فقہ اسلامی میں غیر منصوص مسائل کا حل (۲)


(گزشتہ سے پیوستہ)

احکام کی حکمت

شریعت کے تمام احکام خاص حکمتوں پر مبنی ہیں جن کا حصول ان احکام کے پورا کرنے سے مقصود ہوتا ہے۔ غیر منصوص مسائل میں بعض دفعہ عقلی لحاظ سے کئی پہلووں کا اختیار کرنا ممکن ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ دیکھنا چاہیے کہ احکام کی حکمت کی رعایت کس پہلو میں زیادہ ہے۔ اس اصول کا اطلاق حسب ذیل مسائل میں ہوتا ہے:

نمازوں کے اوقات

ایسے مقامات جہاں بعض نمازوں کا وقت نہ ملتا ہو، مثلاً آفتاب کے طلوع وغروب کے درمیان گھنٹا نصف گھنٹا کا فاصلہ رہتا ہو یا کئی کئی ماہ تک مسلسل دن یا رات رہتے ہوں تو وہاں نمازوں کا حکم کیا ہے؟ بعض فقہا نے محض ظاہر کو دیکھتے ہوئے یہ فتویٰ دیا کہ چونکہ وقت نماز کے لیے شرط ہے، اس لیے ان علاقوں میں وہ نمازیں فرض نہیں ہوں گی جن کا وقت نہیں ملتا۔ لیکن دوسری رائے ، جو زیادہ معقول ہے، یہ ہے کہ شریعت کا اصل مطلوب ایک مخصوص وقت کے اندر پانچ نمازیں ہیں۔ اوقات ان نمازوں کے لیے محض علامت (sign)اور ظاہری سبب کی حیثیت رکھتے ہیں نہ کہ حقیقی سبب کی۔ اس لیے مذکورہ علاقوں میں بھی چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازیں ہی فرض ہوں گی اور ان کے اوقات قریبی علاقوں کے اوقات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔

ٹیلی وژن سے نماز

نماز ایک زندہ روحانی عمل ہے اوراس میں قلبی کیفیات کو اصل مقصود کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک امام کے پیچھے باجماعت نماز پڑھنے سے یگانگت اور وحدت کی جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں، وہ ٹیلی وژن یا ریڈیو کے پیچھے پڑھنے میں نہیں ہو سکتیں، چنانچہ مذکورہ صورتوں میں نماز درست نہیں ہوگی۔

نس بندی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے، اس میں تبدیلی اور اس کے تقاضوں سے انحراف دین میں حرام ہے۔ مردوں کے عورتوں سے اور عورتوں کے مردوں سے مشابہت اختیار کرنے کو اسی بنیاد پر حدیث میں قابل لعنت عمل قرار دیا گیا ہے۔ اسی اصول پر علما نے نس بندی کو حرام کہا ہے ،کیونکہ مردانہ صلاحیت اور اس کا جائز استعمال اس فطرت کا تقاضا ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس فطرت کو ختم کرنے کا اختیار انسان کو نہیں دیا گیا۔

حسن کے لیے سرجری

سرجری کے طریقوں میں ترقی کے باعث یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان اپنی شکل وشباہت کو سرجری کی مدد سے ایک خاص حد تک اپنی پسند کے مطابق بنوالے۔ اسلام کے نزدیک انسانوں کی صورت گری مختلف حکمتوں کے تحت اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور اچھی یا بری شکل دینے سے مقصود انسان کی آزمایش کرنا ہوتا ہے، اس لیے اللہ کی اس تقسیم کو قبول کرنا ہی بندگی کا تقاضا ہے۔ چنانچہ اگر محض حسن پیدا کرنے کے لیے سرجری کرائی جائے تو یہ حرام ہے۔ البتہ اگر کسی شخص کی خلقت انسانوں کی عام خلقت سے مختلف ہو یا کسی حادثے کے نتیجے میں اصل شکل میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو سرجری کے ذریعے سے اس کا علاج درست ہوگا۔

حد میں مقطوع الید کی پیوند کاری

شریعت میں حدود کا مقصد محض مجرم کو سزا دینا نہیں ، بلکہ اسے معاشرے کے لیے عبرت بنا دینا بھی ہے، لہٰذا سرجری کے ذریعے سے کسی ایسے شخص کے اعضا کو دوبارہ جوڑنا ناجائز ہوگا جس کا ہاتھ چوری میں یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ قصاص میں کاٹا گیا ہو۔

روزہ میں انجکشن

علما کے مابین انجکشن سے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک انجکشن مطلقاً ناقض ہے اور بعض رگ میں لگائے جانے والے انجکشن کو ناقض اور دوسرے کو غیر ناقض قرار دیتے ہیں۔ اس سے قطع نظرکہ انجکشن میں کون سی صورت پائی جاتی ہے، علما نے یہ بات بطور اصول تسلیم کی ہے کہ اگر جسم کے اندر داخل کی جانے والی کوئی چیز کسی منفذ کے ذریعے سے دماغ یا معدہ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک روزے کا مقصد دراصل انسان کو اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دینا ہے اور اس مقصد کے لیے شریعت میں اکل وشرب اور جماع کو ممنوع کیا گیا ہے۔ چونکہ علاج کی غرض سے کسی بھی قسم کی بیرونی دوا یا انجکشن استعمال کرنے سے اس مقصد پر کوئی فرق نہیں پڑتا، ا س لیے یہ چیزیں ناقض صوم نہیں ہو سکتیں۔ البتہ ، اگر کوئی شخص کوئی دوا یا انجکشن استعمال ہی اس غرض سے کرتا ہے کہ اس کے بدن کو تقویت پہنچے اور کمزوری محسوس نہ ہو تو یہ روزے کے مقصد کے خلاف ہے، لہٰذا اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا، خواہ وہ رگ میں لگایا جائے یا گوشت میں۔

کیسٹ کو بے وضو چھونا

بعض علما کا خیال ہے کہ ایسی کیسٹ کو چھونے کے لیے بھی باوضو ہونا ضروری ہے جس میں قرآن مجید کی تلاوت ریکارڈ کی گئی ہو ، کیونکہ وضو کے حکم کا مقصد قرآن کا احترام ہے اور احترام جیسے لکھے ہوئے قرآن کا ہونا چاہیے، اسی طرح ریکارڈ کیے ہوئے قرآن کا بھی ہونا چاہیے ۔ ہمارے خیال میں ادب اور احترام کا تعلق انسان کی داخلی کیفیات سے ہے۔ چونکہ کیسٹ پر قرآن ظاہری طور پرلکھا ہوا نہیں ہوتا ، اس لیے اس کو چھوتے ہوئے آدمی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ اس نے قرآن پکڑا ہوا ہے اور نہ وہ کوئی حجاب (Reluctance)محسوس کرتا ہے، چنانچہ اس صورت میں باوضو ہونے کی شرط لگانا درست نہیں ہے ۔

ٹیپ ریکارڈر سے قرآن سننے پر سجدۂ تلاوت

علما کا خیال ہے کہ ٹیپ ریکارڈر سے تلاوت سننے پر سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا ، کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ سننے والا، خود پڑھنے والے کی زبان سے قرآن سنے۔ ہمارے نزدیک سجدۂ تلاوت کی حکمت یہ ہے کہ آدمی ایسی آیات کو سن کر جن میں سجدہ کی ترغیب دی گئی ہے، فوراً ان کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی عاجزی کا اظہار کرے۔ ظاہر ہے کہ اس میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیت کسی کی زبان سے سنی گئی ہے یا ٹیپ ریکارڈر سے، اس لیے ہمارے نزدیک دونوں صورتوں کا حکم ایک ہونا چاہیے۔

مصالح

مصالح کے عنوان کے تحت مختلف ذیلی اصول مندرج ہوتے ہیں:

۱۔ الدین یسر

پہلا اصول یہ ہے کہ مامورات میں، یعنی ایسی باتوں میں جن کا کرنا دین میں مطلوب ہے، حتی الوسع یسر اور آسانی کو ملحوظ رکھا جائے۔ ہمارے نزدیک حسب ذیل مسائل میں اس اصول کا اطلاق ہونا چاہیے۔

وگ اور مصنوعی دانتوں کے ساتھ غسل

علما نے ایسے دانتوں میں جو مستقل طور پر لگا دیے گئے ہوں اور ایسے دانتوں میں جن کو اتارا جا سکے، فرق کرتے ہوئے دوسری صورت میں غسل میں دانتوں کے اتارنے کو ضروری قرار دیا ہے۔اسی طرح سرجری کے بعض نئے طریقوں میں گنجے پن کے مریضوں کے سر پر ایک جھلی، جس پر بال لگے ہوتے ہیں، مستقل طور پر لگا دی جاتی ہے جو سر سے جدا نہیں ہو سکتی۔ علما نے اس طرح کی وگ کو بھی غسل سے مانع قرار دیا ہے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں فتوے یسر کے خلاف ہیں۔

ناخن پالش کے ساتھ وضو اور غسل

ناخن پالش کے بارے میں علما کا موقف یہ ہے کہ اس کے ساتھ وضو درست نہیں ، کیونکہ اس کی تہہ (Layer) ناخنوں تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہے۔ یہ موقف احتیاط پر مبنی ہے۔ تاہم ہمارے نزدیک یسر کے اصول کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ایسی چیز جو جسم کے ساتھ اس طرح چپک جائے کہ اس کو الگ کرنے کے لیے رگڑنے یا کھرچنے کی ضرورت پڑے، اسے اصل جلد ہی کے حکم میں تصور کیا جائے۔ اس طرح ناخن پالش، پینٹ یا تارکول وغیرہ کے جسم پر لگنے کی صورت میں ان کو اتارے بغیر وضو اور غسل درست ہوگا۔

۲۔ الاصل الاباحۃ

دوسرا اصول یہ ہے کہ اجتہاد کے دائرے میں آنے والے امور میں اصل اباحت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عمل درست ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی ممانعت شریعت میں وارد ہوئی ہو۔ ایسے معاملات، بالعموم ، کسی نہ کسی مصلحت یا منفعت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس اصول پر حسب ذیل امور جائز قرار پاتے ہیں:

اعضا کی پیوند کاری

علما کے ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ ایک انسان اپنا کوئی عضو اپنی زندگی میں یا موت کے بعد کسی دوسرے شخص کو نہیں دے سکتا، کیونکہ اس کا جسم درحقیقت اللہ کی ملکیت ہے ، اس لیے اسے اپنے جسم پر اس نوعیت کا تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ علما کے دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ اعضا کی منتقلی (Transplantation)سے انسانوں کا فائدہ متعلق ہے ، کیونکہ اس طریقے سے کئی مریض مرض سے نجات پا لیتے ہیں اور بعض صورتوں میں ان کی زندگی بھی بچائی جا سکتی ہے، اس لیے یہ طریقہ درست ہے۔ہمارے نزدیک یہ دوسری رائے درست ہے۔

ٹیسٹ ٹیوب

ٹسٹ ٹیوب کی مدد سے بعض بے اولادجوڑوں کے ہاں اولاد پیدا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اس طریقے سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز ہوگا، بشرطیکہ بچے کی تولید میں مادہ ایسے مردو عورت ہی کا استعمال کیا جائے جو شرعی طور پر میاں بیوی ہیں۔

چٹ فنڈ یا کمیٹی

ہمارے معاشرے میں عام لوگوں نے سہولت کی غرض سے کمیٹی کے نام سے قرض کا ایک طریقہ رائج کیاہے جس میں تمام شرکا ہر ماہ رقم کی ایک متعین مقدار ادا کرتے ہیں اور جمع شدہ رقم باری کے مطابق کسی ایک رکن کو دے دی جاتی ہے۔ اس طرح تمام شرکا اپنی اپنی باری پر اپنی رقم پوری کی پوری اکٹھی وصول کر لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اگرچہ اس کو غلط قرار دیا ہے، لیکن ہمارے نزدیک اس طریقے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ۔ البتہ اس کا ایک دوسرا طریقہ جس میں شرکا کو اپنی ادا کردہ رقم سے کم یا زیادہ پیسے مل جاتے ہیں، صریحاً ناجائز ہے۔

ممسک حیض ادویہ

حج کے ایام میں تمام افعال حج کو اپنے مقرر وقت پر انجام دینے کے لیے اگر خواتین ایسی ادویہ استعمال کریں جو وقتی طور پر حیض کے خون کو روک دیں تو کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی خاتون محسوس کرے کہ رمضان کا مہینہ گزرنے کے بعد تنہا روزے رکھنا نفسیاتی طور پر مشکل ہوگا تو وہ رمضان ہی میں روزے رکھنے کے لیے ایسی ادویہ استعمال کر سکتی ہے۔

۳۔ الضرورات تبیح المحظورات

تیسرا اصول یہ ہے کہ شریعت کے حرام کردہ امور اضطرار کی حالت میں، ضرورت کے مطابق جائز قرار پاتے ہیں۔ اس کا اطلاق حسب ذیل صورتوں میں ہوتا ہے:

بینک کی ملازمت

بینک کی بنیاد چونکہ سودی کاروبار پر ہے، اس لیے حدیث کی رو سے اس میں کسی بھی درجے میں شرکت حرام ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا ذریعۂ معاش نہ ہو جس سے اس کے روزمرہ اخراجات پورے ہو سکتے ہوں تو وہ متبادل ذریعۂ معاش میسر ہونے تک بینک کی ملازمت کر سکتا ہے۔

سودی قرض لینا

سود پر قرض دینا اور لینا، اصولی طور پر، دونوں حرام ہیں۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی روز مرہ ضروریات (خوراک اور لباس) پورا کرنے سے بھی عاجز ہو تو وہ ضرورتاً سود پر قرض لے سکتا ہے۔

ٹیکس اور سود میں سود کی ادائیگی

اگر کسی شخص کے پاس سود کی رقم کسی طریقے سے آ جائے تو وہ اسے اپنے کسی استعمال میں نہیں لا سکتا، اس کے لیے اس کو اپنی ملک سے نکال دینا واجب ہے۔ البتہ ، اگر اس پر کسی ایسے ٹیکس کی ادائیگی واجب ہو جو حکومت نے ناجائز طو رپر عائد کیا ہے یا اس نے مجبوراً سود پر قرض لیا ہو تو وہ سود کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کو ٹیکس اور سود کی ادائیگی میں استعمال کر سکتا ہے۔

پوسٹ مارٹم

انسانی جسم کی چیر پھاڑ ناجائز ہے۔ لیکن علاج یا دیگر ضرورتوں کے تحت اس کی اجاز ت ہے۔ طب جدید میں موت کی وجوہ اور اس طرح کے دیگر معاملات کی تفتیش کے لیے مردے کے جسم کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے اصول کے تحت یہ درست ہوگا۔

۴۔ المشقۃ تجلب التیسیر

چوتھا اصول یہ ہے کہ شریعت نے بعض احکام میں جو شرائط وقیود لاگو کی ہیں، اگر کسی موقع پر ان کی پابندی کرنے سے حرج لاحق ہوتا ہو تو ان کی رعایت ضروری نہیں رہے گی۔یہ اصول اس نوعیت کے امور پر منطبق ہوتا ہے :

طویل الاوقات علاقوں میں روزہ

ایسے علاقے جہاں ایک طویل عرصہ تک مسلسل دن اور پھر رات کا سلسلہ رہتا ہے، روزے کے اوقات قریبی علاقوں کے اوقات کے مطابق طے کیے جائیں گے ، کیونکہ اس قدر طویل عرصہ تک روزہ رکھنا ناممکن ہے۔

ٹرین، ہوائی جہاز وغیرہ میں نماز

نماز میں قیام کرنا اور قبلہ رخ ہونا لازم ہے۔ تاہم ٹرین، ہوائی جہاز یا بحری جہاز میں سفر کرتے ہوئے اگر قیام کرنے یا قبلہ رخ ہونے کا التزام کرنے (Observance)میں دقت ہو تو یہ شرائط ساقط ہو جائیں گی اور بیٹھ کر کسی بھی جانب منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہوگا۔

حالت حیض میں بیت اللہ کا طواف

بیت اللہ کے طواف کے لیے حیض ونفاس اور جنابت سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اس لیے اگر ایام حج میں عورت کو حیض آ جائے تو وہ پاک ہونے کے بعد ہی طواف زیارت کر سکتی ہے۔ لیکن آج کل اس پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے ۔ کیونکہ حکومت سعودیہ کی طرف سے حاجیوں کو مخصوص دنوں کا ویزا جاری کیا جاتا ہے اور ان کی واپسی کی تاریخ کئی دن پہلے سے مقرر ہو چکی ہوتی ہے ، اس لیے عورتوں کے لیے حیض سے پاک ہونے کا انتظار کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس صورت میں فقہا نے اجازت دی ہے کہ عورت ناپاکی کی حالت ہی میں طواف زیارت کر سکتی ہے۔ البتہ، اسے کفارے کے طور پر ، جانور قربان کرنا ہوگا۔

حالت حیض میں تلاوت قرآن

حیض کی حالت میں عورت کے لیے قرآن کا پڑھنا ناجائز ہے۔ لیکن اگر کوئی عورت کسی مکتب میں معلمہ یا طالبہ ہو تو ظاہر ہے کہ زیادہ دنوں تک چھٹی کرنے سے تعلیمی سرگرمیوں میں حرج واقع ہوتا ہے، لہٰذا ایسی خواتین کے لیے حالت حیض میں قرآن کا پڑھنا پڑھانا جائز ہوگا۔ البتہ ، فقہامزید احتیاط کے طو رپر یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ وہ بیک دفعہ پوری آیت کی تلاوت کرنے کے بجائے ایک ایک کلمہ کی ادائیگی کرے۔

۵۔ ما ادی الی المحظور فہومحظور

اس اصول کا دوسرا نام سد ذرائع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے امور جو کسی ممنوع کا م کا ذریعہ بنتے ہوں،ناجائز ہیں۔

جدید مسائل میں اس کی نظیر مانع حمل ادویہ اور آلات کی عام فراہمی ہے۔ علما نے بجا طور پر یہ کہا ہے کہ معاشرے کو زنا سے محفوظ رکھنے کے لیے داخلی پاکیزگی کی تربیت کے ساتھ ساتھ خارجی موانع (External Preventives)بھی برقرار رہنے چاہییں اور شریعت نے اسی غرض سے پردہ وغیرہ کے احکام دیے ہیں۔ زنا کے بارے میں انسانی جبلت اور معاشرتی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں اصل مانع کی حیثیت بدنامی کے خوف کو حاصل ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس مانع کو معاشرے میں برقرار رکھا جائے، ورنہ زنا پر کنٹرول ناممکن ہو جائے گا۔ مانع حمل ادویہ اور آلات کی سر عام فراہمی نے خود ہمارے معاشرے میں بھی، جہاں اعتقادی طور پر زنا کو حرام سمجھا جاتا ہے، اس خوف کو ختم کر دیا ہے اور زنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ عام ہو گیا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مانع حمل ادویہ اور آلات (Contraceptives)کی فراہمی کو محدود کیا جائے اور شادی شدہ جوڑوں کے علاوہ دوسروں کو اس کی فراہمی پر پابندی عائد کی جائے۔

۶۔ یختار اہون الشرین

اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی صورت حال میں دو ایسے راستوں میں سے ایک کو اختیار کرنا پڑے جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی ضرر یا مفسدہ کو مستلزم ہے تو کم مفاسد والے راستے کو اختیار کیا جائے گا۔ اس کی مثالیں حسب ذیل ہیں:

ظلم کے نظام میں شرکت

کسی ایسے اسلامی یا غیر اسلامی ملک میں جہاں ظلم کا نظام ہو، کاروبار حکومت میں شریک ہونے کی صورت میں ظاہر ہے، آدمی کو بہت سے ناجائز کام کرنے پڑیں گے، چاہے وہ دل سے ان کے کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ یہی صورت ہمارے معاشرے میں تجارت کی ہے۔ لیکن اگر ان میدانوں میں شرکت کو نیک لوگوں کے لیے بالکل ممنوع قرار دیا جائے تو یقیناًزیادہ بڑے مفاسد پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ چنانچہ حکمت کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کو ان میدانوں میں آنے کی نہ صرف اجازت ، بلکہ ترغیب دی جائے جو طبعاً برائی کو ناپسند کرتے ہوں اور اس کو مجبوری کے دائرے میں رکھتے ہوئے باقی امور میں ملک وقوم کی خدمت انجام دے سکیں۔

جڑواں بہنوں کا نکاح

اگر دو عورتیں اس طرح پیدا ہوئی ہوں کہ ان کے اعضا ایک دوسرے کے ساتھ ناقابل انفصال طریقے پر (Inseparably) جڑے ہوئے ہوں تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟ عقلاً اس میں تین احتمال ہیں: یا تو وہ دونوں مجرد رہیں، یا دونوں کا نکاح دو الگ الگ مردوں سے کر دیا جائے، اور یا دونوں کو ایک ہی مرد کے نکاح میں دے دیا جائے۔ ان میں سے پہلی صورت میں پایا جانے والا ضرر دوسری دو صورتوں میں پائے جانے والی قباحتوں کی بہ نسبت کہیں کم ہے ، اس لیے ہمارے نزدیک اسی کو اختیار کیا جائے گا۔

عرف

قانون سازی میں معاشرے کے عرف ورواج (Customs)کی اہمیت دنیا کے تمام قدیم وجدید قوانین میں مسلم ہے اور فقہ اسلامی میں بھی اسے ایک مستقل ماخذ قانون کی حیثیت دی گئی ہے۔

عرف کے ضمن میں پہلا ضابطہ یہ ہے کہ اگر وہ نصوص شریعت اور اس کے مزاج کے خلاف نہ ہو تو معتبر ہوگا۔ہر معاشرہ اپنی ضروریات اور حالات کے لحاظ سے افراد معاشرہ کے حقوق کی حفاظت اور معاملات کو بسہولت انجام دینے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا رہتا ہے۔ اس نوعیت کے تمام احکام اسلامی فقہ میں حجت مانے جاتے ہیں، بشرطیکہ وہ شریعت کے طے کردہ حدود ومقاصد سے ٹکراتے نہ ہوں۔

اس کی ایک مثال حقوق کی وہ قسم ہے جسے فقہا حقوق عرفیہ کا نام دیتے ہیں۔ اس سے مراد ایسے حقوق جو نص سے ثابت نہیں ، لیکن کسی خاص عرف یا ماحول میں تسلیم کیے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کے ثبوت کا مدار عر ف پرہے، اس لیے زمان ومکان کے اختلاف سے یہ مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ حقوق عرفیہ کی چند نئی صورتیں جو ہمارے زمانے میں رائج ہیں اور جنھیں اہلِ علم نے تسلیم کیاہے، حسب ذیل ہیں:

پگڑی

کرایہ داری کے مروج طریقوں میں جائیداد کا مالک کرایہ دار سے کرایہ کی رقم کے علاوہ ایک متعین رقم پگڑی کے نام پر الگ سے وصول کرتا ہے جس کا مقصد کرایہ دار کی جانب سے جائیداد کی حفاظت اور بروقت جگہ خالی کرنے کی ضمانت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ علما نے اس صورت کو درست تسلیم کیا ہے۔

حق تالیف وایجاد وحق طباعت

جدید قوانین میں کسی کتاب کے مصنف یا ناشر کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ ان سے اجازت لیے بغیر یا ان سے معاہدہ کیے بغیر کوئی دوسرا شخص یا ادارہ اس کتاب کو شائع نہیں کرسکتا۔ اسی طرح بعض مخصوص ایجادات کے موجدین کی اجازت کے بغیر ان کی تیاری اور فروخت نہیں کی جا سکتی۔

رجسٹرڈ نام اور ٹریڈ مارک

کمپنیاں مختلف کاروباری فوائد کی خاطر مخصوص نام اور ٹریڈ مارک رجسٹرڈ کرا کے اپنی مصنوعات کی تشہیر کرتی ہیں اور اس طرح صارفین میں اس نام کی ایک شہرت (Reputation )بن جاتی ہے۔ جدید قوانین کی رو سے کسی دوسری کمپنی کو اس نام یا ٹریڈ مارک کے ساتھ مصنوعات بنانے یا بیچنے کی اجازت نہیں ہے ، کیونکہ اس سے اصل کمپنی کو کاروباری لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور لوگوں کے ساتھ بھی دھوکا ہوتا ہے۔

دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ عرف اگر نصوص شریعت یا اس کے مزاج کے خلاف ہو تو معتبر نہیں ہوگا۔ چنانچہ جدید دور میں سود، جوئے اور دیگر شرعی محرمات کی تمام صورتوں کو اہل علم نے بالاتفاق حرام قرار دیا ہے، اگرچہ وہ معاشرے میں بہت عام ہو گئی ہیں۔

تیسرا ضابطہ یہ ہے کہ عرف اگر قیاس خفی کے معارض ہو تو عرف کو ترجیح ہوگی۔

اس کی ایک مثال تعطیلات کی اجرت ہے۔ قیاس کی رو سے تو آدمی کو صرف ان دنوں کی اجرت لینی چاہیے جن میں اس نے خدمت انجام دی ہے، لیکن چونکہ بالعموم اداروں، محکموں اور کمپنیوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ ملازمین کو تعطیلات کی اجرت بھی دی جاتی ہے، اس لیے یہ طریقہ درست مانا گیا ہے۔

اسی طرح ہمارے ملک میں یہ طریقہ رائج ہے کہ پرنٹنگ پریس چند نسخوں سے لے کر ایک ہزار یا گیارہ سو تک نسخوں کی اشاعت کا ایک ہی معاوضہ وصول کرتا ہے۔ بظاہر دس یا بیس نسخوں اور ایک ہزار نسخوں میں بڑا تفاوت ہے اور ازروے قیاس طباعت کے معاوضے میں بھی فرق ہونا چاہیے، لیکن چونکہ یہ طریقہ عام رائج ہے اور عرفاً اس کو تسلیم کیا جاتا ہے، لہٰذا قیاس ناقابل التفات ہوگا۔

چوتھا ضابطہ یہ ہے کہ عرف کے بدلنے سے احکام بھی بدل جاتے ہیں۔

مثلا کرنسی نوٹ جب نیا نیا متعارف ہوا تو اس وقت عرف کے لحاظ سے اس کی حیثیت ایک وثیقہ اور ضمانت کی تھی، چنانچہ علما نے اس کے لین دین پر وثیقہ کے فقہی احکام جاری کرتے ہوئے فتویٰ دیا تھا کہ ان سے زکوٰۃ یا قرض وغیرہ اس وقت تک ادا نہیں ہوں گے ، جب تک کہ صاحب حق بینک سے اصل زر وصول نہ کر لے۔ لیکن اب نوٹ کی حیثیت عرفی ثمن کی ہے اور کوئی شخص ان کو وثیقہ یا اصل رقم کی ضمانت نہیں سمجھتا، لہٰذا ان اس پر عرفی ثمن کے احکام جاری ہوں گے اور ان کے ادا کرنے سے قرض ، زکوٰۃ اور دوسری ادائیگیاں، حقیقی ادائیگیاں سمجھی جائیں گی۔

انسانی علم کے ارتقا نے جو نئی سہولیات مہیا کی ہیں، ان سے استفادہ بھی، ہمارے نزدیک اسی ضمن میں آتا ہے۔ چنانچہ رویت ہلال میں جدید سائنسی آلات سے ، جرائم کی تفتیش میں تربیت یافتہ کتوں اور انگلیوں کے نشانات (Finger Prints) سے، اور قتل وزنا کے مقدمات کی تحقیق میں پوسٹ مارٹم ، ڈی این اے ٹیسٹ اور طبی معائنے کی دوسری صورتوں سے مدد لینا اور ان پر اعتماد کرنا بالکل درست ہوگا۔

اس جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی فقہ نئے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع، مربوط اور منضبط (Coherent)ضابطہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں فقہا کے وضع کردہ قواعد مضبوط علمی وعقلی اساسات پر مبنی ہیں اور چند جزوی اختلافات سے قطع نظر، فقہا کے مابین ہمیشہ مسلم رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد خود قرآن مجید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور فقہا صحابہ کے اجتہادات میں موجود ہے۔ ان قواعد کی جامعیت عقلی استقرا کے لحاظ سے بھی بالکل قطعی ہے اور ان چودہ صدیوں میں ان کے عملی استعمال نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ قیامت تک انسانی زندگی کو پیش آنے والے ہر نشیب وفراز کا سامنا کرنے اور ہر قسم کے مسائل کے حوالے سے دین کا منشا متعین کرنے کے لیے کافی وشافی ہیں۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔

____________