غامدی صاحب کے تصور ’کتاب‘ پر اعتراضات کا جائزہ


ماہنامہ '' الشریعہ'' کے مئی ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیرکا مضمون ''علامہ جاوید احمد غامدی کا تصور کتاب ''شائع ہواتھاجو اب ان کی تصنیف ''فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ'' کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی قدیم آسمانی صحائف کودین وشریعت کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک یہ مقدمہ صریح طور پر غلط ہے۔ غامدی صاحب کی تصانیف میں اس کے اثبات کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور اس ضمن میں فاضل ناقد کے جملہ اعتراضات سر تا سر سوء فہم پر مبنی ہیں۔ذیل میں غامدی صاحب کے تصور کتاب کے حوالے سے بعض اصولی مباحث کی تقدیم کے ساتھ فاضل ناقد کے اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

قدیم صحائف کی صحت اور ان سے استناد

دین میں قدیم آسمانی صحائف کا جو بھی مقام متعین کیا جائے، پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا ان صحائف کے متن محفوظ ہیں اور لائق استناد ہیںیا تحریف شدہ ہیں اور اس بنا پر اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے رجوع کیا جائے؟اس مسئلے کے بارے میں علما کے ہاں تین مختلف آرا پائی جاتی ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ اصلاً محفوظ ہیں اور جہاں تک تحریف کا تعلق ہے تووہ ان کے متن میں نہیں ، بلکہ ان کی تعبیر و تشریح میں ہوئی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اپنے متن کے لحاظ سے یہ وہ کتابیں ہی نہیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے حامل پیغمبروں پر نازل کیا تھا۔ان کا بیش تر حصہ یک سر تبدیل ہو چکا ہے۔ تیسری رائے ان کے بین بین یہ ہے کہ ان میں کچھ ترمیم و اضافہ تو ضرور ہوا ہے، مگر ان کا زیادہ تر حصہ اپنی اصل صورت ہی پر قائم ہے۔

امام ابن قیم نے اپنی کتاب ''اغاثۃ اللھفان'' میں تورات کے حوالے سے یہی تین آرا بیان کی ہیں۔ لکھتے ہیں:

وقد اختلف اقوال الناس فی التوراۃ التی بایدیہم ہل ہی مبدلۃ ام التبدیل والتحریف وقع فی التاویل دون التنزیل علی ثلاثۃ اقوال طرفین ووسط. فافرطت طائفۃ وزعمت انہا کلہا او اکثرہا مبدلۃ مغیرۃ لیست التوراۃ التی انزلہا اللّٰہ تعالیٰ علی موسٰی علیہ السلام وتعرض ہولاء لتناقضہا وتکذیب بعضہا لبعض وغلا بعضہم فجوز الاستجمار بہا من البول وقابلہم طائفۃ اخری من ائمۃ الحدیث والفقہ والکلام فقالوا بل التبدیل وقع فی التاویل لا فی التنزیل وہذا مذہب ابی عبد اللّٰہ محمد بن اسماعیل البخاری قال فی صحیحہ یحرفون یزیلون ولیس احد یزیل لفظ کتاب من کتب اللّٰہ تعالیٰ ولکنہم یحرفونہ یتاولونہ علی غیر تاویلہ وہذا اختیار الرازی فی تفسیرہ وسمعت شیخنا یقول وقع النزاع فی ہذہ المسألۃ بین بعض الفضلاء فاختار ہذا المذہب ووہن غیرہ فانکر علیہ فاحضر لہم خمسۃ عشر نقلا بہ ومن حجۃ ہولاء ان التوراۃ قد طبقت مشارق الارض ومغاربہا وانتشرت جنوبا وشمالا ولا یعلم عدد نسخہا الا اللّٰہ تعالٰی ومن الممتنع ان یقع التواطؤ علی التبدیل والتغییر فی جمیع تلک النسخ بحیث لا یبقی فی الارض نسخۃ الا مبدلۃ مغیرۃ والتغییر علی منہاج واحد وہذا مما یحیلہ العقل ویشہد ببطلانہ. قالوا وقد قال اللّٰہ لنبیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم محتجا علی الیہود بہا قال فاتوا بالتوراۃ فاتلوہا ان کنتم صادقین... فہذا بعض ما احتجت بہ ہذہ الفرقۃ. وتوسطت طائفۃ ثالثۃ وقالوا قد زید فیہا وغیر الفاظ یسیرۃ ولکن اکثرہا باق علی ما انزل علیہ والتبدیل فی یسیر منہا جدا.(۲ /۳۵۱۔۳۵۴)

''یہود کے پاس جو تورات موجود ہے، آیا وہ تبدیل شدہ ہے یا تبدیلی اور تحریف صرف اس کی تعبیر و تشریح میں واقع ہوئی ہے نہ کہ اس کے الفاظ میں؟ اس بارے میں لوگوں کے ہاں تین اقوال پائے جاتے ہیں۔ دو قول انتہا پسندانہ ہیں اور ایک معتدل۔ چنانچہ ایک گروہ نے افراط سے کام لیا اور یہ دعویٰ کیا کہ تورات ساری کی ساری یا اس کا بیش تر حصہ تبدیل شدہ ہے اور یہ وہ تورات نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی تھی۔ انھوں نے تورات میں تناقض اور اس کے بیانات کے باہمی تضاد کو نمایاں کیا اور ان میں سے بعض نے تو اس حد تک غلو سے کام لیا کہ اس کے اوراق سے استنجا کرنے کو بھی جائز کہہ دیا۔ اس کے مقابلے میں حدیث اور فقہ اور کلام کے علما کے ایک گروہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ تورات میں تحریف صرف اس کی تعبیر وتشریح میں ہوئی ہے نہ کہ اس کے الفاظ میں۔ یہ امام بخاری کا مذہب ہے۔ انھوں نے اپنی ''صحیح'' (کتاب التوحید: ابتداء باب۵۵) میں کہا ہے کہ (النساء ۴: ۴۶ اور المائدہ ۵:۱۳ میں وارد لفظ) 'یحرفون' کے لیے 'یزیلون' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے، حالانکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کے الفاظ مٹا نہیں سکتا، بلکہ وہ بایں معنی اس میں تحریف کرتے ہیں کہ اس کے الفاظ و کلم کے اصل مدعا اور مفہوم سے پھیر دیتے ہیں اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کے الفاظ تبدیل نہیں کر سکتا، بلکہ وہ بایں معنی اس میں تحریف کرتے ہیں کہ اس کے الفاظ کے اصل مدعا اورمفہوم سے پھیر دیتے ہیں۔ راز ی نے بھی اپنی تفسیر میں اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔ میں نے اپنے استاذ (امام ابن تیمیہ) کو یہ کہتے سنا کہ بعض فضلا کے مابین اس مسئلے سے متعلق نزاع پیدا ہوئی تو ان میں سے ایک نے مذکورہ رائے کو اختیار کیا اور مخالف قول کو کمزور قرار دیا۔ اس پر اعتراض کیا گیا تو اس نے اس کے حق میں پندرہ حوالے پیش کر دیے۔ ان اہل علم کی دلیل یہ ہے کہ تورات زمین کے مشرق و مغرب اور شمال وجنوب میں پھیل چکی ہے اور اس کے نسخوں کی صحیح تعداد بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہے، اور یہ بات محال ہے کہ ان تمام نسخوں میں اس طرح بالاتفاق تبدیلی واقع ہو جائے کہ روے زمین پر محرف نسخے ہی باقی رہ جائیں، اور ان سب نسخوں میں تحریف بھی ایک ہی طریقے پر کر دی جائے۔ یہ بات عقل کے نزدیک محال ہے اور وہ اس کے باطل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ وہ مزید یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے خلاف دلیل پیش کرتے ہوئے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تم سچے ہو تو لاؤ تورات کو اور اس کو پڑھو۔ ... بہرحال یہ وہ بعض دلائل ہیں جو اس رائے کے قائلین پیش کرتے ہیں۔ ایک تیسرے گروہ نے درمیانہ موقف اختیار کیا اور کہا ہے کہ اس میں چند معمولی الفاظ کا اضافہ اور تبدیلی کی گئی ہے، لیکن اس کا بیش تر حصہ اپنی اصل نازل شدہ صورت پر برقرار ہے، جبکہ تبدیلی اس کے بہت معمولی حصے میں ہوئی ہے۔ ''

متعدد علماے امت بعض جزوی اختلافات کے ساتھ اسی تیسری رائے کے قائل ہیں۔

امام ابن قیم نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابن تیمیہ کے حوالے سے تورات کے بارے میں یہی رائے نقل کی ہے۔ لکھتے ہیں:

...وممن اختار ہذا القول شیخنا فی کتابہ 'الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح' ... والحق احق ما اتبع فلا نغلوا غلو المستہینین لہا المتمسخرین بہا بل معاذ اللّٰہ من ذلک ولا نقول انہا باقیۃ کما انزلت من کل وجہ کالقرآن.(اغاثۃ اللھفان ۲/۳۵۴،۳۵۸)

'' ...اس (تیسرے) قول کو اختیار کرنے والوں میں ہمارے استاذ (امام ابن تیمیہ)بھی شامل ہیں جنھوں نے 'الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح' میں یہ بات کہی ہے۔ ... اور حق بات یہ ہے کہ یہی رائے سب سے بڑھ کر پیروی کرنے کے لائق ہے، اس لیے نہ ہم ان غلو کرنے والوں کے پیچھے چلتے ہیں جو تورات کا درجہ گراتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں، بلکہ ہم اس طرز عمل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، او رنہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تورات قرآن مجید کی طرح حرف بہ حرف اسی طرح موجود ہے، جیسا کہ اس کو نازل کیا گیا تھا۔''

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ایک مختلف زاویے سے یہ بیان کیا ہے کہ یہود اپنی کتاب تورات میں جو تحریف کرتے تھے ،وہ اصل متن میں نہیں، بلکہ اس کے ترجمے میں کیا کرتے تھے۔ اسی طرح وہ بعض مقاصد کے تحت اصل متن کو مخفی رکھ کر اس کی ایسی تاویلات کر دیتے تھے کہ حکم کا مدعا بالکل تبدیل ہو جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب تورات کی فی الجملہ صحت کے قائل ہیں۔ لکھتے ہیں:

'' یہودی تحریف لفظی تورات کے ترجمہ وغیرہ میں کیا کرتے تھے نہ کہ اصل تورات میں۔ کیونکہ فقیر کے نزدیک ایسا ہی محقق ہوا ہے اور ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ اور تحریف معنوی تاویل فاسد کا نام ہے یعنی سینہ زوری اور راہ مستقیم سے انحراف کر کے کسی آیت کو اس کے اصل معنی کے خلاف پر حمل کرنا۔ ...کتمان آیات کی یہ صورت تھی کہ بعض احکام اور آیات کو کسی ذی عزت اور شریف کے اعزاز کی حفاظت یا کسی ریاست کے حاصل کرنے کی غرض سے پوشیدہ کر دیتے تھے کہ عوام کا اعتقاد ان سے زائل نہ ہو جائے اور یہ لوگ اس پر عمل ترک کر دینے سے نشانۂ ملامت نہ بن سکیں۔ مثلاً زانی کو سنگ سار کرنے کا حکم تورات میں مذکور تھا، مگر ان لوگوں نے اس وجہ سے کہ ان کے تمام علما نے رجم کو موقوف کر کے اس کی جگہ پر درے مارنا اور منہ کالا کر دینا تجویز کر رکھا تھا، اس حکم کو ترک کر دیا اور رسوائی کے خوف سے اس کو چھپا لیا تھا یا مثلاً جن آیتوں میں حضرت ہاجرہ و اسمٰعیل علیہما السلام کو بشارت دی گئی ہے کہ ان کی اولاد میں ایک نبی مبعوث ہو گا اور جن میں اشارہ ہے ایک ایسے مذہب کی جانب جو سرزمین حجاز میں کامل اشاعت پائے گا۔ اور اس کے سبب سے عرفات کی پہاڑیاں صداے لبیک سے گونج اٹھیں گی اور تمام اقلیموں کے لوگ اس مقام کی زیارت کا قصد کریں گے باوجودیکہ یہ آیتیں تورات میں اب تک موجود ہیں۔ یہودی ان کی یہ تاویل کرتے تھے کہ یہ تو فقط اس مذہب کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اس کے اتباع کا امر کہاں ہے۔ اور یہ مقولہ ان کے زبان زد تھا: 'ملحمۃ کتبت علینا'۔لیکن چونکہ اس رکیک تاویل کو کوئی نہ سنتا تھا اور نہ کسی کے نزدیک یہ صحیح تھی، اس لیے وہ آپس میں ایک دوسرے کو اس راز کے اخفا کی وصیت کرتے اور ہر کس و ناکس کے روبرو اس کا اظہار نہ کرتے تھے۔''(الفوز الکبیر فی اصول التفسیر۱۲)

مولانا مودودی بیان کرتے ہیں:

''تورات ان منتشر اجزاکا نام ہے ، جو سیرت موسیٰ علیہ السلام کے اندر بکھرے ہوئے ہیں۔...قرآن انھی منتشر اجزا کو ''تورات'' کہتا ہے، اور انھی کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزا کو جمع کرکے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے، تو بجز اس کے کہ بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے، اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان یک سرموفرق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسوس کر سکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی منبع سے نکلے ہوئے ہیں۔

اسی طرح انجیل دراصل نام ہے ان الہامی خطبات اور اقوال کا، جو مسیح علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے۔ ... قرآن انھی اجزا کے مجموعے کو ''انجیل'' کہتا ہے اور انھی کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزا کو مرتب کرکے قرآن سے ان کا مقابلہ کرکے دیکھے تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا اور جو تھوڑا بہت فرق محسوس ہو گا، وہ بھی غیر متعصبانہ غوروتامل کے بعد بآسانی حل کیا جا سکے گا۔'' (تفہیم القرآن ۱ /۲۳۲)

کم و بیش یہی موقف ہے جو اس ضمن میں جناب جاوید احمد غامدی نے اختیار کیا ہے۔ ان کے نزدیک قدیم آسمانی کتابیں اللہ کی کتابیں ہیں جواپنے اپنے زمانوں میں انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی تھیں۔ ان کا سرچشمہ وہی ہے جو قرآن مجید کا ہے ۔چنانچہ قرآن مجید ان پر بالاجمال ایمان لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے مختلف حاملین نے مذہبی تعصبات کی بنا پراگرچہ ان کے بعض اجزا ضائع کر دیے ہیں اور بعض میں تحریف کر دی ہے، اس کے باوجود ان میں الہامی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور الہامی لٹریچر کے اسالیب کو جاننے والے اس سے بخوبی آگاہ ہو سکتے ہیں۔جناب جاوید احمد غامدی نے ان صحائف کے بارے میں یہ موقف اپنی تالیف ''ایمانیات'' میں ''کتابوں پر ایمان'' کے زیر عنوان بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''اس وقت جو مجموعۂ صحائف بائیبل کے نام سے موجود ہے، اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتابیں کسی نہ کسی صورت میں تمام پیغمبروں کو دی گئیں۔ قرآن جس طرح تورات و انجیل کا ذکر کرتا ہے، اسی طرح صحف ابراہیم کا ذکر بھی کرتا ہے۔۱؂ اس کی تائید بقرہ و حدید کی ان آیتوں سے بھی ہوتی ہے جو اوپر نقل ہوئی ہیں۔ یہ سب کتابیں خدا کی کتابیں ہیں۔ چنانچہ بغیر کسی تفریق کے قرآن بالاجمال ان پر ایمان کا مطالبہ کرتا ہے۔...

...(تورات) موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اسے بالعموم ان پانچ صحیفوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے جو بائیبل کی ابتدا میں درج ہیں اور جنھیں خمسۂ موسوی (Pentateuch) کہتے ہیں۔ یعنی پیدایش، خروج، احبار، گنتی اور تثنیہ۔ ان صحیفوں کا تدبر کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ پہلے چار صحیفوں میں یہ تاریخی بیانات کے ساتھ اپنے نزول کی ترتیب سے نقل ہوئی ہے اور تثنیہ میں اسے بالکل اسی طرح ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر دیا گیا ہے، جس طرح قرآن کو مرتب کیا گیا ہے۔ اپنی موجودہ صورت میں غالباً یہ پانچویں صدی قبل مسیح میں کسی وقت مرتب کی گئی۔ تاہم سیدنا مسیح علیہ السلام نے جس طرح اس کا ذکر کیا ہے، اس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تصویب بھی اس کو کسی حد تک حاصل ہے۔

انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی جو ہدایت بنی آدم کو ملی ہے، اس کے دو حصے ہیں: ایک قانون، دوسرے حکمت۔ تورات میں زیادہ تر قانون بیان ہوا ہے اور اس کا نام بھی اسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ قرآن اسے 'ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ' ۲؂ ( بنی اسرائیل کے لیے ہدایت) اور 'تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ' ۳؂ (ہر چیز کی تفصیل) کہتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس میں اللہ کا حکم ہے،۴؂ ہدایت اور روشنی ہے، ۵؂ لوگوں کے لیے رحمت ہے۔۶؂ اس میں شبہ نہیں کہ وہ اس میں یہود کی تحریفات کا ذکر کرتا ہے،۷؂ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی جو روایت (version) زمانۂ رسالت کے یہود و نصاریٰ کے پاس تھی، قرآن فی الجملہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔

(زبور) اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ نغمات الٰہی کا مجموعہ ہے جنھیں مزامیر کہا جاتا ہے۔ بائیبل کے مجموعۂ صحائف میں زبور کے نام سے جو کتاب اس وقت شامل ہے، اس میں ۵ دیوان اور ۱۵۰ مزامیر ہیں۔ دوسرے لوگوں کے مزامیر بھی اگرچہ اس میں خلط ملط ہو گئے ہیں، مگر جن مزامیر پر صراحت کی گئی ہے کہ داؤد علیہ السلام کے ہیں، ان میں الہامی کلام کی شان ہر صاحب ذوق محسوس کر سکتا ہے۔ انجیل کی طرح یہ بھی ایک صحیفۂ حکمت ہے اور خدا کی نازل کردہ ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔

(انجیل) مسیح علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ ان کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد آخری نبوت کی بشارت تھی۔ انجیل کے معنی بشارت کے ہیں اور یہ نام اسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ الہامی کتابوں کے عام طریقے کے مطابق یہ بھی دعوت و انذار کی ضرورتوں کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی۔ اس سے پہلے کہ اسے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر کے محفوظ کیا جاتا، سیدنا مسیح علیہ السلام کو ان کی قوم کی سرکشی کے باعث دنیا سے اٹھا لیا گیا۔ لہٰذا یہ کوئی مرتب کتاب نہیں، بلکہ منتشر خطبات تھے جو زبانی روایتوں اور تحریری یاد داشتوں کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچے۔ مسیح علیہ السلام کی سیرت پر ایک مدت کے بعد بعض لوگوں نے رسائل لکھنا شروع کیے تو ان میں یہ خطبات حسب موقع درج کر دیے گئے۔ یہی رسائل ہیں جنھیں اب انجیل کہا جاتا ہے۔ مسیحیت کے ابتدائی زمانے میں یہ اناجیل بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ۳۸۲ء میں پوپ دماسس (Damasus) کے ماتحت ایک مجلس میں کلیسا کے مذہبی پیشواؤں نے ان میں سے چار منتخب کر کے باقی ترک کر دیں اور انھیں غیر موثق (Apocryphal) قرار دے دیا۔ بائیبل کے مجموعۂ صحائف میں یہ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی اناجیل کے نام سے شامل ہیں۔ یہ ابتدا ہی سے یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں، جبکہ مسیح علیہ السلام کی زبان آرامی (Aramaic) تھی اور انھوں نے اپنے مواعظ اسی زبان میں ارشاد فرمائے تھے۔ ان کے لکھنے والے بھی مسیح علیہ السلام کے بعد ان کے مذہب میں داخل ہوئے، لہٰذا ان میں سے کوئی انجیل بھی ۷۰ء سے پہلے کی لکھی ہوئی نہیں ہے، اور انجیل یوحنا تو مسیح علیہ السلام کے ایک صدی بعد غالباً ایشیاے کوچک کے شہر افسس میں کسی وقت لکھی گئی ہے۔ اس کے باوجود سیدنا مسیح کے جو خطبات، ارشادات اور تمثیلیں ان میں درج ہیں، ان کی الہامی شان ایسی نمایاں ہے کہ الہامی لٹریچر کے اسالیب سے واقف کوئی شخص ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن جس انجیل پر ایمان لانے کامطالبہ کرتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ سیرت کی ان کتابوں میں محفوظ ہے۔'' (اشراق، جون ۲۰۰۷،۱۸)

غامدی صاحب کے درج بالا اقتباس سے زیر بحث موضوع کے بارے میں حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱۔ تورات، زبور اور انجیل خدا کی کتابیں ہیں اور قرآن بالاجمال ان پر ایمان کا مطالبہ کرتا ہے۔

۲۔ان میں تحریف ہوئی ہے۔

۳۔ اس کے باوجود ان میں الہامی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔

۴۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن نے جن صحائف پر ایمان کا مطالبہ کیا ہے، ان کا ایک بڑا حصہ محفوظ ہے۔

دین کے اخذ و استنباط میں قدیم صحائف کی حیثیت

قدیم صحائف کے بارے میں دوسری بحث اس سوال پر مبنی ہے کہ یہ صحف سماوی جن پر قرآن نے ایمان لانے کا مطالبہ کیاہے، کیا انھیں دین کے مآخذ کی حیثیت بھی حاصل ہے ؟علماے امت نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف بھی یہی ہے۔ان کے نزدیک ان صحائف کو دین کے مآخذ کی حیثیت ہر گزحاصل نہیں ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ یہ حیثیت فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو حاصل ہے اور ان سے امت کو یہ دین دو صورتوں میں ملا ہے: ایک قرآن اور دوسرے سنت۔چنانچہ کرۂ ارض پر یہی دو چیزیں ہیں جن سے دین اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور چیز کو دین کا ماخذ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انھوں نے بیان کیا ہے:

''دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف انھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو ان کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے:

ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ. (الجمعہ ۶۲: ۲ )

''وہی ذات ہے جس نے اِن امیوں میں ایک رسول اِنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اِن پر تلاوت کرتا ہے اور اِن کا تزکیہ کرتا ہے اور (اِس کے لیے ) اِنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔''

یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ''اسلام'' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس کے ماخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے :

۱۔ قرآن مجید

۲ ۔سنت۔'' (اصول و مبادی ۹)

علوم اسلامی میں قدیم صحائف کی ضرورت اور اہمیت اور اس کا دائرہ

قدیم صحائف کے بارے میں تیسری بحث یہ ہے کہ اگر ان صحائف کو مآخذ دین کی حیثیت حاصل نہیں ہے تو پھر علوم اسلامی کے حوالے سے کیا ان کی کوئی ضرورت اور اہمیت مسلم ہے اور اگر ہے تو ان سے اخذ و استفادے کا کیا دائرہ ہے؟ اس باب میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ فہم قرآن کے ایک ذریعے کی حیثیت سے قدیم آسمانی کتابوں کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک قرآن مجید دین کی پہلی نہیں ، بلکہ آخری کتاب ہے اور تاریخی اعتبار سے دین کا آغاز ان بنیادی حقائق سے ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول سے انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔ اس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے ۔ پھر تورات ، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں ہیں جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلووں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے اور قرآن مجید نازل ہوا ہے ۔ چنانچہ اس تناظر میں فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے سابقہ کتب سماوی کی اہمیت مسلم ہے۔ اس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے لکھا ہے:

'' ان (صحائف) کے بدقسمت حاملین نے ان کا ایک حصہ اگرچہ ضائع کر دیا ہے اور ان میں بہت کچھ تحریفات بھی کر دی ہیں ،لیکن اس کے باوجود اللہ کی نازل کردہ حکمت اور شریعت کا ایک بڑا خزانہ اللہ تعالیٰ کے خاص اسالیب بیان میں اب بھی ان میں دیکھ لیا جا سکتا ہے۔ قرآن کے طالب علم جانتے ہیں کہ اس نے جگہ جگہ ان کے حوالے دیے ہیں، نبیوں کی جو سرگزشتیں ان میں بیان ہوئی ہیں، ان کی طرف بالاجمال اشارے کیے ہیں اوران میں یہودونصاریٰ کی تحریفات کی تردید اور ان کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید کی ہے، اہل کتاب پر قرآن کا سارا اتمام حجت انھی صحائف پر مبنی ہے اور وہ صاف اعلان کرتا ہے کہ اس کا سرچشمہ وہی ہے جو ان صحیفوں کا ہے۔'' (اصول و مبادی۵۶)

تاہم، غامدی صاحب کے نزدیک فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے بھی ان صحائف سے اخذ و استفادے کا دائرہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ، انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات تک محدود ہے۔چنانچہ ان کا اصرار ہے کہ قرآن مجید کے ان مقامات کی شرح و تفسیر کے لیے جن میں بنی اسرائیل کے انبیا کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں یا یہود و نصاریٰ کی تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا گیاہے، ان روایتوں کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے جو اسرائیلیات کے عنوان سے تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ ان کے بجائے قدیم صحائف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو بہرحال اسرائیلیات سے زیادہ مستند ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

'' الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاریٰ کی تاریخ ،انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔بحث و تنقید کی ساری بنیاد انھی پر رکھی جائے گی ۔ اس باب میں جو روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اور زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں ، انھیں ہرگز قابل التفات نہ سمجھا جائے گا ۔ ان موضوعات پر جو روشنی قدیم صحیفوں سے حاصل ہوتی ہے اور قرآن کے الفاظ جس طرح ان کی تفصیلات کو قبول کرتے یا ان میں بیان کردہ کسی چیز سے متعلق اصل حقائق کو واضح کرتے ہیں، اس کا بدل یہ روایتیں ہرگز نہیں ہو سکتیں جن سے نہ قرآن کے کسی طالب علم کے دل میں کوئی اطمینان پیدا ہوتا ہے اور نہ اہل کتاب ہی پر وہ کسی پہلو سے حجت قرار پا سکتی ہیں۔ ''(اصول و مبادی ۵۰)

قدیم صحائف سے اخذ و استفادے کا بنیادی اصول

درج بالا مباحث سے واضح ہے کہ غامدی صاحب قدیم صحائف کو من جانب اللہ تصور کرتے ہیں۔ وہ ان میں جزوی طور پر تحریف اور ترمیم و اضافہ کے قائل ہیں،تاہم ان کے نزدیک قرآن کے ان مقامات کی شرح و تفسیر میں ، جن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا کوئی پہلو بیان ہوا ہے، اصل ماخذ کی حیثیت اسرائیلیات کو نہیں، بلکہ انھی صحائف کو حاصل ہے۔ چنانچہ ان کی رائے کے مطابق خاص اس ضمن میں اگر قرآن کے کسی اجمال کی تفصیل ان صحائف سے معلوم ہو تی ہے تو اس سے پوری طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ اخذ و استفادہ کیا مجرد ہو گایا قرآن مجید کی روشنی میں ہو گا۔ جناب جاوید احمد غامدی اس کاجواب یہ دیتے ہیں کہ لازماً قرآن مجید کی روشنی میں ہوگا۔ قرآن کی کوئی آیت یا اس کا عرف اگر قدیم صحائف کے کسی جز کو قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اس سے ہر گز اعتنا نہیں برتا جائے گا۔ان کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن مجید حق و باطل کے لیے میزان اور فرقان ہے اور تمام آسمانی صحیفوں پر اسے 'مہیمن' یعنی محافظ اور نگران کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

'' قرآن مجید اس زمین پر حق و باطل کے لیے 'میزان 'اور 'فرقان 'اور تمام سلسلۂ وحی پر ایک 'مہیمن' کی حیثیت سے نازل ہوا ہے:

اَللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ. (الشوریٰ ۴۲: ۱۷)

''اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری، یعنی میزان نازل کی ہے ۔''

اس آیت میں 'والمیزان' سے پہلے 'و' تفسیر کے لیے ہے ۔اس طرح 'والمیزان' درحقیقت یہاں 'الکتاب' ہی کا بیان ہے ۔ آیت کا مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے لیے قرآن اتارا ہے جو دراصل ایک میزان عدل ہے اور اس لیے اتارا ہے کہ ہر شخص اس پر تول کر دیکھ سکے کہ کیا چیز حق ہے اور کیا باطل ۔ چنانچہ تولنے کے لیے یہی ہے۔ اس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس پر اسے تولا جا سکے۔

تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا.( الفرقان ۲۵: ۱)

''بڑی ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان اتارا ہے ،اس لیے کہ وہ دنیا والوں کے لیے نذیر بنے۔''

یہ 'الفرقان' بھی اسی مفہوم میں ہے ۔ یعنی ایک ایسی کتاب جو حق و باطل میں امتیاز کے لیے حجت قاطع ہے ۔ یہاں بھی وہی حقیقت بیان کرنا پیش نظر ہے کہ ہر معاملے میں یہی کتاب قول فیصل اور یہی صحیفہ معیار اور کسوٹی ہے ۔ تمام اختلافات میں یہی مرجع قرار پائے گی ۔ اس پر کوئی چیز حاکم نہیں ہو سکتی، بلکہ علم و ہدایت کے قلم رو میں ہر جگہ اسی کی حکومت قائم ہو گی اور ہر شخص پابند ہے کہ اس پر کسی چیز کو مقدم نہ ٹھیرائے:

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ، مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ، وَ مُھَیْمِنًا عَلَیْہِ، فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ، وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ.(المائدہ ۵ :۸ ۴)

''اور (اے پیغمبر )، ہم نے تمھاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے، اُس کتاب کی تصدیق میں جو اس سے پہلے موجود ہے اور اُس کے لیے مہیمن بنا کر ، اس لیے تم ان کے درمیان اس ہدایت کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کی ہے اور اس حق کو چھوڑ کر جو تمھارے پاس آ چکا ہے ، ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔''

یہاں اسی مفہوم کے لیے لفظ 'مھیمن ' استعمال ہوا ہے ۔یہ 'ھیمن فلان علی کذا' سے بنا ہوا اسم صفت ہے جو محافظ اور نگران کے معنی میں آتا ہے ۔ آیت میں قرآن مجید کو پچھلے صحیفوں پر 'مھیمن' قرار دیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کتاب الٰہی کا اصل قابل اعتماد نسخہ یہ قرآن مجید ہی ہے۔ چنانچہ دوسرے صحیفوں کے متن جب گم کر دیے گئے اور ان کے تراجم میں بھی بہت کچھ تحریفات کر دی گئی ہیں تو ان کے حق و باطل میں امتیاز کے لیے یہی کسوٹی اور معیار ہے ۔جو بات اس پر کھری ثابت ہو گی ، وہ کھری ہے اور جو اس پر کھری ثابت نہ ہو سکے ، وہ یقیناًکھوٹی ہے جسے لازماً رد ہو جانا چاہیے ۔ ''(اصول و مبادی۲۵)

غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید کی یہ حاکمیت صرف قدیم صحائف ہی پرنہیں، بلکہ ہر قسم کے دینی لٹریچر اور ہر سطح کی دینی شخصیت پر قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی بھی کوئی بات قبول نہیں کی جا سکتی۔ ''اصول و مبادی'' میں لکھتے ہیں:

''...قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا ۔ دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔ ایمان و عقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہو گی اور اسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی ، ہر الہام ، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر رائے کو اس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہ و شافعی ،بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی ۔ ''(۲۶)

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کو مآخذ دین کی حیثیت ہر گزحاصل نہیں ہے ۔ البتہ، فہم قرآن کی شرح وو ضاحت کے لیے ایک معاون ذریعے کے طور پروہ ان کی اہمیت کو بہرحال تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم اس اہمیت کے باوجود وہ ان سے اخذ و استفادہ کرتے ہوئے دو چیزوں کے ملحوظ رکھنے کو لازم قرار دیتے ہیں: ایک یہ کہ اس کا دائرہ اصلاً یہود و نصاریٰ کی تاریخ اور اس کے متعلقات تک محدود رہے اور دوسری یہ کہ ان کی ہر بات کو قرآن کی میزان میں تولا جائے اور صرف اسی بات کو قبول کیا جائے جسے قرآن قبول کرنے کی اجازت دے ۔جہاں تک ایمانیات اور شریعت کے مباحث کا تعلق ہے تو ان کی رائے یہ ہے کہ اس ضمن میں اخذ و استنباط کا تمام تر انحصار اصلاً قرآن وسنت پر کرنا چاہیے۔

اعتراضات کا جائزہ

فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں ''اصول و مبادی'' کا اقتباس نقل کر کے یہ تسلیم کیا ہے کہ غامدی صاحب احکام و عقائد کے لیے قدیم صحائف کو مآخذ قرار نہیں دیتے۔ انھوں نے لکھا ہے:

''غامدی صاحب 'میزان' میں ایک جگہ تدبر قرآن کے اصول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''سوم یہ کہ الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاریٰ کی تاریخ ،انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔''

اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کویہود و نصاریٰ کے اخبار و واقعات اور قصص وتاریخ سے متعلقہ قرآنی آیات کو سمجھنے کے لیے مآخذ بنایا جائے گا نہ کہ احکام و عقائد کے لیے۔''(فکر غامدی۶۹)

فاضل ناقد نے یہ بات تسلیم کرنے کے باوجوداس کے بالکل برعکس یہ نقطۂ نظر قائم کیا ہے کہ غامدی صاحب کتب سماویہ کو دین اور شریعت کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔لکھتے ہیں:

''ان کے مآخذ دین میں منسوخ شدہ آسمانی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ بھی شامل ہیں۔...ان کے نزدیک سابقہ شرائع کے اکثر و بیشتر احکامات اب بھی دین اسلام میں قانون سازی کا ایک بہت بڑا ماخذ ہیں۔ ''(فکر غامدی۶۰)

زیر نظر مضمون میں فاضل ناقد کے اعتراضات بنیادی طور پراس مقدمے پر مشتمل ہیں کہ غامدی صاحب بائیبل کو مآخذ دین میں شمار کرتے اور قرآن وسنت کی طرح اس سے بھی دین و شریعت کے احکام اخذ کرتے ہیں۔اس مقدمے کے حوالے سے فاضل ناقد نے جو دلائل پیش کیے ہیں، وہ ان نکات پر مبنی ہیں:

۱۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن میں لفظ 'کتاب' سے مراد تمام کتب سماویہ ہیں۔

۲۔ غامدی صاحب کے ایک شاگرد نے غامدی صاحب کی عبارت کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بائیبل کو دین کے مصادر میں شمار کیا ہے۔

۳۔ بعض اطلاقی مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غامدی صاحب قدیم صحیفوں کو دین کا ماخذ تصور کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک مثال ماہنامہ'' اشراق'' میں شائع ہونے والا مضمون''اسلام اور موسیقی''ہے۔ اس سے غامدی صاحب کا یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ دین کے کسی مسئلے میں قرآن کے اشارات کو بنیاد بنا کر قدیم صحائف کی تفصیلات کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔دوسری مثال ''اسلام اور مصوری'' کے زیر عنوان ''اشراق'' میں شائع ہونے والا ایک مضمون ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کے کسی مجمل لفظ کی شرح کتاب مقدس کی آیات کی روشنی میں کی جا سکتی ہے۔تیسری مثال'' اشراق'' ہی میں شائع ہونے والا مضمون ''یاجوج و ماجوج'' ہے۔ اس سے غامدی صاحب کا یہ موقف سامنے آتا ہے کہ قرآن کے مبہمات کی وضاحت کے لیے بائیبل سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

۴۔ غامدی صاحب ایک جانب بائیبل کو دین کا ماخذ قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب اپنے اس اصول سے انحراف کرتے ہوئے کتاب مقدس سے ثابت شدہ عقائد و احکامات کا انکار کرتے ہیں۔اس انحراف کی ایک مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے بارے غامدی صاحب کا موقف ہے۔نزول مسیح کا اثبات قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی ہوتا ہے، مگر غامدی صاحب نے اس سلسلے میں بائیبل کے برعکس رائے قائم کی ہے۔ دوسری مثال دجال کی تعیین کے بارے میں غامدی صاحب کا نقطۂ نظر ہے۔ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال ایک فرد واحد ہے، جبکہ غامدی صاحب اسے اسم صفت قرار دے کر تہذیب مغرب کو اس سے موسوم کرتے ہیں۔غامدی صاحب کے اپنے اصول سے انحراف کی تیسری مثال یہ ہے کہ وہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ شادی شدہ زانی کے لیے یہ سزا بائیبل سے بھی ثابت ہے۔

یہ فاضل ناقد کا مجموعۂ دلائل ہے۔ تمہیدی مباحث میں یہ بات ہر لحاظ سے فیصل ہو گئی ہے کہ غامدی صاحب پر اس الزام کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ وہ بائیبل کو دین کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔ اس بحث کے بعد فاضل ناقد کے مذکورہ چاروں نکات بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں ۔ لیکن فاضل ناقد کے یہ نکات چونکہ بعض پہلووں سے خلط مبحث کا باعث ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ضروری توضیحات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔

۱۔ 'الکتاب' کا معنی اور مصداق

فاضل ناقد نے لکھا ہے:

''غامدی صاحب کے نزدیک قرآن میں لفظ '' کتاب'' سے مراد کلام الٰہی ہے، چاہے یہ تورات و انجیل کی شکل میں ہو یا قرآن و زبور کی صورت میں۔ ان کے مآخذ دین میں منسوخ شدہ آسمانی کتابیں تورات و انجیل وغیرہم بھی شامل ہیں۔ غامدی صاحب نے '' کتاب'' کا یہ مفہوم اپنے استاذ امام امین احسن اصلاحی صاحب سے لیا ہے۔ لفظ کتاب کے اس نادر مفہوم کو غامدی صاحب کی تفسیر ''البیان'' اور ان کے استاذ امام کی تفسیر '' تدبر قرآن'' میں' ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ' کی تشریح میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ غامدی صاحب نے اپنی کتاب ''اصول و مبادی'' میں کسی جگہ کتاب کی تعریف بیان نہیں کی۔ انھوں نے ''اصول و مبادی'' کے آغاز میں قرآن کی تعریف بیان کی ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کتاب الٰہی کا ایک حصہ ہے، کل کتاب نہیں ہے۔ کتاب کے مفہوم میں ان کے نزدیک تورات، انجیل اور زبور وغیرہ بھی شامل ہیں۔''(فکر غامدی۵۹)

اس اقتباس میں فاضل ناقد نے حسب ذیل باتیں بیان کی ہیں:

اولاً،غامدی صاحب کے نزدیک 'ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ' میں 'کتاب' سے مرادصرف قرآن نہیں، بلکہ تمام الہامی صحائف ہیں۔

ثانیاً،ان کے نزدیک قرآن مجید کتاب الٰہی کا ایک حصہ ہے،مکمل کتاب نہیں ہے۔

ثالثاً، غامدی صاحب نے یہ مفہوم اپنے استاد مولانا امین احسن اصلاحی سے اخذ کیا ہے۔

رابعاً،یہ مفہوم مولانا اصلاحی کی تفسیر' ' تدبر قرآن'' اور غامدی صاحب کی تفسیر '' البیان'' میں' ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ'کی تشریح میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

فاضل ناقد کی یہ تمام باتیں حرف بحرف غلط ہیں۔ 'ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ' میں 'الکتاب' کا مصداق مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی، دونوں کے نزدیک قرآن مجید ہے ۔ یہی مفہوم انھوں نے اپنی کتب ''تدبر قرآن'' اور ''البیان '' میں بیان کیا ہے۔مولانا اصلاحی نے' ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ' کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ''یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں'' ۔اس ترجمے ہی سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ یہاں 'الکتاب 'سے مراد قرآن مجید ہے۔'یہ' اور 'اس' کی ضمیریں اس مفہوم کے لیے صریح ہیں۔جہاں تک لفظ 'کتاب' کے مختلف معانی کی بحث کا تعلق ہے تو یہ اس ممکنہ سوال کے پیش نظر کی گئی ہے کہ صاحب ''تدبر قرآن'' کے نزدیک اس لفظ کے دیگر معانی کے تقابل میں'کلام الٰہی' کے معنی کو ترجیح دینے کا کیا سبب ہے ۔غالباً یہی وہ بحث ہے جس کے سوء فہم سے فاضل ناقد نے مذکورہ معنی اخذ کیے ہیں۔ یہ بحث حسب ذیل ہے:

''قرآن مجید میں کتاب کا لفظ پانچ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

۱۔ نوشتۂ تقدیر۔ مثلاً 'لو لا کتٰب من اللّٰہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم' (۶۸۔انفال) (اگر نوشتۂ الٰہی نہ گزر چکا ہوتا تو جس چیز میں تم مبتلا ہوئے اس کے باعث تمھیں ایک درد ناک عذاب آ پکڑتا )۔

۲۔ اللہ تعالیٰ کا وہ رجسٹر جس میں ہر چیز کا ریکارڈ ہے۔ مثلاً 'وعندنا کتٰب حفیظ' (۴۔ق) ( اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے محفوظ رکھنے والی)۔

۳۔ خط اورپیغام ۔ مثلاً 'انی القی الی کتٰب کریم' (۲۹۔ النمل) ( میرے پاس ایک گرامی نامہ بھجوایا گیا)۔

۴۔ احکام و قوانین۔ مثلاً ' ویعلمہم الکتٰب والحکمۃ' (۲۔ الجمعہ) ( اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے)۔

۵۔ اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا کلام۔ اپنے اسی معنی کے لحاظ سے یہ لفظ کتاب الٰہی کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد کتاب الٰہی کا کوئی خاص حصہ بھی ہوا کرتا ہے اور اس کا مجموعہ بھی۔

مجموعہ کے مفہوم کے لیے نظیر اعراف کی یہ آیت ہے: 'والذین یمسکون بالکتٰب واقاموا الصلوٰۃ' (۱۷۰۔ الاعراف) ( اور جو کتاب الٰہی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں)۔

دوسرے معنی کے لیے نظیر سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے:' الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتٰب یدعون الی کتٰب اللّٰہ لیحکم بینہم'(۲۲۔ آل عمران) (ذرا دیکھو تو ان کو جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ ملا، ان کو دعوت دی جا رہی ہے اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے)۔

جس طرح کوئی لفظ اپنے مختلف معنی میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر معنی کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے، اسی طرح یہ کتاب کا لفظ بھی خاص طور پر کتاب الٰہی کے لیے بولا جانے لگا۔ چنانچہ یہ استعمال قدیم زمانہ سے معروف ہے۔ یہود انبیا کے صحیفوں میں سے ہر صحیفہ کو سفر کہتے تھے جس کے معنی کتاب کے ہیں۔ عیسائی مترجموں نے ان کتابوں کو بائیبل کا نام دیا، اس کے معنی بھی یونانی میں کتاب ہی کے ہیں۔ اسی طرح ان صحیفوں کے لیے (scripture) کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی لاطینی میں کتاب کے ہیں۔ الغرض کتاب کا لفظ کتاب اللہ کے لیے کوئی نیا استعمال نہیں ہے۔ یہ استعمال جیسا کہ واضح ہوا، بہت قدیم ہے۔ قرآن نے بھی اس معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا اور اپنے استعمالات سے اس کے اس معنی کو اس قدر واضح کر دیا کہ اس کے مخاطب اس استعمال کو بے تکلف سمجھنے لگ گئے۔''(تدبرقرآن۱/۸۷)

مولانا اصلاحی نے اس مقام پر بلا شبہ، بائیبل کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سے انھوں نے فقط یہ بات سمجھائی ہے کہ لفظ 'کتاب' کا اللہ کے کلام کے معنی میں استعمال ہونا ، اس کا کوئی نیا استعمال نہیں ہے جسے قرآن نے ابتداءً اختیار کیا ہو۔ قدیم زمانے میں بھی اللہ کے کلام کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا رہا ہے۔ چنانچہ یہود صحیفۂ آسمانی کے لیے' سفر' کا لفظ استعمال کرتے تھے جس کے معنی 'کتاب' کے ہیں۔ اسی طرح عیسائی مترجمین نے بھی صحف سماوی کے مجموعے کے لیے 'بائیبل 'کا لفظ اختیار کیا جو 'کتاب' ہی کے ہم معنی ہے ۔اس سے واضح ہے کہ مولانا اصلاحی کی یہ بحث لفظ 'کتاب' کے معنی کے بارے میں ہے، 'ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ' میں اس کے مصداق کے بارے میں ہر گز نہیں ہے۔ان کی اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ 'کتاب' کا لفظ قرآن میں جہاں نوشتۂ تقدیر، رجسٹر،مکتوب اور قانون کے معنوں میں استعمال ہوا ہے، وہاں کلام الٰہی کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اور 'ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ' میں لفظ 'کتاب' سے یہی معنی مراد ہیں۔ چنانچہ انھوں نے بیان کیا ہے کہ 'لا ریب فیہ' کے الفاظ بھی اسی معنی کی تاکید کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

''لا ریب فیہ: 'ریب' کے معنی شک کے ہیں۔ '' اس میں کوئی شک نہیں ہے'' کا مطلب یہ ہے کہ اس کے کتاب الٰہی ہونے یا ایک کتاب منزل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ جملہ پہلے جملہ کی خبر نہیں، بلکہ اس کی تاکید ہے۔ 'ذٰلک الکتٰب' کے معنی ہیں، یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے بعد یہ تاکید اسی حقیقت کو مزید قوت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے کہ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجایش نہیں ہے۔

اگر اس کے معنی یہ نہ لیے جائیں تو پھر اس ٹکڑے کے لیے یہاں کوئی موزوں موقع ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ قرآن مجید کے نظائر سے بھی اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً اسی سورہ میں چند ہی آیات کے بعد فرمایا ہے: 'وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ' (۲۳۔بقرہ) ( اور اگر تم اس کی طرف سے شک میں جو ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے تو لاؤ اس کے مانند کوئی ایک سورہ)۔' آآآ تنزیل الکتٰب لا ریب فیہ من رب العٰلمین' (۱۔ السجدہ) (آلم، کتاب کی تنزیل، جس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، عالم کے خداوند کی طرف سے)۔ 'حٰمٓ تنزیل الکتٰب من اللّٰہ العزیز العلیم' ( ۱۔۲ ۔مومن) ( حٰم ، کتاب کا اتارنا خداے عزیز و علیم کی طرف سے ہے)۔'' (تدبرقرآن۱/۸۷)

جہاں تک 'کتاب الٰہی ' کے مصداق کا تعلق ہے تو درج بالا اقتباس سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ مولانا اصلاحی کے نزدیک یہ قرآن مجید ہی ہے۔اس اقتباس میں تاکید مزید کے لیے جن دیگر آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ بھی اسی مصداق کی تصدیق کرتی ہیں۔ 'وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ' کی شرح میں مولانا لکھتے ہیں:

''ان کے انھی خیالات کی بنا پر ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر تم قرآن کو کسی انسان یا جن کی گھڑی ہوئی چیز سمجھتے ہو تو اپنے ان حمایتیوں کی مدد سے اس کے مانند ایک ہی سورہ پیش کرو، اگر یہ تمھارے حمایتی اس نازک موقع پر بھی، جبکہ تمھارے آبائی دین کے ساتھ ساتھ خود ان کی خدائی بھی معرض خطر میں ہے، تمھاری مدد کے لیے نہ اٹھیں تو سمجھ لو کہ یہ قرآن خدائی کلام ہے اور تمھارے یہ سارے دیوی دیوتا بالکل بے حقیقت ہیں۔''(تدبرقرآن۱/۱۳۸)

اسی طرح' اآآ تنزیل الکتٰب لا ریب فیہ من رب العالمین' کی شرح میں یہ صریح جملہ بھی درج ہے کہ 'الکتٰب' سے مراد قرآن مجید ہے:

'' 'الکتٰب' سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی اس کتاب کی تنزیل 'اَللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ' کی طرف سے ہے۔ اس کے اللہ رب العٰلمین کی طرف سے ہونے میں کسی شبہ کی گنجایش نہیں ہے۔ 'لَارَیْبَ فِیْہِ' کا یہی مفہوم ہم نے سورۂ بقرہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اس آیت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ قریش اور یہود، دونوں کو سب سے زیادہ اختلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوے سے تھا کہ یہ کتاب آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جاتی ہے۔ اس دعوے کو وہ، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہو گا 'افتراء' قرار دیتے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے کہ نعوذ باللہ اس کتاب کو یہ تصنیف تو خود کرتے ہیں، لیکن ہمارے اوپر دھونس جمانے کے لیے اس کو جھوٹ موٹ منسوب اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ ''(تدبرقرآن۶/۱۵۵)

لفظ 'الکتاب' کے بعینہٖ یہ معنی جناب جاوید احمد غامدی نے بھی سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں اختیار کیے ہیں۔ لکھتے ہیں:

''اصل الفاظ ہیں: 'ذٰلک الکتٰب'۔ اس میں 'ذٰلک' کا اسم اشارہ سورہ کے لیے آیا ہے اور 'الکتٰب' کے معنی کتاب الٰہی کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اس معنی کے لیے استعمال ہوا ہے او راسی طریقے پر استعمال ہوا ہے، جس پر کوئی لفظ اپنے مختلف مفاہیم میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر مفہوم کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے۔

یعنی اس بات میں(کوئی شبہ نہیں) کہ یہ کتاب الٰہی ہے یہی اس جملے کا سیدھا اور صاف مفہوم ہے اور قرآن کے نظائر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔''( اشراق ، اکتوبر۱۹۹۸، ۸)

'وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ' کی شرح میں بھی انھوں نے اس کا مصداق قرآن ہی کو قرار دیا ہے:

'' مطلب یہ ہے کہ تم اگر اسے خدا کی کتاب نہیں سمجھتے تو اپنی ہدایت اور اپنے اسلوب بیان کے لحاظ سے جس شان کا یہ کلام ہے ،اس شان کی کوئی ایک سورہ ہی بنا کر پیش کر دو ۔تمھارے گمان کے مطابق یہ کام اگر بغیر کسی علمی اور ادبی پس منظر کے تمھاری قوم کے ایک فرد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر سکتے ہیں تو تمھیں بھی اس میں کوئی دقت نہ ہونی چاہیے ۔ اپنے متعلق یہ قرآن کا چیلنج ہے جو اس نے اپنے اولین مخاطبین کو دیا اور ان میں سے کوئی بھی اس کا سامنا کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔'' (اشراق، مارچ۱۹۹۹،۹)

سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۴۸میں بھی 'الکتٰب' کا یہی لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اس کا مصداق بھی غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید ہی ہے۔۸؂

۲۔ ''دین کے مصادر'' سے مراد

غامدی صاحب سے یہ بات منسوب کرنے کے لیے کہ بائیبل بھی مآخذ دین میں شامل ہے ،فاضل ناقد نے دوسری دلیل کے طور پر راقم کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں یہ جملہ درج ہے کہ''دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں ''۔ اس جملے میں چونکہ قدیم صحائف کے لیے ''دین کے مصادر'' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، لہٰذا اس کی بنا پر فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی بائیبل کو دین کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔ ''غامدی صاحب کا تصور فطرت چند توضیحات '' کے زیر عنوان اپنے گزشتہ مضمون میں ہم نے فاضل ناقد کی اس دلیل کا نہایت تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور یہ گزارش کی ہے کہ ہماری رائے میں اس جملے کی بنا پر غامدی صاحب کے مآخذ دین میں بائیبل کو شامل کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ اس ضمن میں ہماری توضیحات کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔یہ جملہ غامدی صاحب کا نہیں، بلکہ راقم کا ہے۔ فاضل ناقد کا ''فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ'' کے زیرعنوان غامدی صاحب پر تنقید کے لیے قلم اٹھانا اور اس مقصد کے لیے ان کے کسی شاگرد کی تحریر کا انتخاب کرنا تنقید ادب کے مسلمات کے منافی ہے۔

۲۔غامدی صاحب نے اپنی تالیف ''اصول و مبادی'' میں مآخذ دین کے موضوع پر نہایت صراحت کے ساتھ بحث کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ان کے موقف کے مطابق دین صرف دو جگہوں سے اخذ کیا جائے گا : ایک قرآن اور دوسری سنت۔ان کی اس تحریر کے ہوتے ہوئے مآخذ دین کی بحث کے لیے کسی اور کی تحریرکو بنیاد بنانا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔

۳۔راقم کے مذکورہ جملے کے تحت یہ درج ہے کہ اس موضوع پر مفصل بحث غامدی صاحب کی کتاب ''میزان'' میں ''دین کی آخری کتاب'' کے زیر عنوان ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔اس بحث میں غامدی صاحب نے مآخذ دین کو نہیں، بلکہ دین کی تاریخ کو بیان کیا ہے۔ دین کی تاریخ کی بحث سے ظاہر ہے کہ مآخذ دین کا مفہوم ہر گز اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

۴۔''اسلام اور موسیقی'' کے زیر عنوان راقم کے جس مضمون سے مذکورہ جملہ اٹھایا گیا ہے، اس کی تمہید میں دین اخذ کرنے کے ذرائع کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ دین میں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کے لیے فیصلہ کن حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے۔اسی طرح یہ بھی بیان ہوا ہے کہ شریعت کے یقینی ذرائع کی حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے۔تمہید میں مذکور اس تصریح کے ہوتے ہوئے مذکورہ جملے سے مآخذ دین کے معنی اخذ کرنے کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔

۵۔راقم نے ''دین کے مآخذ'' کے نہیں، بلکہ ''دین کے مصادر'' کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ تعبیر اختیار کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ کوئی شخص اس بحث کو مآخذ دین کی بحث پر محمول نہ کر لے۔ اسلامی علوم میں دین اخذ کرنے کے ذرائع کے لیے ''مصادر'' کا نہیں، بلکہ ''مآخذ'' کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہ لفظ ایک اصطلاح ہے جس کا ایک متعین مفہوم اور مصداق ہے۔ مضمون کی تمہید میں شریعت اخذ کرنے کے ذرائع کا بیان، جملے کا سیاق و سباق اورغامدی صاحب کی محولہ عبارت جیسے واضح قرائن کے ہوتے ہوئے ''دین کے مصادر'' کے الفاظ سے ''مآخذ دین'' کی اصطلاح مراد لینا کسی طرح موزوں نہیں ہے۔

۳۔'اطلاق' کی مثالیں

فاضل ناقد نے ''دین کے مصادر'' کے حوالے سے راقم کا مذکورہ اقتباس نقل کر کے اور اس کے مدعا کو جناب جاوید احمد غامدی سے منسوب کر کے ان کی نسبت سے بعض اصول وضع کیے ہیں اوران کی تائید میں بعض اطلاقی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ مثالیں جس مقدمے کے اثبات کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ غامدی صاحب بائیبل کو ماخذ دین قرار دیتے ہیں، وہ بذات خود غلط اوربے بنیادہے اور اس کی بے سروپائی کو ہم نے ابتدا میں دلائل سے واضح کر دیا ہے، لہٰذا ان پر اس ضمن میں تو کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کے بارے میں غامدی صاحب کا اصل موقف اور اس کا استدلال کیا ہے، البتہ ان کے بارے میں فاضل ناقد کی تنقید کے تناظر میں بعض ضروری توضیحات ناگزیر ہیں۔

فاضل ناقد نے اس مقدمے کے اثبات کے لیے کہ غامدی صاحب بائیبل کو ماخذ دین قرار دیتے ہیں جن تحریروں کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے، ان میں ماہنامہ ''اشراق'' میں شائع ہونے والے دو مضامین بھی شامل ہیں۔ ایک مضمون کا عنوان ' 'اسلام اور موسیقی'' اور دوسرے کا ''اسلام اور مصوری '' ہے۔ ان کی بنا پر فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ غامدی صاحب دین کے کسی مسئلے میں قرآن کے اشارات کو بنیاد بنا کر قدیم صحائف کی تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں اور قرآن کے مجمل الفاظ کی تفصیلات جاننے کے لیے کتاب مقدس کی آیات سے رجوع کرتے ہیں۔ ''اسلام اور موسیقی'' پر تبصرہ کرتے ہوئے فاضل ناقد نے لکھا ہے:

'' اگر کسی مسئلے کے بارے میں قرآن میں اشارات موجود ہوں،یعنی لفظوں میں رہنمائی موجود نہ ہو توقرآن میں واردشدہ ان اشارات کو بنیاد بنا کر اسی مسئلے کے بارے میں کتب سماویہ کی تفصیلات کی تصدیق کی جاسکتی ہے ۔اس اصول کے تحت غامدی صاحب نے مسئلۂ موسیقی کو ثابت کیاہے ۔

غامدی صاحب کے بقول کتا ب مقدس سے موسیقی اور آلات موسیقی کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ ایک جگہ زبور کا حوالہ دیتے ہوئے موسیقی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

''اے خداوندمیں تیرے لیے نیا گیت گاؤں گا۔دس تار والی بربط پر میں تیری مدح سرائی کروں گا۔''

ایک دوسری جگہ کتاب مقدس کے حوالے سے لکھتے ہیں:

''تو ایسا ہوا کہ جب نرسنگے پھونکنے والے اور گانے والے مل گئے تا کہ خداوند کی حمد اور شکر گزاری میں ان سب کی آواز سنائی دے اور جب نرسنگوں اور جھانجھوں اور موسیقی کے سب سازوں کے ساتھ انھوں نے اپنی آواز بلند کر کے خداوند کی ستایش کی کہ وہ بھلا ہے ۔''

جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ کتاب مقدس کی یہ آیات محفوظ ہیں یا منسوخ نہیں ہیں؟ تو غامدی صاحب یہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن میں موسیقی کے جواز کے بارے میں اشارات موجود ہیں اور قرآن میں موجود یہ اشارات کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ آیات نہ تو منسوخ ہیں اور نہ ہی غیر محفوظ، بلکہ ہمارے لیے شریعت کا درجہ رکھتی ہیں ۔ایک جگہ لکھتے ہیں:

''جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں قرآن مجید اصلاً خاموش ہے۔ اس کے اندر کوئی ایسی آیت موجود نہیں ہے جو موسیقی کی حلت و حرمت کے حوالے سے کسی حکم کو بیان کر رہی ہو ۔البتہ، اس میں بعض ایسے اشارات موجود ہیں جن سے موسیقی کے جواز کی تائید ہوتی ہے ۔ان کی بنا پر قرآن سے موسیقی کے جواز کا یقینی حکم اخذ کرنا تو بلاشبہ کلام کے اصل مدعا سے تجاوز ہو گا۔''

گویا کہ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن میں ،ان کے بقول ،موسیقی کے حوالے سے وارد شدہ اشارات اس بات کی دلیل ہیں کہ موسیقی کے حوالے سے کتاب مقدس کی آیات محفوظ ہیں ۔''(فکر غامدی۶۲،طبع اول)

''اسلام اور مصوری '' پر ان کا تبصرہ یہ ہے:

'' اگر کسی مسئلہ کے بارے میں قرآن میں خبر کے انداز میں لفظوں میں سابقہ شرائع کے حوالے سے کوئی رہنمائی موجود ہو اور یہ الفاظ مجمل ہوں تو ان الفاظ قرآنیہ کی تفصیل کتاب مقدس کی آیات سے کی جا سکتی ہے۔ اس اصول کے تحت غامدی صاحب نے قرآن میں موجود لفظ 'تماثیل' کی بائیبل کی آیات کی روشنی میں تفصیل کی ہے اور شیر، بیل اور ملائکہ کی تصاویر کو بھی کتاب مقدس کی روشنی میں صحیح قرار دیا ہے۔ بائیبل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اور ان حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے ،شیر اور بیل اور کروبی(فرشتے) بنے ہوئے تھے ۔''

ایک اور جگہ ہیکل کی تعمیر کے حوالے سے تورات کی آیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اور الہام گاہ میں اس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی(فرشتے)دس دس ہاتھ اونچے بنائے ۔''

جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ تورات کی ان آیات کے محفوظ ہونے کی کیا دلیل ہے؟ تو وہ جواب میں فرماتے ہیں کہ قرآن میں حضرت سلیمان کے حوالے سے تماثیل کا ذکر موجود ہے۔ گویا کہ قرآن کے اجمالی الفاظ تورات کی ان تفصیلات کی تائید کر رہے ہیں ۔'' (فکر غامدی۶۳،طبع اول)

''غامدی صاحب کے بقول''، ''ایک جگہ...موسیقی کے حوالے سے لکھتے ہیں''، ''ایک دوسری جگہ کتاب مقدس کے حوالے سے لکھتے ہیں''، ''جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں... تو غامدی صاحب یہ جواب دیتے ہیں''، ''ایک جگہ لکھتے ہیں''، ''گویا کہ غامدی صاحب کے نزدیک''، ''ان کے بقول'' ، ''غامدی صاحب نے تفصیل کی ہے''، ''تورات کی آیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں'' ، ''جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں تو وہ جواب میں فرماتے ہیں'' یہ فاضل ناقد کے الفاظ ہیں جو انھوں نے غامدی صاحب کی نسبت سے بیان کیے ہیں۔ قارئین یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ ان میں سے کوئی ایک لفظ بھی غامدی صاحب کے قلم سے نہیں نکلا۔ خامہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھیے!

یہ ساری تقریرغامدی صاحب کی تحریر کو نہیں،بلکہ راقم کے مضامین ''اسلام اور موسیقی'' اور ''اسلام اور مصوری'' کو بنیاد بنا کر کی گئی ہے۔ ''اشراق'' کے صفحات میں ان کے مصنف کے طور پر غامدی صاحب کا نہیں، بلکہ راقم کا نام درج ہے۔ سوال یہ ہے کہ '' فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ'' کے زیر عنوان لکھی جانے والی تنقید میں اس کی کیا گنجایش ہے کہ غامدی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے سیکڑوں صفحوں سے قطع نظر کر کے ان کے رفقا و تلامذہ کی تحریروں کو منتخب کیا جائے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فاضل ناقد نے فقط یہی نہیں کیا کہ غامدی صاحب پر تنقید کے لیے ان کی اپنی تحریر کے بجاے ان کے شاگرد وں کی تحریر کوبنیاد بنایا ہے، بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کرشاگردوں کی تحریر کو غامدی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ قرار دے ڈالا ہے۔ یہ اسلوب تنقید ہے جو فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں جابجا اختیار کیاہے۔فاضل ناقد صاحب علم بھی ہیں اور صاحب ایمان بھی۔ توقع ہے کہ وہ اس سوال پر ضرور غور فرمائیں گے کہ علم و عقل اور دین و اخلاق کی رو سے اس طرز استدلال کی کیا گنجایش ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ راقم کے مضامین ''اسلام اور موسیقی'' اور ''اسلام اور مصوری '' غامدی صاحب ہی سے بالاجمال اخذ و استفادے پر مشتمل ہیں اور اسی بنا پر ان کے عنوانات کے ساتھ ''جناب جاوید احمد غامدی کے افادات پر مبنی'' اور ''جناب جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر''کی تصریح کی گئی ہے، لیکن ان کے اوپر مصنف کے طور پر راقم کا نام درج ہے۔ یہ علم و ادب کا مسلمہ ہے اور اس کی مثالوں سے کتب خانے بھرے پڑے ہیں کہ مصنفین اپنے اساتذہ اور دیگر اہل علم کے افکار سے اخذ و استفادہ کرتے ، ان کی بنا پر تصانیف رقم کرتے اور پھر انھی کی نسبت سے کوئی عنوان قائم کر کے انھیں شائع کرتے ہیں ۔ تحریر و تصنیف کی دنیا میں اس کے معنی صرف اور صرف یہ ہوتے ہیں کہ مصنف نے اپنے استاذ یا کسی اور صاحب علم کے تصور، موقف، نقطۂ نظر یا تحقیق کو اپنے فہم کے مطابق، اپنے زاویۂ نظر سے، اپنے دلائل کی بنا پر اور اپنے پیرایۂ بیان میں تصنیف کیا ہے۔اس کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوتے کہ یہ عین بہ عین اس استاذ یا صاحب علم کی نگارش ہے اور اس کے افکار کے تجزیے کے لیے اسے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔تفہیم مدعا کے لیے ''اشراق '' کے مضامین میں سے اس کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔ دیکھیے، تصویر کی حلت و حرمت کے بارے میں رائج نقطۂ نظر پر تنقیدکے حوالے سے ''اشراق'' میں دو مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ایک ۱۰۰ صفحات پر مشتمل جناب رفیع مفتی صاحب کا مضمون ''تصویر کا مسئلہ'' ہے اور دوسرا راقم کا مضمون ''اسلام اور مصوری'' ہے جس کی ضخامت ۹۰ صفحات ہے۔ دونوں میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ یہ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار پر مبنی ہیں۔ گویا یہ ایک ہی موضوع پر ایک ہی موقف کی ترجمان دو تحریریں ہیں۔اس ہم آہنگی کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا طرز استدلال بھی مختلف ہے اور پیرایۂ بیان بھی ، یہاں تک کہ نتیجۂ فکر کے لحاظ سے بھی بعض لطیف اختلاف موجود ہیں۔اس سے واضح ہے کہ ایک ہی موقف کو بیان کرنے کے لیے جب دو مختلف مصنفین نے قلم اٹھایا ہے تو ان میں فرق واقع ہو گیا ہے۔ اس فرق کا باعث ظاہر ہے کہ مصنفین کا فہم اور زاویۂ نظر ہے نہ کہ وہ موقف جسے انھوں نے یکساں طور پر بیان کیا ہے۔ چنانچہ ان تحریروں کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ ان کے لکھنے والوں نے ان میں اپنے فہم کے لحاظ سے غامدی صاحب ہی کا نقطۂ نظر بیان کیا ہے تو یہ بالکل بجا ہو گا،لیکن اگر کوئی شخص ان کے بارے میں یہ حکم لگاتا ہے کہ ان کا لفظ لفظ غامدی صاحب کے موقف کا ترجمان ہے تو اسے کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر فاضل ناقد کی طرح اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ غامدی صاحب ہی کی تصنیف ہیں اور ان کے مندرجات کی بنا پرغامدی صاحب پر تنقید کے لیے قلم اٹھاتا اور ''فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ'' جیسی کتاب تصنیف کر دیتا ہے تو اس کی خدمت میںیہی گزارش کی جائے گی کہ یہ چیز تنقید ادب کے مسلمات کے منافی ہے کہ کسی صاحب علم پر تنقید کے لیے اس کی اپنی تصنیفات کو چھوڑ کر اس کے موقف پر مبنی کسی اور مصنف کی تحریر کو بنیاد بنایا جائے۔ علم و ادب کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ اقبال کے فکر پر تنقید کے لیے قلم اٹھایا جائے اور ''بانگ درا'' اور ''بال جبریل'' کے بجائے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی تصنیف ''فکر اقبال'' کو بناے تنقید بنایا جائے۔

یہاں جملۂ معترضہ کے طور پر یہ واضح رہے کہ راقم کے مضامین''اسلام اور موسیقی'' اور ''اسلام اور مصوری'' میں بائیبل کے مندرجات کو اباحت کی دلیل کے طور پر ہر گز پیش نہیں کیا گیا۔یہ بیانات ان فنون لطیفہ کے فی نفسہٖ مباح ہونے کی تائید میں استشہاداً پیش کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ا ن میں بائیبل کے وہ مقامات بھی نقل کیے ہیں جن میں ان فنون لطیفہ کا ذکر مثبت طور پر ہوا ہے اور وہ بھی نقل کیے ہیں جن میں ان کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کتب احادیث سے بھی حلت وحرمت، دونوں طرح کی روایتیں اسی اصول کو واضح کرنے کے لیے نقل کی گئی ہیں۔ان فنون لطیفہ کی اباحت کے بارے میں ہماری یہ رائے اصلاً بائیبل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ا س اصول پر مبنی ہے کہ جس چیز میں فی نفسہٖ عقیدہ و اخلاق کی قباحت موجود نہ ہو، اسے علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم کسی اضافی سبب کی بنا پراسے ممنوع قرار دینا بالکل بجا ہے۔لیکن اس صورت میں ظاہر ہے کہ ممانعت کا باعث وہ اضافی سبب ہی قرار پائے گانہ کہ بذات خود وہ چیز۔ چنانچہ کسی ایسی چیز کے بارے میں جسے دین نے فی نفسہٖ حرام قرار نہ دیا ہو، حرمت کا فتویٰ صادر کرنا شریعت سے تجاوز ہے ۔ مذکورہ مضمون میں ہم نے اپنے استدلال کو نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ فاضل ناقد اگر اس کو موضوع بنا کر اس پر بحث کریں تو ان شااللہ ہم اپنے استدلال کی مزید وضاحت کر دیں گے۔

''اسلام اور موسیقی'' اور ''اسلام اور مصوری'' کے حوالے سے اطلاقی مثالوں کے علاوہ فاضل ناقد نے ''یاجوج و ماجوج'' کی مثال بھی پیش کی ہے۔ اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ غامدی صاحب نے قرآن کے الفاظ' یاجوج و ماجوج' کے مصداق کے تعین کے لیے بائیبل سے رجوع کیا ہے۔

اس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یاجوج وماجوج کے مصداق کا تعین کسی طرح بھی 'دین' کا مسئلہ نہیں ہے۔یہ ایک تاریخی بحث ہے جس کے لیے دیگر تاریخی مآخذ کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی استشہاد کیا جا سکتا ہے۔یہ اور اس نوعیت کے دیگر موضوعات پر بائیبل سے استشہاد تاریخ، سیرت اور تفسیر کے علما کا معمول بہ عمل ہے۔ اس سے بائیبل کو ماخذ دین سمجھنے کا تصور ہر گز قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ اگر کوئی مفسر بدر، احد، خندق، فتح مکہ اوراس طرح کے دوسرے واقعات سے متعلق قرآنی آیات کی شرح و وضاحت کے لیے ''سیرت ابن ہشام'' اور ''طبقات ابن سعد'' سے واقعات کی تفصیلات حاصل کرے تو اس پر یہ الزام عائد کر دیا جائے کہ اس نے ''سیرت ابن ہشام'' اور ''طبقات ابن سعد'' کو دین کا ماخذ قرار دے ڈالا ہے۔اس الزام کی علم و عقل کی دنیا میں کیا حیثیت ہو گی ، قارئین اس کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی تفسیر'' تفہیم القرآن'' کے چند اقتباس بطور مثال درج ذیل ہیں۔ اس سے فاضل ناقد کو امید ہے یہ بات سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ تاریخی موضوعات پر بائیبل سے مراجعت کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوتے کہ اس سے دین اخذ کیا جا رہا ہے:

''حضرت یحییٰ کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انھیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کرتے ہیں جس سے سورۂ آل عمران اور اس سورہ (مریم) کے مختصر اشارات کی توضیح ہو گی...۔''(تفہیم القرآن۳/۶۱)

''(حضرت زکریا کے) اس واقعے کی تفصیلات لوقا کی انجیل میں بیان ہوئی ہیں انھیں ہم یہاں نقل کر دیتے ہیں...'' (تفہیم القرآن۳/۵۹)

''یاجوج ماجوج سے مرادایشیا کے شمال مشرقی علاقے کی وہ قومیں ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر غارت گرانہ حملے کرتی رہی ہیں اور جن کے سیلاب وقتاً فوقتاً اٹھ کر ایشیا اور یورپ، دونوں طرف رخ کرتے رہے ہیں۔ بائیبل کی کتاب پیدائش (باب۱۰) میں ان کو حضرت نوح کے بیٹے یافث کی نسل میں شمار کیا گیا ہے اور یہی بیان مسلمان مورخین کا بھی ہے۔حزقی ایل کے صحیفے(باب ۳۸، ۳۹) میں ان کا علاقہ روس اور توبل (موجودہ توبالسک) اور مسک (موجودہ ماسکو) بتایا گیا ہے۔'' (تفہیم القرآن۳/۴۶)

اس تفصیل سے واضح ہے کہ یاجوج وماجوج کے مصداق کا تعین کسی طرح بھی 'دین' کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ علم تاریخ کی ایک بحث ہے جس کے لیے باقی تاریخی مآخذ کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی استشہاد کیا جا سکتا ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی نے بھی اسی پہلو سے بائیبل کے حوالے نقل کیے ہیں۔

۴۔''انحراف'' کی مثالیں

فاضل ناقد نے مضمون کے آخر میں ''غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف'' کا عنوان قائم کر کے یہ حکم لگایا ہے کہ غامدی صاحب ان مسائل میں تو بائیبل کو بناے استدلال بناتے ہیں جو ان کے نظریات کے موافق ہیں، لیکن جن مسائل میں بائیبل ان کے نظریات کی مخالف ہے ، ان میں وہ اس سے رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں اورنتیجۃً بائیبل کو ماخذ دین قرار دینے والے اپنے ہی اصول سے منحرف ہوتے ہوئے ان عقائد و احکام کا انکار کر دیتے ہیں جن کی تائید بائیبل بھی کرتی ہے۔اس تقریرکے اثبات کے لیے انھوں نے تین مثالیں پیش کی ہیں۔ پہلی مثال یہ پیش کی ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کااثبات قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی ہوتا ہے، مگر غامدی صاحب اس سلسلے میں بائیبل سے رہنمائی نہیں لیتے اور عملاً اس تصور کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری مثال یہ بیان کی ہے کہ بائیبل سے احادیث کی اس خبر کی تصدیق ہوتی ہے کہ قرب قیامت میں ایک شخص دجال ظاہر ہو گا۔ بائیبل کی اس تصدیق کے باوجود غامدی صاحب دجال کو شخص ماننے سے انکار کرتے اور اسے اسم صفت قرار دے کر تہذیب مغرب کو اس سے موسوم کرتے ہیں۔تیسری مثال رجم کی سزا کے بارے میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے حوالے سے ہے۔فاضل ناقد کے نزدیک غامدی صاحب شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ یہ سزا بائیبل سے بھی پوری طرح ثابت ہے۔ گویا غامدی صاحب ایک جانب بائیبل کو ماخذ دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب اس کے شادی شدہ زانی پر رجم کی سزا نافذ کرنے کے حکم کو تسلیم نہیں کرتے۔

''انحراف'' کی یہ تینوں مثالیں فاضل ناقد نے اس مزعومہ مقدمے کو مان کر پیش کی ہیں کہ غامدی صاحب بائیبل کو ما خذ دین قرار دیتے ہیں۔ تمہید میں یہ بات ہر لحاظ سے ثابت ہو گئی ہے کہ فاضل ناقد کا مزعومہ مقدمہ سرتاسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔جب مقدمہ ہی غلط ہے تو اس سے انحراف کی تقریر بالکل بے معنی اور غیر متعلق ہے، لہٰذااس کے بارے میں بحث و تمحیص سرتاسر اضافی ہے۔چنانچہ اس مضمون میں ہم ان مثالوں سے قطع نظر کر رہے ہیں۔ البتہ فاضل ناقد کی اصولی تنقیدات پر اپنا تبصرہ مکمل کرنے کے بعد ہم ان شاء اللہ انھیں ان کی انفرادی حیثیت میں ضرور زیربحث لائیں گے اور اس سوء فہم اور خلط مبحث کو واضح کریں گے جو ان مثالوں کے حوالے سے فاضل ناقد کی تحریر میں مضمر ہے۔

———————-

۱؂ الاعلیٰ۸۷: ۱۹۔

۲؂ بنی اسرائیل۱۷: ۲۔

۳؂ الانعام۶:۱۵۴۔

۴؂ المائدہ۵: ۴۳۔

۵؂ المائدہ۵:۴۴۔

۶؂ الاعراف۷:۱۵۴۔

۷؂ المائدہ۵:۱۳۔

۸؂ اصول و مبادی۲۳۔