فہم حدیث اور فقہاے امت


قرآنِ مجید اور سنتِ متواترہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات دین کا تیسرا بنیادی ماخذ ہیں۔ قرآن کی نص کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ کی آیات کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ان کی تبیین وتفصیل اور صحابہ کی تربیت وتزکیہ کے منصب پر بھی فائز تھے، اور آپ نے اپنے اقوال وافعال سے یہ ذمہ داری لامحالہ انجام دی۔ چنانچہ قرآن کی اصولی ہدایات اور سنت کی شکل میں نقل ہونے والے دین کے بنیادی ڈھانچے کے مختلف جزوی پہلووں کی تفصیل اور ان کی حکمت معلوم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے رجوع دین کے مکمل اورجامع فہم کے لیے ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔

حدیث کی اس نوعیت سے پہلی بات یہ واضح ہوتی ہے کہ اس کا مطالعہ درحقیقت چند انفرادی اور غیر مربوط اقوال کا مطالعہ نہیں ہے، بلکہ عقل وحکمت کے لحاظ سے ایک نہایت منضبط اور مربوط نظام کا مطالعہ ہے۔ حدیث کی معنویت اور دین میں اس کا صحیح مقام اس کے بغیر واضح ہی نہیں ہو سکتا کہ قرآن میں بیان ہونے والے حکمتِ دین کے بنیادی اصولوں کوسمجھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ان کی توسیع بے شمار فروع کی طرف کی ہے ، ان تمام اجزا کا اپنی اصل کے ساتھ، نیز ایک دوسرے کے ساتھ باہم کیا ربط ہے، اور دین کی عمارت میں کون کون سی اینٹ کہاں کہاں فٹ بیٹھتی ہے۔

دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ فہمِ حدیث میں اہل علم کے مابین اختلافِ رائے کا پیدا ہوجانا ایک بالکل فطری چیز ہے۔ ایک تو اس لیے کہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا، حدیث قرآن اور عقل وحکمت کی اساس پر مبنی ایک نہایت گہرے نظام کی تشریح ہے اور ایک حکیمانہ نظام کے فہم میں اہل علم کے شخصی اذواق اور انفرادی زاویہ ہاے نظر کے اختلاف سے رائے کے اختلاف کا وجود میں آجانا کوئی بعید بات نہیں۔ اور دوسرے اس لیے کہ اس قسم کے کسی نظام کا فہم وتدبر نہایت اعلیٰ دماغوں اور بہت گہرے غور وفکر کا تقاضا کرتا ہے ، جبکہ انسانی فہم وفراست مدارج کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوتی ، بلکہ متفاوت ہوتی ہے ۔

چنانچہ امت میں فہمِ حدیث کے حوالے سے پائے جانے والے زاویہ ہاے نظر کا جائزہ لیا جائے تو آرا کے جزوی اختلاف سے قطعِ نظر، اصولی طور پر دو متوازی مکتبِ فکر سامنے آتے ہیں جو فہمِ حدیث کے باب میں اپنے اصولی طریقۂ کار اور اندازِ نظر کے حوالے سے بالکل مختلف خصائص کے حامل ہیں ۔

ایک گروہ وہ ہے جس کے نزدیک حدیث کے فہم میں اس کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس مجموعی نظام کی رعایت بھی ضروری ہے جس کا وہ ایک حصہ ہے ۔ ان کے نزدیک احکام کا مدار حدیث میں بیان کردہ ظاہری صورت پر نہیں، بلکہ ا س کی علت پر ہوتاہے ، اس لیے اگر علت بدل جائے تو ان کے نزدیک ظاہری شکل کی مماثلت کے باوجود حکم بدل جائے گا۔ علاوہ ازیں ان کے ہاں حدیث کا مفہوم متعین کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ حیثیت اور دوسری حیثیات میں بھی فرق ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر کے نمائندہ امت کے فقہی مکاتبِ فکر میں احناف اور مالکیہ ہیں۔

دوسرا گروہ وہ ہے جس کے نزدیک فہمِ حدیث کا بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو، حدیث کے ظاہر کی اتباع اور آخری حد تک اس کے الفاظ کی رعایت کی جائے۔ یہ طبقہ محدثین کا ہے جس کی نمائندگی فقہی مکاتبِ فکر میں شوافع اور حنابلہ کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے طریقے میں امام داؤد ظاہری کی طرح ظاہرِ حدیث کی اتباع میں حدِ اعتدال سے بہت زیادہ تجاوز نہیں ہے اور اصولی طور پر احکام کی علت وحکمت کا لحاظ رکھنا ان کے ہاں مسلم ہے، تاہم عملاً الفاظ کی ہر ممکن حد تک رعایت اس طریقۂ فکر کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں احادیث کی تشریح ایک مربوط نظام کے اجزا کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ بیشتر ان کی انفرادی حیثیت میں کی جاتی ہے، اور حدیث کی لفظی دلالت کے علاوہ دیگر خارجی اصولوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ چنانچہ اگر کسی مسئلے میں حنفیہ یا مالکیہ یہ کہیں کہ فلاں حدیث یا اس کا یہ مفہوم شریعت کے اصول کلیہ کے خلاف ہے تو وہ خطابی کے الفاظ میں کہتے ہیں:

والاصل ان الحدیث اذا ثبت عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجب القول بہ وصار اصلا فی نفسہ۔

''اصول یہ ہے کہ حدیث جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے اور وہ بذات خود ایک اصل بن جاتی ہے۱؂ ۔''

ان دونوں رجحانات کی جھلک خود حضرات صحابۂ کرام کے ہاں ملتی ہے۔ چند مثالیں حسبِ ذیل ہیں:

۱۔ جامع ترمذی میں ہے کہ ابو ہریرہ نے یہ حدیث بیان کی کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ عبداللہ ابن عباسؓ نے یہ سن کر فرمایا : ''کیا ہم چکناہٹ سے وضو کریں؟ کیا ہم گرم پانی کے استعمال سے وضو کریں؟'' (مراد یا یہ تھی کہ یہ کوئی واجب حکم نہیں ہے ،کیونکہ خلافِ قیاس ہے اور یا یہ کہ ابو ہریرہ کو سننے یا سمجھنے میں غلطی لگی ہے)۔ اس پر حضرت ابوہریرہ نے کہا: ''جب تمھارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی جائے تو باتیں نہ بنایا کرو۲؂۔''

۲۔ موطا امام مالک میں روایت ہے کہ حضرت معاویہ نے سونے یا چاندی کے کچھ برتن فروخت کیے اور بدلے میں ان کے وزن سے زیادہ سونا یا چاندی وصول کی۔ جب حضرت ابو الدرداء نے انھیں بتایا کہ اس بیع سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے تو اُنھوں نے جواب دیا: ''میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ۔'' (مراد غالباً یہ تھی کہ ابو الدرداء کو حکم سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے یا یہ کہ ممانعت کی علت اس صورت میں نہیں پائی جاتی) ۔ابو الدرداء نے یہ سنا تو پکارے: ''کون ہے جو مجھے معاویہ کے شر سے بچائے؟ میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سناتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے بتاتا ہے۳؂۔''

۳۔ عبد اللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا استاذنکم نساؤکم باللیل الی المسجد فاذنوا لہن۔

''اگر تمھاری عورتیں رات کے وقت مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو انھیں مت روکا کرو۴؂۔''

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ عورتوں نے جو طور طریقے اب اختیار کر لیے ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کرتیں تو آپ انھیں مسجد میں آنے سے منع فرما دیتے۵؂۔ لیکن عبد اللہ ابن عمر کے بیٹے بلال نے اپنے والد کے سامنے کہا کہ ہم عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکیں گے تو وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سناتا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انھیں روکیں گے۶؂؟

ان دونوں طریقوں میں سے کسی کا محرک جیسا کہ واضح ہے، نفسانیت کا جذبہ نہیں ، بلکہ پیغمبرکے منشا کا صحیح ادراک اور اس کی اتباع تھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر ان دونوں طریقوں کی خاموش تصویب بھی فرمائی ۔

حضرت عبد اللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ خندق سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آئے تو آپ نے فوری طور پر بنو قریظہ کی طرف چلنے کا حکم دیا اور کہا کہ بنو قریظہ میں پہنچنے سے قبل کوئی عصر کی نماز نہ پڑھے۔ بعض صحابہ ابھی راستے ہی میں تھے کہ عصر کی نماز کا وقت آ گیا اور ان میں رائے کا اختلاف ہو گیا۔ ایک گروہ نے کہا کہ چونکہ ہمیں بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے ہم نماز نہیں پڑھیں گے۔ جب کہ دوسرے گروہ نے یہ کہہ کر نماز پڑھ لی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ نہیں تھا ،(بلکہ یہ تھا کہ ہم تیزی سے چلیں اور عصر سے پہلے بنو قریظہ میں پہنچ جائیں)۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ بعد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو آپ نے دونوں گروہوں میں سے کسی کو نہیں ڈانٹا۷؂۔

تاہم جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک فہمِ حدیث کا کون سا طریقہ زیادہ پسندیدہ تھا اور آپ کے فقہا صحابہ نے کس طریقے کی پیروی کی تو آئیے اس کو جاننے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور فقہا صحابہ کی آرا کا مطالعہ کریں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات

روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فہمِ حدیث کے حوالے سے صحابہ کو دو بنیادی باتوں کی تعلیم دی۔

ایک یہ کہ آپ کے ان احکامات میں جو آپ نے بحیثیتِ پیغمبر ارشاد فرمائے ہیں اور ان ہدایات میں جن کی بنیاد عقلِ عام یا تجربہ یا ذاتی پسند وناپسند پر ہے، فرق ملحوظ رکھا جائے۔ پہلی صورت میں آپ کے احکام کی اتباع لازم ہے اور اس میں کسی کو کوئی اختیار نہیں ،جبکہ دوسری صورت میں امت کے لیے عقل ورائے کا استعمال ممنوع نہیں اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن کی چند روایتیں ملاحظہ ہوں:

۱۔ حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ کھجور کے درختوں کو گابھا دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید پھل زیادہ اچھا ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا ،لیکن پھل پہلے سے کم ہوا۔ لوگوں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا:

انما انا بشر، اذا امرتکم بشئی من دینکم فخذوا بہ، واذا امرتکم بشئی من رایی فانما انا بشر ۔

''میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔ جب میں تمھیں دین کے معاملے میں کوئی حکم دوں تو اس پر لازماً عمل کرو، لیکن اگر میں اپنی رائے سے کوئی بات کہوں تو میں بھی ایک انسان ہوں۸؂۔''

۲۔ عبد اللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفن دینے کے لیے اپنی قمیص عطا کی۔ پھر جب اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر نے آپ کو کھینچا اور کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقوں کی نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا؟ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے اس معاملے میں اختیار دیا گیا ہے۔ پھر آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۹؂۔

مذکورہ دونوں واقعات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کا تعلق دینی پہلو رکھنے والے معاملات سے تھا، لیکن سیدنا عمر نے یہ سمجھ کر کہ آپ کی رائے کا تعلق وحی سے نہیں ، بلکہ تدبیر سے ہے، آپ کی رائے کے خلاف رائے دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی نکیر نہیں کی۔

۳۔ عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ جب حضرت عائشہ نے اپنی لونڈی بریرہ کو آزاد کیا تو اس نے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے خاوند مغیث سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا، جس پر مغیث نہایت غمگین تھے۔ بریرہ کے ساتھ مغیث کی محبت کو دیکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے کہا، اگر تم اس کے نکاح میں رہو تو بہتر ہے۔ بریرہ نے پوچھا: یارسو ل اللہ کیا یہ آپ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں بس سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے کہا: تو پھر مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۱۰؂۔

۴۔ حضرت خالد بن الولید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر گوہ کا گوشت پیش کیا گیا ،لیکن آپ نے اسے کھانے سے گریز کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا:نہیں ،لیکن چونکہ یہ ہمارے علاقے میں نہیں پائی جاتی تھی ،اس لیے اس کا کھانا میرے لیے طبعاً ناگوار ہے۔ چنانچہ حضرت خالد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت کھایا۱۱؂۔

مذکورہ دونوں روایتوں سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی کو ذاتی حیثیت میں کوئی مشورہ دیں یا اپنی طبیعت کی بنا پر کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں تو امت پر اس کی اتباع واجب نہیں ہے۔

دوسری یہ کہ آپ نے صحابہ میں یہ مزاج پیدا کیا کہ وہ آپ کے احکام کی علت اور ان کا معنی وغرض سمجھنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی دینی یا دنیاوی حکم دیتے ہوئے بالعموم اس کی حکمت اور فائدہ بھی بیان فرما دیتے تھے اور اگر کسی موقع پر صحابہ کی نظر حکم کی علت اورحکمت سے ہٹ جاتی تو آپ ان کی توجہ اس کی طرف مبذول کرا دیتے۔

۱۔ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ عید الاضحی کے موقع پر ایک جماعت مہمان بن کر مدینہ منورہ میں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کا گوشت صرف تین دن کے لیے ذخیرہ کرو ، باقی سب صدقہ کر دو۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ، ہم تو اپنی قربانی کے جانوروں سے بہت سے فائدے اٹھاتے تھے۔ ان کی چربی پگھلا کر رکھ لیتے تھے اور ان کے چمڑے سے پانی پینے کے برتن بنا لیتے تھے۔ آپ نے فرمایا، تو اب کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ، آپ نے خود ہی تو منع فرمایا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ نہ کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھئی وہ تو میں نے اس جماعت کی وجہ سے منع کیا تھا جو مہمان بن کر تمھارے پاس آئی تھی۔ تم قربانی کا گوشت کھاؤ بھی، صدقہ بھی کرو اور ذخیرہ بھی کرو۱۲؂۔

۲۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر نماز کی امامت کرا رہے تھے کہ دورانِ نماز میں آپ نے جوتے اتار کر اپنے بائیں طرف رکھ دیے۔ پیچھے نماز پڑھنے والے صحابہ نے بھی آپ کو دیکھ کر اپنے جوتے اتار دیے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے پوچھا کہ تم نے کس وجہ سے جوتے اتارے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہم نے آپ کی طرف دیکھ کر ایسا کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو جبریل نے آکر بتایا تھا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے۔۱۳؂

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ سے یہ سوال کرنا کہ ''تم نے کیوں جوتے اتارے؟'' اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے ہر ہر عمل کی اتباع لازم نہیں ،بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کے کسی فعل کی نوعیت کیا ہے اور اس کی پیروی امت سے مطلوب ہے یا نہیں۔

۳۔ عبد اللہ ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من جر ثوبہ خیلاء لا ینظر اللّٰہ الیہ یوم القیامۃ ۔

''جس شخص نے تکبر کرتے ہوئے اپنا کپڑا زمین پر کھینچا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نگاہ رحمت نہیں کریں گے۔''

حضرت صدیق اکبر نے عرض کی کہ یا رسول اللہ، میری چادر کا ایک کنارا تو ڈھلکا ہی رہتاہے ، الا یہ کہ میں ہر وقت اسے پکڑے رکھوں۔ آپ نے فرمایا: تم تکبر کی وجہ سے تو ایسا نہیں کرتے ،(اس لیے تم پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۱۴؂ ) ۔

۴۔ غالب ابن ابجر کہتے ہیں کہ ہم قحط کا شکار ہو گئے اور گدھوں کے سوا ہمارے پاس خوراک کے لیے کچھ نہیں تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر صورتِ حال عرض کی اور کہا کہ آپ نے تو گدھوں کا گوشت حرام قرار دے رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا، اپنے گھر والوں کو کسی موٹے تازے گدھے کا گوشت کھلاؤ۔ میں نے تو ان گدھوں کی وجہ سے ان کو حرام کیا جو بستی میں گھومتے پھرتے گندگی کھاتے رہتے ہیں۱۵؂۔

اس تربیت کے نتیجہ میں صحابۂ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف احکام کی حکمت دریافت بھی کرتے تھے اور بہت سے مواقع پر اس حوالے سے اپنی آرا بھی آپ کے سامنے پیش کرتے تھے جنھیں آپ قبول کر لیتے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

۱۔ سلمہ بن الاکوع روایت کرتے ہیں کہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آگ پر کچھ ہانڈیاں چڑھی ہوئی ہیں تو پوچھا کہ ان میں کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ گھریلو گدھوں کا گوشت ہے۔ آپ نے فرمایا: ان کو توڑ دو اور گوشت پھینک دو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، کیا ہم ایسا نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں؟ آپ نے فرمایا، چلو ایسا کر لو۔ ۱۶ ؂

۲۔ ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : راستوں پر مت بیٹھا کرو۔ صحابہ نے کہا، ہمارے لیے تو اس کے سوا چارہ نہیں ،کیونکہ ہماری گفتگو کی مجلسیں ان راستوں ہی میں جمتی ہیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا تو پھر جب تم ایسی مجلسیں جماؤ تو راستے کا حق ادا کیا کرو۔ صحابہ نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا: آنکھ کی حفاظت، کسی کو تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیک بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۱۷؂۔

۳۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ان سے کہا ، اے ابو ہریرہ ، میرے یہ دونوں چپل گواہی کے لیے ساتھ لے جاؤ اور جو شخص بھی ایسا ملے جو دل کے یقین سے یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو اسے جنت کی خوش خبری سنا دو۔ ابو ہریرہ جب چلے تو سب سے پہلے حضرت عمر سے ملاقات ہو گئی۔ ابو ہریرہ نے جب انھیں یہ بات بتائی تو انھوں نے ابو ہریرہ کو زور سے دھکا دیا جس سے وہ پیٹھ کے بل گر گئے، او ر ان سے کہا کہ واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ جب دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ابو ہریرہ نے شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، آپ لوگوں کو یہ خوش خبری نہ سنائیں کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس سے لوگ عمل کی جانب سے بے پروا ہو جائیں گے۔ آپ انھیں عمل کرتے رہنے دیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا ٹھیک ہے، ان کو عمل کرتے رہنے دو۱۸؂۔

ان اصولوں کو سمجھنے اور ان کو برتنے کی تربیت جن صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پائی، ان کی آرا میں ان اصولوں کا لحاظ نہایت واضح طور پر ملتا ہے۔

صحابہ اور فہم حدیث

عقل و قیاس کی رعایت

O عبد اللہ ابن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد پرباپ کا حق بیان کرتے ہوئے فرمایا:

انت ومالک لوالدک، ان اولادکم من اطیب کسبکم فکلوا من کسب اولادکم ۔

''تم اور تمھارا مال اپنے باپ ہی کے ہو۔بے شک تمھاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے، اس لیے تم اپنی اولاد کے کمائے ہوئے مال میں سے کھا سکتے ہو۱۹؂۔''

O حضرت صدیقِ اکبر کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا کہ میرا باپ میرا سارا مال اپنی کسی حاجت کے لیے لے لینا چاہتا ہے۔ حضرت ابوبکر نے اس کے باپ سے کہا: تم اس کے مال میں سے بقدر ضرورت ہی لے سکتے ہو، سارا مال نہیں۔ اس نے کہا:اے خلیفۂ رسول، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ تم اور تمھارا مال اپنے باپ ہی کے ہو؟ آپ نے فرمایا، ہاں لیکن اس سے آپ کی مراد باپ کا ضروری نفقہ ہے، اس لیے اسی چیز پر راضی رہو جس پر اللہ راضی ہے۲۰؂۔

کلام کے پس منظر کی رعایت

O حضرت عبد اللہ ابن عمر نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الشہر تسع وعشرون۔

''مہینا انتیس دن کا ہوتا ہے۔''

حضرت عائشہ کو علم ہوا تو فرمایا، اللہ ابن عمر پررحم کرے، اصل بات یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک اپنی ازواج سے الگ رہنے کی قسم کھائی تھی ،لیکن آپ انتیس دن کے بعد ہی گھرواپس تشریف لائے۔ لوگوں نے کہا کہ یارسول اللہ، آپ نے تو ایک مہینے کی قسم کھائی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ مہینا انتیس دن کا بھی تو ہو سکتا ہے۲۱؂۔

O حضرت عائشہ کو علم ہوا کہ حضرت ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تین حدیثیں بیان کرتے ہیں:

(۱) لان امتع بسوط فی سبیل اللّٰہ احب الی من ان اعتق ولد الزنا ۔

''اللہ کے راستے میں ایک چھڑی دے دینا مجھے کسی ولد الزنا کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔''

(۲) ولد الزنا شر الثلاثۃ ۔

''ولد الزنا اپنے ماں باپ دونوں سے بدتر ہے۔''

(۳) ان المیت لیعذب ببکاء اہلہ علیہ۔

''پس ماندگان کے رونے سے مردہ کو عذاب ہوتا ہے۔''

حضرت عائشہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو ہریرہ پر رحم کرے، انھوں نے سننے میں بھی غلطی کی اور آگے بتانے میں بھی۔ آپ کے پہلے ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں جب یہ آیت اتری کہ: 'فلا اقتحم العقبۃ وما ادراک ما العقبۃ فک رقبۃ'( انسان گھاٹی پر نہ چڑھا۔ اور تجھے کس نے بتایا کہ گھاٹی کیا ہے؟ کسی غلام کو آزاد کرانا) ۔ تو بعض لوگ جن کے پاس آزاد کرنے کے لیے غلام نہیں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ کیا ہم ایسا نہ کریں کہ اپنی لونڈیوں سے زنا کرائیں اور پھر جن بچوں کو وہ جنم دیں، انھیں آزاد کر دیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک چھڑی دے دینا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں زنا کا حکم دوں اور پھر بچے کو آزاد کر دوں۔ آپ کے دوسرے ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ منافقین میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تنگ کرتا تھا۔ آپ نے کہا، کون ہے جو مجھے اس کی اذیت سے بچائے؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ وہ شخص تو ویسے بھی ولد الزنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو اپنے ماں باپ سے بھی بد تر نکلا۔ تیسرے ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر میں تشریف لے گئے جس کا انتقال ہو گیا تھا اور اس کے گھر والے رو رہے تھے۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا کہ یہ اس پر رو رہے ہیں ، جبکہ اس کو اپنی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۲۲؂۔

وقتی مصالح پر مبنی احکام اور تشریع میں فرق

O رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے طریقہ یہ چلا آ رہا تھا کہ جنگوں میں جو بھی مالِ غنیمت نقدی یا زمینوں کی شکل میں حاصل ہوتا، اس کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال کر باقی مال مجاہدین میں تقسیم کر دیا جاتا۔ سیدنا عمر کے زمانے میں جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور ملکوں کے ملک قبضے میں آنے لگے تو انھوں نے اس طریقہ کو ختم کر دیا اور فرمان جاری کیا کہ اب زمینیں تقسیم نہیں کی جائیں گی ،بلکہ انھیں بٹائی پردے کر ان کی آمدن بیت المال کے لیے حاصل کی جائے گی۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا:

لو لا آخر المسلمین ما فتحت علیہم قریۃ الا قسمتہا کما قسم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیبر۔

''اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں بھی ہرفتح ہونے والی بستی کی زمینیں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمینیں کی تھیں۲۳؂۔''

O قرآنِ مجید عربی زبان میں قریش کے لہجے پر نازل ہوا تھا ،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی سہولت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اس بات کی خصوصی اجازت حاصل کی کہ ناخواندہ لوگوں کواپنے اپنے لہجوں پر قرآن پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ حضرت عثمان کے زمانے میں اہل عجم کے ساتھ اختلاط کے باعث جب یہی سہولت فتنہ اور اختلافات کا باعث بننے لگی تو صحابۂ کرام نے اجماعی فیصلے کے ساتھ اس سہولت کو ختم کر دیا اور حضرت عثمان نے قریش کے لہجے پر قرآن کے نسخے لکھوا کر ملکوں میں بھجوا دیے اور ان کے سوا تمام نسخے ضبط کر کے جلا دیے ۲۴؂ ۔

O ا بو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

غسل یوم الجمعۃ واجب علی کل محتلم ۔۲۵؂

''جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالغ آدمی پر واجب ہے۔''

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل واجب نہیں۔یہ حکم آپ نے اس لیے دیا تھا کہ آپ کے زمانے میں مسجد نبوی چھوٹی تھی ، لوگ کام کاج کرتے ہوئے اٹھ کر جمعہ کے لیے آجاتے تھے اور انھوں نے سوت کے کپڑے پہنے ہوتے تھے جس سے مسجد میں پسینے کی بدبو پھیل جاتی اورلوگوں کو تکلیف ہوتی۔ اب اللہ تعالیٰ نے مال کی فراوانی دی ہے، لوگ سوت کے کپڑے نہیں پہنتے، مشقت کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور مسجد بھی وسیع کر دی گئی ہے، اس لیے اب اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۲۶؂۔

O عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے یعنی سینہ اکڑاتے ہوئے چلتے تھے۲۷؂۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ سنت نہیں ، بلکہ ایک وقتی حکم تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی تو سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے طواف کر ہی نہیں سکیں گے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو رمل کا حکم دیا تاکہ مسلمان مضبوط اور باہمت نظر آئیں۲۸؂۔

O حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۲۹؂۔

عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ نے اس وجہ سے منع کیا تھا کہ کہیں سواری اور بار برداری کے لیے گدھے کم نہ پڑ جائیں۳۰؂۔

قضا اور تشریع میں فرق

O ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیتا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتیں۔ حضرت عمر نے جب دیکھا کہ لوگ اس معاملہ میں جری ہو گئے ہیں تو حکم جاری کیا کہ اب جو شخص اکٹھی تین طلاقیں دے گا، وہ اس پرنافذ کر دی جائیں گی ۳۱؂۔

O رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں اگر کوئی شخص شراب نوشی کے جرم میں پکڑ کر لایا جاتا تو مجلس میں موجود لوگ اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں سے اس کی مرمت کرتے۔ سیدنا ابوبکر کے زمانے میں شراب نوشی پر چالیس کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی اور سیدنا عمر نے اپنی خلافت میں صحابہ کے مشورے سے کوڑوں کی تعداد اسی (۸۰)کر دی۔لیکن سیدنا علی نے اپنے زمانۂ خلافت میں دوبارہ چالیس کوڑوں کی سزا دینا شروع کر دی۳۲؂۔

O ا بو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صدقۂ فطر میں گندم اور کھجور وغیرہ کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔ لیکن حضرت معاویہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں شام سے آنے والی گندم کی ایک خاص قسم سمراء کے بارے میں کہا کہ چونکہ معیار یا قیمت کے لحاظ سے اس کا نصف صاع عام گندم کے ایک صاع کے برابر ہے، اس لیے اس سے صدقۂ فطر نصف صاع دیاجائے ، چنانچہ لوگوں نے اسی پر عمل کرنا شروع کر دیا ،لیکن میں ہمیشہ ایک صاع ہی ادا کرتا رہوں گا۳۳؂۔

O رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تین آدمی سیدنا علی کے پاس ایک لونڈی کے بچے کا جھگڑا لے کر آئے جس سے ان تینوں نے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا ،(اس طرح کہ پہلے ایک شخص کی ملک میں تھی، اس نے جماع کرنے کے بعد دوسرے شخص کو بیچ دی اور اس نے جماع کرنے کے بعد تیسرے شخص کو بیچ دی) ،اور ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ بچہ اس کا ہے۔ حضرت علی نے ا س کا فیصلہ یوں کیا کہ ان کے درمیان قرعہ ڈالااور جس آدمی کا نام نکلا، بچہ اس کے حوالے کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ نے اس فیصلے کی توثیق کر دی۔

لیکن بعد میں اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت علی کے پاس جب اسی نوعیت کا ایک اور مقدمہ آیا تو انھوں نے قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنے کے بجائے بچے کو دونوں میں مشترک قرار دیا۳۴؂۔

تشریع اور امور عادیہ میں فرق

O حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفرِ حج کے موقع پر وادی محصب میں بھی ٹھہرے تھے۳۵؂۔

حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس جگہ ٹھہرنا کوئی سنت نہیں ہے، آپ یہاں بس ایسے ہی ٹھہرے تھے جیسے سفر میں آدمی کسی جگہ ٹھہر جاتا ہے۳۶؂۔

O تفسیر ابن جریر میں روایت ہے کہ حضرت عمر ایک سفر میں روحاء کے مقام پررکے تو دیکھا کہ کچھ لوگوں نے وہاں پڑے ہوئے چند پتھروں کے قریب جا کر نماز پڑھنا شروع کر دی ہے۔ آپ نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہاں نماز پڑھی تھی۔ حضرت عمر نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں بس اس لیے نماز پڑھی تھی کہ یہاں سے گزرتے ہوئے اتفاق سے نماز کا وقت آگیاتھا۳۷؂۔

O حضرت عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کیا۳۸؂۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ کوئی سنت نہیں ہے ،بلکہ آپ نے بھیڑ کی وجہ سے ایسا کیا تھا۳۹؂۔

O ابن جریج نے عبد اللہ ابن عمر سے پوچھا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ دباغت کی ہوئی کھال کے چپل پہننے اور زرد رنگ استعمال کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن صحابہ میں سے اور کسی کو میں نے ایساکرتے نہیں دیکھا۔ عبد اللہ ابن عمر نے فرمایا کہ یہ دونوں کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اس لیے میں بھی انھیں پسند کرتا ہوں۴۰؂۔

اس سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عادی امور کو بعض صحابہ نے اپنے شخصی ذوق کے تحت اختیار کیا،لیکن صحابہ نے عمومی طور پر ان کی اتباع نہیں کی۔

رخصت اور عام حکم میں فرق

O ابو داؤد میں روایت ہے کہ جب حجاب کی آیات اتریں تو حضرت حذیفہ نے اپنے غلام سالم کے بارے میں عرض کیا کہ وہ تو بچپن ہی سے ہمارے گھر میں رہتا ہے اور اگر اس سے بھی پردے کا اہتمام کیا جائے تو بڑی دقت ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ کی اہلیہ سے کہا کہ وہ اپنا دودھ سالم کو پلا دیں، اس طرح وہ اس کی رضاعی ماں بن جائیں گی اور اس سے پردہ لازم نہیں رہے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اس کو عام حکم تسلیم نہیں کرتی تھیں، بلکہ فرماتی تھیں کہ ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رخصت صرف سالم کے لیے دی ہو اور باقی لوگوں کے لیے ثابت نہ ہو۴۱؂۔

O فاطمہ بنت قیس بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے انھیں تین طلاقیں دے دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ان کی رہائش کا انتظام اور نفقہ ان کے خاوند کے ذمہ نہیں ہے۴۲؂۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہ کوئی عام حکم نہیں ہے ،بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کی مجبوری کی بنا پر اسے یہ رخصت دی تھی، کیونکہ وہ ایک ویران مکان میں رہتی تھی اور اس کا وہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا۴۳؂۔

(باقی)

________

۱ ؂ الخطابی، معالم السنن، ج ۳، ص ۱۱۳۔

۲ ؂ جامع الترمذی، کتاب الطہارۃ، باب الوضوء مما غیرت النار، حدیث نمبر ۷۹۔

۳ ؂ الموطا لمالک، باب بیع الذھب بالورق عینا وتبرا ، ص ۵۸۲۔

۴ ؂ بخاری، کتاب الاذان، باب خروج النساء الی المساجد باللیل والغلس، حدیث ۸۶۴۔

۵ ؂ بخاری، کتاب الاذان، باب انتظار الناس قیام الامام العالم، حدیث ۸۶۹۔

۶ ؂ بخاری، کتاب الاذان، باب خروج النساء الی المساجد باللیل والغلس، حدیث ۸۶۴۔

۷ ؂ بخاری، ابواب صلاۃ الخوف، باب صلاۃالطالب والمطلوب راکبا وایماء، حدیث ۷۴۔

۸ ؂ مسلم، کتاب الفضائل، باب وجوب امتثال ما قالہ شرعا، حدیث ۶۱۲۷۔

۹ ؂ بخاری، کتاب الجنائز، باب الکفن فی القمیص الذی یکف او لا یکف، حدیث ۹۹۔

۱۰ ؂ بخاری، کتاب الطلاق، باب شفاعۃ النبی فی زوج بریرۃ ، حدیث ۵۲۸۳ ۔

۱۱ ؂ ابو داؤد، کتاب الاطعمۃ، باب فی اکل الضب، حدیث ۳۷۹۴۔

۱۲ ؂ ابو داؤد، کتاب الضحایا، باب حبس لحوم الاضاحی، حدیث ۲۸۱۲۔

۱۳ ؂ ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ فی النعل، حدیث ۶۵۰۔

۱۴ ؂ بخاری، کتاب اللباس، باب من جر ازارہ من غیر خیلاء، حدیث ۵۷۸۴۔

۱۵ ؂ ابو داؤد، کتاب الاطعمۃ، باب فی اکل لحوم الحمر الاہلیۃ، حدیث ۳۸۰۹۔

۱۶ ؂ بخاری، کتاب المظالم، باب ہل تکسر الدنان التی فیہا الخمر او تخرق الدقاق؟، حدیث ۲۴۷۷۔

۱۷ ؂ بخاری، کتاب المظالم، باب افنیۃ الدور والجلوس فیہا، حدیث ۲۴۶۵۔

۱۸ ؂ مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ن من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا، حدیث ۶۸۶۔

۱۹ ؂ ابو داؤد، کتاب البیوع، باب الرجل یاکل من مال ولدہ، حدیث ۳۵۳۰۔

۲۰ ؂ البیہقی: السنن الکبری، ج ۷، ص ۴۸۱۔

۲۱ ؂ الامام احمد: المسند ، مسند المکثرین من الصحابۃ، حدیث ۴۶۳۴۔

۲۲ ؂ الحاکم، ابو عبد اللہ النیسابوری: المستدرک، لبنان: دار المعرفۃ، سن ندارد، ج ۲، ص ۲۱۵۔

۲۳ ؂ بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، حدیث ۴۲۳۶۔

۲۴ ؂ تقی عثمانی: علوم القرآن، کراچی: مکتبہ دار العلوم، ۱۳۹۶ھ، ص ۱۳۴۔

۲۵ ؂ بخاری، کتاب الجمعۃ، باب فضل الغسل یوم الجمعۃ، حدیث ۸۷۹۔

۲۶ ؂ ابوداؤد، کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ترک الغسل یوم الجمعۃ، حدیث ۳۵۳۔

۲۷ ؂ مسلم، کتاب الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف فی العمرۃ وفی الطواف الاول فی الحج، حدیث ۳۰۴۸۔

۲۸ ؂ المرجع السابق، حدیث ۳۰۵۵۔

۲۹ ؂ بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، حدیث ۴۲۱۶۔

۳۰ ؂ الطبرانی، المعجم الکبیر، ج ۱۱، ص ۳۴۲،حدیث ۱۲۲۲۶۔

۳۱ ؂ مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث، حدیث ۳۶۷۳۔۳۶۷۵۔

۳۲ ؂ بخاری، کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال، حدیث ۶۷۷۹۔ مسلم، کتاب الحدود، باب حد الخمر، حدیث ۴۴۵۷۔

۳۳ ؂ ابو داؤد، کتاب الزکاۃ، باب کم یودی فی صدقۃ الفطر، حدیث ۱۶۱۶۔

۳۴ ؂ الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد:شرح معانی الاثار ، ملتان: المکتبۃ الامدادیۃ، سن ندارد، ج ۲، ص ۳۸۹، ۳۹۰۔

۳۵ ؂ بخاری، کتاب الحج، باب من صلی العصر یوم النفر بالابطح، حدیث ۱۷۶۴۔

۳۶ ؂ بخاری، کتاب الحج، باب المحصب، حدیث ۱۷۶۵، ۱۷۶۶۔

۳۷ ؂ الطبری، ابن جریر : تفسیر القران العظیم ، بیروت: دار الفکر، ج ۱، ص ۳۴۳۔

۳۸ ؂ بخاری، کتاب الحج، باب المریض یطوف راکبا، حدیث ۱۶۳۲۔

۳۹ ؂ مسلم، کتاب الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف فی العمرۃ وفی الطواف الاول فی الحج، حدیث ۳۰۵۵۔

۴۰ ؂ بخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلین فی النعلین، حدیث ۱۶۶۔

۴۱ ؂ ابو داؤد، کتاب النکاح، باب من حرم بہ، حدیث ۲۰۶۱۔

۴۲ ؂ ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب فی نفقۃ المبتوتۃ، حدیث ۲۲۸۸۔

۴۳ ؂ بخاری، کتاب الطلاق، باب قصۃ فاطمۃ بنت قیس، حدیث ۵۳۲۵۔

____________