فقہ اسلامی میں غیر منصوص مسائل کا حل


(۱)

مسلمانوں کی علمی میراث میں فقہ اسلامی کے نام سے جو ذخیرہ پایا جاتا ہے، وہ اپنے اجزاے ترکیبی کے لحاظ سے دو چیزوں سے عبارت ہے: ایک ان احکام کی تشریح وتعبیر جو قرآن وسنت میں منصوص ہیں۔ دوسرے ان مسائل کے بارے میں دین کے منشا کی تعیین جن سے نصوص ساکت ہیں اور جن کے حل کی ذمہ داری قرآن وسنت کے طے کردہ ضوابط کی روشنی میں امت کے علما کے سپرد کی گئی ہے۔ اپنے لغوی مفہوم اور قرآن وسنت کے استعمالات کے لحاظ سے ''فقہ'' کا لفظ ان دونوں دائروں کے لیے بولا جاتا ہے۔ تاہم اس کے اصطلاحی وعرفی مفہوم کے پیشِ نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فقہ کی اصل جولان گاہ غیر منصوص احکام کا دائرہ ہے۔ اسی لیے فقہی ذخیرے کا بیشتر حصہ انھی مسائل ومباحث کی تحقیق وتنقیح کے لیے خاص ہے۔

دوسرے تمام علوم وفنون کی طرح فقہ اسلامی بھی عہد بعہد ارتقا کے مراحل سے گزری ہے اور اس کے بنیادی وذیلی اصولوں کی ترتیب وتدوین اور ان سے بے شمار جزئیات کی تفریع سیکڑوں اہلِ علم کی علمی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے۔ اس سارے عمل میں، فطری طور پر مختلف رجحانات اور فکری خصائص رکھنے والے مکاتبِ فکر بھی وجود میں آئے ہیں جن کے مابین پیدا ہونے والی مختلف النوع علمی بحثیں فی الواقع علم ونظر کی آبیاری کرنے اور ان کو جلا بخشنے والی ہیں۔ فقہا کی ان مسلسل اور گوناگوں کاوشوں کا ثمر یہ ہے کہ اسلامی فقہ نئے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع، مربوط اور منضبط ضابطہ رکھتی ہے۔ مسلم فقہا نے نہایت دقتِ نظر کے ساتھ غیر منصوص احکام کو ان کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف دائروں (Categories) میں تقسیم کیا اور ان کے حل کے لیے مختلف اطلاقی قواعد وضع کیے ہیں۔

جہاں تک فقہی آرا کے اختلاف کا تعلق ہے تو وہ علم وفکر کی دنیا کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ اس کے بغیر علوم وفنون نہ پھلتے پھولتے ہیں، نہ ان میں نئی نئی راہیں کھلتی ہیں اور نہ مختلف الجھنوں کی تنقیح کا سامان ہی فراہم ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ تمام حلقہ ہاے فکر حیرت انگیز طور پر اپنا انتساب ایک ہی بنیادی سرچشمے کی طرف کرتے ہیں اور اگر دقتِ نظر سے جائزہ لیا جائے تو ان سب کا استدلال واستنباط چند ایسے کلی قواعد کے تابع ہوتا ہے جو ان کے مابین مابہ الاشتراک کی حیثیت رکھتے اور اس طرح اس غیر متناہی سلسلۂ اختلافات میں رشتۂ اتحاد پیدا کرتے ہیں ۔ جہاں تک میں غور کر سکا ہوں، فقہی مکاتبِ فکر کے باہمی اختلافات بظاہر کتنے ہی وسیع الاطراف محسوس ہوتے ہوں، حقیقت میں وہ صرف اطلاق کے اختلافات ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ استنباط کے بنیادی اصول تو ایک ہی ہیں، لیکن کسی خاص مسئلے میں ان کا اطلاق کرتے ہوئے اختلاف ہو جاتا ہے۔ ایک فقیہ اپنے علم ومطالعہ کی روشنی میں ایک اصول کا اطلاق درست سمجھتا ہے جبکہ دوسرے کے نزدیک بعینہٖ اس مسئلے میں کسی دوسرے اصول کا اطلاق بہتر ہوتا ہے۔

زیرِ نظر سطور میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ غیر منصوص مسائل کے حل کے لیے اسلامی فقہ میں تجویز کردہ طریقِ کار اور بنیادی قواعد کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جائے اور ان کی توضیح چند ایسی مثالوں سے کی جائے جن میں ان قواعد کا اطلاق کیا گیا ہے۔ مثالوں کا انتخاب زیادہ تر جدید پیش آمدہ مسائل سے کیا گیا ہے تاکہ ایک طرف تو یہ بات واضح ہو کہ صدیوں پہلے طے ہونے والے یہ قواعد اپنی ہمہ گیری اور جامعیت کے لحاظ سے آج بھی قابلِ استناد ہیں اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے آئے کہ ان قواعد کی افادیت کا مدار اس بات پر ہے کہ جزئیات میں اجتہاد کا سلسلہ رکے بغیر جاری رہے اور فقہ اسلامی زمانے کے مسلسل ارتقا کا برابر ساتھ دیتی رہے۔

فقہی وعلمی مسائل میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اہلِ علم کے مابین اختلاف رائے کا واقع ہوجانا ایک بالکل فطری امر ہے۔ چنانچہ تمام علمی آرا کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ان آرا کو ترجیح دی گئی ہے جو ہمارے فہم کے مطابق ازروئے اصول وقواعد اقرب الی الصواب ہیں۔

_______

فقہ اسلامی کے ان قواعد کلیہ کا مطالعہ چار بنیادی عنوانات کے تحت کیا جا سکتا ہے:

۱۔ قیاس

۲۔ احکام کی حکمت

۳۔مصالح

۴۔ عرف

قیاس

شریعت کے احکام اکثر وبیشتر کسی خاص علت پر مبنی ہوتے ہیں۔ قیا س کا مفہوم یہ ہے کہ کسی منصوص حکم کو علت کی بنا پر ان صورتوں میں بھی ثابت کیا جائے جن میں یہ علت پائی جاتی ہے۔ فقہ اسلامی کے قدیم وجدید ذخیرے میں مسائل کی ایک بہت بڑی تعداد کے احکام اس اصول کے مطابق اخذ کیے گئے ہیں۔ جدید مسائل میں اس کی ایک مثال بندوق کا شکار ہے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے تیر پھینک کر شکار کیے جانے والے جانور کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تیر کا نوک دار حصہ شکار کو لگا ہو اور اس سے جانور کا خون نکلا ہو تو وہ حلال ہے اور اگر تیر چوڑائی والی جانب سے جانور کو لگا ہے اور اس سے اس کی موت واقع ہوئی ہے تو چونکہ وہ ذبح نہیں ہوا، بلکہ چوٹ لگنے سے مرا ہے، اس لیے حرام ہے۔ تیر پر قیاس کرتے ہوئے علما نے بندوق سے شکار کیے جانے والے جانوروں کو بھی حرام قرار دیا ہے۔

قیاس کا عمل دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک پہلو کا تعلق فہمِ نص سے ہے، یعنی اس میں کسی منصوص حکم کی علت متعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ علت کی پہچان، اس کی شرائط اور اس کی تعیین کے مختلف طریقوں پر اہلِ اصول نے بحث کی ہے، لیکن یہ تفصیل ہمارے موضوع سے خارج ہے۔

دوسرا پہلو اس حکم کے تعدیہ یعنی غیر منصوص صورتوں میں اس کے اطلاق سے متعلق ہے۔ کسی حکم کی علت کی درست تعیین کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ غیر منصوص مسائل پر اس کا اطلاق بھی درست ہو۔ اس ضمن میں فقہا نے متعدد عقلی قواعد وضع کیے ہیں جن میں سے چند بنیادی قواعد کا ہم اجمالاً یہاں تذکرہ کرتے ہیں۔

۱۔ پہلا ضابطہ یہ ہے کہ قیاس کے دائرے میں وہ احکام نہیں آ سکتے جن کے بارے میں مستقل نص موجود ہو۔ چنانچہ سفر کی حالت میں مغرب کی نماز کو ظہر، عصر اور عشاپر قیاس کرتے ہوئے قصر کر کے نہیں پڑھا جا سکتا۔ اسی طرح خاوند اگر اپنی بیوی پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگائے تو اس پر قذف کی حد جاری نہیں کی جا سکتی۔

۲۔ دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ ایسے منصوص احکام کو قیاس کا مبنیٰ نہیں بنایا جا سکتا جو شریعت کے عام ضوابط کے تحت نہیں آتے، بلکہ ان کی نوعیت مخصوص احکام کی ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں:

ایک یہ کہ وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہو۔ چنانچہ ازواج کی تعداد میں جو رخصت قرآنِ مجید کی رو سے خاص طور پر آپ کے لیے ثابت ہے، اس میں کسی دوسرے کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ احناف نے اسی اصول پر ایسے شخص کے لیے جو کسی کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کر سکا ہو، اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کو ناجائز قرار دیا ہے، اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت ہے۔

دوسری یہ کہ اس کی نوعیت ایسی رخصت کی ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنے مخصوص اختیارات کے تحت دی ہو۔ روایات میں ابو بردہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سال سے کم عمر کی بکری کی قربانی کی اجازت اور سالم مولیٰ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے لیے بڑی عمر میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کا دودھ پینے سے حرمتِ رضاعت کا ثبوت اسی نوعیت کے احکام ہیں، چنانچہ ان پر دوسرے کسی فرد کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

تیسری یہ کہ وہ حکم کسی مخصوص حالت سے متعلق اور کسی قید سے مقید ہو ۔ اس صورت میں اس کو عام حکم بنانا درست نہیں ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نجاشی رضی اللہ عنہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا انتقال ایک کافر ملک میں ہوا تھا اوراگرچہ مسلمان وہاں موجود تھے، لیکن ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھتے اور اسلامی طریقے پر ان کی تدفین کرتے۔ چنانچہ نجاشی رضی اللہ عنہ پر قیاس کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی غائبانہ نمازِ جنازہ تو پڑھی جا سکتی ہے جن کی نماز جنازہ نہ پڑھی جا سکی ہو، لیکن اس کو ایک عام عمل بنانا درست نہیں ہوگا ۔

۳۔ تیسرا ضابطہ یہ ہے کہ قیاس کا مدار ظاہری مماثلت (Resemblance) پر نہیں، بلکہ حقیقی علت پر رکھنا چاہیے۔جدید فقہی استنباطات نے اس اصول کی اہمیت کو نہایت موکد کر دیا ہے، اس لیے کہ بالخصوص معیشت کے مسائل میں کیے جانے والے قیاسات کے نتائج بہت وسیع اور دو ررس ہوتے ہیں، لہٰذا بیانِ احکام میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ دو مثالیں ملاحظہ کیجیے۔

کرنسی نوٹ کی قوت خرید

قرض دے کر مدت کے عوض میں اصل سے زائد رقم لینا سود ہے جو کہ شریعت میں حرام ہے۔ زمانۂ قدیم میں سونا اور چاندی کو Medium of exchange یعنی اشیا کے تبادلہ کے لیے ذریعے کی حیثیت حاصل تھی،اس لیے شریعت میں سونے اور چاندی کے قرض میں اصل سے زائد مقدار لینے کو حرام قرار دیاگیا ہے ۔ لیکن جدید معیشت میں سونے اور چاندی کو یہ حیثیت حاصل نہیں رہی، بلکہ ان کی جگہ کرنسی نوٹ نے لے لی ہے۔ کرنسی نوٹ کی قیمت چونکہ یکساں نہیں رہتی، بلکہ مختلف معاشی عوامل کے تحت کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے، اس لیے یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ نوٹ کی قوتِ خرید میں اس کمی بیشی کا مالی ادائیگیوں پر کیا اثر پڑے گا؟ مثال کے طور پرایک شخص نے پانچ ہزار روپے کسی کو بطورقرض دیے اور قرض دیتے وقت ان کی قوتِ خرید ایک تولہ سونا تھی۔ کچھ عرصہ بعد جب مقروض نے قرض واپس کیا تو پانچ ہزار روپے کی قوت خرید کم ہو کر دس ماشے رہ گئی ۔ اب کیا مقروض ہر حالت میں اتنی ہی مقدار میں نوٹ ادا کرے گا، جتنے اس نے لیے تھے یا ان کی قیمتِ خرید کا لحاظ کرتے ہوئے اتنے نوٹ دے گا جن سے ایک تولہ سونا خریدا جا سکتا ہو؟ ایک رائے یہ ہے کہ نوٹوں کی مقدار وہی رہنی چاہیے کیونکہ کرنسی نوٹ بھی سونا چاندی کی طرح ثمن ہیں، اس لیے جیسے سونا چاندی کے قرض میں کمی بیشی درست نہیں، اسی طرح نوٹوں کے قرض میں بھی کمی بیشی ناجائز ہے۔ تاہم اس قیاس میں محض ظاہری مماثلت کو دیکھتے ہوئے حقیقی علت سے صرفِ نظر کر لیا گیا ہے۔ اس لیے کہ سونا چاندی کی ایک حیثیت تو بلاشبہ یہی ہے کہ وہ اشیا کے تبادلہ کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ وہ بذاتِ خود اپنی بھی ایک قیمت (Intrinsic value)رکھتے ہیں اور جب مقروض اصل مقدار میں سونا یا چاندی واپس کرتا ہے تو قرض خواہ کو کوئی نقصان برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے برخلاف کرنسی نوٹ کی بذات خود کوئی قیمت نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک فرضی قوتِ خرید کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اس لیے جس شخص نے دوسرے کو پانچ ہزار روپے دیے ہیں، اس نے نوٹوں کی شکل میں کوئی ایسی چیز اس کو نہیں دی ہے جو بذاتِ خود قیمت رکھنے والی ہو ، بلکہ اس نے، درحقیقت ایک ہزار روپے کی قوتِ خرید (Purchase power)اس کے حوالے کی ہے۔ لہٰذا عدل وانصاف کی رو سے ضروری ہے کہ قرض دینے والے کو اس کی قوت خرید پوری واپس ملے، چاہے نوٹوں کی مقدار میں بظاہر زیادتی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اس صورت میں یہ زیادتی مدت کے عوض میں نہیں ، جو کہ حرمتِ سود کی اصل علت ہے، بلکہ اس نقصان کی تلافی کے لیے ہوگی جو اس عرصے میں نوٹ کی قوت خرید میں واقع ہو گیا ہے۔

صنعتی پیداوار

شریعت میں مالِ تجارت پر ڈھائی فیصد جبکہ زمین کی پیداوار پر دس فیصد یا پانچ فیصد زکوٰۃ فرض کی گئی ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ تجارت میں سرمایے کے محفوظ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور سارے کا سارا سرمایہ ہر وقت معرضِ خطر میں ہوتا ہے، جبکہ زمین کی پیداوار میں نقصان اگر ہو سکتا ہے تو پیداوار میں ہو سکتا ہے۔ زمین، جو کہ پیداوار کا منبع ہے، بذاتِ خود محفوظ رہتی ہے۔ اس اصول پر دیکھیے، جدید معیشت میں کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات اور مکانوں اور جائیدادوں کے کرایوں کو اگرچہ علما نے بالعموم مال تجارت شمار کیا ہے، لیکن ایک رائے یہ ہے کہ ان کا الحاق مالِ تجارت کے بجائے مزروعات کے ساتھ کر کے ان پر دس یا پانچ فیصد زکوٰۃ عائد کرنی چاہیے، کیونکہ ان میں بھی ذرائع پیداوار یعنی مشینیں اور اوزار وغیرہ بالعموم نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ دوسری رائے عقل وقیاس کے زیادہ قرین ہے۔

۴۔ چوتھا ضابطہ یہ ہے کہ بعض دفعہ علت سے قطعِ نظر کر کے محض احتیاطاً ایک چیز کو دوسرے کے قائم مقام قرار دے کر ایک کے احکام دوسری پر جاری کر دیے جاتے ہیں۔ مثلا غسل واجب ہونے کی اصل علت تو مادۂ منویہ کا اخراج (Ejaculation) ہے ، لیکن احتیاطاً شرم گاہوں کے محض ملنے پر غسل واجب کیا گیا ہے۔ جدید مسائل میں اس سے ملتی جلتی صورت ٹسٹ ٹیوب کے استعمال میں پائی جاتی ہے۔ ٹسٹ ٹیوب کے طریقے میں سپرم کو محفوظ کر کے اسے انجکشن کے ذریعے سے یا خود اسی ٹیوب کے ذریعے سے عورت کے رحم میں پہنچایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس صورت میں عورت پر غسل واجب ہوگا یا نہیں؟ ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ غسل کا موجب درحقیقت مادۂ منویہ کا ایسا دخول وخروج ہے جس میں جنسی لذت کا حصول بھی شامل ہو، اس لیے مذکورہ صورت میں غسل واجب نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اس صورت میں ازروے علت نہیں ، البتہ ازروے احتیاط غسل واجب ہوگا۔

(باقی)

____________