ایمان و اسلام کے منافی (۳)


تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

۱۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِيْ نَہِیکٍ۱ قَالَ:۲ لَقِیَنِيْ سَعْدُ بْنُ أَبِيْ وَقَّاصٍ فِي السُّوْقِ فَقَالَ: أَتُجَّارٌ کَسَبَۃٌ؟ أَتُجَّارٌ کَسَبَۃٌ؟! سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ''.

۲۔إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، یَقُوْلُ:۳ جَاءَ ثَلاَثَۃُ رَہْطٍ إِلٰی بُیُوْتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَسْأَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،۴ فَلَمَّا أُخْبِرُوْا [بِہَا]۵ کَأَنَّہُمْ تَقَالُّوْہَا، فَقَالُوْا: وَأَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبيِّ؟ قَدْ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ أَحَدُہُمْ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّيْ أُصَلِّي اللَّیْلَ أَبَدًا،۶ وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَصُوْمُ الدَّہْرَ وَلاَ أُفْطِرُ، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا،۷ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِمْ، فَقَالَ: ''أَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا، أَمَا وَاللّٰہِ إِنِّيْ لَأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَتْقَاکُمْ لَہُ، لَکِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّيْ وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ''.۸

۳۔عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ، قَالَ:۹ لَمَّا کَانَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ الَّذِيْ کَانَ مِنْ تَرْکِ النِّسَاءِ، بَعَثَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ''یَا عُثْمَانُ، إِنِّيْ لَمْ أُوْمَرْ بِالرَّہْبَانِیَّۃِ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِيْ؟'' قَالَ: لَا، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ''إِنَّ مِنْ سُنَّتِيْ أَنْ أُصَلِّيَ، وَأَنَامَ، وَأَصُوْمَ، وَأَطْعَمَ، وَأَنْکِحَ، وَأُطَلِّقَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ، فَلَیْسَ مِنِّيْ. یَا عُثْمَانُ، إِنَّ لِأَہْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَلِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا''.

۴۔عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ:۱۰ ذَکَرَ عَبْدُ اللّٰہِ رَجُلاً یَصُوْمُ فَلَا یُفْطِرُ، وَیُصَلِّيْ فَلاَ یَنَامُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَعَلِّيْ أَنَا أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّيْ وَأَنَامُ، فَمَنْ تَبِعَ سُنَّتِي فَہُوَ مِنِّيْ، وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ، إِنَّ لِکُلِّ عَمَلٍ شِرَّۃً، وَإِنَّ لِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃً، فَمَا کَانَتْ فَتْرَتُہُ إِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدِ اہْتَدٰی، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ إِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَقَدْ ضَلَّ''.

۵۔عَنْ أَبِیْ حَفْصَۃَ، قَالَ:۱۱ قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِہِ: یَا بُنَيَّ، إِنَّکَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِیقَۃِ الْإِیْمَانِ حَتّٰی تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِءَکَ، وَمَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ الْقَلَمَ، فَقَالَ لَہُ: اُکْتُبْ قَالَ: رَبِّ، وَمَا ذَا أَکْتُبُ؟ قَالَ: اُکْتُبْ مَقَادِیْرَ کُلِّ شَيْءٍ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ''. یَا بُنَيَّ، إِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَنْ مَاتَ عَلٰی غَیْرِ ہٰذَا فَلَیْسَ مِنِّيْ''.

۱۔ عبد اللہ بن ابی نہیک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بازار میں ملاقات ہوئی تو اُنھوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا:تم لوگ کمائی کرنے والے تاجر بن گئے ہو؟ کمائی کرنے والے تاجر؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:جو قرآن (جیسی دولت) کو پاکر بھی غنی نہیں ہوا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۱

۲۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:تین لوگوں کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئی۔ وہ آپ کی عبادت سے متعلق پوچھنا چاہتے تھے۔ اُنھیں جب اِس کے بارے میں بتایا گیاتو اُنھوں نے گویا اُسے کم سمجھا۔ پھر آپس میں کہنے لگے: ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نسبت؟ آپ کی تو اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کردی گئی ہیں۔ چنانچہ اُن میں سے ایک نے کہا:میں تو ہمیشہ پوری رات نماز پڑھوں گا۔دوسرے نے کہا:میں تمام عمر روزے رکھوں گا اور کبھی روزہ نہیں چھوڑوں گا۔ تیسرے نے کہا:میں عورتوں سے الگ رہوں گااور کہیں نکاح نہیں کروں گا۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے آئے اورفرمایا:یہ تمھی لوگ ہو جنھوں نے یہ اور یہ بات کہی ہے؟ سنو، خدا کی قسم، میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اُس کے حدود کی نگہداشت کرنے والا ہوں۔ میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اِسی طرح عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہٰذا جو میرے اِس طریقے سے منہ پھیرے، وہ مجھ سے نہیں ہے۔۲

۳۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب عثمان بن مظعون کے بیویوں سے کنارہ کشی کر لینے کا معاملہ درپیش ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں بلایا، پھر اُن سے کہا:اے عثمان،مجھے رہبانیت اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے، کیا تم نے میرے طریقے سے منہ پھیر لیا ہے؟ اُنھوں نے عرض کیا:نہیں، یا رسول اللہ، ایسا نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا:(تو سنو)، میرا طریقہ یہ ہے کہ میں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں،دن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، اِسی طرح نکاح بھی کرتا ہوں اور طلاق کی نوبت آئی تو وہ بھی دوں گا۔لہٰذا جو میرے اِس طریقے سے منہ پھیرے گا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔اے عثمان، تمھارے گھر والوں کا بھی تم پرحق ہے اور تمھارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔۳

۴۔مجاہد کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے)ایک شخص کا ذکر کیا جو مسلسل روزے رکھتا اور رات بھرنماز میں مشغول رہتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا:میرا طریقہ تو یہ ہے کہ میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔لہٰذا جو میرے اِس طریقے کی پیروی کرے، وہ مجھ سے ہے اور جو میرے اِس طریقے سے منہ پھیرے، اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (یاد رکھو)، آدمی عمل شروع کرتا ہے تو اُس میں ایک تیزی ہوتی ہے جو کچھ وقت کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔سو جس کی تیزی بدعت پر ختم ہوئی،۴ وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا اور جس کی تیزی سنت پر ختم ہوئی، ۵وہ ہدایت پاگیا۔

۵۔ابو حفصہ کی روایت ہے، اُنھوں نے بیان کیا کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا:بیٹے، ایمان کی حقیقت کیا ہے، تم اِس کی لذت کبھی نہیں پا سکتے ، جب تک یہ نہ سمجھو کہ جو تمھیں پہنچا ہے ،۶ وہ کبھی چوکنے والا نہیں تھا ۷اور جو چوک گیا ہے ، وہ کبھی پہنچنے والا نہیں تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اُس سے کہا:لکھو۔اُس نے کہا:پروردگار، کیا لکھوں؟ فرمایا:قیامت کے دن تک ہر چیز کی تقدیر لکھ دو۔۸ بیٹے، میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اِس کے سوا کسی عقیدے پر مرا ، اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۹

ترجمے کے حواشی

۱۔یعنی ہدایت کے معاملے میں غنی نہیں ہوا اور یہی سمجھتا رہا کہ یہ کتاب اُس کے لیے کافی نہیں ہے۔ اِس کے سوا، اِس سے آگے اور اِس سے بڑھ کراُسے کچھ اور چیزوں کی بھی ضرورت ہے جن سے وہ اکتساب ہدایت کر سکے۔ یہ، ظاہر ہے کہ قرآن پر، قرآن کے خدا کی کتاب اور دین وشریعت کے لیے میزان اورفرقان ہونے پر عدم اعتماد کا اظہار ہے جس کے بعد کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ سورۃ الضحیٰ کی آیت 'وَوَجَدَکَ عَآءِلاً فَاَغْنٰی'، رقم۸ میں اِسی غنا کا ذکر ہوا ہے۔ یعنی تمھارے پروردگار نے تمھیں محتاج ہدایت پایا تو قرآن جیسی کتاب دی اور اِس کے ذریعے سے وہ شرح صدر عطا فرمایا کہ غنی کردیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد میں قرآن سے متعلق یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ تاہم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے یہاں اِس کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ یہ کہ حاملین قرآن کے لیے اصلی دولت وہ نہیں جو بازاروں میں جا کر تجارت کرنے سے حاصل ہوتی ہے، بلکہ وہی ہدایت کی دولت ہے جو قرآن کی آیتوں کے مطالعے سے ملتی اور آدمی کو ایسا صاحب ثروت بنا دیتی ہے کہ اِس کے مقابلے میں درہم ودینار کے ڈھیر بھی اُس کے لیے پر کاہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ چنانچہ وہ اگر اِس کے سچے حاملین ہیں تو اُن سے بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ وہ یہ درہم ودینار بھی ضرور کمائیں ، اِس لیے کہ قرآن نے اِن کے حصول کی جد وجہد کو بھی فضل خداوندی کی تلاش سے تعبیر کیا ہے، مگر اِن سے محرومی کو کبھی فقر واحتیاج خیال نہ کریں ، بلکہ یہی سمجھیں کہ اُن کے پاس اگر قرآن جیسا خزینۂ حکمت ہے تو وہ دنیا کے سب اغنیا سے بڑھ کر غنی ہیں ۔قرآن کے ماننے والوں میں یہ کاملین کا طرز فکر ہے اور سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے اُنھی ساتھیوں کو اِس طرف توجہ دلائی ہے ، جن سے وہ اِس درجۂ کمال کے آرزو مند ہونے کی توقع کرسکتے تھے۔

۲۔ یعنی اُس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ آپ جو دین لے کر آئے ہیں ، اُس میں نہ ترک دنیا کا کوئی تصور ہے، نہ عبادت وریاضت کے معاملے میں صوفیانہ مذاہب کے غلو کی کوئی گنجایش۔اُس کی تمام تعلیمات ٹھیک اُس فطرت کے مطابق ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔

۳۔ مطلب یہ ہے کہ صرف خدا ہی کا حق نہیں ہے، خدا نے جن تعلقات وروابط کے ساتھ تمھیں پیدا کیا ہے،یعنی تمھاری ذات، تمھارے ماں باپ،تمھارے اہل وعیال، اعزہ واقربا اور دوست احباب، اِن سب کے حقوق بھی تم پر قائم کر دیے ہیں۔ چنانچہ یہ حقوق اگر پورے توازن اور اعتدال کے ساتھ ادانہیں کرو گے تو اِس کے لیے بھی خدا کے حضور میں جواب دہ ٹھیرائے جاؤ گے۔

۴۔یعنی کسی ایسے عمل میں تبدیل ہوگئی جس کو اللہ نے مشروع نہیں کیا ہے ، جیسے صوفیانہ مذاہب کے اشغال وآداب اور رہبانیت وغیرہ۔

۵۔ یعنی غلو ختم ہوگیا اور معاملات آہستہ آہستہ ٹھیک اُس مقام پر آگئے جس پر اللہ کے رسولوں نے اُنھیں رکھا اور اپنے طریقے سے تعبیر فرمایا ہے۔یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ اِن روایتوں میں' سنت'کا لفظ ہر جگہ 'طریقے' ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اِس سے اصطلاحی مفہوم میں سنت مراد نہیں ہے۔

۶۔ یعنی رنج وراحت جو کسی نہ کسی صورت میں ہر انسان کو دنیا کی زندگی میں پہنچتے رہتے ہیں۔

۷۔ یعنی ہر حال میں پہنچ کر رہنا تھا، الاّ یہ کہ خدا ہی اُس کو روک لیتا۔

۸۔ یہ اِس بات کی تعبیر ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہورہا ہے ، وہ سب خدا کے طے شدہ منصوبے کے مطابق ہے۔ چنانچہ تمام مخلوقات سے پہلے جو چیز وجود میں آئی، وہ اِس منصوبے کو لکھنے کا اہتمام تھا ۔ یہ کس طرح ہوا؟ اِس کی حقیقت تو ہم اِس دنیا میں نہیں سمجھ سکتے ، لیکن تفہیم مدعا کے لیے ہمارے ذہن سے جو قریب ترین تعبیر ہوسکتی تھی، وہ آپ کے اِس ارشاد میں اختیار کی گئی ہے، یعنی قلم پیداہوا اور اُس کے ذریعے سے تمام منصوبہ لکھ لیا گیا ۔

۹۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا جو تصور میں نے پیش کیا ہے ، اُس نے پھر اُس کو نہ سمجھا ہے اور نہ قبول کیا ہے ۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ اللہ پر انسان کے ایمان کاحقیقی ظہوراِسی حقیقت پر ایمان سے ہوتا ہے ۔ یہ نہ ہو تو ایمان محض زبان کا اقرار ہے جو بے سوچے سمجھے کر لیا گیا ہے ۔ اِس طرح کے اقرار سے کوئی شخص اُس ایمان کا حامل نہیں ہوسکتا جس کی دعوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو دی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ یہ ثقہ تابعی ہیں۔حدیث کے رجال میں اِن کا شہرت کانام عبد اللہ یاعبید اللہ بن ابی نہیک ہے، تاہم اِن کا اصل نام، عبد الرحمن بن سائب بن ابی نہیک قرشی مخزومی حجازی ہے۔ دیکھیے: المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي الکلبي، تہذیب الکمال في أسماء الرجال. تحقیق: الدکتور بشار عواد معروف. (بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، ط۱، ۱۴۰۰ھ/ ۱۹۸۰م)، ج۱۶، ص۲۲۹.

۲۔ اِس روایت کا متن مسند حمیدی، رقم۷۷سے لیا گیا ہے۔سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو لبابہ انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم۱۹۸۔مصنف عبد الرزاق، رقم۴۱۷۱۔مسند حمیدی، رقم ۷۶، ۷۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۸۷۳۸، ۸۷۳۹، ۲۹۹۴۲۔مسند احمد، رقم ۱۴۷۶، ۱۵۱۲، ۱۵۴۹۔سنن دارمی، رقم ۱۵۳۱، ۳۵۳۱۔صحیح بخاری، رقم۷۵۲۷۔سنن ابی داؤد، رقم۱۴۶۹، ۱۴۷۰، ۱۴۷۱۔مسند بزار، رقم۱۲۳۴۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۷۴۸۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۳۸۷۲،۳۸۷۳، ۳۸۷۴، ۳۸۷۵، ۳۸۷۶، ۳۸۷۷، ۳۸۷۸، ۳۸۷۹، ۳۸۸۳۔ صحیح ابن حبان، رقم ۱۲۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۵۱۴، ۱۱۲۳۹۔مستدرک حاکم، رقم ۲۰۹۲، ۲۰۹۳، ۲۰۹۵۔ مسند شہاب، رقم ۱۱۹۴، ۱۱۹۵، ۱۱۹۹، ۱۲۰۰، ۱۲۰۲۔ السنن الصغریٰ، بیہقی،رقم۹۸۳۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۴۲۹، ۲۱۰۴۶، ۲۱۰۴۷، ۲۱۰۴۸، ۲۱۰۵۰۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم۲۰۱۸۶۔

السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۱۰۴۸میں عبید اللہ بن ابی نہیک نے سیدنا سعد ہی کے بارے میں فرمایا ہے: 'أَتَیْتُہُ فَسَأَلَنِيْ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُہُ عَنْ کَسْبِيْ، فَقَالَ سَعْدٌ: تُجَّارٌ کَسَبَۃٌ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: 'لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ'' ''میں جب اُن کے پاس حاضر ہوا تو اُنھوں نے مجھ سے پوچھا:تم کون ہو؟اِس پر میں نے اُن کو اپنے پیشے کے بارے میں بتایا۔ اُنھوں نے کہا:دولت کمانے والے تاجر ہو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو قرآن (جیسی دولت)کو پاکر بھی غنی نہیں ہوا،وہ ہم میں سے نہیں ہے''۔

المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۵۱۴میں عبید اللہ بن ابی نہیک کہتے ہیں کہ: 'بَیْنَمَا أَنَا وَاقِفٌ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ السَّاءِبِ بْنِ أَبِي السَّاءِبِ إِذْ مَرَّ بِنَا أَبُوْ لُبَابَۃَ، فَاتَّبَعْنَاہُ حَتّٰی دَخَلَ بَیْتَہُ، فَاسْتَأْذَنَّاہُ فَأَذِنَ لَنَا، فَإِذَا رَثُّ الْمَتَاعِ رَثُّ الْحَالِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَانْتَسَبْنَا لَہُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَہْلاً تُجَّارٌ کَسَبَۃٌ، فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: 'لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ'، '' ایک موقع پر میں اور عبد اللہ بن سائب(بازار میں)کھڑے تھے کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے گزرے۔ ہم اُن کے پیچھے چل دیے، یہاں تک وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ ہم نے اجازت چاہی تو اُنھوں نے اندر آنے کو کہا۔ چنانچہ ہم داخل ہوئے تو دیکھا کہ اُن کی اپنی اور گھر کے ساز وسامان کی حالت بہت بری تھی۔ اُنھوں نے کہا:تم کون ہو؟ ہم نے اُن سے اپنا تعارف کرایا۔ اِس پر اُنھوں نے کہا:خوش آمدید، دولت کمانے والے تاجرحضرات! پھر میں نے اُن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:جو قرآن (جیسی دولت)کو پاکر بھی غنی نہیں ہوا، وہ ہم میں سے نہیں ہے''۔

۳۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم ۵۰۶۳سے لیا گیا ہے۔ اِس واقعے کے راوی تنہا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ واقعہ اجمال و تفصیل اورتعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ جن مصادر میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم۱۳۵۳۴، ۱۳۷۲۷، ۱۴۰۴۵۔صحیح مسلم، رقم۱۴۰۱۔ مسند بزار، رقم ۶۸۰۷۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۳۲۱۷۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۳۰۵۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۳۹۸۶۔صحیح ابن حبان، رقم۱۴، ۳۱۷۔ مستخرج ابی نعیم، رقم ۳۲۳۸۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۲۳۴۵۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۳۴۴۸، ۱۳۴۴۹۔

۴۔ بعض روایتوں، مثلاًمسند احمد، رقم ۱۴۰۴۵میں انس رضی اللہ عنہ سے یہاں یہ الفاظ آئے ہیں: 'أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ، سَأَلُوْا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ عَنْ عَمَلِہِ فِي السِّرِّ' ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی ازواج مطہرات سے خلوت میں آپ کے اعمال کے متعلق پوچھا''۔

۵۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۲۳۴۵۔

۶۔ متعدد طرق ، مثلاًصحیح مسلم، رقم ۱۴۰۱میں اِسی بات کے لیے یہ تعبیر نقل ہوئی ہے: 'وَقَالَ بَعْضُہُمْ: لَا أَنَامُ عَلٰی فِرَاشٍ' '' اور اُن میں سے کسی نے کہا:میں سونے کے لیے بستر ہی پرنہیں جاؤں گا''۔

۷۔ روایتوں میں صحابہ کی اِن باتوں میں تقدیم وتاخیرکے لحاظ سے کچھ فرق ہے۔ مزید یہ کہ بعض طرق،مثلاً مسند بزار، رقم۶۸۰۷میں ایک یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ: 'وَقَالَ بَعْضُہُمْ: لَا آکُلُ اللَّحْمَ' ''اور اُن میں سے کسی نے کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا''۔

۸۔ متعدد روایات، مثلاً مسند عبد بن حمید، رقم ۱۳۱۸میں یہاں واقعے کا خاتمہ اِس طرح ہوا ہے: 'فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِیْبًا فَحَمِدَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: 'أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوْا کَذَا وَکَذَا لَکِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَأَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ' ''چنانچہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اللہ کی حمد وثنا کے بعد آپ نے فرمایا:یہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی ایسی باتیں کررہے ہیں، جب کہ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، رات کو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں ۔ اِسی طرح عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہٰذا جو میرے اِس طریقے سے منہ پھیرے، وہ مجھ سے نہیں ہے''۔

اِس واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا یہ آخری جملہ کہ 'مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ' ''جو میرے طریقے سے منہ پھیرے، وہ مجھ سے نہیں ہے''، کسی سیاق وسباق کے بغیر الگ بھی روایت ہوا ہے اور صحیح ابن خزیمہ، رقم۱۹۷اور رقم ۲۰۲۴میں بالترتیب عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

مسند احمد، رقم ۶۴۷۷میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: 'زَوَّجَنِيْ أَبِيْ امْرَأَۃً مِنْ قُرَیْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لَا أَنْحَاشُ لَہَا، مِمَّا بِيْ مِنَ الْقُوَّۃِ عَلَی الْعِبَادَۃِ، مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلٰوۃِ، فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلٰی کَنَّتِہِ، حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْہَا، فَقَالَ لَہَا: کَیْفَ وَجَدْتِ بَعْلَکِ؟ قَالَتْ: خَیْرَ الرِّجَالِ أَوْ کَخَیْرِ الْبُعُوْلَۃِ، مِنْ رَجُلٍ لَمْ یُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا، وَلَمْ یَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَعَذَمَنِيْ، وَعَضَّنِيْ بِلِسَانِہِ، فَقَالَ: أَنْکَحْتُکَ امْرَأَۃً مِنْ قُرَیْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ، فَعَضَلْتَہَا، وَفَعَلْتَ، وَفَعَلْتَ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَکَانِيْ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَیْتُہُ، فَقَالَ لِيْ: 'أَتَصُوْمُ النَّہَارَ؟' قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: 'وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟' قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَکِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّيْ وَأَنَامُ، وَأَمَسُّ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ'' '' میرے والد نے قریش کی ایک خاتون سے میری شادی کردی۔ جب وہ میرے ہاں آئی تو نماز روزے کی عبادات کی جیسی طاقت میں رکھتا تھا ، اُس کی وجہ سے میں نے اُس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔اگلے دن میرے والد عمرو بن عاص اپنی بہو کے پاس آئے اور اُس سے پوچھنے لگے کہ تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اُس نے جواب دیا: بہترین آدمی یا کہا کہ بہترین شوہرجس نے میرے سایے کی بھی جستجو نہیں کی اور میرا بستر بھی نہیں پہچانا۔یہ سن کر وہ میرے پاس آئے اور مجھے خوب ملامت کی اور زبان سے کاٹ کھانے کی باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے:میں نے تمھارا نکاح قریش کی ایک اچھے حسب نسب والی خاتون سے کیا ہے اور تم نے اُس سے بے پروائی برتی اور یہ کیا اور وہ کیا۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری شکایت کی۔اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا۔میں حاضر خدمت ہوا توآپ نے مجھ سے پوچھا:کیا تم دن میں روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ نے پوچھا:کیا تم رات میں قیام کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔آپ نے فرمایا:لیکن میں تو روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔اِسی طرح میں بیویوں کے پاس بھی جاتا ہوں۔ لہٰذا جو میرے اِس طریقے سے منہ پھیرے، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہی روایت مسند بزار، رقم ۲۳۴۶، ۲۳۴۷میں بھی نقل ہوئی ہے۔

۹۔سنن دارمی، رقم میں ۲۲۱۵۔ سنن ابی داؤد، رقم ۱۳۶۹میں یہی واقعہ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی نقل ہوا ہے۔مسند احمد، رقم ۱۵۱۴میں ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: 'أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ أَنْ یَتَبَتَّلَ، فَنَہَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أَجَازَ ذٰلِکَ لَہُ لَاخْتَصَیْنَا' ''عثمان بن مظعون نے چاہا تھا کہ وہ عورتوں سے کنارہ کش ہوجائیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اِس سے روک دیا ۔اگر آپ اُن کو اِس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی نا مردی اختیار لیتے۔اِس کے راوی تنہاسعد رضی اللہ عنہ ہیں۔ اسلوب بیان کے کچھ فرق کے ساتھ یہ روایت اُن سے جن مراجع میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: مسند طیالسی، رقم۲۱۶۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۵۹۰۵۔مسند احمد، رقم۱۵۲۵، ۱۵۸۸۔سنن دارمی، رقم ۲۲۱۳۔صحیح بخاری، رقم ۵۰۷۳، ۵۰۷۴۔صحیح مسلم، رقم ۱۴۰۲۔سنن ابن ماجہ، رقم ۱۸۴۸۔سنن ترمذی، رقم ۱۰۸۳۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۳۲۱۲۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۳۰۴۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۷۸۸، ۸۰۲۔منتقی ابن جارود، رقم ۶۷۴۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۳۹۹۵، ۳۹۹۶، ۳۹۹۷، ۳۹۹۸، ۳۹۹۹۔ مسند شاشی، رقم ۱۵۲۔صحیح ابن حبان، رقم ۴۰۲۷۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۸۳۱۳۔مستخرج ابی نعیم، رقم ۳۲۴۰، ۳۲۴۱۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۳۴۶۲۔

۱۰۔اِس روایت کا متن مسند شاشی، رقم ۸۹۴ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔مسند احمد، رقم۲۳۴۷۴میں مجاہد سے اِسی مضمون کی ایک روایت نقل ہوئی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں: 'دَخَلْتُ أَنَا وَیَحْیَي بْنُ جَعْدَۃَ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ذَکَرُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَوْلَاۃً لِبَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: إِنَّہَا تَقُوْمُ اللَّیْلَ وَتَصُوْمُ النَّہَارَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: 'لَکِنِّيْ أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّيْ، وَأَصُوْمُ وَأُفْطِرُ، فَمَنْ اقْتَدٰی بِيْ فَہُوَ مِنِّيْ، وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ، إِنَّ لِکُلِّ عَمَلٍ شِرَّۃً ثُمَّ فَتْرَۃً، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ إِلٰی بِدْعَۃٍ فَقَدْ ضَلَّ، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ إِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدْ اہْتَدیٰ'' ''میں اور یحییٰ بن جعدہ انصار میں سے ایک صحابی رسول کے پاس حاضر ہوئے، اُنھوں نے کہا: ایک موقع پر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو عبدالمطلب کی ایک باندی کا ذکر کیا اور کہا: وہ رات کو قیام کرتی اور دن کو روزہ رکھتی ہے۔صحابی کہتے ہیں کہ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور رات کی نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرلیتا ہوں۔لہٰذا جو میری پیروی کرے، وہ مجھ سے ہے اور جو میرے اِس طریقے سے منہ پھیرے، اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (یاد رکھو)، آدمی عمل شروع کرتا ہے تو اُس میں ایک تیزی ہوتی ہے جو کچھ وقت کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔سو جس کی تیزی کا خاتمہ بدعت پرہوا ، وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا اور جس کی تیزی کا خاتمہ سنت پر ہوا، وہ ہدایت پا گیا''۔

۱۱۔ اِس روایت کا متن سنن ابی داؤد، رقم ۴۷۰۰سے لیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو بات اِس میں بیان ہوئی ہے، اُس کے راوی تنہاعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہیں۔الفاظ واسلوب کے کچھ فرق کے ساتھ یہ واقعہ جن مصادر میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۲۲۷۰۵۔ مسند بزار، رقم۲۶۸۷۔ مسند شاشی، رقم ۱۱۹۳۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۶۳۱۸۔مسند شامیین، رقم۵۹، ۱۶۰۸۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۰۸۷۵۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.

ابن الجارود، أبو محمد عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸م). المنتقی من السنن المسندۃ. ط۱. تحقیق: عبد اللّٰہ عمر البارودي. بیروت: مؤسسۃ الکتاب الثقافیۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي.(۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳م). الثقات. ط۱. حیدر آباد الدکن : دائرۃ المعارف العثمانیۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني (۱۳۷۹ھ). فتح الباری شرح صحیح البخاری. د.ط. تحقیق: أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

ابن خزیمۃ، أبو بکر محمد بن إسحاق، النیسابوري. (د.ت). صحیح ابن خزیمۃ. د.ط. تحقیق: د. محمد مصطفٰی الأعظمي. بیروت: المکتب الإسلامي.

ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۲م). الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار الجیل.

ابن عدي، عبد اللّٰہ أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ/۱۹۹۷م). الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت۔ لبنان: الکتب العلمیۃ.

ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.

أبو داود، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داؤد. د.ط.تحقیق: محمد محیيالدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.

أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق، النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.

أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.

البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ/۱۹۸۹م). السنن الصغرٰی. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. کراتشي: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م).

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.

الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.

الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.

الدارمي، أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/ ۲۰۰۰م). سنن الدارمی. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.

السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثی.(۱۴۱۰ھ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبدالمجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسی، أبو داود سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داؤد الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

عبد الحمید بن حمید بن نصر الکَسّي، أبو محمد. (۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۸م). المنتخب من مسند عبد بن حمید. ط۱. تحقیق: صبحي البدري السامراءي، محمود محمد خلیل الصعیدي. القاہرۃ: مکتبۃ السنۃ.

عبد الرزاق بن ہمام، أبو بکر، الحمیري، الصنعاني. (۱۴۰۳ھ). المصنف. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. الہند: المجلس العلمي.

القضاعي، أبو عبد اللّٰہ محمد بن سلامۃ بن جعفر. (۱۴۰۷ھ/۱۹۸۶م). مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي الکلبي. (۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: الدکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

النووي، یحیی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________