ایمان و اسلام کے منافی (۴)


تحقیق و تخریج: محمدعامر گزدر

۱۔عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، قَالَ:۱ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَمْسَۃٌ مِنَ الْعَرَبِ وَأَرْبَعَۃٌ مِنَ الْعَجَمِ، [وَبَیْنَنَا وَسَاءِدُ مِنْ أَدَمٍ أَحْمَرَ]،۲ فَقَالَ: ''أَتَسْمَعُوْنَ؟'' قُلْنَا: سَمِعْنَا، مَرَّتَیْنِ، قَالَ: ''اسْمَعُوْا، إِنَّہُ سَیَکُوْنُ بَعْدِيْ أُمَرَاءُ [یَغْشَاہُمْ غَوَاشٍ، أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ یَظْلِمُوْنَ وَیَکْذِبُوْنَ]،۳ [یُعْطُوْنَ بِالْحِکْمَۃِ عَلٰی مَنَابِرَ، فَإِذَا نَزَلُوا اخْتُلِسَتْ مِنْہُمْ، وَقُلُوْبُہُمْ أَنْتَنُ مِنَ الْجِیَفِ]،۴ فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ، فَصَدَّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّيْ، وَلَسْتُ مِنْہُ، [وَأَنَا مِنْہُ بَرِيْءٌ]،۵ وَلَیْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہِمْ وَلَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَہُوَ مِنِّيْ، وَأَنَا مِنْہُ، وَسَیَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ''.

۲۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:۶ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ،۷ وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ، فَمَاتَ، فَمِیْتَۃٌ جَاہِلِیَّۃٌ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍ، یَغْضَبُ لِعَصَبَتِہِ، [أَوْ یَدْعُوْ إِلٰی عَصَبَتِہِ]،۸ وَیُقَاتِلُ لِعَصَبَتِہِ وَیَنْصُرُ عَصَبَتَہُ فَقُتِلَ، فَقِتْلَۃٌ جَاہِلِیَّۃٌ، [فَلَیْسَ مِنْ أُمَّتِيْ]،۹ وَمَنْ خَرَجَ [مِنْ أُمَّتِيْ]۱۰ [بِسَیْفِہِ]۱۱ عَلٰی أُمَّتِيْ، یَضْرِبُ بَرَّہَا وَفَاجِرَہَا، لَا یَنْحَاشُ لِمُؤْمِنِہَا،۱۲ وَلَا یَفِيْ لِذِيْ عَہْدِہَا،۱۳ فَلَیْسَ مِنِّيْ، وَلَسْتُ مِنْہُ''.

۱۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے ۔ اُس وقت ہم نو آدمی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے:پانچ عرب کے اور چار عجمی۔ ہمارے درمیان سرخ چمڑے کے تکیے پڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا:آپ لوگ سنتے ہو؟ ہم نے عرض کیا:ہم سراپا گوش ہیں ، (یا رسول اللہ)۔ ہم نے یہ بات دومرتبہ کہی۔آپ نے فرمایا:سنو، زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ میرے بعد ایسے لوگ تم پر حکمران ہوں گے کہ لوگوں میں سے کچھ حاشیہ بردار اُن پر چھا جائیں گے ۔ وہ ظلم وستم کریں گے اورجھوٹ بولیں گے۔(اِسی طرح)منبروں پربیٹھ کر حکمت بانٹیں گے ۱، لیکن جب نیچے اتریں گے تووہ اُن سے اچکی جاچکی ہوگی۲۔ اُن کے دل مردار سے زیادہ بد بو دار ہوں گے ۔ لہٰذا جو اُن کے پاس جائے گا۳اور اُن کے جھوٹ کو سچ کہے گا اور اُن کے مظالم میں اُن کا مدد گار ہوگا، اُس کا مجھ سے اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں اُس سے بری ہوں۔(قیامت کے دن)وہ حوض۴ پر میرے پاس نہیں آنے پائے گا۔ اِس کے برخلاف جو لوگ اُن کے پاس نہیں جائیں گے اور اُن کے جھوٹ کو سچ نہیں کہیں گے اور اُن کے مظالم میں اُن کے مدد گار نہیں ہوں گے،۵ وہ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں۔ وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس پہنچیں گے۔

۲۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اطاعت سے نکل جائے اور نظم اجتماعی سے الگ ہو جائے ،۶ پھر اِسی حالت میں مرجائے تو اُس کی موت جاہلیت پر ہوگی ۔۷ اور جو شخص گمراہی کا علم لے کر نکلنے والوں کے تحت لڑے ، اپنی عصبیت کے لیے ۸غضب ناک ہو یا اُس کی دعوت دے اور اُس کی خاطر جنگ کرے اور اُسی کے پیش نظر لوگوں کی مدد کرے، پھر مارا جائے تو یہ بھی جاہلیت کی موت ہے۔ لہٰذا وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔اِسی طرح جو میری امت سے نکل کر اُس کے خلاف خروج کرے۹ اور اُن پر تلوار اُٹھائے، اُس کے نیک وبد، سب کو مارنے لگے ، کسی ایمان والے کی بھی پروا نہ کرے اور نہ کسی عہد والے کا عہد پورا کرے، اُس کا بھی مجھ سے اور میرااُس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ترجمے کے حواشی

۱۔ یعنی ایمان واخلاق اور اعلی اقدار کی تبلیغ کریں گے اور اپنے آپ کو اِنھی کے حاملین کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔

۲۔ مطلب یہ ہے کہ اُن کے عمل اور اُن کے سیرت وکردار میں اُس کا کوئی شائبہ نہ ہوگا۔ یہی لگے گا کہ وعظ کہہ کر منبر سے اتر رہے تھے کہ کوئی اچکنے والا اُن کا یہ وعظ اچک کر لے گیا ہے۔

۳۔ اِس سے محض جانا مراد نہیں ہے، بلکہ اُن کا قرب اور اُن کے فوائد حاصل کرنے کے لیے جانا مراد ہے۔

۴۔یعنی حوض کوثر ،جس پر لوگ محشر کی گرمی میں آکر اپنی پیاس بجھائیں گے ۔ اِس کے ساقی اپنی امت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ، جس طرح کہ دوسری روایتوں میں بیان ہوا ہے۔

۵۔ دین کا مطالبہ اپنے ماننے والوں سے یہی ہے ۔ اِس سے آگے ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج یا اُن کو تبدیل کرنے کی جد وجہد فرد کی صواب دید پر ہے۔خدا کے مقرر کردہ حدود کے اندر ،وہ اگر چاہے تو اِس طرح کے کسی اقدام کا فیصلہ کرسکتا ہے۔اللہ اور اللہ کے رسول نے اپنے ماننے والوں سے اِس کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔

۶۔یعنی ریاست کے نظم سے الگ ہوکر اُس کے قانون سے بغاوت اور اُس کے احکام کو ماننے سے انکار کردے۔

۷۔ مطلب یہ ہے کہ اُس کا ایمان واسلام اللہ کے ہاں قبول نہیں کیا جائے گااور اُس کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو اسلام کو چھوڑ کر جاہلیت کا طریقہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہوسکتا ہے۔

۸۔ یعنی حق وباطل سے قطع نظر اپنی قوم اورگروہ اور فرقے کی عصبیت کے لیے۔

۹۔ یعنی مسلمان اپنی اجتماعی حیثیت سے جس نظم کو قبول کیے ہوئے ہیں، اُس سے نکل کر اُس کے خلاف بغاوت کردے جس طرح کہ ہمارے اِس زمانے میں طالبان اور داعش جیسی تنظیمات کے لوگوں نے کر رکھی ہے۔ آگے جن چیزوں کا ذکر ہے ، وہ اِس طرح کی بغاوت کے لازمی نتائج ہیں اور اِس وقت بہ چشم سر دیکھ لیے جاسکتے ہیں ۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً مستدرک حاکم، رقم ۲۶۳سے لیا گیا ہے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ مضمون تعبیر کے کچھ تفاوت کے ساتھ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔ اِس کے مراجع یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم ۲۳۳۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۱۶۸۲۔ مسند احمد، رقم ۱۱۸۷۳، ۱۸۱۲۶،۲۳۲۶۰۔سنن ترمذی، رقم ۶۱۴، ۲۲۵۹۔ مسند بزار، رقم۲۸۳۲، ۲۸۳۴۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۲۰۷، ۴۲۰۸۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۷۷۸۲، ۷۷۸۳، ۷۷۸۴، ۸۷۰۵۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۲۸۶۔صحیح ابن حبان، رقم ۲۷۹، ۲۸۳، ۱۷۲۳۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۴۴۸۰، ۵۰۹۳، ۸۴۹۱۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۲۱۲، ۲۹۴،۲۹۶،۳۰۸،۳۵۶،۳۰۲۰۔ مستدرک حاکم، رقم۲۶۴، ۶۰۳۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۶۶۶۸۔

۲۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۶۴۔

۳۔ یہ اضافہ مسند احمد، رقم۱۱۸۷۳سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں۔

۴۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۳۵۶۔

۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۵۰۹۳۔

۶۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم۷۹۴۴سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ جن مصادر میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۲۴۳۔ صحیح مسلم، رقم ۱۸۴۸۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۱۱۴۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۳۵۶۶۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۷۱۶۹، ۷۱۷۱، ۷۱۷۲۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۶۶۱۱۔

۷۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۲۴۳میں یہاں 'مَنْ تَرَکَ الطَّاعَۃَ' ''جو شخص اطاعت کو ترک کردے'' کے الفاظ آئے ہیں۔

۸۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۲۴۳۔

۹۔صحیح مسلم، رقم ۱۸۴۸۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۷۱۷۲میں یہاں'فَلَیْسمِنِّيْ' ''اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے''کے الفاظ ہیں۔

۱۰۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۷۱۷۲۔

۱۱۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۷۱۷۱۔

۱۲۔بعض روایتوں، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۷۲۴۳میں یہاں'لَا یَتَحَاشٰی مِنْ مُؤْمِنِہَا''' اُس کے ایمان والے سے بھی باز نہ رہے'' کے الفاظ آئے ہیں۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۷۱۷۱میں ہے:'لَا یَحَاشَ مُؤْمِنًا لِإِیْمَانِہِ'''کسی مومن سے اُس کے ایمان کے باوجود نہ ڈرے''۔

۱۳۔صحیح مسلم، رقم۱۸۴۸میں ہے:'وَلَا یَفِيْ لِذِيْ عَہْدٍ عَہْدَہُ'''اور نہ کسی عہد والے کو اُس کا عہد پورا کرکے دے''۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد، العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي.(۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳م). الثقات. ط۱. حیدر آباد الدکن : دائرۃ المعارف العثمانیۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق، النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.

أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م).

الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.

الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسي، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داؤد الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي الکلبي. (۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: الدکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________