فہم دین میں قدیم صحائف سے اخذ و استفادہ: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ (۲)


دین کے اخذ و استنباط میں قدیم صحائف کی حیثیت

قدیم صحائف کے بارے میں دوسری بحث اس سوال پر مبنی ہے کہ یہ صحف سماوی، جن پر قرآن نے ایمان لانے کا مطالبہ کیاہے، کیا انھیں دین کے مآخذ کی حیثیت بھی حاصل ہے ؟علماے امت نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف بھی یہی ہے۔ان کے نزدیک ان صحائف کو دین کے مآخذ کی حیثیت ہرگز حاصل نہیں ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ یہ حیثیت فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو حاصل ہے اور ان سے امت کو یہ دین دو صورتوں میں ملا ہے: ایک قرآن اور دوسرے سنت۔چنانچہ کرۂ ارض پر یہی دو چیزیں ہیں جن سے دین اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور چیز کو دین کا ماخذ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انھوں نے بیان کیا ہے:

''... دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف اُنھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے: هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ.(الجمعہ ۶۲: ۲ ) '' اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور اِس کے لیے اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔'' یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ''اسلام'' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اِس کے ماخذ کی تفصیل ہم اِس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے: ۱۔ قرآن مجید ۲ ۔سنت ۔'' (میزان ۱۳)

علوم اسلامی میں قدیم صحائف کی ضرورتو اہمیت اور اس کا دائرہ

قدیم صحائف کے بارے میں تیسری بحث یہ ہے کہ اگر ان صحائف کو مآخذ دین کی حیثیت حاصل نہیں ہے تو پھر علوم اسلامی کے حوالے سے کیا ان کی کوئی ضرورت اور اہمیت مسلم ہے اور اگر ہے تو ان سے اخذ و استفادے کا کیا دائرہ ہے؟ اس باب میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ فہم قرآن کے ایک ذریعے کی حیثیت سے قدیم آسمانی کتابوں کی اہمیت غیرمعمولی ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک قرآن مجید دین کی پہلی نہیں ، بلکہ آخری کتاب ہے اور تاریخی اعتبار سے دین کا آغاز ان بنیادی حقائق سے ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے روزاول سے انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔ اس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں جو وقتًا فوقتًا انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے ۔ پھر تورات ، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں ہیں جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے اور قرآن مجید نازل ہوا ہے ۔ چنانچہ اس تناظر میں فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے سابقہ کتب سماوی کی اہمیت مسلم ہے۔ اس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے لکھا ہے:

''... اِن (صحائف) کے بدقسمت حاملین نے اِن کا ایک حصہ اگرچہ ضائع کر دیا ہے اور اِن میں بہت کچھ تحریفات بھی کر دی ہیں ،لیکن اِس کے باوجود اللہ کی نازل کردہ حکمت اور شریعت کا ایک بڑا خزانہ اللہ تعالیٰ کے خاص اسالیب بیان میں اب بھی اِن میں دیکھ لیا جا سکتا ہے۔ قرآن کے طالب علم جانتے ہیں کہ اُس نے جگہ جگہ اِن کے حوالے دیے ہیں ،نبیوں کی جو سرگذشتیں اِن میں بیان ہوئی ہیں، اُن کی طرف بالاجمال اشارے کیے ہیں اوراِن میں یہودونصاریٰ کی تحریفات کی تردید اور اُن کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید کی ہے، اہل کتاب پر قرآن کا سارا اتمام حجت اِنھی صحائف پر مبنی ہے اور وہ صاف اعلان کرتا ہے کہ اُس کا سرچشمہ وہی ہے جو اِن صحیفوں کا ہے۔ '' (میزان ۴۷)

تاہم، غامدی صاحب کے نزدیک فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے بھی ان صحائف سے اخذواستفادے کا دائرہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ، انبیاے بنی اسرائیل کی سرگذشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات تک محدود ہے۔چنانچہ ان کا اصرار ہے کہ قرآن مجید کے ان مقامات کی شرح و تفسیر کے لیے جن میں بنی اسرائیل کے انبیا کی سرگذشتیں بیان ہوئی ہیں یا یہود و نصاریٰ کی تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا گیاہے، ان روایتوں کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے جو اسرائیلیات کے عنوان سے تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ ان کے بجاے قدیم صحائف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو بہرحال اسرائیلیات سے زیادہ مستند ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

''... الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاریٰ کی تاریخ ،انبیاے بنی اسرائیل کی سرگذشتوں اور اِس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اُس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔بحث و تنقید کی ساری بنیاد اُنھی پر رکھی جائے گی ۔ اِس باب میں جو روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اور زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں ، اُنھیں ہرگز قابل التفات نہ سمجھا جائے گا ۔ اِن موضوعات پر جو روشنی قدیم صحیفوں سے حاصل ہوتی ہے اور قرآن کے الفاظ جس طرح اُن کی تفصیلات کو قبول کرتے یا اُن میں بیان کردہ کسی چیز سے متعلق اصل حقائق کو واضح کرتے ہیں، اُس کا بدل یہ روایتیں ہرگز نہیں ہو سکتیں جن سے نہ قرآن کے کسی طالب علم کے دل میں کوئی اطمینان پیدا ہوتا ہے اور نہ اہل کتاب ہی پر وہ کسی پہلو سے حجت قرار پا سکتی ہیں۔ ''(میزان ۴۸)

قدیم صحائف سے اخذ و استفادے کا بنیادی اصول

درج بالا مباحث سے واضح ہے کہ غامدی صاحب قدیم صحائف کو من جانب اللہ تصور کرتے ہیں۔ وہ ان میں جزوی طور پر تحریف اور ترمیم و اضافہ کے قائل ہیں،تاہم ان کے نزدیک قرآن کے ان مقامات کی شرح و تفسیر میں ، جن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا کوئی پہلو بیان ہوا ہے، اصل ماخذ کی حیثیت اسرائیلیات کو نہیں، بلکہ انھی صحائف کو حاصل ہے۔ چنانچہ ان کی راے کے مطابق خاص اس ضمن میں اگر قرآن کے کسی اجمال کی تفصیل ان صحائف سے معلوم ہو تی ہے تو اس سے پوری طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ اخذ و استفادہ کیا مجرد ہو گایا قرآن مجید کی روشنی میں ہو گا۔ جناب جاوید احمد غامدی اس کاجواب یہ دیتے ہیں کہ لازماً قرآن مجید کی روشنی میں ہوگا۔ قرآن کی کوئی آیت یا اس کا عرف اگر قدیم صحائف کے کسی جز کو قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اس سے ہر گز اعتنا نہیں برتا جائے گا۔ان کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن مجید حق و باطل کے لیے میزان اور فرقان ہے اور تمام آسمانی صحیفوں پر اسے 'مہیمن'، یعنی محافظ اور نگران کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

''... قرآن مجید اِس زمین پر حق و باطل کے لیے 'میزان 'اور 'فرقان 'اور تمام سلسلۂ وحی پر ایک 'مہیمن' کی حیثیت سے نازل ہوا ہے: اَللّٰهُ الَّذِيْ٘ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ. (الشوریٰ ۴۲: ۱۷) ''اللہ ہی ہے جس نے اپنی یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے اور (اِس طرح حق و باطل کو الگ الگ کرنے کے لیے)اپنی میزان نازل کر دی ہے ۔'' اِس آیت میں 'وَالْمِيْزَانَ' سے پہلے 'و' تفسیر کے لیے ہے ۔اِس طرح 'الْمِيْزَان' درحقیقت یہاں 'الْكِتٰب' ہی کا بیان ہے ۔ آیت کا مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل میں امتیازکے لیے قرآن اتارا ہے جو دراصل ایک میزان عدل ہے اور اِس لیے اتارا ہے کہ ہر شخص اِس پر تول کر دیکھ سکے کہ کیا چیز حق ہے اور کیا باطل ۔ چنانچہ تولنے کے لیے یہی ہے ۔اِس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس پر اِسے تولا جا سکے: تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا. ( الفرقان ۲۵: ۱) ''بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان اتارا ہے، اِس لیے کہ وہ اہل عالم کے لیے خبردار کرنے والا ہو۔'' یہ 'الْفُرْقَان' بھی اِسی مفہوم میں ہے ۔ یعنی ایک ایسی کتاب جو حق و باطل میں امتیاز کے لیے حجت قاطع ہے۔ یہاں بھی وہی حقیقت بیان کرنا پیش نظر ہے کہ ہر معاملے میں یہی کتاب قول فیصل اور یہی صحیفہ معیار ہے ۔ تمام اختلافات میں یہی مرجع قرار پائے گی ۔ اِس پر کوئی چیز حاکم نہیں ہو سکتی، بلکہ علم و ہدایت کے قلم رو میں ہر جگہ اِسی کی حکومت قائم ہو گی اور ہر شخص پابند ہے کہ اِس پر کسی چیز کو مقدم نہ ٹھیرائے: وَاَنْزَلْنَا٘ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا٘ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ.(المائدہ ۵ :۴۸) ''پھر ہم نے، (اے پیغمبر)، تمھاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے، قول فیصل کے ساتھ اور اُس کتاب کی تصدیق میں جو اِس سے پہلے موجود ہے اور اُس کی نگہبان بنا کر۔اِس لیے تم اِن کا فیصلہ اُس قانون کے مطابق کرو جو اللہ نے اتارا ہے اور جو حق تمھارے پاس آچکا ہے، اُس سے ہٹ کر اب اِن کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔'' یہاں اِسی مفہوم کے لیے لفظ 'مُهَيْمِن' استعمال ہوا ہے ۔یہ 'ھیمن فلان علی کذا' سے بنا ہوا اسم صفت ہے جو محافظ اور نگران کے معنی میں آتا ہے ۔ آیت میں قرآن مجید کو پچھلے صحیفوں پر 'مُهَيْمِن' قرار دیا گیا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ کتاب الہٰی کا اصل قابل اعتماد نسخہ قرآن مجید ہی ہے۔ چنانچہ دوسرے صحیفوں کے متن جب گم کر دیے گئے اور اُن کے تراجم میں بھی بہت کچھ تحریفات کر دی گئی ہیں تو اُن کے حق و باطل میں امتیاز کے لیے یہی کسوٹی اور معیار ہے ۔جو بات اِس پر کھری ثابت ہو گی ، وہ کھری ہے اور جو اِس پر کھری ثابت نہ ہو سکے ، وہ یقیناً کھوٹی ہے جسے لازماً رد ہو جانا چاہیے۔ ''(میزان ۲۴- ۲۵)

غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید کی یہ حاکمیت صرف قدیم صحائف ہی پرنہیں، بلکہ ہر قسم کے دینی لٹریچر اور ہر سطح کی دینی شخصیت پر قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی بھی کوئی بات قبول نہیں کی جاسکتی۔ ''اصول و مبادی'' میں لکھتے ہیں:

''... قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا ۔ دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اِس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔ ایمان و عقیدہ کی ہر بحث اِس سے شروع ہو گی اور اِسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی ، ہر الہام ، ہر القا ، ہر تحقیق اور ہر راے کو اِس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اِس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بو حنیفہ و شافعی ،بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب پر اِس کی حکومت قائم ہے اور اِس کے خلاف اِن میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی ۔ ''(میزان ۲۵)

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کو مآخذ دین کی حیثیت ہر گزحاصل نہیں ہے ۔ البتہ فہم قرآن کی شرح وو ضاحت کے لیے ایک معاون ذریعے کے طور پروہ ان کی اہمیت کو بہرحال تسلیم کرتے ہیں، تاہم اس اہمیت کے باوجود وہ ان سے اخذ و استفادہ کرتے ہوئے دو چیزوں کے ملحوظ رکھنے کو لازم قرار دیتے ہیں: ایک یہ کہ اس کا دائرہ اصلاً یہود و نصاریٰ کی تاریخ اور اس کے متعلقات تک محدود رہے اور دوسری یہ کہ ان کی ہر بات کو قرآن کی میزان میں تولا جائے اور صرف اسی بات کو قبول کیا جائے جسے قرآن قبول کرنے کی اجازت دے ۔جہاں تک ایمانیات اور شریعت کے مباحث کا تعلق ہے تو ان کی راے یہ ہے کہ اس ضمن میں اخذ و استنباط کا تمام تر انحصار اصلاً قرآن وسنت پر کرنا چاہیے۔

__________