولانا اصلاحی نے محدثانہ اصولوں کو ناکافی اور بے وقعت قرار دیا ہے۔

یہ الزام جیسا کہ اقتباس سے ظاہر ہے ، مولانا اصلاحی کی کتاب ''مبادیِ تدبرِ حدیث'' کو بنیاد بنا کر عائد کیا گیا گیاہے۔ معلوم نہیں کہ اس موقع پر اسی کتاب کے یہ جملے ان کی نظر سے کیسے مخفی رہ گئے :

''اس مضمون میں وہ اصول و مبادی میں نے بیان کر دیے ہیں جو احادیث کو سمجھنے اور ان کی صحت و سقم کا فیصلہ کرنے کے لیے میں ضروری سمجھتا ہوں اور جن کو میں نے ملحوظ رکھا ہے ۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس میں کوئی مجھے منفرد قرار دے سکے ۔ یہ ساری باتیں ہمارے ائمۂ حدیث کی مستند کتابوں سے ماخوذ ہیں اور یہ ایسی معقول اور فطری ہیں کہ کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کر سکتا ۔ جو لوگ صرف اپنے فقہی مسلک ہی کی حدیثیں پڑھنے پڑھانے پر قانع ہیں ان کا کام بہت سہل ہوتا ہے ۔ ممکن ہے وہ ان اصولوں کی قدرو قیمت کا اندازہ نہ کر سکیں ، بلکہ اندیشہ ہے کہ وہ ان سے متوحش ہوں ۔ لیکن جن کو پورے ذخیرۂ حدیث کی چھان بین کرنی اور اس کو دین کے ماخذ کی حیثیت سے تمام خلق کے سامنے پیش بھی کرنا ہو، ان کے ہاتھوں میں ایک ایسی کسوٹی کا ہونا ضروری ہے جس کو ایک کسوٹی تسلیم کرنے سے کوئی صاحبِ انصاف انکار نہ کر سکے۔'' ( مبادیِ تدبرِ حدیث ۱۶)

دوسرا الزام یہ عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے فہمِ حدیث کے نئے اصول وضع کیے ہیں ۔

فہمِ حدیث کے لیے عقل و استدلال کی بنیاد پر کوئی ایسا اصول وضع کرناجو متقدمین نے وضع نہ کیا ہو،کسی لحاظ سے بھی لائقِ تہمت نہیں ہے۔ اس ضمن میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے ،مگر اس کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اصلاحی صاحب قدما سے کسی مختلف جگہ پر کھڑے ہی نہیں ہیں۔''مبادیِ تدبرِ حدیث'' کو اگر فی الواقع پڑھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مولانا اصلاحی نے تدبرِ حدیث اور روایت کے ردو قبول کے جو اصول بیان کیے ہیں، وہ قدما کے کام سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔

انھوں نے تدبرِ حدیث کے یہ پانچ بنیادی اصول بیان کیے ہیں:

۱۔قرآنِ مجید ہی امتیاز کی کسوٹی ہے۔

۲۔ ہر حدیث، احادیث کے مجموعی نظام کا ایک جز ہے۔

۳۔حدیث کی اصل زبان عربی ہے۔

۴۔کلام کے عموم و خصوص ، موقع و محل اور خطاب کا فہم ضروری ہے۔

۵۔ دین اورعقل و فطرت میں منافات نہیں ہے۔

ہو سکتا ہے کہ سلف صالحین نے ان باتوں کو اس طرح متعین طریقے سے بیان نہ کیا ہو ، لیکن کیا ان میں کوئی ایک بات بھی ایسی ہے جسے ہمارے جلیل القدر ائمہ نے اختیار نہ کیا ہو یا جس سے صرفِ نظر کیا ہو؟اگر کوئی ایسی بات ہے تو اہلِ محدث کو اسے ضرور بیان کرنا چاہیے۔

اسی طرح حدیث کے غث وسمین میں امتیاز کے اصولوں کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مولانا اصلاحی پورے اصرار کے ساتھ ائمۂ سلف کے اصولوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ لکھتے ہیں:

''حدیث کے غث و سمین میں امتیاز کے لیے ہمارے نزدیک چھ بنیادی اصول ہیں جن کی حیثیت فنِ حدیث میں اساسی کلیات کی ہے ۔ ان اصولوں کی رہنمائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب روایات کے صحیح اور سقیم میں نہ صرف یہ کہ امتیاز آسان ہو جاتا ہے ، بلکہ علمِ حدیث سے کماحقہ فیض یاب ہونے کے لیے حدیث کے طالب علم کو ان کا ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا از بس ضروری ہے ۔

یہ ایک نہایت حساس موضوع ہے اس لیے ہم اس امر کا اہتمام ضروری خیال کرتے ہیں کہ اپنے مباحث کی بنیاد احادیثِ رسول اور سلف صالحین کے ارشادات ہی پر رکھیں ، اپنی جانب سے کوئی بات نہ کہیں ۔ اس موضوع پر پیچھے بھی بعض ضروری باتیں عرض کی جا چکی ہیں ، یہاں مقصود ان کو ایک ضابطہ کے تحت لانا ہے تاکہ پوری بحث سمٹ کر سامنے آ جائے ۔

ہمارے سلف میں اصولِ حدیث پر خطیب بغدادی علیہ الرحمۃ کو سند کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے نہایت تفصیل کے ساتھ تمام ضروری مباحث اپنی شان دار کتاب ''الکفایہ فی علم الروایۃ' 'میں پیش کیے ہیں ۔ ہماری یہ بحث بیشتر اس کے مندرجہ ذیل ابواب سے مستنبط ہے۔'' (مبادی تدبرِ حدیث ۵۷)

اس پیرا گراف میں تیسرا الزام یہ عائد کیا گیا گیا ہے کہ'' مبادیِ تدبرِ حدیث'' میں محدثین کی کاوشوں کی نفی کی گئی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ یہ بات قارئین کے لیے باعثِ حیرت ہو کہ اس ضمن میں مولانا کا نقطۂ نظر اس کے بالکل برعکس ہے۔ ملاحظہ فرمائیے اور علمی دیانت کی داد دیجیے:

'' حدیث کے طالبِ علموں کو جملہ رواتِ حدیث کے بارے میں جرح و تعدیل کے لیے بہرحال سلف کی تحقیقات پر ہی قناعت کرنی پڑے گی اور مجرد انھی کی تحقیقات کی کسوٹی پر کسی سند کے راویوں کا درجہ متعین کیا جائے گا ۔ چنانچہ اب کسی حدیث کی سند کو متقدمین کی فراہم کردہ انھی معلومات کی روشنی میں چانچا پرکھا جائے گا ۔ اس لیے کہ ذرائع تحقیق مرورِ زمانہ سے اب معدوم ہو چکے ہیں ۔ اس میں ہمارے ان اکابرینِ فن نے تحقیق کی معراج کی بلندیوں کو چھوا ہے اور انسانی امکان کی حد تک اس فن کی خدمت کی ہے۔'' (مبادیِ تدبرِ حدیث ۹۱)

ایک اور مقام دیکھیے:

''ملتِ اسلامیہ کا یہ بے مثل کارنامہ ہے کہ اس کے عظیم محدثین نے صدرِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی اور صحیح علم کو ممکنہ حد تک غل و غش سے پاک کر کے قابلِ اعتماد ذخیرۂ احادیث کی شکل میں مامون و محفوظ کیا ۔ احادیث کی جمع و تدوین کا یہ عظیم کام ،ائمۂ فنِ حدیث کے مقرر کردہ بے لاگ اصولوں کی روشنی میں دوسری صدی ہجری کے وسط سے لے کر تیسری صدی ہجری کے وسط کے درمیانی عرصہ میں انجام پایا ۔ اس زمانے کو عصرِ روایت کے شباب کا دور کہا جا سکتا ہے ۔ اس دور میں حدیث کا قابلِ قدر سرمایہ تحریری شکل میں مختلف مجموعوں کی صورت میں محفوظ ہو گیا اور یوں عصرِ روایت کا اختتام ہو گیا۔ اپنی صفات و خصوصیات کی بنا پر ان مجموعوں کو قبولیتِ خواص و عوام اور شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔''( مبادی تدبرِ حدیث ۱۴۳)

بخاری و مسلم کے حوالے سے لکھتے ہیں:

''صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے متعلق یہ بات مشہور عوام و خواص ہے کہ ان دونوں کتابوں میں جو چند ہزار حدیثیں لی گئی ہیں، وہ لاکھوں حدیثوں کے انبار میں سے چھانٹ کر لی گئی ہیں ۔ ذرا اندازہ کیجیے ان عظیم خادمانِ حدیث کی اس محنتِ شاقہ کا جو رطب و یابس روایات کے انبار میں سے ان چند ہزار جواہر ریزوں کو چھانٹنے میں ان کو برداشت کرنی پڑی ہو گی ۔ ان کی اس جاں گداز محنت ہی کی بدولت آپ کو یہ روایات ان کتابوں میں اس شکل میں ملتی ہیں کہ ثقہ کی ثقہ سے روایت کے زینہ سے چڑھتے ہوئے آپ بغیر کسی شائبۂ ارسال و انقطاع اور بدون کسی اندیشۂ تدلیس کے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ قدس تک پہنچ جاتے ہیں ۔

بہرحال ان اماموں کی خدمت کی داد دیجیے ۔ ان کی یہی خدمت اتنی بڑی ہے کہ ہم ان کے سامنے گردن نہیں اٹھا سکتے ۔ ان کے معیارِ حدیث کی بنیاد پر امت نے صحیحین کو یہ درجہ دیا ہے کہ ان کا مقام صدرِ اول سے فنِ حدیث کی امہات کے طور پر رہا ہے اور یہ مقام موطا امام مالک کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ہے ۔ ان کے بعد اگر کچھ اور لوگوں نے بھی کام کیا ہے تو انھی کی اتباع میں کیا ہے۔'' (۱۵۲)

صحیح بخاری کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''صحیح بخاری کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا معیارِ سند موطا کے سوا سارے ذخیرۂ احادیث میں سب سے عالی ہے ۔ سند کے معاملے میں امام بخاری کی احتیاط اپنے نقطۂ کمال کو پہنچی ہوئی ہے ۔۔۔۔ اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے باوجود ایک ہزار سے زیادہ شیوخِ حدیث سے اخذو استفادہ کے صرف انھی محدثین کی روایتیں منتخب کیں جو ایمان کو قول و عمل کا مجموعہ قرار دیتے تھے ۔ اسی وجہ سے کلامی اعتبار سے کتاب کی شان نہایت نمایاں ہے اور ا س کے بغور مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ اس کتاب کی ترتیب کے وقت یہ پہلو بھی پوری طرح سے ان کے پیشِ نظر رہا ہے کہ مرجۂ اور ان کے جتنے ہم مشرب گروہ ان کے زمانے میں تھے اور انھوں نے جو فتنے ان دنوں اٹھائے تھے ان کا قلع قمع کیا جائے۔ ۔۔۔اس کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنی صحیح کے عنوانات ایک خاص طریقہ سے مرتب کیے ہیں جس سے ان کی وسعتِ علم اور تفقہ فی الدین کاثبوت ملتا ہے ۔ اسی وجہ سے تربیتِ فکر کے پہلو سے اس کا درجہ بڑا اونچا ہے ۔ اس کا کمال یہ ہے کہ یہ دماغ کو جھنجھوڑتی اور غور کرنے پر آمادہ کرتی ہے ۔ اس لیے تفہیمِ دین کے لیے یہ نہایت اہم ہے۔'' (۱۵۳)

_____

''محدث'' کے خیال میں:

''مولانا اصلاحی کا موقف یہ ہے کہ حدیثیں ظنی الثبوت اور مجمو عۂ رطب ویابس ہیں۔ اگر کوئی حدیث سنتِ متواترہ کے مطابق ہے تو یہ اس سنتِ متواترہ کی تائیدِ مزید ہے اور اگر اس کے خلاف ہے تو قابلِ رد ہے۔'' (۴۷)

اس بیان کے لیے ''مبادیِ تدبرِ حدیث ''کے صفحہ ۲۸ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس صفحے پر ''مجموعۂ رطب ویابس '' کے الفاظ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ بلا شبہ مولانا نے سنتِ متواترہ کو اخبارِ آحاد پر ترجیح دی ہے ۔ اس کے لیے انھوں نے پورے استدلال سے بات کی ہے اور احتیاط کے تقاضوں کو ہر طرح سے ملحوظ رکھا ہے۔ صفحہ ۲۸ پر ان کے اصل الفاظ دیکھیے اور پھر ان کا اہلِ محدث کی روایت بالمعنیٰ سے تقابل کیجیے:

''جس طرح قرآن قولی تواتر سے ثابت ہے اسی طرح سنت امت کے عملی تواتر سے ثابت ہے مثلاً ہم نے نماز اور حج وغیرہ کی تمام تفصیلات اس وجہ سے اختیار نہیں کیں کہ ان کو چند راویوں نے بیان کیا، بلکہ یہ چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمائیں۔ آپ سے صحابۂ کرام نے ، ان سے تابعین ، پھر تبع تابعین نے سیکھا ۔ اسی طرح بعد والے اپنے اگلوں سے سیکھتے چلے آئے ۔ اگر روایات کے ریکارڈ میں ان کی تائید موجود ہے تو یہ اس کی مزید شہادت ہے ۔ اگر وہ عملی تواتر کے مطابق ہے تو فبہا اور اگر دونوں میں فرق ہے تو ترجیح بہرحال امت کے عملی تواتر کو حاصل ہو گی ۔ اگر کسی معاملے میں اخبارِ آحاد ایسی ہیں کہ عملی تواتر کے ساتھ ان کی مطابقت نہیں ہو رہی تو ان کی توجیہ تلاش کی جائے گی ۔ اگر توجیہ نہیں ہو سکے گی تو بہرحال انھیں مجبوراً چھوڑا جائے گا، اس لیے کہ وہ ظنی ہیں اور سنت ان کے بالمقابل قطعی ہے ۔'' ( مبادیِ تدبرِ حدیث ۲۸)

اس اقتباس سے یہ چند باتیں بالکل واضح ہیں:

ایک یہ کہ وہ یہاں سنت اور حدیث میں باعتبارِ تواتر فرق واضح کر رہے ہیں۔

دوسرے یہ کہ ان کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ جس طرح قولی تواتر سے ملنے والے قرآنِ مجید اورکسی روایت میں عدمِ مطابقت ہو تو قرآنِ مجید کی بات فائق سمجھی جائے گی ، اسی طرح عملی تواتر سے ملنے والی سنت اور روایت میں کوئی فرق ہو تو ترجیح سنت کو حاصل ہو گی۔

تیسرے یہ کہ اگر کسی موقعے پر سنت اور اخبارِ آحاد باہم غیر مطابق ہوں تو یک قلم اخبارِ آحاد کو رد نہیں کر دیا جائے گا ، بلکہ ان کی کوئی توجیہ تلاش کی جائے گی۔

چوتھے یہ کہ اگر توجیہ ممکن نہ ہو تو پھر مجبوراً سنت کو اخبارِ آحاد پر ترجیح دینا پڑے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مضمون کو جن الفاظ کا جامہ اہلِ محدث نے پہنایا ہے ، وہ کس زمرۂ علم و تحقیق میں آتا ہے؟

_____

اسی دیانت کی ایک اور مثال وہ مقام ہے جہاں مولانا اصلاحی پر انکارِ حدیث کا الزام عائد کر کے یہ کہا گیا ہے کہ مولانا اس جرم کا خود اعتراف کرتے ہیں۔ اس بیانِ اعترافِ جرم کے لیے جو دلائل فراہم کیے گئے ہیں ، ان میں اور وضع کردہ مقدمے میں اتنا ہی تعلق ہے جو آسمان اور زمین میں ہے یا جو سیاہ اور سفید میں ہے۔تفصیل ملاحظہ فرمائیے:

''ان سب کے افکار کا ایک ہی نتیجہ نکلا ہے اور نکل رہا ہے کہ جو بھی حدیث ان کے ذہنی اختراع ، خانہ ساز نظریے اور اپنی عقلِ نارسا کے خلاف محسوس ہوئی، چاہے وہ روایت و درایت کے لحاظ سے کتنی ہی قوی ہو، اس کا انکار کرنے ، بلکہ اس کا مذاق اڑانے میں انھیں کوئی تامل اور حجاب نہیں ۔ ہماری اس بات کا یقین نہ ہو تو خود ان حضرات کا اعتراف ملاحظہ ہو:

سر سید کی 'تفسیر القرآن' کا بھی فوٹو ایڈیشن شائع ہوا ہے ، اس کے شروع میں مشہور منکرِ حدیث پروفیسر رفیع اللہ شہاب کا تعارف ہے ۔ ۔۔۔ اس میں یہ صاحب لکھتے ہیں:

''۱۹۰۵ء کے لگ بھگ کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کے لیڈر مولانا امین احسن اصلاحی صاحب میانوالی تشریف لائے ، ان دنوں ان کی کتاب 'تفسیر القرآن' (غالباً یہ مبادی تدبرِ قرآن ہو گی ، ناقل) شائع ہوئی تھی ، جس میں قرآن مجید کی تفسیر کے اصول بیان کیے گئے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے حلقوں کی جانب سے اس کتاب کی بڑی تعریف کی جا رہی تھی ۔ اس قسم کی ایک تعریفی مجلس میں جس میں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب بھی موجود تھے ، راقم نے عرض کیا کہ سر سید احمد خان نے یہی اصول اپنے رسالے اصولِ تفسیر میں بیان کیے ہیں، اس پر مولانا کا رنگ فق ہو گیا اور فرمایا کہ کیا کسی کے پاس یہ رسالہ موجود ہے ۔ راقم نے اثبات میں جواب دیا تو مزید کچھ کہنے کی بجائے خاموش ہو گئے ۔''(مطبوعہ دوست ایسوسی ایٹس، الکریم مارکیٹ ، اردو بازار لاہور ) ''

(محدث ۸)

اس اقتباس میں پروفیسر رفیع اللہ صاحب شہاب کاایک اقتباس بطورِ دلیل نقل کیا گیا ہے۔

اس میں دیکھیے مولانا اصلاحی کے الفاظ نہیں، بلکہ ایک واقعہ نقل ہوا ہے۔

یہ واقعہ مولانا سے فکری اختلاف رکھنے والے شخص نے بیان کیا ہے۔

واقعے میں مولانا اصلاحی کا کوئی ایک جملہ بھی نقل نہیں ہوا۔

واقعہ نگار کو مذکورہ کتاب کا نام تک یاد نہیں ہے ۔

واقعہ مولانا کے اصولِ تدبرِ حدیث سے متعلق نہیں، بلکہ اصولِ تدبرِ قرآن سے متعلق ہے۔

یہ اس بیانِ اعترافِ جرم کی حقیقت ہے۔

_____

ایک مقام پر یہ مقدمہ قائم کیا گیا ہے کہ حاملینِ فکرِ فراہی چونکہ خود حدیث کا انکار کرتے ہیں ،اس لیے وہ غلام احمد صاحب پرویز کو منکرِ حدیث ماننے سے انکاری ہیں۔ اس مقدمے کے لیے ''اشراق'' میں شائع ہونے والے ایک سوال جواب کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''خود اس گروہ کے اپنے رسالہ اشراق میں فکرِ پرویز کے عنوان سے ایک سوال اور اس کا جواب شائع ہوا ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں ۔ (ماہنامہ اشراق : مارچ ۱۹۹۹ء ، ص۵۲)

''سوال : غلام احمد پرویز کی فکر کیا ہے ۔۔۔ کیا وہ مسلمان ہیں ؟

جواب : غلام احمد پرویز اس دور کی باقیات ہیں جب جدید سائنس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے افکار نے مذہب کو چیلنج کیا تھا اور اس کے نتیجے میں بعض لوگ دین کو قابلِ قبول بنانے کے لیے دین کی صورت تبدیل کرنے پر راضی ہو گئے تھے ۔ پرویز صاحب کے بارے میں یہ بات غلط ہے کہ وہ حدیث کے منکر ہیں ۔ حقیقت میں وہ ہر اس بات کے منکر ہیں جو جدید فکری ذہن کو قبول نہیں ہے خواہ وہ قرآن مجید ہی میں کیوں نہ بیان ہوئی ہو ۔ جہاں تک ان کے مسلمان ہونے کا تعلق ہے اس سلسلے میں ہم یہی کہتے ہیں کہ کسی عام آدمی یا عالم کا کسی کو غیر مسلم قرار دینا ایک خلافِ دین امر ہے ۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دوسرے کو اس کی غلطی بتا دیں۔''

اس سوال و جواب سے اس ہم آہنگی کا اندازہ کیا جا سکتاہے جو غامدی اور پرویزی نظریات میں پائی جاتی ہے اور جس کی وضاحت ہم بھی کر رہے ہیں ۔ اس میں پرویز صاحب کو منکرِ حدیث ہی ماننے سے انکار نہیں کیا بلکہ انھوں نے جن قرآنی حقائق کا انکار کیا ہے ، اس کا اعتراف بھی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ان کی مسلمانی سے انکار کو خلافِ دین امر بتایا گیا ہے ۔ یہ جواب ان ذہنی تحفظات کا غماز ہے جس کا شکار یہ گروہ اپنے افکار و نظریات کی وجہ سے ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ پرویز کو منکرِ حدیث ماننے کے بعد ، خود ہمارا شمار بھی منکرینِ حدیث میں ہو گا۔ ''(محدث ،۹)

اس سوال و جواب سے اہلِ ''اشراق'' کی فکرِ پرویز سے ہم آہنگی کا جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے ۔ معلوم نہیں اس کا باعث ناشناسیِ زبان ہے یا ناشناسیِ اخلاق، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس مفہوم کا محولہ اقتباس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص یہ جملہ بولے کہ:''زید کے بارے میں یہ بات غلط ہے کہ وہ صحابۂ کرام کا منکر ہے۔ حقیقت میں وہ پیغمبرِ اسلام کا منکر ہے۔ '' اس جملے سے کیا یہ نتیجہ برآمد کرنا قرینِ انصاف ہو گا کہ اس شخص نے زید کے صحابۂ کرام کا منکر ہونے کی تردید کردی ہے۔ ہر تحریر میں بعض مقدرات ہوتے ہیں جو الفاظ اور جملوں کے دروبست سے واضح ہوتے ہیں ۔ مطالعہ کرتے وقت قاری انھیں لازماً پیشِ نظر رکھتا ہے۔جناب طالب محسن صاحب کے مذکورہ جواب کا متعلقہ حصہ اگر ہم ان مقدرات کو کھول کر پڑھیں تو اس کی صورت یہ ہو گی:

''پرویز صاحب کے بارے میں یہ بات غلط ہے کہ وہ(محض) حدیث کے منکر ہیں ۔(وہ صرف حدیث کے منکر نہیں ہیں، بلکہ) حقیقت میں وہ ہر اس بات کے منکر ہیں جو جدید فکری ذہن کو قبول نہیں ہے، (خواہ وہ حدیث میں بیان ہوئی ہو اور) خواہ وہ قرآنِ مجید ہی میں کیوں نہ بیان ہوئی ہو ۔(چنانچہ انھیں انکارِ حدیث کا مجرم تو قرار دیا ہی جا سکتا ہے ، لیکن ان کا اصل جرم انکارِ قرآن ہے)۔''

انھی طالب محسن صاحب نے ''اشراق''کے کئی شماروں میں فکرِ پرویز پر متعددمضامین کی صورت میں جامع تنقید کی ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ ''محدث'' کے اہلِ تحقیق کی نظر ان مضامین کے بجائے چند لائنوں کے اس سوال و جواب ہی پر کیوں پڑی؟ انھی مضامین میں سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

'' پرویز صاحب کے سامنے '' صحیح مذہب ''کا ایک خود ساختہ تصور تھا۔ اسلام کو اس تصور کے مطابق ثابت کرنے کے لیے ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود قرآنِ مجید تھا۔ اگرچہ احادیث بھی ایک رکاوٹ تھیں ، لیکن ان میں شامل بعض غلط روایات کی نشان دہی کر کے ان کے صحیح کو بھی ناقابلِ استدلال قرار دے دیا۔ قرآنِ مجید کے ساتھ یہ معاملہ کرنا ناممکن تھا۔ چنانچہ انھوں نے زبان سے استدلال کے نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ لغت کی تحقیق کا اپنا دریافت کردہ منہاج اختیار کر کے انھوں نے ہر اس بات کا انکار کر دیا جو ان کے صحیح مذہب کے مطابق نہیں تھی۔

اگرچہ سرسید مرحوم سے مذہب کی تاویلِ باطل کی جو رو چلی تھی ، وہ کسی حقیقی بنیاد سے محروم ہونے کے باعث اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک ، اس کی تغلیط کے لیے بہت تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اتنا ہی کافی ہے کہ ان کے طرزِ استدلال کے بے سرمایہ ہونے کو واضح کر دیا جائے۔ اسلام کے شجرِ طیبہ پر ٹانکی ہوئی یہ مصنوعی آکاس بیل خود ہی جھڑ جائے گی۔'' ( اشراق ، اگست ۱۹۹۷ ، ص۵۶)

اسی طرح وہ ایک اور مضمون میں لکھتے ہیں:

''ہمارے نزدیک اصحابِ پرویزکی غلطی یہ ہے کہ وہ اصل میں قرآنِ مجید کے الفاظ کی حاکمیت نہیں مانتے ، اور ہم انھیں اسی وجہ سے قرآن کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ اس جرم کا ارتکاب اگر کسی اور سے بھی ہوتو وہ بھی اسی دعوت کا مستحق ہے ۔ خواہ وہ ہمارا ممدوح بزرگ ہی کیوں نہ ہو ۔ ''اشراق'' کے فائل ہماری اس روش پر گواہ ہیں ۔ مولانا مودودی ہوں یا مولانا اصلاحی یا گزرے زمانوں کا کوئی بڑا امام ، اگر ہم نے اس کی کسی بات کو خلافِ قرآن پایا ہے یا ہم نے محسوس کیا ہے کہ وہ الفاظِ قرآن کو کھینچ تان کر اپنی کسی رائے کے حق میں پیش کر رہا ہے تو ہم نے اس سے بھی یہی گزارش کی ہے کہ وہ قرآنِ مجید کی حاکمیت کو بے چون و چرا مان لے ۔ ہم دین کے ہر خادم کا احترام کرتے ہیں ۔ لیکن یہ احترام احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے اور ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ احترام کا یہ جذبہ حق کو حق کہنے اور باطل کو باطل قرار دینے کی راہ میں مانع ہو۔'' ( اشراق ، اکتوبر ۱۹۹۷ ، ص۳۹)

یہ ہے اہلِ ''اشراق'' اور فکرِ پرویز میں ''ہم آہنگی'' کی اصل حقیقت ۔یہ حقیقت سامنے آ جانے کے بعد ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ ''محدث'' کے مذکورہ مندرجات کو دروغ گوئی یا دھوکا دہی سے تعبیر کریں ، مگر ہم تو اسے سہوہی قرار دیں گے، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ دین کا کوئی بھی داعی نہ جانتے بوجھتے علمی بد دیانتی کا ارتکاب کر سکتا ہے اور نہ اخلاقی لحاظ سے اس پستی میں اتر سکتا ہے ۔

_____

اہلِ محدث نے مولانا اصلاحی پر ایک الزام یہ بھی عائد کیا ہے کہ وہ جاہلی ادب کے مقابلے میں حدیث کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

''مولانا اصلاحی کی ایک عظیم گمراہی یا فکری تضاد یہ ہے کہ ان کے ہاں حدیثِ رسول کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہ قرآن فہمی کے لیے جاہلی ادب کو سب سے زیادہ ضروری قرار دیتے ہیں، جس کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے، اس کے مقابلے میں وہ حدیث کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔۔۔۔ آخری دور میں جب انھوں نے اپنی توجہ تفسیر پر مبذول کر دی، تو حدیث کو نظر انداز کر دیا، اور حدیثِ رسول کے مقابلے میں لغت کو، جاہلی ادب کو اور اپنی عقل وفہم کو زیادہ اہمیت دی۔'' (محدث ۲۵)

تعجب ہے کہ یہ بات وہ لوگ کہہ رہے ہیں جن کے اپنے قلم سے قرآن وحدیث کے تراجم، تفاسیر اور تشریحات صادر ہو چکی ہیں۔یہ خدمات انجام دیتے ہوئے کیا انھوں نے ہزاروں مرتبہ لغت کی مراجعت نہیں کی ہے؟ کیا وہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہ لغات آسمان سے نازل نہیں ہوئیں ، بلکہ محققینِ لسانیات نے کلامِ عرب کا تتبع کر کے تصنیف کی ہیں؟ کیا وہ ترجمہ و تشریح کرتے وقت اور قرآن و حدیث کے الفاظ کا مدعا و مفہوم متعین کرتے وقت اپنی عقل و فہم کے دروازوں کو بند کر لیتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے تو ہمیں ان سے کچھ نہیں کہنا، لیکن اگر وہ ان کا جواب نفی میں دیتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کے اور مولانا اصلاحی اورقدیم و جدید محققینِ قرآن و حدیث کے مابین کم سے کم طریقۂ کار کے لحاظ سے وہ کیا فرق ہے جو باقی رہ جاتا ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ مولانا اصلاحی جاہلی ادب کو قرآنِ مجید اور حدیث کی زبان سمجھنے کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔انھوں نے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ اپنی تحریروں میں بیان کی ہے۔ چنانچہ دیکھیے:

'' قرآن کی زبان عربی ہے اور عربی بھی وہ عربی جو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے معجزے کی حد کو پہنچی ہوئی ہے۔ جن و بشر میں سے کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کر سکے۔۔۔اس درجے و مرتبے کے کلام کے زور و اثر اور اس کی خوبیوں اور لطافتوں کا اگر کوئی شخص اندازہ کرنا چاہے تو یہ کام، ظاہر ہے کہ وہ اس کے ترجموں ، اس کی تفسیر اور اس کے لغتوں کے ذریعے سے نہیں کر سکتا، بلکہ اس کے لیے اس کو اس زبان کا ذوق پیدا کرنا پڑے گا، جس میں وہ کلام ہے۔۔۔ عربی زبان بالخصوص قرآن کی زبان کے معاملے میں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اس وقت وہ زبان کہیں بھی رائج نہیں ہے جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔ عرب وعجم دونوں ہی میں اس وقت جو عربی پڑھائی جاتی ہے اور لکھی بولی جاتی ہے وہ اپنے اسلوب و انداز، اپنے لب و لہجہ اور اپنے الفاظ و محاورات میں اس زبان سے بہت مختلف ہے جس میں قرآن ہے۔۔۔قرآنِ مجید جس زبان میں اترا ہے ، وہ نہ تو حریری و متنبی کی زبان ہے ، نہ مصر و شام کے اخبارات و رسائل کی ، بلکہ وہ اس ٹکسالی زبان میں ہے جو امراء القیس، عمرو بن کلثوم، زہیر اور لبید جیسے شعرا اور قس بن ساعدہ جیسے بلند پایہ خطیبوں کے ہاں ملتی ہے۔ اس وجہ سے جو شخص قرآن کی زبان کے ایجاز واعجاز کا اندازہ کرنا چاہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دورِ جاہلیت کے شعرا و ادبا کے کلام کے محاسن و معایب کے سمجھنے کا ذوق پیدا کرے۔'' (تدبرِ قرآن ۱/ ۱۴)

''مبادی تدبرِ حدیث'' میں لکھتے ہیں :

''حدیث کی اصل زبان ٹکسالی عربی ہے۔ اگرچہ حدیث کی روایت، قرآن کے برعکس بیشتر بالمعنٰی ہوئی ہے ، تاہم صحیح احادیث کی زبان کا ایک خاص معیار ہے جو بہت اعلیٰ ہے۔ احادیث کی زبان دوسری چیزوں کی زبان سے بالکل مختلف ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ احادیث کے مجموعے مدون و مرتب ہو گئے اور عہدِ روایت کے ایک خاص دور تک کی زبان ان میں محفوظ ہو گئی ۔۔۔ حدیث کی لغوی و نحوی مشکلات کے حل میں ان فنون کے ماہرین ہی کی آرا معتبر سمجھی جائیں گی۔ زبان کی باریکیوں کے معاملے میں مسلّم لغویوں اور نحویوں کا مقام بہرحال ارفع و اعلیٰ تسلیم کرنا ہو گا اور تحقیق کے دوران میں ان کی تعبیر اور رائے اوفق سمجھی جائے گی۔'' ( ۵۱)

_____

ایک مقدمہ یہ قائم کیا گیا ہے کہ مولانا کے حدیث پر کام کے نتیجے میں ان کا قرآن کو ماننے کا دعویٰ بھی بے حیثیت قرار پاتا ہے اورا س بات کو مولانا اصلاحی نے خود تسلیم کیا ہے۔'' تسلیم ''کے لیے جو استدلال کیا گیا ہے، وہ اس قدر معرکہ آرا ہے کہ علم و تحقیق کی تاریخ میں اس کی مثال شاید ہی مل سکے۔ ''محدث'' کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

''مولانا اصلاحی صاحب کی کتاب 'مبادیِ تدبرِ حدیث' ایک نہایت خطرناک کتاب ہے جس میں محدثین کی کاوشوں کی نفی یا ان کا استخفاف کر کے انکارِ حدیث کا راستہ چوپٹ کھول دیا گیا ہے جس کے بعد قرآن کو ماننے کا دعویٰ بھی بے حیثیت قرار پاتا ہے۔ اور یہ کوئی مفروضہ ، واہمہ یا تخیل کی کرشمہ آرائی نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہے جسے خود مولانا اصلاحی تسلیم بلکہ اس کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے مقدمہ تفسیر تدبرِ قرآن میں منکرینِ حدیث کے رویے کے ضمن میں لکھتے ہیں:

''منکرینِ حدیث کی یہ جسارت کہ وہ صوم و صلوٰۃ، حج و زکوٰۃ ، اور عمرہ و قربانی کا مفہوم بھی اپنے جی سے بیان کرتے ہیں اورا مت کے تواتر نے ان کی جو شکل ہم تک منتقل کی ہے ، اس میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق ترمیم و تغیر کرنا چاہتے ہیں، صریحاً خود قرآنِ مجید کے انکار کے مترادف ہے۔'' (تدبرِ قرآن ۱؍ ۲۹) ''

(محد ث ۳۳)

گویا پہلے مولانا اصلاحی پر انکارِ حدیث کا بے بنیاد مقدمہ قائم کیا اور پھر ان کی منکرینِ حدیث کا قلع قمع کرنے والی تیغِ بے نیام کو اٹھایا اور انھی پروار کر دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ روشنی کے اثبات کے لیے رات کی مثال دی جائے اورذائقۂ شیریں کی وضاحت کے لیے حنظل کا حوالہ دیا جائے ۔یہ طرزِ استدلال کا ایک نیا اسلوب ہے۔ اس کے سامنے آ جانے کے بعد اب یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہ مقدمہ قائم کرے کہ اہلِ محدث رجم کی روایات کا انکار کرتے ہیں اور اس کی دلیل کے طور پر جناب حافظ صلاح الدین صاحب یوسف کی کتاب ''حدِ رجم کی شرعی حیثیت ''کو پیش کر دے۔

_____

آخر میں ہم صرف یہ عرض کریں گے کہ جس طرح اہلِ محدث نے مولانا اصلاحی کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر غلط معنی دیے ہیں، اسی طرح کوئی علم و اخلاق سے بے بہرہ شخص ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ کر سکتا ہے۔اس معروضے کے لیے یہ ایک مثال ہی کافی ہے۔

اہلِ محدث لکھتے ہیں:

''(مبادیِ تدبرِ حدیث میں) نئے اصول وضع کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے تاکہ محدثین کی بے مثال کاوشوں پر پانی پھیر دیا جائے اور لوگوں کو ایسے ہتھیار فراہم کر دیے جائیں جنھیں استعمال کر کے وہ جس حدیثِ صحیح کو چاہیں رد کر دیں اور جس ضعیف اور باطل حدیث کو چاہیں ، صحیح قرار دے لیں۔'' (محدث ۳۳)

اس اقتباس سے یہ بات پوری طرح مبرہن ہے کہ اہلِ محدث کے نزدیک احادیث'' ضعیف اور باطل'' بھی ہوتی ہیں۔ کیا اس بات کو بنیاد بنا کر کوئی شخص ان کے خلاف حدیث کے انکار اور ابطال کا مقدمہ نہیں قائم کر سکتا؟

____________