فہمِ حدیث اور فقہاے امت (۲)


فقہاے احناف اور فہم حدیث

فہم حدیث کی اس روایت کو فقہاے احناف نے آگے بڑھایا اور اپنی آرا میں جا بجا مذکورہ عقلی اصولوں کا استعمال کرتے ہوئے اس طریقے کو مزید واضح اور منقح کیاہے ۔

فہم کلام کے عقلی قواعد

کلام کے داخلی قرائن کا لحاظ

ایک اچھے کلام کے اجزا کے مابین باہم گہرا ربط پایا جاتا ہے اور بعض اجزا تقابل' تمثیل یا اس طرح کے دوسرے اسالیب کے تحت دیگر اجزا کی توضیح وتعیین میں معاون ہوتے ہیں۔ احناف کے ہاں اس اصول کا لحاظ واضح طور پر ملتا ہے۔

۱۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الا لا یقتل مؤمن بکافر ولا ذو عہد فی عہدہ ۔

''آگاہ رہو، نہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلے میں قتل کیا جائے گا اور نہ کوئی ذمی۴۴؂ ۔''

شوافع کے نزدیک اس حدیث کی بنیاد پر مسلمان کو کسی بھی کافر کے بدلے میں، چاہے وہ حربی ہو یا ذمی، قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ اس روایت میں کافر سے مراد حربی کافر ہے اور اس کی دلیل جملے کا یہ حصہ ہے: 'ولا ذو عہد فی عہدہ۔' روایت کا مفہوم یہ ہوا کہ کافر کے بدلے میں نہ کسی مسلمان کو قتل کیا جائے اور نہ کسی ذمی کو۔ اس تقابل ہی سے واضح ہے کہ کافر کا لفظ عام نہیں ، بلکہ اس سے مرادحربی کافر ہے، ورنہ حدیث کا مطلب یہ بنے گا کہ کافر حربی ہو یا ذمی، اس کے بدلے میں کسی مسلمان یا ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ حالانکہ ذمی کے بدلے میں ذمی کو قتل نہ کرنے کی کوئی دلیل ہے اور نہ فقہا میں سے کوئی اس کا قائل ہے۴۵؂۔

۲۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر لوگ منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور مسائل پوچھتے: ایک آدمی نے کہاکہ یا رسول اللہ مجھے خیال نہیں رہا اور میں نے قربانی سے پہلے ہی سر منڈا لیا۔ آپ نے فرمایا، چلو اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ ایک اور آدمی آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ مجھے خیال نہ رہا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ۔ آپ نے فرمایا، چلو اب رمی کر لو ،کوئی حرج نہیں۔ اس دن جس نے بھی آپ سے کہاکہ میں نے فلاں کام پہلے یا بعد میں کر لیا ہے، آپ نے اس سے یہی کہا :'افعل ولا حرج' (کر لو، کوئی حرج نہیں۴۶؂) ۔

شوافع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے ارکانِ حج کی ترتیب خراب کر دی تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ لیکن احناف کے نزدیک یہاں حرج کی نفی کا مطلب کفارہ کی نفی نہیں ، بلکہ گناہ کی نفی ہے اور اس کی دلیل خود اس روایت کے تفصیلی الفاظ میں موجود ہے۔ ابو داؤد میں آپ کا ارشاد ان الفاظ میں منقول ہے:

لا حرج ، لا حرج، الا علی رجل اقترض عرض رجل مسلم وہو ظالم فذالک الذی حرج وھلک ۔

''کوئی حرج نہیں۔ کوئی حرج نہیں۔ حرج تو بس اس شخص پر ہے جس نے زیادتی کرتے ہوئے کسی مسلمان کی آبرو پر ہاتھ ڈالا۔ دراصل وہی شخص ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۴۷؂ ۔''

اس سے معلوم ہوا کہ یہاں حرج کی نفی سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایسا کرنے والے پرکوئی کفارہ نہیں ہے ،بلکہ یہ ہے کہ اس کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

۳۔ حضرت عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ ما نوی فمن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا او الی امراۃ ینکحھا فھجرتہ الی ما ھاجر الیہ ۔

''اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو بس وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔ سو اگر کسی نے کوئی دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کی ہے تو اسے وہی ملے گا جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۴۸؂۔''

شوافع کے نزدیک وضو کی صحت کے لیے نیت ضروری ہے ،چنانچہ انھوں نے اس حدیث کا مفہوم یہ مراد لیا ہے کہ اعمال کی صحت کا دار ومدار نیت پر ہے۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ اس کا تعلق اعمال کی فقہی صحت وعدم صحت سے نہیں ، بلکہ اللہ کے ہاں قبول ہونے یا نہ ہونے سے ہے ، کیونکہ اس کی تشریح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے جو مثالیں بیان کی ہیں، وہ اسی نوعیت کی ہیں۔ ۴۹؂

حدیث کے موقع ورود کا لحاظ

کلام کے صحیح فہم میں موقعِ کلام اور اس کے سیاق وسباق کا لحاظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے کہ بہت سی دلالتیں ایسی ہوتی ہیں جو کلام کے الفاظ سے نہیں ، بلکہ سیاق وسباق اور ماحول سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ احناف کی آرا میں اس کی مثالیں دیکھیے :

۱۔ عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک عورت سے شادی کی ، لیکن بعد میں ایک عورت نے آکر کہا کہ میں نے تو تم دونوں میاں بیوی کو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔ عقبہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:' 'اپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دو۵۰؂۔' '

اما م احمدنے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ رضاع کے معاملے میں ایک عورت کی شہادت بھی معتبر ہے یعنی اگر ایک عورت یہ کہہ دے کہ میں نے فلاں شخص کو بچپن میں دودھ پلایا تھا تو اس سے ان کے مابین حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ لیکن جمہور فقہا نے موقعِ کلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس استدلال کو قبول نہیں کیا۔ روایت سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن حارث کو اپنی بیوی کو چھوڑ دینے کا حکم کسی قانونی فیصلے کے طور پر نہیں دیا تھا ،بلکہ یہ ایک حکیمانہ ہدایت تھی جس کی وجہ احتیاط کے علاوہ یہ تھی کہ ایک تو اس عورت کی بات سے خود عقبہ کے دل میں ایک قسم کا شبہ آ گیا تھا جو ظاہر ہے ازدواجی زندگی کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے، اور دوسرا یہ کہ ایسے مواقع پر لوگ بھی باتیں بنانے سے پیچھے نہیں رہتے۔ چنانچہ آپ نے عقبہ سے فرمایا: 'کیف وقد قیل؟' ''تم کیسے اس کو اپنے پاس رکھو گے ، جبکہ ایسی شبہے والی بات کہہ دی گئی ہے؟ اب تم اس کو اپنے سے جدا کر دو۵۱؂ ۔ ''

۲۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نہایت خوشی کی حالت میں ان کے پاس آئے اور کہا، اے عائشہ، تمھیں پتا چلا کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا اور اسامہ اور زید دونوں ایک چادر لے کر لیٹے ہوئے تھے اور ان کے صرف پاؤں ننگے تھے۔ مجزز نے ان کے پاؤں دیکھ کر کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے ہیں ۔(یعنی یہ باپ بیٹا ہیں۵۲؂)۔

امام شافعی کے نزدیک اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قیافہ شناس کی تصدیق پر بھی بچے کا نسب کسی آدمی سے ثابت کیا جا سکتا ہے۵۳؂۔ لیکن احناف کا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اسامہ کا نسب پہلے زید سے ثابت نہیں تھا اور اب ثابت ہو گیا تھا، بلکہ یہ تھی کہ آپ کے علم میں جو نسب پہلے سے ثابت تھا، اس کی تصدیق قیافہ شناس نے بھی کر دی تھی جس سے عام لوگوں کے شکوک وشبہات دور کرنے میں مدد مل گئی تھی۔ چنانچہ اس حدیث کا مذکورہ فقہی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۵۴؂۔

۳۔ حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یا بنی عبد مناف، لا تمنعوا احداً طاف بہذا البیت وصلی ایۃ ساعۃ شاء من لیل او نہار۔

''اے بنی عبد مناف، تم کسی شخص کو دن اور رات کے کسی بھی لمحے میں بیت اللہ کا طواف کرنے یا اس میں نماز پڑھنے سے مت روکو۔ ۵۵؂ ''

امام شافعی نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ احادیث میں جن تین اوقات (طلوعِ آفتاب، نصف النہار او ر غروبِ آفتاب) میں نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے، ان سے کعبہ مستثنیٰ ہے اور ا س میں بشمول ان تین اوقات کے ہر وقت نماز پڑھی جا سکتی ہے۔لیکن فقہاے احناف نے اس استدلال کوتسلیم نہیں کیا ، اس لیے کہ یہاں مکروہ اوقات یا ان میں کسی استثنا کا بیان سرے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موضوع ہی نہیں ہے۔ آپ کے کلام کا رخ تو بنی عبد مناف کی طرف ہے جو اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیتے تھے اور عبادت کے لیے آنے والوں کو دقت ہوتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم کسی بھی وقت عبادت کی غرض سے آنے والوں کو مت روکو، یہ مطلب نہیں ہے کہ کعبہ میں ہر وقت نماز جائز ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ بیت اللہ میں عبادت کے لیے کچھ اوقات مکروہ ہیں یا نہیں تو ان کے بیان کا موقع یہ نہیں ،بلکہ وہ احادیث ہیں جن میں آپ نے بیانِ اوقات کو موضوع بنایا ہے۔ ۵۶؂

متکلم کے منشا کی تعیین

فہمِ کلام کا ایک نہایت اہم اصول یہ ہے کہ موقع اور قرائن سے اس کا رخ معلوم کیا جائے۔ ایک بات کے کئی پہلو اور ایک حکم کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں ،لیکن بات کرنے والا جب بات کرتا ہے تو ہر موقع پر اس کی تمام صورتوں کی وضاحت اور اس کے ہر پہلو کی تشریح نہیں کرتا۔ کہیں اس کے پیشِ نظر ایک حکم کی محض اصولی اور عمومی حیثیت بیان کرنا ہوتا ہے اور کہیں موقع کی مناسبت سے وہ اس کی جزئیات یا اس کے کچھ خاص پہلو بیان کر دیتا ہے۔ چنانچہ کلام کی واضح اور مقصود بالذات دلالت اسی ایک خاص پہلو پر ہوتی ہے، باقی امور سے نفیاً یا اثباتاً کوئی تعرض نہیں کیا جاتا۔ ایسے موقع پر یہ کوئی معقول طریقہ نہیں ہے کہ جن امور کا ذکر متکلم نے کلام میں نہیں کیا، ان کا حکم بھی اسی کلام سے معلوم کرنے کی کوشش کی جائے ، حالانکہ متکلم نے ان کا بیان موقع کی مناسبت سے کسی اورجگہ کیا ہے۔

اس اصول کا اطلاق، احناف کے ہاں، مندرجہ ذیل مسائل میں ملتا ہے :

۱۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب ۔

''سورۂ فاتحہ کے بغیر کوئی نماز درست نہیں۵۷؂۔''

شوافع نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ ہر نماز میں ہر آدمی کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھنا لازمی ہے۵۸؂۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ یہاں نماز کے حوالے سے سورۂ فاتحہ کی ایک عمومی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ رہی یہ بات کہ مختلف صورتوں میں اس حکم کی ادائیگی کیسے ہوگی تو ان جزوی پہلووں سے اس حدیث میں کوئی تعرض ہی نہیں کیا گیا، چنانچہ ان کا حکم ان دوسرے ارشادات سے معلوم ہوگا جن میں آپ نے ان خاص جزوی صورتوں کا حکم الگ سے بیان فرمایا ہے۔ ۵۹؂

۲۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی ۔

''زکوٰۃ نہ کسی مال دار کے لیے حلال ہے اور نہ کسی ایسے محتاج کے لیے جو تندرست اور کمانے پر قادر ہو۶۰؂۔ ''

امام شافعی نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کوئی آدمی تندرست اور کمانے کے قابل ہے تو باوجود فقیر اور محتاج ہونے کے اس کو زکوٰۃدینا درست نہیں ہے۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ اس حدیث میں زیرِ بحث مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تندرست فقیر کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسے فقیر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خود کمانے کی قدرت رکھتے ہوئے لوگوں سے زکوٰۃ مانگے۔ ظاہر ہے کہ اسلام انسانی معاشرے کے افراد میں جو خود داری اور عملیت پیدا کرنا چاہتا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ اگر آدمی انتہائی مجبور نہ ہو تو وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے مسائل خود حل کرنے کی سعی کرے۔ تاہم اگر کوئی آدمی اس فقیر کے مطالبہ کے بغیر اسے زکوٰۃ دیتا ہے تو اس کے لیے اسے قبول کرنے میں شرعاً کوئی مانع نہیں ہے ۔ یہ دو مختلف صورتیں ہیں اور مذکورہ حدیث میں پہلی صورت زیرِ بحث ہے نہ کہ دوسری۔ ۶۱؂

۳۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اذا رقد احدکم عن الصلاۃ او غفل عنہا فلیصلہا اذا ذکرہا۔

''اگر تم میں سے کوئی نماز کے وقت سویا رہا یا بھول گیا تو جب اسے یاد آئے، نماز ادا کر لے۶۲؂۔ ''

امام شافعی نے اس سے استدلال کیا ہے کہ فوت شدہ نماز جس وقت بھی یاد آجائے، اسی وقت قضا کی جا سکتی ہے ،چاہے وہ ممنوعہ اوقات میں سے کوئی وقت ہو۔ لیکن احناف نے یہاں بھی کلام کے اصل رخ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس استدلال کو قبول نہیں کیا۔ احناف کہتے ہیں کہ یہاں اوقات کا مسئلہ ہی زیر بحث نہیں۔ یہاں تو بس یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی آدمی وقت پر نماز پڑھنا بھول گیا ہو تو وہ اس سے ساقط نہیں ہو جاتی ، بلکہ یاد آنے پر اسے ادا کرنا ہوگی۔ رہیں نماز سے متعلقہ دوسری شرائط وقیود تو ان کا لحاظ رکھنا،بہرحال اپنی جگہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔چنانچہ جیسے یہ درست نہیں کہ آدمی بے وضو ہونے کی حالت میں نماز ادا کر لے، کیونکہ دوسرے دلائل کی رو سے وضو نماز کے لیے شرط ہے، اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ آدمی مکروہ اوقات میں نماز قضا کرے، کیونکہ دیگر روایات میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔ ۶۳؂

اصولِ کلیہ اور عقل و قیاس سے مطابقت

حدیث میں بیان ہونے والے احکام کی حیثیت چونکہ ایک مربوط اور پرحکمت نظام کے اجزا کی ہے، اس لیے کسی بھی حدیث کی تشریح میں شریعت کے اصولِ کلیہ اور عقل وقیاس کی رعایت ایک ناگزیر شرط ہے۔ احناف کے ہاں اس اصول کی مثالیں حسبِ ذیل ہیں:

۱۔ عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من لم یجد الازار فلیلبس السراویل ومن لم یجد النعلین فلیلبس الخفین ۔

''حج میں جس کے پاس چادر نہ ہو تو وہ شلوار پہن لے اور جس کے پاس چپل نہ ہوں ،وہ موزے پہن لے۶۴؂۔ ''

احناف کہتے ہیں کہ متعدد احادیث کی رو سے شلوار یا چپل کا پہننا احرام کے ممنوعات میں شامل ہے ، اس لیے اگر مجبوری کی کسی حالت میں مُحرِْم کے لیے ان کا پہننا ناگزیر ہوتو اس کو رخصت دی گئی ہے ،لیکن اس پر فدیہ بھی لازم آئے گا، اس لیے کہ احرام کی حالت میں جو کام ممنوع قرار دیے گئے ہیں، ان کا کرنا عذر کی صورت میں اگرچہ جائز ہے ،لیکن ان پر فدیہ لازم آتا ہے۔ خود قرآنِ مجید میں اس کی ایک صورت کا صراحتاً ذ کر ہے:

وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ ، فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ۔ (البقرۃ۲: ۱۹۶)

''تم اپنا سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی کا جانور اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔ ہاں، اگر کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اپنا سر منڈوا سکتا ہے ، لیکن اسے روزوں، صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ دینا ہو گا۶۵؂۔ ''

۲۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعا ۔

'' اگر کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار جائے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۶۶؂۔ ''

شوافع کے نزدیک سات مرتبہ دھونا برتن کی طہارت کے لیے شرط ہے، اس کے بغیر وہ پاک نہیں ہوگا۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ سات مرتبہ دھونے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ کتے کے لعاب میں جو جراثیم ہوتے ہیں وہ اچھی طرح صاف ہو جائیں، تاہم طہارت تین مرتبہ دھونے سے بھی حاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ کتے کا لعاب، ظاہر ہے اس کے پیشاب یا پاخانے سے زیادہ نجس نہیں اور ان سے طہارت کے لیے برتن یا کپڑے کو تین مرتبہ دھونا بالاتفاق کافی ہے۔ ۶۷؂

۳۔ حضرت سلمان سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا یستنجی احدکم بدون ثلاثۃ احجار ۔

''تم میں سے کوئی شخص استنجامیں تین سے کم پتھر استعمال نہ کرے۶۸؂۔''

شوافع کے نزدیک تین کا عدد وجوب کے لیے ہے یعنی استنجا میں ان کے نزدیک بہرحال تین پتھروں کا استعمال ضروری ہے، چاہے صفائی ایک ہی پتھر سے حاصل ہو جائے۔ ۶۹؂ لیکن احناف کے نزدیک یہ عدد محض مستحب ہے ، اس لیے کہ استنجا میں پتھر استعمال کرنے سے اصل مقصد نجاست کی صفائی ہے اور یہ مختلف حالتوں میں پتھروں کی مختلف تعداد سے حاصل ہو سکتی ہے، اس لیے اگر صفائی ایک یا دو پتھروں سے حاصل ہو جائے تو وہ بھی کافی ہیں اور اگر صفائی تین پتھروں سے بھی حاصل نہ ہو تو اس سے زیادہ پتھر استعمال کرنا ضروری ہو گا۔ ۷۰؂

علت پر مبنی احکام

فقہا کے نزدیک یہ ایک متفقہ اصول ہے کہ جن احکام کا مدار علت پر ہوتا ہے، ان میں حکم کی ظاہری شکل کی نہیں ،بلکہ علت کی پیروی مطلوب ہوتی ہے اور علت کے بدل جانے سے حکم بھی بدل جاتا ہے۔ چنانچہ بعض صورتوں میں اگرچہ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حدیث کی مخالفت ہو رہی ہے، لیکن غور کیا جائے تو یہ مخالفت خود متکلم کا منشا اور اس کے کلام کا مخفی تقاضا ہوتی ہے۔ علماے احناف نے ا س اصول کا اطلاق متعدد احادیث پر کیا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

۱۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا یبیع حاضر لباد

''کوئی شہری کسی دیہاتی کا دلال بن کر اس کا مال فروخت نہ کرائے۷۱؂۔''

فقہاے احناف نے اس روایت پر اس کی ظاہری شکل میں عمل کرنے کے بجائے حکم کا مدار علت پر رکھا ہے ، اور کہا ہے کہ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اگر دیہاتی کسی دلال کے واسطے سے اپنا مال فروخت کرے گا تو ظاہر ہے وہ اصل قیمت میں اپنا کمیشن شامل کر لے گا جس سے بازار میں اس چیز کی قیمت بڑھ جائے گی۔ اس لیے اگر صورت یہ ہو کہ کوئی شہری اپنے فائدے کے لیے نہیں ، بلکہ اس لیے کسی دیہاتی کا مال بازار میں فروخت کراتا ہے کہ اس کو بازار کے نرخ کے مطابق اپنے مال کی صحیح قیمت مل جائے تو یہ جائز ہے ، کیونکہ ممانعت کی وجہ ختم ہو گئی ہے۔ ۷۲؂

۲۔ براء بن عازب سے روایت ہے کہ ان کی اونٹنی نے ایک باغ میں گھس کر پھل برباد کر دیے، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ دن کے وقت تو اہلِ اموال اپنے مال کی حفاظت کریں اور رات کے وقت جانوروں کے مالک ان کی نگرانی کریں ، اور اگر رات کو کوئی جانور کسی کا نقصان کرے گا تو مالک کو اس کا تاوان دینا پڑے گا۔ ۷۳؂

شوافع کے نزدیک جانور کے کیے گئے نقصان کے باب میں شرعی ضابطہ یہی ہے جو اس روایت میں بیان ہواہے ۔ لیکن احناف نے اس کی تشریح اس حکم کی علت کی روشنی میں کی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ حدیث میں دن اور رات کا فرق اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر جانوروں کو چراگاہ اور پانی کے گھاٹ تک دن کے وقت ہی لے جایا جاتا ہے، اس لیے دن کے وقت اپنے اموال کی حفاظت کی ذمہ داری اس راستے کے لوگوں پر ڈالی گئی ہے تاکہ جانوروں کے مالکوں پرحرج لازم نہ آئے، جبکہ رات کے وقت جانوروں کو ان کے مسکنوں میں باندھ دیا جاتا ہے ۔ اس لیے اگر کوئی جانور رات کو کسی کا مال برباد کر دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مالک نے اس کے باندھنے اور اس کی نگرانی میں کوتاہی کی ہے، لہٰذا وہ نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مالک پر ضمان کے لازم آنے یا نہ آنے کا مدار درحقیقت دن اور رات کے وقت پر نہیں ، بلکہ مالک کی کوتاہی پر ہے اور حدیث میں دن اور رات میں فرق اسی علت کی بنا پر کیا گیا ہے۔ چنانچہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ دن کے وقت کسی جانور کے مالک نے جانور کی حفاظت اور اس کی نگرانی میں کوتاہی کی ہے اور اس کے نتیجے میں جانور نے کسی کے مال کا نقصان کر دیا ہے تو مالک پر ضمان لازم ہوگی۔ اسی طرح اگر رات کے وقت کوئی جانور قابو سے باہر ہو جائے اور رسی تڑا کر بھاگ جائے اور کسی کا نقصان کر دے تو مذکورہ علت کی روشنی میں مالک پر ضمان لازم نہیں ہو گی۔ ۷۴؂

۳۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قافلہ جب باہر سے مال لے کر آئے تو اس کے بازار میں پہنچنے سے پہلے شہر سے باہر ہی اس سے سامان مت خریدو۔ ۷۵؂

احناف کا مسلک یہ ہے کہ یہ حکم ''اضرار'' کی علت پر مبنی ہے جو اس صورت میں دو پہلووں سے پائی جا سکتی ہے : ایک یہ کہ شہر سے باہر قافلے والوں سے مال خریدنے والا شخص ان کو بازار کی صحیح قیمت سے آگاہ نہ کرے اور کم قیمت پر ان سے مال خرید لے۔ دوسرے یہ کہ ان سے مال خریدنے کے بعد بازار میں آکر اپنی مرضی کے نرخ پر اسے فروخت کرے۔ گویا ایک پہلو سے قافلے والوں کا نقصان ہے او ردوسرے پہلو سے شہر والوں کا۔ لیکن اگر کسی جگہ اضرار کے ان دونوں پہلووں میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو احناف کے نزدیک قافلے والوں سے شہر سے باہر مال خرید لینے میں کوئی حرج نہیں۔ ۷۶؂

مخصوص احکام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض مواقع پر عام ضابطے کے خلاف بعض افراد کو خصوصی رخصت دیا کرتے تھے جس کا اطلاق دوسرے افراد پر نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ براء بن عازب سے روایت ہے کہ ان کے ماموں ابو بردہ نے ایک موقع پر عید الاضحی کی نماز پڑھنے سے قبل ہی جانور کی قربانی کردی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قربانی ادا نہیں ہوئی، اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرو۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس تو اب ایک چھوٹی عمر کا جانور ہی ہے ۔ آپ نے فرمایا ، اسی کو ذبح کر دو، لیکن یہ رخصت صرف تمھارے لیے ہے ،تمھارے بعد اور کسی کے لیے نہیں ہے۔ ۷۷؂

احناف نے اس اصول کا اطلاق حسب ذیل روایتوں پر کیا ہے:

۱۔ عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک آدمی حالتِ احرام میں وفات پا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا تخمروا راسہ فانہ یبعث یوم القیامۃ ملبیا ۔

''اس کے سر کو مت ڈھانپو، کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۷۸؂۔ ''

امام شافعی کے نزدیک یہ حکم ہر اس شخص کے لیے ہے جو حالتِ احرا م میں وفا ت پا جائے ، ۷۹ ؂ لیکن احناف نے اس کو ایک عام حکم کے طو رپر تسلیم نہیں کیا ،بلکہ قرائن کی بنا پر اس کو اس شخص کی خصوصیت پرمحمول کیا ہے۸۰؂۔

۲۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جس دن نجاشی کا انتقال ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس کی اطلاع دی اور پھر جنازہ گاہ میں ان کو جمع کر کے ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی۔۸۱؂

شوافع اس روایت سے غائبانہ نمازِ جنازہ کی عام مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۸۲؂ ، لیکن احناف نے اس کو نجاشی کی خصوصیت قرار دیا ہے۔ کیونکہ ذخیرۂ حدیث میں نجاشی کے علاوہ کسی اور صحابی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا ثابت نہیں ہے اور نہ آپ کے بعد صحابہ میں اس کی کوئی نظیر ملتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ نے بھی اس کو نجاشی کی خصوصیت سمجھا اور اس کو عمومی حکم کے طور پر نہیں لیا۸۳؂۔

سنت مستقرہ اور منفرد احکام

احناف سنتِ مستقرہ میں اور ان افعال میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھی کیے، فرق ملحوظ رکھتے ہیں۔ چنانچہ نماز میں آمین بالجہر، تسمیہ بالجہر اور رکوع جاتے اور اٹھتے وقت رفعِ یدین کے اعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور شوافع ان کو سنت قرار دے کر ان پر عمل کرتے ہیں ، لیکن احناف ، اپنے دلائل کی بنا پر، ان کو اس حیثیت سے قبول نہیں کرتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف حیثیات میں فرق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عادی امور

۱۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد لیٹ جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ موذن آکر آپ کو صبح کی نماز کی اطلاع دیتا۸۴؂۔

شوافع نے اس حدیث کی بنیاد پر فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد لیٹنے کومستحب قرار دیا ہے۸۵؂۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ آپ نے یہ عمل کسی دینی حیثیت سے نہیں کیا ،بلکہ اس کا تعلق طبعی امور سے ہے۔ چونکہ آپ رات کا ایک بڑا حصہ عبادت میں گزارتے تھے ،اس لیے فجر کی دو سنتیں پڑھ کر آرام کی غرض سے کچھ دیر کے لیے لیٹ جاتے تھے۸۶؂۔

۲۔ حضرت مالک بن حویرث سے روایت ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی اور تیسری رکعت میں سجدہ سے اٹھنے کے بعد تھوڑی دیر بیٹھ کر پھر کھڑے ہوتے تھے۔۸۷؂

شوافع نے اس روایت کی بنیاد پر دوسری اور تیسری رکعت میں سجدہ سے اٹھ کر قیام سے پہلے تھوڑی دیر بیٹھنے کو نماز کی سنن میں سے قرار دیا ہے۸۸؂۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ اس میں استحباب کا کوئی پہلو نہیں ہے ۔ آپ تو اس لیے بیٹھتے تھے کہ آخر عمر میں بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے سیدھا کھڑے ہونے میں مشقت محسوس کرتے تھے۸۹؂۔ اسی لیے آپ نے صحابہ سے فرمایا :

لا تبادرونی برکوع ولا بسجود ...انی قد بدنت ۹۰؂ ۔

''رکوع اور سجدے میں مجھ سے آگے مت نکلا کرو۔ میرا جسم بوجھل ہو گیا ہے-''

عقل عام کی روشنی میں ہدایات

۱۔ حضرت عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا ینکح المحرم ولا ینکح ۔

''حالتِ احرام میں آدمی نہ نکاح کرے ، اور نہ کرائے۹۱؂۔''

شوافع نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے محرم کے لیے نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے۹۲؂۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ حالتِ احرام بذات خود نکاح کے منافی نہیں ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت شرعی لحاظ سے نہیں ،بلکہ ایک حکیمانہ ہدایت کے طور پر ہے ،جس کی وجہ یہ ہے کہ نئی نئی شادی کے بعد ممکن ہے کہ میاں بیوی اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں اور جذبات میں احرام کی پابندی توڑ ڈالیں۹۳؂۔

۲۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

صلوا فی مرابض الغنم ولا تصلوا فی اعطان الابل ۔

''بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو،لیکن اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۹۴؂۔ ''

احناف کہتے ہیں کہ یہ مصلحت پر مبنی ایک عام ہدایت ہے نہ کہ کوئی شرعی حکم ۔اس کی حکمت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔ براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں ،(یعنی ان میں ان شیاطین جیسی خصلتیں پائی جاتی ہیں) ۔ تم ان کی آنکھوں اور ان کے جوش وہیجان کو نہیں دیکھتے ،جب یہ بدکے ہوئے ہوتے ہیں۹۵؂؟''

اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ آدمی ایسی خطرے کی جگہ میں نماز نہ پڑھے ، لیکن چونکہ اس کا تعلق نماز کی شرعی صحت وعدم صحت سے نہیں ہے، اس لیے اگر کسی نے وہاں نماز پڑھ لی تو ادا ہو جائے گی۹۶؂۔

حاکم ریاست کے فیصلے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ریاستِ مدینہ کے حاکم تھے اور آپ نے بہت سے فیصلے اپنی اس حیثیت میں، اس وقت کے اجتماعی مصالح کو سامنے رکھتے ہوئے کیے۔ چونکہ اس طرح کے مصالح ہر زمانے کے لیے حتمی طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے احناف ایسے فیصلوں پر ہر حال میں عمل کرنے کو لازم نہیں سمجھتے۔

۱۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ اس جگہ سے لے کر اس جگہ تک حرم ہے۔ نہ یہاں کے درخت کاٹے جائیں اور نہ کوئی ظلم وزیادتی کا کام کیا جائے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۹۷؂۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے شوافع نے مدینہ کو مکہ ہی کی طرح حرم قرار دیا ہے ۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ مدینہ کو حرم قرار دینے کا حکم شرعی نوعیت کا نہیں ، بلکہ انتظامی نوعیت کا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مصالح کی بنا پر یہ حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے مدینہ کے لیے وہ پابندیاں ثابت نہیں ہیں جو احادیث میں مکہ کے لیے بیان ہوئی ہیں۹۸؂۔

۲۔ عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کو مال غنیمت میں سے تین حصے دیے، دو گھوڑے کے اور ایک اس کے سوار کا۹۹؂ ۔

احناف کہتے ہیں کہ اس کی حیثیت کسی حتمی شرعی حکم کی نہیں ہے ، بلکہ اس کا تعلق حاکمِ وقت کی صواب دید سے ہے۱۰۰؂۔ عقلِ عام کی رو سے گھڑ سوار کا اصولی حق تو یہی ہے کہ اس کو دو حصے دیے جائیں، ایک گھوڑے کا اور ایک سوار کا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تقسیم بھی ثابت ہے،۱۰۱؂ لیکن اگر کوئی گھڑ سوار جنگ میں دوسروں کی نسبت زیادہ بہادری سے لڑے یا کوئی خاص کارنامہ انجام دے تو امیر لشکر اپنی صواب دید کے مطابق اسے انعام کے طور پر تین یا اس سے زیادہ حصے بھی دے سکتا ہے۔ اسی اصول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ ذی قرد میں سلمہ بن الاکوع کو ان کے نمایاں کارنامے کی بنا پر ایک پیدل اور ایک سوار کا حصہ دیا ، حالانکہ وہ جنگ میں پیدل شریک ہوئے تھے۱۰۲؂ ۔ غزوۂ حنین میں آپ نے نئے مسلمان ہونے والے مجاہدین کو سو سو اور پچاس پچاس اونٹ دیے ، جبکہ عام مجاہدین کے حصے میں چار چار اونٹ اور چالیس چالیس بکریاں آئیں،۱۰۳؂ بلکہ غزوۂ خیبر کے موقع پر بعض ان لوگوں کو بھی غنیمت میں سے حصہ دیا جو جنگ میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۱۰۴؂۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ مالِ غنیمت کی تقسیم کے فیصلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ شارع نہیں ،بلکہ بطورِ حاکم کیے تھے اور اس باب میں اصل حیثیت اولوا الامر کی صواب دید ہی کو حاصل ہے۔

۳۔حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کچھ یتیموں کو وراثت میں شراب ملی ہے، اس کا کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا: بہا دو۔ ابو طلحہ نے کہا : کیا اس کا سرکہ نہ بنا لیا جائے۔ آپ نے فرمایا :نہیں۱۰۵؂۔

شوافع کے نزدیک اس حدیث کی بنا پرشراب کو سرکہ بنا نا جائز نہیں ہے۱۰۶؂۔ لیکن احناف کہتے ہیں کہ اس حکم کا تعلق اس دور سے ہے جب شراب کی حرمت کا حکم نیانیا اترا تھا اور لوگوں کے دلوں سے شراب کی محبت بالکل ختم کرنے کے لیے شراب کے برتنوں کا استعمال بھی وقتی طور پر ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ بعد میں جب لوگوں کے دلوں میں شراب کی نفرت اچھی طرح جاگزیں ہو گئی تو ان برتنوں کے استعمال اور شراب کو سرکہ بنانے کی ممانعت بھی ختم کر دی گئی۱۰۷؂۔

قضا پر مبنی احکام

ریاستِ مدینہ کے قاضی ہونے کی حیثیت سے لوگ اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کرانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے۔ مقدمات میں اصل چیز چونکہ حالات کی رعایت سے بہتر سے بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے ، اس لیے ظاہر ہے کہ تمام مقدمات میں ایک ہی نوعیت کا فیصلہ جاری نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ ہر مقدمے کا فیصلہ اس کی جزئیات وتفصیلات کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ مقدمات کے فیصلوں کی حیثیت عمومی قانون کی نہیں ہوتی ، اور ان کا اطلاق حالات کی رعایت کیے بغیر، ہر قسم کی صورت حال پر نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا احادیث میں وارد ایسے فیصلے جو کسی عمومی ضابطے کے تحت نہیں آتے، احناف انھیں بالعموم قضا پر محمول کرتے ہیں۔

۱۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایسی بکری خریدی جس کا دودھ گاہک کو دھوکا دینے کے لیے کئی دنوں سے دوہا نہیں گیا تھا اور اس کا دودھ بھی استعمال کر لیا تو اب اگر وہ اس کو رکھنے پر راضی ہے تو درست،ورنہ جانور کو واپس کردے اور استعمال شدہ دودھ کے عوض ایک صاع کھجوریں دے دے۱۰۸؂۔

احناف نے اس کو ایک عمومی قانون ماننے سے انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس کو ایک عمومی قانون مانا جائے تو شریعت کے ایک مسلمہ عقلی اصول کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔ وہ یہ کہ تاوان ہمیشہ تلف شدہ چیز کے مساوی ہونا چاہیے۔ اب یہ تو ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مقدمے میں مذکورہ حکم جاری کیا، اس میں ایک صاع کھجوریں مقدار یا قیمت کے لحاظ سے جانور کے دودھ کا بدل بن سکتی ہوں ،لیکن ظاہر ہے کہ ہر صورت میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے اس حکم پر ہر حالت میں عمل کرنا لازم نہیں ہے ،بلکہ ہر مقدمے میں دودھ کی مقدار کے لحاظ سے الگ تاوان لازم کیا جائے گا۱۰۹؂۔

۲۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ایسی زمین میں دیا جو ابھی شرکا میں تقسیم نہیں ہوئی۔ جب حصوں کی حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ ہو جائیں تو پھر کوئی شفعہ نہیں ہے ۱۱۰ ؂۔

شوافع اور حنابلہ کا مسلک اس روایت کے ظاہر کے مطابق یہ ہے کہ شفعہ کا حق پڑوسی کو حاصل نہیں ، بلکہ صرف اس شخص کو ہے جو زمین کی ملکیت میں شریک ہو۔ لیکن احناف عقلی ونقلی دلائل کی روشنی میں پڑوسی کے لیے بھی شفعہ کا حق تسلیم کرتے ہیں اور مذکورہ بالا حدیث کو قضا پر محمول کرتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص مقدمے میں اپنی صواب دید کے مطابق یہ فیصلہ دیا۔ ۱۱۱؂

۳۔ حضرت عبادہ بن الصامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنوارے زانی کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی بیان فرمائی۱۱۲؂۔

شوافع کے نزدیک اس روایت کی رو سے جلا وطنی زنا کی سزا کا لازمی حصہ ہے، لیکن احناف کہتے ہیں کہ اصل سزا تو قرآن کی نص کے مطابق، سو کوڑے ہے، جبکہ جلا وطن کرنا قاضی کا صواب دیدی اختیار ہے۔ اگر وہ ماحول کی حفاظت یا مجرم کی اصلاح کے پہلو سے اسے جلا وطن کرنا مناسب سمجھے تو کر سکتا ہے، تاہم یہ اصل سزا کا حصہ نہیں۱۱۳؂۔

________

۴۴؂ ابوداؤد ، کتاب الدیات ۔

۴۵ ؂ الجصاص، ابوبکر احمد بن علی: احکام القرآن، لاہور: سہیل اکیڈیمی، ج ۱، ص ۱۴۲۔

۴۶؂ ابو داؤد، کتاب المناسک، باب فی من قدم شیئا قبل شئی فی حجہ، حدیث ۲۰۱۴۔

۴۷؂ نفس المصدر، حدیث ۴۰۱۵۔

۴۸؂ بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، حدیث۱۔

۴۹؂ الکشمیری، محمد انور شاہ : فیض الباری، لاہور: المطبعۃ الاسلامیۃ السعودیۃ، ۱۹۷۸ء، ج ۱، ص ۹۔

۵۰؂ بخاری، کتاب العلم، باب الرحلۃ فی المسالۃ النازلۃ، حدیث ۸۸۔

۵۱؂ ابن حجر:فتح الباری ، ج ۵ ،ص ۲۶۸۔

۵۲؂ مسلم، کتاب الرضاع، باب الولد للفراش وتوقی الشبہات، حدیث ۳۶۱۸۔

۵۳؂ النووی، یحییٰ بن شرف: شرح صحیح مسلم: دمشق، مکتبۃ الغزالی، ج ۱۰، ص ۴۱۔

۵۴؂ القاری، ملا علی: مرقاۃ المفاتیح ، کوئٹہ: مکتبہ رشیدیہ، ج ۶، ص ۴۷۳۔

۵۵؂ ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فی الصلاۃ بعد العصر لمن یطوف، حدیث ۸۶۸۔

۵۶؂ مرقاۃ المفاتیح: ج ۳، ص ۱۳۶۔

۵۷؂ بخاری، کتاب الاذان، باب وجوب القراء ۃ للامام والماموم فی الصلوات کلہا، حدیث ۷۵۶۔

۵۸؂ النووی: شرح صحیح مسلم، ج ۴، ص ۱۰۳۔

۵۹؂ فیض الباری: ج ۲، ص ۲۷۸۔

۶۰؂ نسائی، کتاب زکوٰۃ باب اذا لم یکن لہ دراہم وکان لہ عدلہا، حدیث ۲۵۹۸۔

۶۱؂ الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد: شرح معانی االآثار: ملتان، المکتبۃ الامدادیۃ: ج ۱، ص ۳۳۵۔

۶۲؂ مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ واستحباب تعجیل قضاۂا، حدیث ۱۵۶۹۔

۶۳؂ گنگوہی، رشید احمد: الکوکب الدری، ج ۱، ص ۱۰۰۔

۶۴؂ بخاری، کتاب جزاء الصید، باب اذا لم یجد الازار فلیلبس السراویل، حدیث ۱۸۴۳۔

۶۵؂ تھانوی، ظفر احمد: اعلاء السنن، کراچی: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ، ج ۱۰، ص ۵۰۔

۶۶؂ بخاری، کتاب الوضوء، باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعاا، حدیث ۱۷۲۔

۶۷؂ اعلاء السنن، ج ۱، ص ۱۹۶۔

۶۸؂ مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الاستطابۃ، حدیث ۶۰۷۔

۶۹؂ النووی، یحیٰ بن شرف: المجموع شرح المہذب، ج ۲، ص ۱۱۹۔

۷۰؂ اعلاء السنن، ج ۱، ص ۳۰۷۔

۷۱؂ بخاری، کتاب البیوع، باب یشتری حاضر لباد بالسمسرۃ، حدیث ۲۱۶۰۔

۷۲؂ شرح معانی الآثار: ج ۲، ص ۱۸۷۔

۷۳؂ ابو داؤد، کتاب البیوع، باب المواشی تفسد زرع قوم، حدیث ۳۵۷۰۔

۷۴؂ سہارنپوری، خلیل احمد: بذل المجہود۔

۷۵؂ بخاری، کتاب البیوع، باب النہی عن تلقی الرکبان، حدیث ۲۱۶۵۔

۷۶؂ مرقاۃ المفاتیح: ج ۶، ص ۷۹ ۔

۷۷؂ بخاری، کتاب الاضاحی، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لابی بردہ، حدیث ۵۵۵۶۔

۷۸؂ بخاری، کتاب جزاء الصید، باب سنۃ المحرم اذا مات، حدیث ۱۸۵۱۔

۷۹؂ النووی: شرح صحیح مسلم، ج ۸، ص ۱۲۷۔

۸۰؂ الکاسانی،: بدائع الصنائع، کراچی: ایچ ایم سعید کمپنی:۱۹۱۰ء، ج ۱، ص ۳۰۸۔

۸۱؂ بخاری، کتاب الجنائز، باب الرجل ینعی الی اہل المیت بنفسہ، حدیث ۱۲۴۵۔

۸۲؂ المجموع، ج ۵، ص ۲۱۱۔

۸۳؂ ابن الہمام، کمال الدین: فتح القدیر، ج ۲، ص ۱۱۹۔

۸۴؂ ابوداؤد، کتاب التطوع، باب الاضطجاع بعدہا، حدیث ۱۲۶۲۔

۸۵؂ المجموع، ج ۳، ص ۵۲۵۔

۸۶؂ اعلاء السنن، ج ۲، ص ۹۱۔

۸۷؂ بخاری، کتاب الاذان، باب من استوی قاعدا فی وتر من صلاتہ ثم نہض، حدیث ۸۲۳۔

۸۸ ؂ المجموع، ج ۳، ص ۴۲۱۔

۸۹ ؂ اعلاء السنن، ج ۳، ص ۳۹۔

۹۰ ؂ ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یؤمر بہ الماموم من اتباع الامام، حدیث ۶۱۹۔

۹۱ ؂ ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فی کراہیۃ تزویج المحرم، حدیث ۸۴۰۔

۹۲ ؂ المجموع، ج ۷، ص ۲۹۷۔

۹۳ ؂ مرقاۃ المفاتیح: ج ۵، ص ۵۷۲۔

۹۴ ؂ ترمذی، کتاب الصلوۃ، باب ما جاء فی الصلاۃ فی مرابض الغنم واعطان الابل، حدیث ۳۴۸۔

۹۵ ؂ الشوکانی: نیل الاوطار، ج ۲، ص ۱۴۱۔

۹۶ ؂ مرقاۃ المفاتیح: ج ۲، ص ۴۴۴ ۔

۹۷ ؂ بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ، حدیث ۱۸۶۷۔

۹۸ ؂ اعلاء السنن، ج ۱۰، ص ۴۸۸۔

۹۹ ؂ بخاری، کتاب الجہاد، باب سہام الفرس، حدیث ۲۸۶۳۔

۱۰۰ ؂ اعلاء السنن، ج ۱۲، ص ۱۷۱، ۱۷۲ ۔

۱۰۱ ؂ ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی من اسہم لہ سہما، حدیث ۲۷۳۶۔

۱۰۲ ؂ مسلم، کتاب الجہاد، باب غزوۃ ذی قرد وغیرہا، حدیث ۴۶۷۸

۱۰۳ ؂ ابن سعد: الطبقات الکبری، ج ۲، ص ۱۵۲ ،۱۵۳۔

۱۰۴ ؂ ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی من جاء بعد الغنیمۃ لا سہم لہ، حدیث ۲۷۲۵۔

۱۰۵ ؂ ابو داؤد، کتاب الاشربۃ، باب ما جاء فی الخمر تخلل، حدیث ۳۶۷۵۔

۱۰۶ ؂ المجموع، ج ۲، ص ۹۶۔

۱۰۷ ؂ المبسوط، ج ۲۴، ص ۲۴۔

۱۰۸ ؂ بخاری، کتاب البیوع، باب النہی للبائع ان لا یحفل الابل والبقر والغنم وکل محفلۃ، حدیث ۲۱۴۸۔

۱۰۹ ؂ السرخسی، ابوبکر محمد بن ابی سہل: المبسوط، بیروت: دار المعرفۃ، ۱۹۷۸ء، ج ۱۳، ص ۴۰۔

۱۱۰ ؂ بخاری، کتاب البیوع، باب بیع الشریک من شریکہ، حدیث ۲۲۳۱۔

۱۱۱ ؂ الجصاص: احکام القران، ج ۲، ص ۱۹۷، ۱۹۸۔

۱۱۲ ؂ مسلم، کتاب الحدود، باب حد الزنا، حدیث ۴۴۱۴۔۴۴۱۷۔

۱۱۳ ؂ مرقاۃ المفاتیح: ج ۷، ص ۱۲۲۔

____________