فہم دین میں قدیم صحائف سے اخذ و استفادہ: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ (۱)


دین میں قدیم آسمانی صحائف کا جو مقام بھی متعین کیا جائے، پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا ان صحائف کے متن محفوظ ہیں اور لائق استناد ہیں یا تحریف شدہ ہیں اور اس بنا پر اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے رجوع کیا جائے؟اس مسئلے کے بارے میں علما کے ہاں تین مختلف آرا پائی جاتی ہیں: ایک راے یہ ہے کہ یہ اصلاً محفوظ ہیں اور جہاں تک تحریف کا تعلق ہے تووہ ان کے متن میں نہیں، بلکہ ان کی تعبیر و تشریح میں ہوئی ہے۔ دوسری راے یہ ہے کہ اپنے متن کے لحاظ سے یہ وہ کتابیں ہی نہیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے حامل پیغمبروں پر نازل کیا تھا۔ان کا بیش تر حصہ یک سر تبدیل ہو چکا ہے۔ تیسری راے ان کے بین بین یہ ہے کہ ان میں کچھ ترمیم و اضافہ تو ضرور ہوا ہے، مگر ان کا زیادہ تر حصہ اپنی اصل صورت ہی پر قائم ہے۔

امام ابن قیم (۶۹۱ھ-۷۵۱ھ)نے اپنی کتاب ''إغاثة اللھفان من مصاید الشیطان'' میں تورات کے حوالے سے یہی تین آرا بیان کی ہیں۔ لکھتے ہیں :

وقد اختلفت أقوال الناس في التوراة التي بأیدیھم: ھل ھي مبدّلة أم التبدیل والتحریف وقع في التأویل دون التنزیل؟ علٰی ثلاثة أقوال طرفین ووسط. فأفرطت طائفة وزعمت أنھا کلھا أو أکثرھا مبدلة مغیّرة لیست التوراة التي أنزلھا اللہ تعالٰی علٰی موسٰی علیه السلام وتعرّض ھٰؤلاء لتناقضھا وتکذیب بعضھا لبعض وغلا بعضھم فجوّز الاستجمار بھا من البول. وقابلھم طائفة أخرٰی من أئمة الحدیث والفقه والکلام، فقالوا: بل التبدیل وقع في التأویل لا في التنزیل وھذا مذھب أبي عبد اللہ محمد بن إسماعیل البخاري. قال في صحیحه: ''یُحَرِّفُوْنَ: یزیلون. ولیس أحد یزیل لفظ کتاب من کتب اللہ تعالٰی ولکنھم یحرفونه: یتأوّلونه علٰی غیر تأویله.'' وھذا اختیار الرازي في تفسیره. وسمعت شیخنا یقول: وقع النزاع في ھذه المسألة بین بعض الفضلاء فاختار ھذا المذھب ووھن غیره فأنکر علیه فأحضر لھم خمسة عشر نقلًا به ومن حجة ھولاء: أن التوراة قد طبّقت مشارق الأرض ومغاربھا وانتشرت جنوبًا وشمالًا ولا یعلم عدد نسخھا إلا اللہ تعالٰی ومن الممتنع أن یقع التواطؤ علی التبدیل والتغییر في جمیع تلک النسخ بحیث لا یبقٰی في الأرض نسخة إلا مبدلة مغیرة والتغییر علی منھاج واحد وھذا مما یحیله العقل ویشھد ببطلانه. قالوا: وقد قال اللہ تعالٰی لنبیه صلی اللہ علیه وسلم محتجّا علی الیھود بالیھود بھا:(قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَا٘ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) (آل عمران ۳: ۹۳)... فھذا بعض ما احتجّت به ھذه الفرقة. وتوسّطت طائفة ثالثة وقالوا: قد زید فیھا وغیّر ألفاظ یسیرة ولکن أکثرھا باقٍ علٰی ما أنزل علیه والتبدیل في یسیر منھا جدًا. (۲/ ۲۸۸ - ۲۹۱) ''یہود کے پاس جو تورات موجود ہے، آیا وہ تبدیل شدہ ہے یا تبدیلی اور تحریف صرف اس کی تعبیر و تشریح میں واقع ہوئی ہے، نہ کہ اس کے الفاظ میں ؟ اس بارے میں لوگوں کے ہاں تین اقوال پائے جاتے ہیں۔ دو قول انتہا پسندانہ ہیں اور ایک معتدل: چنانچہ ایک گروہ نے افراط سے کام لیا اور یہ دعویٰ کیا کہ تورات ساری کی ساری یا اس کا بیش تر حصہ تبدیل شدہ ہے اور یہ وہ تورات نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی تھی۔ انھوں نے تورات میں تناقض اور اس کے بیانات کے باہمی تضاد کو نمایاں کیا اور ان میں سے بعض نے تو اس حد تک غلو سے کام لیا کہ اس کے اوراق سے استنجا کرنے کو بھی جائز کہہ دیا۔ اس کے مقابلے میں حدیث اور فقہ اور کلام کے علما کے ایک گروہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ تورات میں تحریف صرف اس کی تعبیروتشریح میں ہوئی ہے، نہ کہ اس کے الفاظ میں۔ یہ امام بخاری (۱۹۴ھ - ۲۵۶ھ) کا مذہب ہے۔ انھوں نے اپنی ''صحیح'' (کتاب التوحید، ابتدا باب ۵۵) میں کہا ہے کہ (النساء ۴: ۴۶ اور المائدہ ۵ : ۱۳ میں وارد لفظ) 'يُحَرِّفُوْنَ' کے لیے 'یزیلون' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے، حالاں کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کے الفاظ مٹا نہیں سکتا، بلکہ وہ بہ ایں معنی اس میں تحریف کرتے ہیں کہ اس کے الفاظ و کلم کے اصل مدعا اور مفہوم سے پھیر دیتے ہیں۔ امام فخرالدین رازی (۵۴۵ھ-۶۰۶ھ) نے بھی اپنی تفسیر (مفاتیح الغیب ۱۰/ ۱۱۷، ۱۱/ ۱۸۷) میں اسی راے کو اختیار کیا ہے۔ میں نے اپنے استاذ امام ابن تیمیہ (۶۶۱ھ - ۷۲۸ھ) کو یہ کہتے سنا کہ بعض فضلا کے مابین اس مسئلے سے متعلق نزاع پیدا ہوئی تو ان میں سے ایک نے مذکورہ راے کو اختیار کیا اور مخالف قول کو کم زور قرار دیا۔ اس پر اعتراض کیا گیا تو اس نے اس کے حق میں پندرہ حوالے پیش کردیے۔ ان اہل علم کی دلیل یہ ہے کہ تورات زمین کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں پھیل چکی ہے اور اس کے نسخوں کی صحیح تعداد بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہے، اور یہ بات محال ہے کہ ان تمام نسخوں میں اس طرح بالاتفاق تبدیلی واقع ہو جائے کہ روے زمین پر محرف نسخے ہی باقی رہ جائیں، اور ان سب نسخوں میں تحریف بھی ایک ہی طریقے پر کر دی جائے۔ یہ بات عقل کے نزدیک محال ہے اور وہ اس کے باطل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ وہ مزید یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے خلاف دلیل پیش کرتے ہوئے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تم سچے ہو تو لاؤ تورات کو اور اس کو پڑھو(آل عمران ۳: ۹۳)۔ ... بہرحال یہ وہ بعض دلائل ہیں جو اس راے کے قائلین پیش کرتے ہیں۔ ایک تیسرے گروہ نے متوازن موقف اختیار کیا اور کہا ہے کہ اس میں چند معمولی الفاظ کا اضافہ اور تبدیلی کی گئی ہے، لیکن اس کا بیش تر حصہ اپنی اصل نازل شدہ صورت پر برقرار ہے، جب کہ تبدیلی اس کے بہت معمولی حصے میں ہوئی ہے۔''

متعدد علماے امت بعض جزو ی اختلافات کے ساتھ اسی تیسری راے کے قائل ہیں۔

امام ابن قیم نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابن تیمیہ کے حوالے سے تورات کے بارے میں یہی راے نقل کی ہے۔ لکھتے ہیں :

...وممن اختار هذا القول شیخنا في کتابه ''الجواب الصحیح لمن بدّل دین المسیح''... والحق أحق ما اتبع، فلا نغلو غلوّ المستهینین بها، المتمسخرین بها، بل معاذ اللہ من ذالک. ولا نقول: إنها باقیة کما أنزلت من کل وجه، کالقرآن. (اغاثۃ اللہفان ۲/ ۲۹۱، ۲۹۵) ''...اس (تیسرے) قول کو اختیار کرنے والوں میں ہمارے استاذ (امام ابن تیمیہ) بھی شامل ہیں جنھوں نے ''الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح'' میں یہ بات کہی ہے۔... اور حق بات ہی سب سے بڑھ کر پیروی کرنے کے لائق ہے، اس لیے نہ ہم ان غلو کرنے والوں کے پیچھے چلتے ہیں جو تورات کا درجہ گراتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں، بلکہ ہم اس طرز عمل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تورات قرآن مجید کی طرح حرف بہ حرف اسی طرح موجود ہے، جیسا کہ اس کو نازل کیا گیا تھا۔''

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (۱۱۱۴ھ-۱۱۷۶ھ) نے ایک مختلف زاویے سے یہ بیان کیا ہے کہ یہود اپنی کتاب تورات میں جو تحریف کرتے تھے،وہ اصل متن میں نہیں، بلکہ اس کے ترجمے میں کیا کرتے تھے۔ اسی طرح وہ بعض مقاصد کے تحت اصل متن کو مخفی رکھ کر اس کی ایسی تاویلات کر دیتے تھے کہ حکم کا مدعا بالکل تبدیل ہو جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب تورات کی فی الجملہ صحت کے قائل ہیں۔ لکھتے ہیں:

'' اما در تحریف لفظی ـــ در ترجمۂ تورات و امثال آں بکاری بردند، نہ دراصل تورات۔ پیش ایں فقیر اینچنیں محقق شد، وبر قولِ ابن عباس۔ وتحریفِ معنوی تاویلِ فاسد است، بحمل آیتے برغیر معنیٔ آں بسینہ زوری و انحراف از راہِ مستقیم... وکتمانِ آیات آنست کہ بعضے احکام و آیات را برائے محافظتِ جاہِ شریفی یا برائے طلبِ ریاستی اخفاء مے نمودند، تا اعتقادِ مردماں نسبتِ ایشاں متلاشی نہ شود، وبترکِ عمل بآں آیات ملائم نہ شوند۔ ازاں جملہ آنست کہ رجمِ زانی در تورات مذکور ست و ایشاں بنا براجماع احبار خود بر ترک رجم واقامت جلد و تحمیمِ وجہ بجائے آں، آنرا ترک کردہ بودند، و از خوفِ فضیحتے آں را می پوشیدند۔ و ازاں جملہ آنست کہ آیاتے را کہ دراں بشارتِ ہاجرہ واسماعیل علیہما السلام است بہ بعثتِ نبی درمیان اولادِ ایشاں، واشارت بوجود ملتے کہ درسرزمینِ حجاز شیوع تمام پیدا کند، و بسبب آں جبالِ عرفات بہ تلبیہ مملوء گردد، و از اطرافِ اقالیم قصد آں موضع کنند، وآں آیات تا حال در تورات ثابت است ـــ تاویل می کردند کہ اخبار است بوجود ایں ملت نہ امرست بأخذِآں۔ و می گفتند ملتحمۃ کتبت علینا وچوں ایں تاویلِ رکیک را ہیچ کس نمی شنید، و پیشِ ہیچ کس صحت نداشت بایک دیگر تواصی می کردند باخفاء آں وتجویز اظہار آں بہرِ خاص و عام نمی کردند۔'' (الفوز الکبیر فی اصول التفسیر۸)

اس اقتباس کے مستند اردو عربی تراجم حسب ذیل ہیں :

أما التحریف اللفظي؛ فإنهم کانوا یرتکبونه في ترجمة التوراة وأمثالها، لا في أصل التوراة، هکذا الحق عند الفقیر وهو قول ابن عباس، والتحریف المعنوي، تأویل فاسد یحمل الآیة علٰی غیر معناها بتحکم وانحراف عن الصراط المستقیم... أما کتمان الآیات فهو أنهم کانوا یخفون بعض الأحکام والآیات لیحافظوا علٰی جاہ شریف أو لأجل ریاسة یطلبونها، وکانوا یحذرون أن یضمحل اعتقاد الناس فیهم، ویلاموا بترک العمل بتلک الآیات. ومن جملة ذالک، أن رجم الزاني مذکور في التوراة، وکانوا یترکونه لإجماع أحبارهم علٰی ترک الرجم، وإقامة الجلد وتسحیم الوجه مقامه، ویکتمون ذالک مخافة الفضیحة. ومن جملة ذلک، أنهم کانوا یؤوّلون آیات فیها بشارة هاجر وإسماعیل علیهما الصلاة والسلام ببعثة نبي في أولادهما، وفیها إشارة بوجود ملة یتم ظهورها وشهرتها في أرض الحجاز، وتمتلیٔ بها جبال عرفة من التلبیة، ویقصدون ذالک الموضع من أطراف الأقالیم، وهي ثابتة في التوراة إلی الآن، وکانوا یؤوّلونها بأن ذالک إخبار بوجود هذہ الملة، لیس فیه أمر بالأخذ بها، وکانوا یقولون: ملحمة کتبت علینا، ولما کان هذا التأویل رکیکًا فلا یسمعه أحد، ولا یکاد یصح عند أحد، کانوا یتواصون بإخفائه، ولا یجوّزون إظهاره لکل عام وخاص. (الفوز الکبیر فی اصول التفسیر۱۳ ،۱۵) '' یہودی تحریف لفظی تورات کے ترجمہ وغیرہ میں کیا کرتے تھے نہ کہ اصل تورات میں۔ فقیر کے نزدیک ایسا ہی محقق ہوا ہے اور ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ اور تحریف معنوی تاویل فاسد کا نام ہے، یعنی سینہ زوری اور راہ مستقیم سے انحراف کر کے کسی آیت کو اس کے اصل معنی کے خلاف پر حمل کرنا۔...کتمان آیات کی یہ صورت تھی کہ بعض احکام اور آیات کو کسی ذی عزت اور شریف کے اعزاز کی حفاظت یا کسی ریاست کے حاصل کرنے کی غرض سے پوشیدہ کر دیتے تھے کہ عوام کا اعتقاد ان سے زائل نہ ہو جائے اور یہ لوگ اس پر عمل ترک کر دینے سے نشانۂ ملامت نہ بن سکیں۔ مثلاً زانی کو سنگ سار کرنے کا حکم تورات میں مذکور تھا، مگر ان لوگوں نے اس وجہ سے کہ ان کے تمام علما نے رجم کو موقوف کر کے اس کی جگہ پر درے مارنا اور منہ کالا کر دینا تجویز کر رکھا تھا، اس حکم کو ترک کر دیا اور رسوائی کے خوف سے اس کو چھپا لیا تھا۔ یا مثلاً جن آیتوں میں حضرت ہاجرہ و اسمٰعیل علیہما السلام کو بشارت دی گئی ہے کہ ان کی اولاد میں ایک نبی مبعوث ہو گا اور جن میں اشارہ ہے ایک ایسے مذہب کی جانب جو سرزمین حجاز میں کامل اشاعت پائے گا۔ اور اس کے سبب سے عرفات کی پہاڑیاں صداے لبیک سے گونج اٹھیں گی اور تمام اقلیموں کے لوگ اس مقام کی زیارت کا قصد کریں گے باوجودیکہ یہ آیتیں تورات میں اب تک موجود ہیں۔ یہودی ان کی یہ تاویل کرتے تھے کہ یہ تو فقط اس مذہب کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اس کے اتباع کا امر کہاں ہے۔ اور یہ مقولہ ان کے زبان زد تھا: 'ملحمة کتبت علینا'۔ لیکن چونکہ اس رکیک تاویل کو کوئی نہ سنتا تھا اور نہ کسی کے نزدیک یہ صحیح تھی، اس لیے وہ آپس میں ایک دوسرے کو اس راز کے اخفا کی وصیت کرتے اور ہر کس و ناکس کے روبرو اس کا اظہار نہ کرتے تھے۔''

مولانا مودودی بیان کرتے ہیں :

''...تورات اُن منتشر اجزاکا نام ہے، جو سیرت موسیٰ علیہ السلام کے اندر بکھرے ہوئے ہیں۔...قرآن اِنھی منتشر اجزا کو ''تورات'' کہتا ہے، اور اِنھی کی وہ تصدیق کرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزا کو جمع کرکے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے، تو بجز اس کے کہ بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے، اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان یک سرِمُوفرق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسوس کر سکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی منبع سے نکلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح انجیل دراصل نام ہے ان الہامی خطبات اور اقوال کا، جو مسیح علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے۔ ... قرآن انھی اجزا کے مجموعے کو ''انجیل'' کہتا ہے اور انھی کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزا کو مرتب کرکے قرآن سے ان کا مقابلہ کرکے دیکھے، تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا، اور جو تھوڑا بہت فرق محسوس ہو گا، وہ بھی غیر متعصبانہ غوروتامل کے بعد بآسانی حل کیا جا سکے گا۔'' (تفہیم القرآن ۱/ ۲۳۲)

کم و بیش یہی موقف ہے جو اس ضمن میں جناب جاوید احمد غامدی نے اختیار کیا ہے۔ ان کے نزدیک قدیم آسمانی کتابیں اللہ کی کتابیں ہیں جواپنے اپنے زمانوں میں انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی تھیں۔ ان کا سرچشمہ وہی ہے جو قرآن مجید کا ہے۔چنانچہ قرآن مجید ان پر بالاجمال ایمان لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے مختلف حاملین نے مذہبی تعصبات کی بنا پراگرچہ ان کے بعض اجزا ضائع کر دیے ہیں اور بعض میں تحریف کر دی ہے، اس کے باوجود ان میں الہامی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور الہامی لٹریچر کے اسالیب کو جاننے والے اس سے بہ خوبی آگاہ ہو سکتے ہیں۔ جناب جاوید احمد غامدی نے ان صحائف کے بارے میں یہ موقف اپنی تالیف ''میزان'' میں '' کتابوں پر ایمان'' کے زیر عنوان بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''اِس وقت جو مجموعۂ صحائف بائیبل کے نام سے موجود ہے، اُس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتابیں کسی نہ کسی صورت میں تمام پیغمبروں کو دی گئیں۔ قرآن جس طرح تورات و انجیل کا ذکر کرتا ہے، اُسی طرح صحف ابراہیم کا ذکر بھی کرتا ہے[1]۔ اِس کی تائید بقرہ و حدید کی اُن آیتوں سے بھی ہوتی ہے جو اوپر نقل ہوئی ہیں۔ یہ سب کتابیں خدا کی کتابیں ہیں۔ چنانچہ بغیر کسی تفریق کے قرآن بالاجمال اِن پر ایمان کا مطالبہ کرتا ہے...۔ ...(تورات) موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اِسے بالعموم اُن پانچ صحیفوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے جو بائیبل کی ابتدا میں درج ہیں اور جنھیں خمسۂ موسوی (Pentateuch) کہتے ہیں، یعنی پیدایش، خروج، احبار، گنتی اور تثنیہ۔ اِن صحیفوں کا تدبر کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ پہلے چار صحیفوں میں یہ تاریخی بیانات کے ساتھ اپنے نزول کی ترتیب سے نقل ہوئی ہے اور تثنیہ میں اِسے بالکل اُسی طرح ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر دیا گیا ہے، جس طرح قرآن کو مرتب کیا گیا ہے۔ اپنی موجودہ صورت میں غالباً یہ پانچویں صدی قبل مسیح میں کسی وقت مرتب کی گئی۔ تاہم سیدنا مسیح علیہ السلام نے جس طرح اِس کا ذکر کیا ہے، اُس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اُن کی تصویب بھی اِس کو کسی حد تک حاصل ہے...۔ انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی جو ہدایت بنی آدم کو ملی ہے، اُس کے دو حصے ہیں : ایک قانون، دوسرے حکمت۔ تورات میں زیادہ تر قانون بیان ہوا ہے اور اِس کا نام بھی اِسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ قرآن اِسے 'هُدًي لِّبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ'[2] ( بنی اسرائیل کے لیے ہدایت) اور 'تَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ'[3] (ہر چیز کی تفصیل) کہتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اِس میں اللہ کا حکم ہے[4]، ہدایت اور روشنی ہے[5]، لوگوں کے لیے رحمت ہے[6]۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ اِس میں یہود کی تحریفات کا ذکر کرتا ہے[7]، لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کی جو روایت (version) زمانۂ رسالت کے یہود و نصاریٰ کے پاس تھی، قرآن فی الجملہ اُس کی تصدیق کرتا ہے۔ ...(زبور) اُس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ نغمات الہٰی کا مجموعہ ہے جنھیں مزامیر کہا جاتا ہے۔ بائیبل کے مجموعۂ صحائف میں زبور کے نام سے جو کتاب اِس وقت شامل ہے، اُس میں ۵ دیوان اور ۱۵۰ مزامیر ہیں۔ دوسرے لوگوں کے مزامیر بھی اگرچہ اُس میں خلط ملط ہو گئے ہیں، مگر جن مزامیر پر صراحت کی گئی ہے کہ داؤد علیہ السلام کے ہیں، اُن میں الہامی کلام کی شان ہر صاحب ذوق محسوس کر سکتا ہے۔ انجیل کی طرح یہ بھی ایک صحیفۂ حکمت ہے اور خدا کی نازل کردہ ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن اِس کی تصدیق کرتا ہے۔ ...(انجیل) مسیح علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اُن کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد آخری نبوت کی بشارت تھی۔ انجیل کے معنی بشارت کے ہیں اور یہ نام اِسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ الہامی کتابوں کے عام طریقے کے مطابق یہ بھی دعوت و انذار کی ضرورتوں کے لحاظ سے وقتًا فوقتًا نازل ہوتی رہی۔ اِس سے پہلے کہ اِسے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر کے محفوظ کیا جاتا، سیدنا مسیح علیہ السلام کو اُن کی قوم کی سرکشی کے باعث دنیا سے اٹھا لیا گیا۔ لہٰذا یہ کوئی مرتب کتاب نہیں، بلکہ منتشر خطبات تھے جو زبانی روایتوں اور تحریری یاد داشتوں کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچے۔ مسیح علیہ السلام کی سیرت پر ایک مدت کے بعد بعض لوگوں نے رسائل لکھنا شروع کیے تو اُن میں یہ خطبات حسب موقع درج کر دیے گئے۔ یہی رسائل ہیں جنھیں اب انجیل کہا جاتا ہے۔ مسیحیت کے ابتدائی زمانے میں یہ اناجیل بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ۳۸۲ء میں پوپ دماسس (Damasus) کے ماتحت ایک مجلس میں کلیسا کے مذہبی پیشواؤں نے اُن میں سے چار منتخب کر کے باقی ترک کر دیں اور اُنھیں غیر موثق (Apocryphal) قرار دے دیا۔ بائیبل کے مجموعۂ صحائف میں یہ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی اناجیل کے نام سے شامل ہیں۔ یہ ابتدا ہی سے یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں، جب کہ مسیح علیہ السلام کی زبان آرامی (Aramaic) تھی اور اُنھوں نے اپنے مواعظ اِسی زبان میں ارشاد فرمائے تھے۔ اِن کے لکھنے والے بھی مسیح علیہ السلام کے بعد اُن کے مذہب میں داخل ہوئے۔ لہٰذا اِن میں سے کوئی انجیل بھی ۷۰ء سے پہلے کی لکھی ہوئی نہیں ہے، اور انجیل یوحنا تو مسیح علیہ السلام کے ایک صدی بعد غالباً ایشیاے کوچک کے شہر افسس میں کسی وقت لکھی گئی ہے۔ اِس کے باوجود سیدنا مسیح کے جو خطبات، ارشادات اور تمثیلیں اِن میں درج ہیں، اُن کی الہامی شان ایسی نمایاں ہے کہ الہامی لٹریچر کے اسالیب سے واقف کوئی شخص اُن کا انکار نہیں کرسکتا۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن جس انجیل پر ایمان لانے کامطالبہ کرتا ہے، اُس کا ایک بڑا حصہ سیرت کی اِن کتابوں میں محفوظ ہے۔'' (۱۵٥ -۱۵٧)

غامدی صاحب کے درج بالا اقتباس سے زیر بحث موضوع کے بارے میں حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱۔ تورات، زبور اور انجیل خدا کی کتابیں ہیں اور قرآن بالاجمال ان پر ایمان کا مطالبہ کرتا ہے۔

۲۔ان میں تحریف ہوئی ہے۔

۳۔ اس کے باوجود ان میں الہامی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

۴۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن نے جن صحائف پر ایمان کا مطالبہ کیا ہے، ان کا ایک بڑا حصہ محفوظ ہے۔

[باقی]

__________

Sign up now!

[1]۔ الاعلیٰ۸۷: ۱۹۔

[2]۔ بنی اسرائیل۱۷: ۲۔

[3]۔ الانعام۶ :۱۵۴۔

[4]۔ المائدہ۵: ۴۳۔

[5]۔ المائدہ۵ :۴۴۔

[6]۔ الاعراف۷ :۱۵۴۔

[7]۔ المائدہ۵ :۱۳۔