فکر فراہی اور اس کے متعلقین


[یہ المورد کے فیلو جناب ابویحییٰ کے دورۂ آسٹریلیا کی روداد ہے۔ اس میں اُنھوں نے دورے کی تفصیلات کے ساتھ مدرسۂ فراہی کے

علمی سفر کا اپنے زاویۂ نظر سے جائزہ لیا ہے اور اُس کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ ادارہ]

المورد آسٹریلیا کی دعوت پر ۲۸ ستمبر ۲۰۱۶ء تا ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۶ء آسٹریلیا کا سفر ہوا۔اس دورے میں آسٹریلیا کے پانچ بڑے اور اہم شہروں، یعنی ملبورن ، سڈنی،برسبین، کینبرا اور ایڈیلیڈمیں خطابات دینے کے علاوہ پرتھ میں یونیورسٹی اور ویسٹرن آسٹریلیا کے سنٹر آف اسلامک اسٹیٹ اینڈ سوسائٹی کی ایک کانفرس میں مقالہ پڑھنے کا موقع ملا۔ اس سفر کی تفصیلی روداد پر تو میرے پیش نظر ایک سفرنامہ تحریر کرنا ہے۔ قارئین اس سفرنامے میں سفر کی تفصیلات کے ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں تذکیری نکات کا مطالعہ کرسکیں گے ، لیکن کچھ علمی اور فکری نکات ایسے ہیں جو اس سفر میں فکر و خیال کا حصہ بنے رہے۔ تاہم شاید ایک سفرنامے کی صنف کے لیے وہ موزوں نہ ہوں۔ ان میں سے بعض اہم نکات اس مضمون میں قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔

المورد آسٹریلیا کی ٹیم

اس سفر کا اصل محرک المورد آسٹریلیا کے روح رواں جناب ڈاکٹر ذوالفقار صاحب تھے۔ ڈاکٹر ذوالفقار صاحب سڈنی کے قیام میں میرے میزبان ہونے کے علاوہ المورد آسٹریلیا کے بانی، منتظم اعلیٰ ، مدرس و معلم سب کچھ ہی تھے۔ ذاتی طور پر وہ ایک انجینئر تھے اور آسٹریلیا آکر انھوں نے ماسٹرز اور پھر پی ایچ ڈی کررکھا تھا۔اس تعلیمی پس منظر سے قطع نظر وہ ایک فکری اور دینی ذوق رکھنے والی شخصیت اور زبردست دعوتی اور تنظیمی صلاحیت کے مالک تھے۔انھوں نے نہ صرف سڈنی میں اپنے اردگرد ایک مضبوط ٹیم قائم کر رکھی ہے، بلکہ آسٹریلیا کے ہر اہم شہر میں المورد کے ایسے وابستگان کا حلقہ بنا دیا جس نے ہر شخص کے لیے بہترین پروگرام آرگنائز کیے۔ ان میں ملبورن کے عبد الشکور صاحب، ایڈیلیڈ کے عامرشیخ صاحب، کینبرا میں تنویر خان صاحب ، پرتھ میں کاشف صاحب کے نام نمایاں ہیں۔ برسبین میں میرے جانے پر پہلی دفعہ حلقہ قائم ہوا جس میں ارم احتشام صاحبہ، اسماء صاحبہ، مدثر صاحب اور عمار صاحب کا نام نمایاں ہے۔ جبکہ سڈنی میں ذوالفقار صاحب کی ٹیم میں فرخ صاحب، کامران مرزا صاحب، عابدصاحب، سلیمان صاحب، خالد ادریس صاحب، عبد الوحید صاحب، بلال صاحب کے علاوہ متعدد کئی اور لوگ شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں نے ہر جگہ اپنی محبت ، تعاون اور خلوص سے کہیں اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا اوراس خاکسار کو یہ موقع دیا کہ اپنے رب کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاسکے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔

فکر فراہی کا عالمی دور

آسٹریلیا میں گزارے گئے وقت سے یہ اندازہ ہوا کہ فکرفراہی اب عالم گیر دور میں داخل ہوچکی ہے۔ المورد آسٹریلیا ،جاوید صاحب کے قائم کردہ علمی اور فکری ادارے المورد کا اولین عالمی پڑاؤ تھا۔جب جاوید صاحب ملائشیا منتقل ہوگئے تو ڈاکٹرذوالفقار صاحب نے ان سے رابطہ کرکے ان کو دودفعہ آسٹریلیا بلایا۔ جاوید صاحب نے کئی اہم فکری لیکچر یہیں آسٹریلیا ہی میں دیے ہیں۔اب تو آسٹریلیا کے علاوہ امریکا، برطانیہ،کینیڈا،انڈیا اور دیگرممالک میں المورد کے حلقے قائم ہیں،لیکن جاوید صاحب کے فکر کو دنیا بھر میں پھیلانے میں ذوالفقار صاحب ہی کو اولیت حاصل ہے۔ جاوید صاحب کا ملک چھوڑ کر چلے جانا اہل پاکستان کے لیے توایک بڑی محرومی بن گئی، لیکن اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں ان کی بات پھیل گئی۔میرے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت ہوتی ہے۔ وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کون سا معاملہ کہاں ہونا چاہیے۔

اس سفر میں بیش تر وقت ڈاکٹر ذوالفقار کے ساتھ گزرا اور ان سے بہت سے اہم علمی اور فکری موضوعات پر گفتگو ہوئی۔خاص کر ان کا فکری اور ارتقائی سفر بہت تفصیل سے زیر بحث آیا۔ یہ طویل سفر انھوں نے کئی اقساط میں مجھے سنایا۔ ان کے فکری سفر کا آغاز وہی تھا جو جاوید صاحب سے وابستہ کئی اور اہم لوگوں کا ہے، یعنی ڈاکٹر اسرار صاحب۔ڈاکٹرذوالفقار صاحب ابتدا میں ڈاکٹر اسرار کے ساتھ فکری طور پر اورکسی حد تک عملی طور پر بھی وابستہ تھے۔تاہم آہستہ آہستہ وہ جاوید صاحب کے خیالات سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ یہ فکری سفر محض ایک شخص کا فکری سفر نہیں، بلکہ اس امت کے فکری سفر کی بھی اہم داستان ہے، اس لیے کہ پس منظر کو قارئین کے سامنے رکھنا یقیناًان کی دل چسپی کا باعث ہوگا۔

غیر مسلموں کا غلبہ اورمسلمانوں کا فکری جواب

ڈاکٹر اسرار مرحوم احیاے اسلام کی اس فکر کے آخری بڑے آدمی تھے جو اسلامی دنیا پر مغرب کے غلبے کے بعد مسلمانوں کی فکری قیادت کی طرف سے پیش کی گئی۔آج کا مسلمان اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ انیسویں صدی کے ایک باشعور مسلمان پر اس وقت کیا گزری ہوگی جب اس نے یورپین اقوام کو اپنے ملکوں اور علاقوں پر قابض ہوتے دیکھا ہوگا۔آج دنیا کے جس اقتدار پر امریکا دو عشروں سے قابض ہے، روس نصف صدی تک رہااور برطانیہ ایک صدی کی مدت میں فارغ ہوگیا، مسلمان اس حیثیت میں، یعنی دنیا کی سول سپرپاور کے طور پر دو چار نہیں، بارہ صدیوں تک فائز رہے۔ان کی قیادت بدلتی رہی۔عربوں کی شکل میں پہلے خلافت راشدہ،پھر بنوامیہ اور پھر بنوعباس اور عجمیوں کی شکل میں عثمانی ترک، پھر اِ دھر مغل اور صفوی، مگر اصل اقتدار مسلمانوں کا تھا۔مسلمان پوری متمدن دنیا کے وسط میں چھائے ہوئے تھے۔

مگر پھر یاجوج ماجوج کا بندھ ٹوٹتا ہے۔ابن خلدون جیسا مفکر جن لوگوں کو بالکل بے وقعت سمجھتا تھا، وہ اپنے ملکوں سے اٹھے اور دنیا بھر پر چھاگئے۔چنانچہ اس کا ردعمل مسلمانوں پر بہت شدید ہوا۔ مگر شدت جذبات میں وہ یہ تجزیہ نہیں کرسکے کہ مسلمانوں کی یہ شکست دراصل فوجی میدان کی شکست نہیں، بلکہ ایک عظیم سماجی اور فکری انقلاب کا نتیجہ ہے جو کئی صدیوں کے عمل سے یورپ میں برپا ہوا۔ پہلے پہل مسلمانوں نے پے در پے فوجی مہموں کے ذریعے سے اہل یورپ کو شکست دینا چاہی۔ ۱۷۵۷ء کی پلاسی، ۱۷۹۹ء میسور، ۱۸۳۱ء بالاکوٹ اور ۱۸۵۷ء دہلی کی شکستیں اسی جدوجہد کی یادگار ہیں۔سراج الدولہ،حیدر علی، ٹیپو سلطان، جرنل بخت خان، سید احمد شہید جیسے حکمران، جرنل اور مصلحین کی معرکہ آرائی اس مغربی یلغار کو نہ روک سکی۔یہ معاملہ صرف ہندوستان ہی کا نہ تھا،پوراعالم اسلام اس جدوجہد میں شریک تھا۔ لیبامیں سنیوسی تحریک اور عمرمختار، سوڈان میں مہدی سوڈانی، اور قفقاز میں امام شامل نے فرانس، اٹلی، اور روس اور دیگریورپی اقوام کے تسلط کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ مگر ہر طرف ایک ہی انجام ہوا۔

اس مکمل شکست کے بعد مسلمانوں نے فکری جدوجہد شروع کی۔مگر اس فکری جدوجہد میں بھی اصل وجوہات پر بہت کم نظر گئی۔ زیادہ تر جذباتی باتیں اور غیر حقیقی چیزیں ہی پیش نظر رہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ مسلمانوں کے بعض غدار ان شکستوں کے ذمہ دار ہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ مسلمانوں میں جذبۂ جہاد ختم ہوچکا ہے، اس لیے مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ کبھی یہ کہا گیا کہ جب تک تمام عالم اسلام کے مسلمان ایک نہیں ہوجاتے ہیں، ان کو فتح نہیں مل سکتی۔ مگرنہ یہ مسلمانوں کی شکست کے حقیقی اسباب تھے، نہ ان باتوں سے مسلمانوں کو آزادی مل سکتی تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کرم کا فیصلہ کیا اور یورپین اقوام دو عظیم جنگوں میں آپس میں ٹکراکر اتنا کمزور ہوگئیں کہ اس قابل ہی نہیں رہیں کہ بیرون ملک اپنا تسلط قائم رکھ سکیں۔

بہرحال اس پورے پس منظر میں بعض بیسویں صدی کے آغاز میں ابو الکلام آزاد نے حکومت الٰہیہ کا تصور پیش کیا۔ اس تصور کو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے لیا اور دین کی ایک پوری تعبیر میں بدل دیا۔ اس تعبیر کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست کے قیام کی جدوجہد کرنا جہاں اللہ کے فرامین کو اصل حکم مانا جائے ، وہ اصل دینی فریضہ ہے جو مسلمانوں پر عائد ہے۔

اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ملک پر غیر مسلموں کا غلبہ ہو اور یہ ہوجائے۔ چنانچہ اس کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ ہر جگہ مسلمانوں کا ہی اقتدار قائم ہو۔چنانچہ اس اقتدار کی جدوجہد مسلمان کی زندگی کا نصب العین قرار پائی۔ جو بات مولانا کے فکر میں بالوسطہ نکل رہی تھی، وہ مصر میں حسن البنا اور سید قطب نے براہ راست کہہ دی۔مسلمانوں کا غلبہ اور مغرب سے نجات یہی کرنے کا اصل کام ہے۔ چنانچہ دو صدی پہلے جو جنگ مغرب کے خلاف سیاسی جنگ کے طور پر شروع ہوئی، وہ بیسوی صدی تک آتے آتے ایک مذہبی فریضہ بن گئی اور اس فریضے کی ادائیگی پر ہر مسلمان کا دین منحصر قرار پایا۔

اس خاکسار کے پیش نظر اس فکرکا کوئی تنقیدی جائزہ لینا نہیں ہے ، اصل مقصد اس فکرکی تاریخ کا مختصر تعارف کراکے یہ بتانا تھا کہ ہمارے ممدوح ڈاکٹر اسرار احمد اسی فکر کے آخری بڑے آدمی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اب جماعتیں رہ گئیں ہیں یا تنظیمیں ، پورے عالم اسلام میں اس فکر کا کوئی بڑا آدمی اب موجود نہیں ہے۔

تعبیر کی غلطی

ڈاکٹر اسرار صاحب بیسویں صدی میں سیاسی بنیادوں پر احیاے اسلام کی فکر کے آخری بڑے آدمی تھی۔ تاہم ان کے بعد اس فکر میں کوئی بڑا آدمی نہیں پیدا ہوسکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس فکر کے اصل بانی مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی جیسی بڑی شخصیت کی فکر پر عین ان کے عروج کے دور میں انھی کی جماعت سے متعلق ایک نوجوان نے ایک زبردست تنقید کردی تھی۔ میرا اشارہ مولانا وحید الدین خان صاحب کی طر ف ہے جنھوں نے سن ساٹھ کی دہائی کی ابتدا میں ''تعبیر کی غلطی ''نامی کتاب لکھ کر دین کی اس سیاسی تعبیر پرزبردست تنقید کی تھی اور مستند حوالوں سے یہ بتایا تھا کہ ہمارے اسلاف دین کو اس طرح نہیں سمجھتے تھے، جس طرح مولانامودودی نے سمجھا ہے۔

انھوں نے اسلاف کے حوالوں کی روشنی ہی میں نہیں، بلکہ اس کے ساتھ خالص علمی اور عقلی بنیادوں پر یہ بالکل واضح کردیا تھا کہ دین کی جس سیاسی تعبیر کو قرآن مجید کے نام پر پیش کیا جارہا ہے ، قرآن مجید ہرگز یہ بات نہیں کہہ رہا۔

اس کتاب کی موجودگی میں اب یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی معقول آدمی اب اس فکر کو اختیار کرسکے۔ اب صرف وہی لو گ اس نقطۂ نظر کے ساتھ آتے ہیں جو اصل جذباتی انداز سے سوچتے ہیں۔ چنانچہ مغربی استعمارکا ظلم، یہود و ہنود کی سازشیں، فلسطین و کشمیر کا مسئلہ جیسی چیزوں کے تناظر میں جو لوگ دنیا کو دیکھتے ہیں، وہ آج بھی یہی انداز فکر رکھتے ہیں، مگر وہ لوگ جو خالصتاً علمی انداز میں قرآن مجید کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،ان کو تھوڑی ہی دیر میں یہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ قران مجید کا نقطۂ نظر ہرگز یہ نہیں کہ ہر فرد پر یہ فرض ہے کہ وہ اسلامی ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔

تاہم مولانا مودودی نے چونکہ پاکستان میں ایک جمہوری راستہ اختیار کرلیا تھا،اس لیے ان پر اور ان کی جماعت اسلامی پر عملی اعتبار سے کوئی تنقید نہیں ہوسکتی۔یہ ان کا حق ہے کہ اپنا نقطۂ نظرلوگوں کے سامنے پیش کریں اور اگر لوگ ان کا انتخاب کرلیں تو پھر وہ اپنے نقطۂ نظر کے مطابق اقتدار میں آکر حکومت کریں۔تاہم ڈاکٹر اسرار کا معاملہ جدا تھا۔ انھوں نے چونکہ انقلابی راستہ اختیار کرلیا جس میں آخر کار اقتدار پر زبردستی ہی قبضہ کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے سیرت النبوی کی روشنی میں اپنا ایک پورا منہاج بھی بیان کیا۔

یہی وہ نقطۂ نظر ہے جس پر جاوید صاحب نے بہت تنقید کی اور اول دن سے کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی جاوید صاحب کی شخصیت اور کام کو ہدف بنایا۔ ذوالفقار صاحب ، اس خاکسار اور دیگر بہت سے لوگوں کا فکری سفر اسی زمانے میں شروع ہوا تھا اور نوے کی دہائی کے آغاز پر اس معرکہ آرائی کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔

اس وقت عملی صورت حال یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان کو نصف صدی اور جاوید صاحب کو ربع صدی ہوچکی ہے، مگر اس تنقید کے باوجود عوام الناس میں سیاسی تعبیر کی فکر ہی مقبول ہے۔اس کی وجہ جیسا کہ عرض کیا کہ معروضی سیاسی حالات، مسلمانوں کا تاریخی پس منظر،مغربی غلبہ جیسی چیزیں ہیں نہ کہ کوئی فکری قوت۔اسی لیے اس فکر میں اب کوئی بڑا آدمی موجود نہیں رہا۔ یہی کسی فکر کے زوال کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔پھر موجودہ دور میں اس فکر کے حاملین دہشت گردی کی بالواسطہ یا بلاواسطہ تائید کر کے اصولی طور پر اپنا مقدمہ ہار چکے ہیں۔ اب وقت آچکا ہے کہ امت کی فکری امامت بدل جائے۔

دیانت دارانہ راے

میرا تعلق اصلاً اسی سیاسی تعبیر سے تھا۔ میں نہ وحید الدین خان صاحب کو جانتا تھا نہ جاوید احمد صاحب غامدی کو۔ میں ذہنی طور پر مولانا مودودی سے قریب اور انھی سے متاثر تھا۔ لیکن جب یہ تنقید سامنے آئی تو دین کے بنیادی ماخذ قرآن مجید کی کسوٹی پر ہر دو آرا کو پرکھنے کی کوشش کی۔ جس کے بعد پوری دیانت داری سے یہ راے قائم ہے اور جسے پورے اعتماد سے روز قیامت اللہ کے حضور بیان کرسکتا ہوں کہ دین فرد کے سامنے کسی سیاسی انقلاب کا ہدف نہیں رکھتا۔ ہاں دین میں سیاسی احکام ضرورہیں۔ اس سے کوئی انکار نہیں۔ شریعت کو فرد کی طرح اجتماعی طور پر بھی نافذ ہونا چاہیے، مگر یہ فرد کا کام نہیں کہ اس کے لیے زندگی وقف کردے۔

قرآن مجید فردکی نجات کوآخری درجہ میں تزکیۂ نفس پر موقوف رکھتا ہے۔ قرآن صاف ترین الفاظ میں کہتا ہے کہ 'قد افلح من تزکی'۔ یعنی آخرت کی کامیابی وہ پائے گا جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے گا۔ میں نے آسٹریلیا میں جو بیش تر تقریریں کی ہیں، ان میں قرآن مجید کے ایک ایک بیان کو لے کر پورے دین سے اسے متعلق کرکے بتایا ہے کہ اس باب میں قرآن مجید کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ جو لوگ تفصیل سے اس بات کو سمجھنا چاہیں، وہ المورد آسٹریلیا کی ویب سائٹ یا انذار کی ویب سائٹ یا یو ٹیوب چینل پر ان چیزوں کو دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

دور جدید میں فتنہ

یہ سب چیزیں اگر علمی اور فکری دائرے میں رہتیں تو غنیمت تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ چیزیں کچھ ایسے دائروں میں پہنچ گئیں جہاں اللہ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم سخت ناپسندہے۔ اس ظلم کی بدترین قسم ''فتنہ'' ہے۔قرآن کی اصطلاح میں اس کا مطلب کسی کے مذہبی نقطۂ نظر کی بنیاد پر اس کو اذیت دینا ہے۔یہ معاملہ جب بنی اسرائیل نے اپنے اور مصلحین کے ساتھ کیا تو اس پر خدا کا جو غضب بھڑکا ہے، اسے پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کی جوشائد سب سے بڑی بدقسمتی ہے، وہ یہی ہے کہ یہ سارے واقعات ہمارے ہاں پیش آئے ہیں۔جاوید صاحب اور ان کے احبا ب کے ساتھ وہ ظلم ہوا ہے کہ جب قیامت کے روز یہ مقدمہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا تو نجانے کتنے لوگوں کوجواب دہ ہونا ہو گا۔

جاوید صاحب کے رفقا کوقتل کردیا گیایاان پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ خودان کی اور ان کے خاندان کے لوگوں کی جان عرصے تک خطرے میں رہی۔ یہاں تک کہ جب ان کے پڑوسیوں کی جان بھی خطرے میں آگئی توان کو ملک چھوڑنا پڑا۔ مسلسل دھمکیوں اور خطرات کی بنا پر ا ن کے ادارے المورد کو بند کرنا پڑا۔ ان کے بعض ساتھیوں کو بھی جھوٹے الزامات اور جان کے خطرات کی وجہ سے ملک اورگھر چھوڑنا پڑے۔ان اسکالرز کے لیے حصول معاش کو مشکل بنادیا گیا۔ ان کے بچوں کے شادی بیاہ تک کے معاملات میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔

انتہائی مخلص اور نیک لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان چیزوں کو بلاتحقیق آگے بڑھاتے ہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ کبھی جاوید صاحب کو پڑھا تو کہتے ہیں: اتفاق نہیں ہوا۔ جاوید صاحب پر بغیر پڑھے اور ان کی بات کو بغیر سمجھے تنقید کرنا اس دور کا سب سے بڑا مذہبی فیشن اور شہرت حاصل کرنے کا آسان ترین نسخہ ہے۔

باقی جو کچھ تحقیق و تنقید کے نام پر کیا جاتا ہے ، اس کی حقیقت کو کوئی سمجھنا چاہے تومسلمانوں کے مختلف فرقے ایک دوسرے کے خلاف کہتے اور لکھتے رہتے ہیں، اس کو پڑھ لے یا سن لے۔ زیادہ صاحب علم ہیں تو امام اعظم ابوحنیفہ سے لے کر امام ابن تیمیہ اور شیخ محمد بن عبد الوہاب سے لے کر مولانا مودودی کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا مہموں کی داستان پڑھ لیں۔ ان میں سے ہر شخص اپنے زمانے میں، بلکہ بعد میں بھی عرصے تک فتنہ قرار پایا اور ایک وقت آیا کہ لوگوں نے اس کو امام مان لیا۔ یہ تو ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ہم سید مودودی کو فتنۂ مودودی اور ایک مودودی سو یہودی سے مودودی رحمۃ اللہ علیہ میں بدلتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جاوید صاحب کا تحقیقی کام اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے، جتنا لوگ اس سے واقف ہیں۔میرے نزدیک اس کام کی اصل قدر و قیمت دو پہلوؤں سے ہے: ایک یہ کہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حیثیت عقیدت اور زبانی اعتراف کی سطح پر سب دیتے ہیں، مگر عملی طور پر علم کی دنیا میں کوئی دینے کو تیار نہیں، وہ حیثیت جاوید صاحب کے کام نے مسلمہ طور پر قائم کردی ہے۔ قرآن و سنت کو سب سے بڑا مانتے ہیں اور ا س کے بعد ایک لیکن کہہ کر عملی رویہ بالکل کچھ اور کردیتے ہیں۔اس کی وجہ منافقت نہیں، علم کی دنیا کے کچھ مسائل تھے جو جاوید صاحب اور ان کے جلیل القدر اساتذہ کے کام کے نتیجے میں حل ہوگئے۔قرآن، سنت ، حدیث اورشریعت اور ان پر کیے گئے علمی کام سے اس کی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں، لیکن ظاہرہے کہ یہ سفرنامہ ان علمی مباحث کا تحمل نہیں کرسکتا۔

اس کام کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دین کی حجت اب دنیا کے سامنے سائنسی بنیادوں پر قائم کی جاسکتی ہے۔خاص کر قانون اتمام حجت کے واضح ہونے کے بعد قرآن اور صاحب قرآن کی حجیت کا ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جو ہر معقول انسان کو ان کے سامنے سرجھکانے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے لیے اب اس کام کے نتیجے میں فہم قرآن، سنت اور شریعت کو سائنسی بنیادوں پر انسانی اضافوں سے الگ کرکے بیان کیا جاسکتا ہے۔انسانی اضافوں کے الگ ہونے کے بعدان پر ہونے والے ہر اعتراض کا معقول جواب دیا جاسکتا ہے۔

فہم شریعت میں افراط و تفریط

جاوید صاحب کا اصل کام جو بہت کم زیر بحث آتا ہے، اس کو شریعت کے حوالے سے سمجھایا جاسکتا ہے۔اسلامی شریعت اس اعتبار سے ایک معجزہ ہے کہ وہ زرعی دور کے ایک قبائلی معاشرے میں نازل ہوئی مگر تاقیامت ہر طرح کے حالات حتیٰ کہ آج کی انفارمیشن ایج میں بھی قابل عمل ہے۔

اس حوالے سے جو مسائل سامنے آتے ہیں، وہ شریعت میں نہیں، بلکہ اس کے فہم کے حوالے سے مسلمان اہل علم کی طرف سے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت شریعت کے نام پر جوعلمی ذخیرہ ہمارے پاس موجود ہے، اس میں خدائی شریعت اور انسانی فہم، دونوں شامل ہیں۔اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ اصل شریعت زندگی کے بہت کم معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔ مگر انسانی زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔چنانچہ اس دائر ے میں جب سوالات پیدا ہوئے تو ہمارے جلیل القدر فقہا نے اپنے حالات اور ماحول کے لحاظ سے ان کے جواب دیے اور اپنی آرا بیان کیں۔جس کے بعد ہمار ا فقہی ذخیرہ وجود میں آیا۔ یہ فقہی ذخیرہ جو اصلاً انسانی فہم پر مشتمل تھارفتہ رفتہ ابدی شریعت کا حصہ سمجھا جانے لگا۔ یہ فقہی ذخیرہ بڑا غیر معمولی ہے،مگر زرعی دور میں بنایا گیا تھا اور سب سے بڑھ کر انسانوں نے اپنے حالات کو سامنے رکھ کر بنایا تھا۔ چنانچہ یہ شریعت کی طرح کبھی ابدی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ صنعتی دور اور اب انفارمیشن ایج کے بعد ان میں بہت سی چیزیں بالکل غیر متعلق یا غیر عملی ہوچکی ہیں۔ جب ان کو مقدس سمجھ کر دین کے نام پر پیش کیا جاتاہے تو اس کے سنگین نتائج نکلتے ہیں۔ آج بھی بہت سے لوگ اور آنے والے دنوں میں تمام مسلمانوں کی نئی نسلوں کے لیے اس طرح کی کوئی پابندی قابل قبول نہیں رہے گی۔اس بات کو سمجھنا ہے تو اس ایک مثال سے سمجھیں کہ ہزار سال تک حرام سمجھی جانے والی تصویر آج حلال ہوچکی ہے۔ایک نسل پہلے تک تصویر کی مخالفت کرنے والے اب اس تمدن کا مکمل حصہ ہیں جو تصویر پر کھڑا ہوا ہے۔ جو گنتی کے لوگ رہ گئے ہیں، وہ اگلی نسل تک اس کا حصہ بن چکے ہوں گے۔

اہل علم کے ایک اور گروہ سے یہ غلطی ہوئی کہ انھوں نے جب عصر حاضر میں شریعت کے اوپر وارد ہونے والے بعض سوالات کو دیکھا تو اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ ان خاص احکام کے پہلو سے شریعت کو عملی طور پر معطل یا غیرمتعلق کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک علمی غلطی ہے جو نیک نیتی سے کی جارہی ہے۔مگریہ کم وبیش وہی غلطی ہے جو سینٹ پال نے کی تھی۔ یعنی شریعت صرف یہودیوں کے لیے ہے۔ ہمارے ہاں شریعت کو اُس دور کے عرب کے لیے خاص کیا جا رہا ہے جب قرآن نازل ہوا تھا۔ یا پھر امام کے اجتہاد،مقاصد شریعت وغیرہ کی تاویل کے ذریعے سے عملاً شریعت کو بعض جگہوں پر معطل کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

یہ دونوں رویے افراط و تفریط ہیں۔اس معاملے میں جاوید صاحب کا شریعت پر کام ایک بڑا غیر معمولی کام ہے۔ انھوں نے صدیوں سے فقہ انسانی اضافوں میں دبی اصل شریعت قرآن ،سنت اور احادیث کی روشنی میں اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھ دیا ہے۔ بدقسمتی سے ان کا عظیم کام ان کی وجۂ شہرت نہیں بن سکا۔ ان کی وجۂ شہرت ان کی بعض فقہی آرا بن گئی ہیں۔ ان کے معتقدین اور مخالفین دونوں ان کی بنیاد پر ان کے کام کا تعین کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کا اصل کام جس کی بنا پر تاریخ میں وہ یاد رکھے جائیں گے، وہ ہے جو انھوں نے شریعت پر کیا ہے اور ان کی کتاب ''میزان'' کا حصہ ہے۔ اہل علم فتویٰ بازی سے فارغ ہو جائیں تو کبھی اِس حیثیت میں ان کے کام کا مطالعہ کریں۔ اس کام نے اس چیلنج کا جو اب بڑی حد تک دے دیا ہے کہ جو اگلے بیس پچیس برسوں میں پورے عالم اسلام کے لیے ایک عظیم حقیقت بن جائے گا۔

فکر فراہی

جاوید صاحب کا یہ کام تنہا انھی کا کام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ان کے اساتذہ امام حمید الدین فراہی اور اصلاحی صاحب کی بلند پایہ شخصیات کھڑی ہیں۔امام فراہی کے پس منظر ہی میں جاوید صاحب اسے فکر فراہی قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فکراصلاً اس چیز کے بیان کا نام ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب اپنے پیچھے خود چھوڑ گئے ہیں اور جو تمام فکری معاملات میں آخری حجت ہے، وہ قرآن مجید ہے۔دین کے نام پر موجود ہر چیز پر قرآن مجید کی برتری جو اب رہتی دنیا تک خدا اور اس کے رسول کے قائم مقام ہے، یہی فکر فراہی ہے۔ یہی اس کا اصل اصول ہے ۔ یہی اس فکر کا لایا ہوا اصل انقلاب ہے۔یہ کام اصلاًامام فراہی نے کیا تھا اور ہر دوسری چیز پر قرآن مجید کی برتری کو عملاً ثابت کردیا تھا۔

علم کی دنیا میں جب اس قدر بلند پایہ شخصیات پیدا ہو جائیں تو اس کے بعد علمی انقلاب آیا ہی کرتے ہیں۔ تاہم اکثر یہ انقلاب شخصیات کے گزرنے کے بعد آتے ہیں۔ان کی زندگی میں تو ایسے لوگ کفرو ضلالت کے فتووں اور مخالفتوں کے طوفان میں گھر کر اجنبی بنے رہتے ہیں۔اسی پس منظر میں فراہی صاحب نے اپنے خلاف ایک فتوے کے جواب میں کہا تھا کہ یہ فتویٰ دینے والے مجھے نہیں جانتے۔

شخصیت پرستی

مگر ایک دوسرا مسئلہ بھی ایسی شخصیات کے بعد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ شخصیت پرستی کا مسئلہ ہے۔ انسانوں کا المیہ یہ ہے کہ اکثر وہ دو انتہاؤں پر ہی رہتے ہیں: یا تو نری مخالفت یا پھر نری عقیدت ، بیچ کی راہ پر رہنے والے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔جاوید صاحب کی ایک بڑی علمی خدمت یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے ساتھ رہنے والوں کو اختلاف راے کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ کبھی اس سے بے مزہ نہیں ہوتے۔

تاہم عام لوگوں کا شاید کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ وہ ہمیشہ عقیدت کی عالی شان عمارت بلند کرتے ہیں اور آخرکار اسے اپنے ممدوح کا مزار بناکر قبر پرستی شروع کردیتے ہیں۔اس کے ساتھ ایک دوسرا قبرستان بھی بناتے ہیں اور اس میں ہر اختلاف کرنے والے کو بھی دفن کردیتے ہیں۔یہ انسانوں کا المیہ ہے۔ اس سے بلند صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے عظمت کا سرچشمہ صرف خداے لم یزل کی ذات بلند ہوتی ہے۔ان کے لیے خطا سے پاک صرف انبیا علیہم السلام ہوتے ہیں اور جن کے لیے دین کا ماخذ و محور صرف خاتم الانبیا والمرسلین کی ہستی ہوتی ہے۔جن کے لیے ذاتی عقیدت سے زیادہ دلیل طاقت ور ہوتی ہے۔مگر اس طرح کے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔

کچھ اور مسائل

شخصیت پرستی پہلی چیز ہے جو کسی بھی فکر کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔یہ تباہی عام طور پر کسی فکر کے آخرکے زمانے کے لوگوں کے ہاتھوںآتی ہے۔جاوید صاحب کی فکر کو بھی اب معاشرے میں بہت قبول عام ہوگیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بڑھتا چلا جائے گا۔ مگر بعد میں آنے والے کچھ اور خرابیاں بھی اپنی ساتھ لیتے آرہے ہیں۔ ان پر بھی توجہ دلانا ضروری ہے۔

فکر فراہی اصلاً ایک علمی تحریک ہے جس کی بنیادتطہیر افکار پر ہے۔ فطری طور پر اس کا زیادہ زور علمی اور فکری مباحث پر ہے۔ جو لوگ مانوس ہوتے ہیں، ان کا پس منظر یہی ہوتا ہے۔ لیکن دین کی دعوت اپنی حقیقت اور مقصد کے لحاظ سے اول تا آخر ایک اخلاقی دعوت ہے۔ علمی معاملات میں ایک شخص جب اپنے تعصبات سے اوپر اٹھ جائے تواس کے بعد کسی چیز کا سمجھنا مسئلہ نہیں رہتا۔جبکہ اخلاقی معاملات کی اصلاح میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ بلکہ بارہا تو لوگوں کو اپنی کمزوریوں کا نہ علم ہوپاتا ہے نہ وہ ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ علم بھی ہوجائے تو ان کی اصلاح بہت مشکل کام ہے۔ چنانچہ جو لوگ اس فکر سے وابستہ ہوتے ہیں، ان میں اکثروہی اخلاقی کمزوریاں موجود رہتی ہیں جو پہلے سے تھیں۔ جس کے بعد اللہ کے ہاں جواب دہی زیادہ ہونے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔اس لیے کہ فکر کی تطہیر ہوجائے اور علم کی نہ ہو تو انسان کی زیادہ پکڑ ہوگی۔ یہ وہ چیز ہے جس کی بڑی اصلاح کی ضرورت ہے۔

فکری مباحث میں ہمہ وقت لگے رہنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ یہ انسان میں جا بے جا تنقید اور بعض اوقات دوسروں کی تضحیک کا رجحان پیدا کردیتے ہیں۔بدقسمتی سے اس فکر کے کچھ نئے وابستگان میں یہ رجحان نظر آتا ہے۔ جبکہ ایک بندۂ مومن کے دل میں دوسروں کی خیرخواہی کا جذبہ ہونا چاہیے۔ کسی کی علمی راے کے دلائل کتنے بھی کمزور محسوس ہوں، ہمیشہ اس احساس میں جینا چاہیے کہ ہوسکتا دوسرا شخص ہی ٹھیک ہو۔ایسے میں اپنی بات دلائل سے بیان کر کے خاموش ہوجانا ہی مناسب طریقہ ہے۔ دوسروں کو شکست دے کر زمین پر گراہی دینا کوئی درست طریقہ نہیں۔

اس فکر کے اہل علم عام طور پر ظواہر پرستی پر تنقید کرتے ہیں۔تاہم اس سے بعض وابستگان میں یہ تصور پیدا ہوجاتا ہے کہ ہر ظاہری حکم غیر مطلوب ہے۔اسی طرح یہ اہل علم بعض ان چیزوں کے جواز کے قائل ہیں جن میں عام اہل مذہب بہت سختی سے قائل ہیں۔چنانچہ اس فکر کے وابستگان ان رعایتوں اور اجازتوں سے فائدہ اٹھاتے اٹھاتے ، ان سرحدوں میں قدم رکھتے ہیں جو بہرحال ممنوعات کے دائرے میں آتی ہیں۔خاص کر وہ احکام جو سدذریعہ کے نوعیت کے ہیں۔ اسی طرح نوافل اور ذکر الٰہی کی مدد سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک گہرا تعلق خود اپنی جگہ ایک بڑی غیر معمولی اور مطلوب صفت ہے۔ وہ بھی اجازتوں اور رعایتو ں میں کہیں اِدھر اُدھر ہوجاتی ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ فکر فراہی کے ساتھ ابتداءً وہی ہوا ہے جو کسی بھی بڑی اصلاحی تحریک کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی زبردست مخالفت اور جھوٹا پروپیگنڈا۔ اس کے وابستگان میں اس کا ردعمل پیدا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ بعض لوگوں میں یہ ردعمل بڑھتا ہے اور مذہبی طبقے کے عناد اور مخالفت میں بدل جاتا ہے۔ پہلے بہت سے لوگ پہلے ہی سے ''مولوی دشمن ''ہوتے ہیں۔ ان کو اس فکر کے اہل علم کی صور ت ایک گھونسا مل جاتا ہے جسے وہ اپنی دانست میں مولویوں کی ناک توڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔جس سے بعض صالح طبیعت لوگ بھی متنفر ہوجاتے ہیں، حالاں کہ ان کو کوئی فکری اور علمی اشکال نہیں ہوتا۔

اس فکر کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کے متعلقین یہ جاننے کے باوجود کہ دین کی اہم اور بنیادی چیزیں کیا ہیں، ان کو زیر بحث لانے کے بجاے ثانوی چیزوں کو بار ہا اپنی گفتگو کا موضوع بنالیتے ہیں۔ ثانوی درجے کی چیزوں کو زیربحث لانے کے بعد اہم ترین چیزیں کہیں پس پشت چلی جاتی ہیں۔ جس کے بعد دین کا اصل نقطۂ نظر واضح ہونے کے بجاے غیر اہم چیزیں ہی موضوع بحث بن جاتی ہیں۔

اگر جنگ شیطان سے ہے تو

یہ خاکسار علم کی جدید اور قدیم دنیا کے مسائل سے واقف ہے۔ یہ عاجز اصلاً قدامت پسند شخص ہے۔ یہ جانتا ہے کہ دور جدید میں نئے علمی ، فکری اور تہذیبی چیلنج اتنے بڑے ہیں کہ قرآن مجید کے علاوہ مسلمانوں کے پاس کوئی ڈیفنس لائن نہیں ہے۔ علمی طور پر قرآن مجید کی بنیاد پر یہ ڈیفنس لائن فکرفراہی نے دے دی ہے۔ آج مخالفت اور عناد کی فضا میں شاید لوگوں کو یہ بات سمجھ نہ آئے ۔ مگر پچیس سال بعد بیش تر انصاف پسند لوگوں کو یہ بات سمجھ آچکی ہوگی۔

اس فکر کا اصل چیلنج اس کے مخالفین نہیں۔ انھیں تو ہر حال میں ہارنا ہی ہے۔ اس فکر کا اصل چیلنج وہ کمزوریاں ہیں جو اس خاکسار نے اوپر گنوائی ہیں۔ یہ کمزوریاں باقی رہیں تو شیطان اپنی جنگ یہاں سے نہ سہی وہاں سے جیت جائے گا۔ جنگ اگر شیطان سے ہے تو پھر ان کمزوریوں کی اصلاح ہونا اس وقت فکر فراہی کا سب سے بڑا مسئلہ بن جانا چاہیے۔

____________