غیب پر ایمان


طالب علمی کے زمانے سے یہ سوال میرے ذہن میں تھا کہ ''غیب '' کیا ہے؟ ندوے میں استاذ ابوالحسن علی ندوی سے بھی میں نے یہ سوال کیا۔ اِس کے جواب میں استاذ محترم نے فرمایا تھاکہ اصل میں ایمان اور غیر ایمان کے درمیان غیب اور شہود ہی کے ذریعے سے فرق پیدا ہوتا ہے، یعنی مطلوب ایمان ہمیشہ غیب کی سطح پر حاصل ہوتاہے، شہود کی سطح پر ایمان اِس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔

آج خدا کی توفیق سے 'غیب 'پر ایمان کی معنویت کا ایک مزیدپہلو روشن ہو ا۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں خدا اور آخرت جیسے امور کو آنکھ سے دیکھنے کا مطالبہ کرنا سرتاسر ایک حیوانی مطالبہ ہے۔ انسان کو جو چیز حیوان سے ممتازکرتی ہے، وہ اُس کا آنکھ سے دیکھنا نہیں، عقل سے دیکھنا ہے۔ انسان کی اصل امتیازی صفت بینائی نہیں، بلکہ اُس کی عقلی اور فکری صلاحیت ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس کو تصوراتی فکر (conceptual thought) کہا جاتا ہے۔ قرآن کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ آنکھ سے دیکھ کر خدا اور آخرت جیسے امور پریقین کرے۔ آدمی سے قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے 'تصوراتی فکر' کو استعمال کرکے خدا اور آخرت کا مومن بنے۔ ایسی حالت میں، خدا اور آخرت جیسے حقائق کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا صرف ایک حیوانی عمل ہوگا، جب کہ غیب میں رہتے ہوئے اپنی عقلی صلاحیت کو استعمال کرکے خدا اور آخرت کا مومن بننا ایک انسانی عمل ہے۔ اِس اعتبار سے دیکھیے توآدمی سے ایمان بالغیب کا تقاضا کرنا، گویا دوسرے الفاظ میں اُس سے یہ کہنا ہے کہ تم حیوانیت کی سطح سے اوپر اٹھ کر انسانیت کا ثبوت دو، تم حیوانی پستی سے گزر کر انسانی بلندی کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاؤ۔

کلمۂ شہادت

اسلام میں ،خدا اور رسول سے شہادت کے درجے کا تعلق مطلوب ہے۔ چنانچہ اِسی نسبت سے کلمۂ اسلام کا نام کلمۂ شہادت ہے، یعنی 'أشھد أن لا إلٰه إلّا اللہ وأشھد أنّ محمدًا عبدہ و رسولُه'۔

شہادت کے معنی گواہی کے ہیں۔ آدمی اُسی چیز کا گواہ بنتا ہے جس کو اُس نے دیکھا ہو؛ دیکھے بغیر کسی امر کی شہادت ایک بے معنی فعل ہو گا۔ تاہم کلمۂ اسلام میں شہادت کا مفہوم دوسراہے۔

اِس پر غور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شہادت کے اندردرج ذیل تین پہلوشامل ہیں :

اپنے ایمان کو غیب سے گزار کر اِذعان کے اُس درجے تک پہنچانا کہ وہ آدمی کے لیے 'کأنک تراه'[1] کے ہم معنی بن جائے۔

اِس شہادت کا دوسرا پہلو عملی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کلمۂ اسلام کے مقتضیات (تقویٰ اور حسن اخلاق) کا نمونہ بن کرعملا ًاسلام کے لیے ایک زندہ گواہ بن جائے، وہ اسلام کے فکری تقاضوں کی عملی شہادت بن کر اِس دنیا میں زندگی گزارنے لگے۔

اِس کا تیسرا پہلو دعوتی ہے، یعنی وہ اپنی صلاحیت اور اپنی حیثیت کے اعتبار سے اپنا دعوتی فریضہ ادا کرنے والا بنے، وہ شاہد بن کر اللہ کے بندوں کے درمیان کھڑا ہو۔

اذان

اذان کیا ہے؟ اِس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے دی جانے والی ایک علامتی پکار ہے۔ اذان اِس بات کی منادی ہے کہ لوگو، اللہ کی پکار پر لبیک کہو۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ اذان گویا 'فَفِرُّوْ٘ا اِلَي اللّٰهِ '[2] کی ایک نفیرعام کی حیثیت رکھتی ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ جب تم مؤذن کے ذریعے سے اذان کے کلمات سنو تو تم بھی اِن کلمات کو دہراؤ ('إذا سمعتم المؤذِّن فقولوا مثلَ ما یقول')[3]

۔ اذان کا جواب دینا گویا اللہ کی طرف سے دی جانے والی پکار پر لبیک کہنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو نماز سے پہلے نماز کے لیے تیار کرنا ہے۔ نماز اگر اللہ کی پکار کا عملی جواب ہے تو اذان اِس پکار کے قولی جواب کی حیثیت رکھتی ہے۔ اذان اور نمازگویا اِس حقیقت کا علامتی اظہار ہیں کہ کون شخص اللہ کی پکار پر لبیک کہہ کر اُس کے سامنے جھکنے والا ہے اور کون اُس سے روگردانی کرنے والا۔ جو لوگ اِس دنیا میں اللہ کی پکار پر لبیک کہیں، وہی لوگ آخرت میں اِس انعام کے مستحق قرار دیے جائیں گے کہ وہ رب العٰلمین کے حضور جھک کر خدا کی خدائی کا اعتراف کر سکیں۔ اِس کے برعکس ، دوسرے لوگوں کا حال وہی ہو گا جس کو قرآن میں 'يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَي السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ '[4] کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

نماز

قرآن میں نماز کا مقصد اللہ کی یادقراردیاگیا ہے (اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ) [5]۔اور نماز کا فائدہ یہ بتایا گیاہے کہ وہ آدمی کا تزکیہ کرکے اُس کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے حیائی اور منکرات سے بچا کر اِس دنیا میں زندگی گزار سکے (اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰي عَنِ الْفَحْشَآءِ)[6]۔

''اللہ کا ذکر'' بہ ظاہر ایک سادہ بات ہے،مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اللہ کا یہ ذکر اپنے تمام مقتضیات کے ساتھ مطلوب ہے، یعنی شعور رب، پاکیزگی، احساس طہارت، صفائی، وقت کی پابندی، اجتماعی زندگی، وغیرہ۔ نماز میں جب یہ تمام پہلو شامل ہوتے ہیں، تو پھر یہ نماز آدمی کے لیے صرف چند مخصوص ارکان کی ادائیگی کے ہم معنی نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک ایسی زندہ درس گاہ بن جاتی ہے جہاں آدمی اپنی داخلی اور خارجی زندگی کے تمام پہلوؤں کی اصلاح کر سکے، جہاں پہنچ کر وہ اپنی پوری زندگی کو خداپرستانہ زندگی کے مطلوب سانچے میں ڈھال سکے۔ اِس اعتبار سے دیکھیے تو نماز آدمی کے لیے ربانی تربیت کے ایک مکمل نصاب کی حیثیت رکھتی ہے۔

مذکورہ آیت میں ' فَحْشَآء' اور 'مُنْكَر' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔دوسرے لفظوں میں اِس سے مراد وہی چیز ہے جس کو بے لگام نفسانیت اور بڑھا ہوا احساس برتری کہا جاسکتا ہے۔ اصلاًیہی دو چیزیں ہیں جو انسان کے ربانی سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں۔ خاشعانہ نماز آدمی کو اِس کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار کرتی ہے کہ وہ اِن دونوں گھاٹیوں کو پار کرکے خدا کی صراط مستقیم پر اپنا سفر جاری رکھ سکے، وہ نفس اور شیطان کے فتنوں سے بچ کر اِس دنیا میں زندگی گزارے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل (جنت) پر پہنچ جائے۔ [۲۰۱۶ء]

______

۱۔ مسلم، رقم ۹۳۔

۲۔ الذاریات۵۱: ۵۰۔

۳۔ مسلم، رقم ۳۸۴۔

۴۔ القلم ۶۸: ۴۲۔

۵۔ طٰہٰ ۲۰: ۱۴۔

۶۔ العنکبوت ۲۹: ۴۵۔

____________