فضائل رمضان


دین میں روزہ ایک اہم عبادت ہے۔ یہ عبادت ایک ماہ کے لیے کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات کو کچھ خاص حدود وقیود میں لانا ہے۔

ذیل میں ہم ان احادیث کا مطالعہ کریں گے جو ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ اللہ کے نزدیک اس عبادت کی کیا اہمیت و فضیلت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

من صام رمضان إیمانًا واحتسابًا، غفرلہ ما تقدم من ذنبہ.(بخاری،رقم ۳۸)

''جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اُس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لخلوف فم الصائم أطیب عند اللّٰہ من ریح المسک.(بخاری، رقم ۱۸۹۴)

''روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إن في الجنۃ بابًا، یقال لہ الریّان، یدخل منہ الصائمون یوم القیٰمۃ، لا یدخل معھم أحد غیرہم، یقال: أین الصائمون؟ فیدخلون منہ، فإذا دخل آخرھم أغلق فلم یدخل منہ أحد.(مسلم، رقم ۲۷۱۰)

''جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہا جاتا ہے۔ روزہ دار قیامت کے دن اُس سے جنت میں داخل ہوں گے، اُن کے ساتھ کوئی دوسرا داخل نہ ہوسکے گا۔ پوچھا جائے گا: روزہ دار کہا ں ہیں ؟پھر وہ اُس سے داخل ہوں گے اور جب اُن میں سے آخری شخص بھی داخل ہو جائے گا تو اُسے بند کردیا جائے گا۔ اِس کے بعد کوئی اُس دروازے سے داخل نہ ہوگا۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

قال اللّٰہ: کل عمل ابن آدم لہ إلا الصیام فإنہ لي وأنا أجزي بہ والصیام جنۃ وإذا کان یوم صوم أحدکم فلا یرفث ولا یصخب، فإن سابّہ أحد أو قاتلہ فلیقل إني امرؤ صائم والذي نفس محمد بیدہ، لخلوف فم الصائم أطیب عند اللّٰہ من ریح المسک، للصائم فرحتان یفرحہما: إذا أفطر فرح وإذا لقي ربہ فرح بصومہ.(بخاری، رقم ۱۹۰۴)

''اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: انسان کا ہر نیک عمل اسی کے لیے ہوتا ہے، سوائے روزے کے، یہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اِس کی جزا دوں گا، روزہ گناہوں کے آگے ایک ڈھال ہے۔ اگر کسی نے روزہ رکھا ہو تو اسے نہ فحش گوئی کرنی چاہیے، نہ شور مچانا چاہیے اور اگر کوئی دوسرا اسے گالی دے یا اس سے لڑنا چاہے تو اسے بس یہی کہنا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے، روزہ رکھنے والے کے لیے خوشی کے دو وقت ہیں: ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے، دوسرا جب وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرے گا۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

کل عمل ابن آدم یضاعف الحسنۃ عشر أمثالہا إلی سبع مائۃ ضعف قال اللّٰہ عز وجل: إلا الصوم فإنہ لي وأنا أجزي بہ یدع شہوتہ وطعامہ من أجلي، للصائم فرحتان: فرحۃ عند فطرہ وفرحۃ عند لقاء ربہ.(مسلم، رقم ۱۱۵۱)

''ابن آدم جو نیکی بھی کرتا ہے، اُس کی جزا اُسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دی جاتی ہے، لیکن روزے کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ 'فانہ لي وأنا أجزي بہ' (یہ میرے لیے ہے اور میں ہی اِس کی جزا دوں گا)، اِس لیے کہ بندہ اپنے کھانے پینے اوراپنی جنسی خواہشات کو اِس میں صرف میرے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ رکھنے والے کے لیے خوشی کے دو وقت ہیں: ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے، دوسرا جب وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرے گا۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

ما من عبد یصوم یومًا في سبیل اللّٰہ إلا باعد اللّٰہ بذلک الیوم وجہہ عن النار سبعین خریفًا.(مسلم، رقم ۱۱۵۳)

''جو شخص اللہ کی راہ (جہاد)میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ اُس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اُس شخص کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال دور کر دیتا ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إذا جاء رمضان فتحت أبواب الجنۃ وغلقت أبواب النار وصفدت الشیاطین.(مسلم، رقم ۱۰۷۹)

''جب رمضان کا مہینا آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔''

ایک صحابی آپ کے پاس آئے اور یہ عرض کی کہ آپ مجھے کسی عمل کا حکم دیں جسے میں آپ کے کہنے پر اختیار کروں، تو آپ نے ارشاد فرمایا:

علیک بالصوم فإنہ لا مثل لہ.(نسائی، رقم ۲۲۲۲)

''تمھیں چاہیے کہ تم روزے رکھا کرو، کیونکہ کوئی دوسرا عمل اس کی مثل نہیں ہے۔''

____________