غنا اور موسیقی (۱)


ترجمہ و تحقیق: ڈاکٹر محمد عامر گزدر

ــــــ 1 ــــــ

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:1 سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ''مَا هَمَمْتُ بِقَبِيحٍ مِمَّا يَهُمُّ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ كِلْتَاهُمَا عَصَمَنِي اللہُ مِنْهُمَا. [فَإِنِّي قَدْ2 ] قُلْتُ لَيْلَةً لِفَتًى كَانَ مَعِي مِنْ قُرَيْشٍ بِأَعْلَى مَكَّةَ فِي غَنَمٍ لِأَهْلِنَا نَرْعَاهَا: أَبْصِرْ لِي غَنَمِي حَتَّى أَسْمُرَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ كَمَا يَسْمُرُ الْفِتْيَانُ. قَالَ: نَعَمْ، فَخَرَجْتُ [أُرِيدُ ذٰلِكَ3]، فَلَمَّا جِئْتُ أَدْنَى دَارٍ مِنْ دُورِ مَكَّةَ سَمِعْتُ غِنَاءً، وَصَوْتَ دُفُوفٍ، وَمَزَامِيرَ4. قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانٌ تَزَوَّجَ فُلَانَةً، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ، [فَجَلَسْتُ أَنْظُرُ،5] فَلَهَوْتُ بِذٰلِكَ الْغِنَاءِ، وَبِذٰلِكَ الصَّوْتِ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَنِمْتُ فَمَا أَيْقَظَنِي إِلَّا مَسُّ الشَّمْسِ، فَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، ثُمَّ فَعَلْتُ لَيْلَةً أُخْرَى مِثْلَ ذٰلِكَ، فَخَرَجْتُ، فَسَمِعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِي مِثْلُ مَا قِيلَ لِي، فَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعْتُ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَمَا أَيْقَظَنِي إِلَّا مَسُّ الشَّمْسِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي، فَقَالَ لِي: مَا فَعَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ شَيْئًا، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: فَوَاللہِ، مَا هَمَمْتُ بَعْدَهُمَا بِسُوءٍ مِمَّا يَعْمَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى أَكْرَمَنِي اللہُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی بِنُبُوَّتِهِ''.

__________________

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: زمانۂ جاہلیت کے لوگ جو برائیاں کرتے تھے، میں نے اُن میں سے کسی کا کبھی ارادہ نہیں کیا، دو مرتبہ کے سوا، اور دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت فرمائی ۔پہلی مرتبہ کا قصہ یہ ہے کہ میں ایک قریشی نوجوان کے ساتھ تھا۔ ہم مکہ کے بالائی علاقے میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرا رہے تھے۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا : میری بکریوں کا خیال رکھنا تا کہ آج کی رات میں بھی مکہ میں اُسی طرح گزاروں، جس طرح ہمارے نوجوان گزارتے ہیں1۔ اُس نے کہا: ٹھیک ہے۔چنانچہ اِس ارادے سے میں نکلا۔پھر جب وہاں پہنچا، جہاں سے مکہ کے گھر شروع ہورہے تھے تو مجھے گانے، دف اور دوسرے آلات موسیقی کی آوازیں سنائی دیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ اُنھوں نے قریش کے کسی شخص کے بارے میں بتایا ، جس نے قریش کی کسی عورت سے شادی کی تھی کہ فلاں نے فلاں عورت سے شادی کی ہے۔میں نے یہ سنا تو بیٹھ کر دیکھنے لگا۔چنانچہ غنا اور موسیقی کی آوازوں میں ایسا مشغول ہوا کہ آنکھ لگ گئی اور میں وہیں سو گیا، یہاں تک کہ اگلی صبح کی دھوپ ہی نے مجھے بیدار کیا۔سو اُٹھ کر میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آیاتو اُس نے پوچھا:رات کیا کرتے رہے؟ میں نے یہ قصہ سنادیا۔ پھر دوسری رات بھی یہی ہوا۔میں وہاں سے نکلا۔ جس طرح کی آوازیں پچھلی رات سنی تھیں، اُسی طرح کی آوازیں سنیں اور اُن کے بارے میں بھی مجھے وہی بات بتائی گئی جو پچھلی رات بتائی گئی تھی2۔چنانچہ میں اُنھیں سننے میں مشغول ہوگیا، یہاں تک کہ نیند نے آلیا اور پھر سورج کی تپش ہی نے مجھے اُٹھایا ۔ اُٹھ کر میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آیا تو اُس نے پھر وہی بات پوچھی کہ رات کیا کرتے رہے ؟ میں نے کہا: کچھ بھی نہیں کیا3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا، اِس کے بعد میں نے کبھی کسی ایسی برائی کا ارادہ نہیں کیا جو زمانۂ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی نبوت سےسرفراز فرمادیا۔

__________________

1۔اِس سے عرب جاہلی کی وہ شبینہ مجالس مراد ہیں، جن کا اُس زمانے میں عام رواج تھا، اور جن میں بیٹھ کر لوگ گانا بجانا اور قصے کہانیاں سنتے تھے۔جاہلیت کی شاعری میں اِس طرح کی مجالس کی تصویریں جگہ جگہ دیکھ لی جاسکتی ہیں۔

2۔ یعنی یہ کہ شادی کی کسی تقریب میں گانا بجانا ہو رہا ہے۔

3۔مطلب یہ ہے کہ جس طرح کی مجالس میں شرکت کے لیے گیا تھا ، اُن تک پہنچا ہی نہیں اور شادی کی کسی تقریب کا گانا بجانا اور موسیقی سن کر اُسی طرح واپس آگیا ہوں ، جس طرح پچھلی رات آیا تھا ۔یہ روایت بالکل صریح ہے کہ گانا بجانا اور آلات موسیقی نہ صرف یہ کہ اصلاً ممنوع نہیں ہیں، بلکہ بعض موقعوں پر اللہ تعالیٰ کےممنوعات کی طرف جانے سے روکنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لیجیے کہ ' كِلْتَاهُمَا عَصَمَنِي اللہُ مِنْهُمَا' کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنھی میں مشغول رہ کر زمانۂ جاہلیت کی بے ہودہ مجالس میں شرکت سے بچے رہنے کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے تعبیر کیاہے۔ روایت سے واضح ہے کہ آپ نے یہ بات بعثت کے بعد فرمائی اور اِس طرح اپنی پیغمبرانہ حیثیت میں بھی اِس کی تصویب کردی ہے۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن اصلاً صحيح ابن حبان، رقم6272 سے لیا گیا ہے۔ اِس واقعے کے راوی تنہا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے باقی طرق اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: اخبار مکہ، فاکہی، رقم1721۔ دلائل النبوة، ابونعیم، رقم128۔ المطالب العاليۃ بزوائد المسانيد الثمانيۃ، ابن حجر، رقم4212۔

2۔ اخبار مکہ، فاکہی، رقم1721۔

3۔ اخبار مکہ، فاکہی، رقم1721۔

4۔ اخبار مکہ، فاکہی، رقم1721 میں بالکل یہی بات ' سَمِعْتُ عَزْفًا بِغَرَابِيلَ وَمَزَامِيرَ' کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔

5۔ اخبار مکہ، فاکہی، رقم1721۔

ــــــ 2 ــــــ

قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:1 كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ المَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا [أُخْرَى2] مِنَ الخُمُسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِيَ، فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ، وَالغَرَائِرِ، وَالحِبَالِ، وَشَارِفَايَ مُنَاخَتَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، رَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، فَإِذَا شَارِفَايَ قَدْ اجْتُبَّ أَسْنِمَتُهُمَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذٰلِكَ المَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ فَقَالُوا: فَعَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا البَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ، [عِنْدَهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا: أَلاَ يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ، فَوَثَبَ حَمْزَةُ إِلَى السَّيْفِ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، قَالَ عَلِيٌّ: 3] فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ''مَا لَكَ؟''، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ، مَا رَأَيْتُ كَاليَوْمِ قَطُّ، عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ، فَارْتَدَى، ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ البَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنُوا لَهُمْ، فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ ثَمِلَ، مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ: هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي؟ فَعَرَفَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ القَهْقَرَى، [فَخَرَجَ4] وَخَرَجْنَا مَعَهُ، [وَذٰلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ5].

__________________

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ غزوۂ بدر کے اموال غنیمت میں سے ایک اونٹنی میرے حصے میں آئی اور ایک اونٹنی مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےخمس کے حصے سے مزید عنایت فرمائی ۔ چنانچہ جب میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ سے نکاح کرکے اُنھیں اپنے گھر لے آؤں تو میں نے بنو قینقاع کے ایک سنار کےساتھ یہ طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اِن اونٹنیوں پر لاد کر اذخر گھاس لے آئیں۔ میں چاہتا تھا کہ اُس گھاس کو سناروں کے ہاں فروخت کرکے اُس کی قیمت سے اپنے نکاح کےولیمہ کا بندوبست کروں۔ میں اِن اونٹنیوں کاسازو سامان ، پالان اور تھیلے اور رسیاں جمع کررہا تھا اور میری یہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے مکان کے پاس بیٹھی تھیں۔میں یہ سب چیزیں اکٹھی کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری اونٹنیوں کے کوہان اِسی اثنا میں کاٹ دیے گئے، اُن کے پیٹ چیر دیے گئے اور اُن کے اندر سے اُن کے جگر نکال لیے گئے ہیں۔ میں نے دونوں اونٹنیوں کو اِس حال میں دیکھا تو بے اختیار روپڑا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حمزہ بن عبدالمطلب نے، اور وہ اِس گھر میں انصار کے بعض مے نوشوں کے ساتھ بیٹھے شراب پی رہے ہیں۔ وہاں اُن کے دوست اور اُن کے ساتھ ایک گانے والی بھی ہے۔اُس نے جب اپنے گانے میں یہ کہا کہ حمزہ، اٹھو اور اِن فربہ اونٹنیوں کو ذبح کرڈالو تو حمزہ یہ سنتے ہی اپنی تلوار کی طرف لپکے اور اُس سے دونوں اونٹنیوں کی کوہانیں کاٹ ڈالیں اور پیٹ پھاڑ کر اُن کے کلیجے نکال لیے1۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں وہاں سے چلا اور سیدھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آپ کے پاس اُس وقت زید بن حارثہ بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھ کو دیکھتے ہی آپ سمجھ گئے کہ میں کسی صدمے سے دوچار ہوں۔ چنانچہ آپ نے پوچھا: کیابات ہے؟میں نےعرض کیا: یا رسول اللہ،میں نے جیسا برا دن آج دیکھا ہے،کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر دست درازی کی ، اُن کے کوہان کاٹے اور پیٹ چاک کردیے ہیں اور وہ یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ ایک گھر میں مے نوشی کی مجلس لگائے بیٹھے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنی چادر منگوائی، اُسے پہنا اورچل پڑے۔ میں اور زید بن حارثہ بھی آپ کے پیچھے آپ کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ آپ اُس گھر تک جاپہنچے جہاں حمزہ تھے۔آپ نے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی۔ لوگوں نے اجازت دی۔آپ داخل ہوئے تو کیادیکھتے ہیں کہ وہ سب مے نوشی میں مشغول ہیں۔ حمزہ نے جو کچھ کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُنھیں اُس پر ملامت کرنے لگے ۔ مگر حمزہ کا معاملہ یہ تھا کہ اُن کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ نشے میں دھت ہوچکے تھے۔اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر نظر اٹھائی اور آپ کو گھٹنوں تک دیکھا، پھر نظر اُٹھائی اور آپ کو ناف تک دیکھا، پھر نظر اُٹھائی اور آپ کے چہرے کو دیکھا، پھر کہنے لگے: تم سب تو میرے باپ کے غلام ہی ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر محسوس کرلیا کہ وہ سخت نشے میں ہیں ۔ چنانچہ آپ فوراً پلٹے اور وہاں سے نکلے۔ چنانچہ ہم بھی آپ کے ساتھ باہر آگئے ۔یہ شراب کی حرمت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے2۔

__________________

1۔صاف واضح ہے کہ اِس حادثے کی ترغیب شراب کے نشے میں اور ایک مغنیہ کے گانے سے ہوئی۔اِس طرح کی مجالس مدینے میں اور بھی ہوتی رہی ہوں گی۔تاہم قرآن نے شراب کی خباثت تو بیان فرمائی، لیکن 'اَلْحَمْد' سے 'النَّاس' تک دیکھ لیجیے، غنا اور موسیقی کے بارے میں کسی جگہ ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

2۔ اللہ کے دین میں خور ونوش کے طیبات ہی ہمیشہ حلال رہے ہیں۔چنانچہ شراب نوشی کبھی حلال نہیں تھی۔ یہاں حرمت کے نزول سے مراد قرآن کا وہ اعلان ہے ، جس میں ایک موقع پر، جب لوگ سننے اور ماننے کے لیے پوری طرح تیار ہوگئے تو صاف کہہ دیا گیا کہ یہ گندا شیطانی کام ہے،اِس سے ہر مسلمان کو دور رہنا چاہیے۔

متن کے حواشی

1۔ اِس واقعے کا متن اصلاًصحيح بخاری، رقم3091 سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی بھی تنہا علی رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے متابعات اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتےہیں: مسند احمد، رقم1201۔صحيح بخاری، رقم۲۰۸۹، 2375، 4003۔صحيح مسلم، رقم1979۔سنن ابی داؤد، رقم2986۔ الآحاد والمثانی،ابن ابی عاصم، رقم191۔ مسندبزار، رقم502۔ مسندابی يعلىٰ، رقم547۔مستخرج ابی عوانہ، رقم7900، 7901، 7902، ۷۹۰۳، 7904۔صحيح ابن حبان، رقم4536۔ السنن الكبرىٰ، بیہقی، رقم12956۔

2۔صحيح بخاری، رقم2375۔

3۔ صحيح بخاری، رقم4003۔

4۔صحيح بخاری، رقم4003۔

5۔ مسند احمد، رقم1201۔

ــــــ 3 ــــــ

قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ الأَشْعَرِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَاللہِ مَا كَذَبَنِي، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:1 ''لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ، يَسْتَحِلُّونَ الحِرَ2 وَالحَرِيرَ، وَالخَمْرَ وَالمَعَازِفَ''.

__________________

عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کا بیان ہے کہ مجھ سے ابو عامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ـــــــــ اور بخدا ، اُنھوں نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا ـــــــــ کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو شرم گاہوں1 اور ریشم2 اور شراب اور موسیقی کے سازوں3 کو حلال کرلیں گے۔

__________________

1۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے زنا اور اغلام جیسے گناہوں کا ارتکاب کریں گے اور اِس طرح اُن شرم گاہوں کو عملاً حلال کرلیں گے جنھیں اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھیرایا ہے۔یہ قید اِس لیے ضروری ہے کہ تمام شرم گاہیں حرام نہیں ہیں۔ہر مسلمان جانتا ہے کہ بیویوں کی شرم گاہیں خدا کے دین میں کبھی حرام قرار نہیں دی گئیں۔وہ ہمیشہ حلال رہی ہیں اور حلال ہی رہیں گی۔

2۔ یعنی جب وہ کسی معاشرے میں مترفین کا لباس سمجھا جاتا ہو جو انسان کے باطن میں 'بغي بغیر الحق' کے رجحانات پر دلالت کرتا اور ظاہر میں تکبر کی علامت بن جاتاہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمیں ایسا ہی تھا۔اِس کی یہ حیثیت اب باقی نہیں رہی،لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کی جگہ بہت سی دوسری چیزیں آچکی ہیں، جن کی حیثیت اِس زمانے میں وہی ہے جو اُس وقت ریشم کی تھی۔ چنانچہ اُن کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے۔

3۔ مطلب یہ ہے کہ اُس صورت میں بھی حلال کرلیں گے ، جب وہ مشرکانہ تصورات وعقائد اور فواحش کی ترغیب کے لیے استعمال کیے جارہے ہوں ، جس طرح کہ ہمارے اِس زمانے کے زیادہ تر فلمی گیتوں اور نعتوں اور قوالیوں میں بغیر کسی تردد کے استعمال کیے جارہے ہیں۔یہ شرط اِس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ اعراف (7) کی آیت 33 میں صراحت کردی ہے کہ خور ونوش کی حرمتوں کے علاوہ اُس نے صرف پانچ ہی چیزیں حرام کی ہیں، یعنی فواحش، حق تلفی، جان ومال اور آبرو کے خلاف زیادتی اور شرک و بدعت۔ آگے کی روایتوں سے یہی حقیقت مزید مبرہن ہوجائے گی۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم5590 سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی تنہا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ یا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: سنن ابی داؤد، رقم4039۔ المنتقى من مسند المقلين، دعلج سجستانی، رقم۸۔صحيح ابن حبان، رقم6754۔ المعجم الكبير، طبرانی، رقم3417۔ مسند الشامیین، طبرانی، رقم 588۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم3353۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 6100، 20988۔

2۔بعض طرق، مثلاً سنن ابی داؤد، رقم 4039 میں یہاں 'الحِرَ ' ''شرم گاہ'' کے بجاے 'الْخَزَّ' کا لفظ نقل ہوا ہے، جو ریشم ہی کی ایک قسم کے لیے مستعمل ہے۔

ــــــ 4 ــــــ

عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ،1 أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ،2[فَضَرَبَ وَجْهَ النَّاقَة، ] 3 وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا نَافِعُ، أَتَسْمَعُ؟ فَأَقُولُ: نَعَمْ، فَيَمْضِي حَتَّى [إِذَا انْقَطَعَ الصَّوْتُ،4 ] قُلْتُ: لَا، فَوَضَعَ يَدَيْهِ، وَأَعَادَ رَاحِلَتَهُ إِلَى الطَّرِيقِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا5.

__________________

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر نے ایک مرتبہ سفر میں کسی چرواہے کی بانسری کی آوازسنی تو اپنی انگلیاں دونوں کانوں میں ڈال لیں اور اپنی اونٹنی کے چہرے پر ہاتھ مارکر سواری کو دوسری طرف موڑا اور اپنا راستہ بدل لیا ۔ پھر وقفے وقفے سے وہ مجھ سے پوچھتے رہے: نافع، کیا اب بھی وہی آواز سن رہے ہو؟ میں جب ہاں میں جواب دیتا تو وہ چلتے رہتے، یہاں تک کہ جب آواز بند ہوگئی اور میں نے کہا: نہیں ، اب کوئی آواز نہیں آرہی تو اُنھوں نے اپنے ہاتھ کانوں سے ہٹا لیے اور سواری کو دوبارہ اُسی راستے پر لے آئے، جس پر چل رہے تھے۔ پھر فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو میں نے آپ کو اِسی طرح کرتےدیکھا تھا1۔

__________________

1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ سفر کے دوران میں سواری پر بیٹھے ہوئے بھی آپ اکثر ذکر وفکر میں مشغول رہتے تھے۔چرواہے کی بانسری کو اِس میں خلل انداز ہوتے دیکھ کر آپ نے کسی موقع پر یقیناً ایسا کیا ہوگا ، مگر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی طبیعت کے لحاظ سے اِس کو بانسری کی آواز سے کراہت پر محمول کیا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ محض غلط فہمی ہے۔چنانچہ آگے کی روایتوں سے واضح ہوجائے گا کہ بعض موقعوں پر آپ کے سامنے ساز بجاے جاتے رہے اور آپ نے ہرگز اپنی انگلیاں کانوں میں نہیں ڈالیں۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم4535 سے لیا گیا ہے۔اِس واقعے میں نقل ہونے والی حدیث کے راوی تنہا ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے باقی طرق اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسند احمد، رقم 4965۔ سنن ابی داؤد، رقم4924، 4925، 4926۔ صحيح ابن حبان، رقم693۔تحريم النرد والشطرنج والملاھی، آجري، رقم65، ۶۶۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم1173۔ المعجم الصغير، طبرانی، رقم11۔ فوائد تمام، رقم1375۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم 3358۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 20997، 20998، 20999۔

2۔ بعض طرق، مثلاً سنن ابی داؤد، رقم 4925میں اِس واقعے کا آغاز اِس طرح ہوا ہے کہ نافع کہتے ہیں: 'كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمِرُ' ،'' ابن عمر کا گزر جب ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، میں اُس وقت سواری پر اُن کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ''۔

3۔ المعجم الصغير، طبرانی، رقم11۔

4۔ تحريم النرد والشطرنج والملاهی، آجری، رقم66۔

5۔ بعض طرق، مثلاً المعجم الاوسط، طبرانی، رقم1173 میں یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: 'هٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ' ، '' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اِسی طرح کرتے دیکھا ہے''۔

ــــــ 5 ــــــ

عَنْ عَائِشَةَ1 أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْأَجْرَاسِ أَنْ تُقْطَعَ مِنْ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ يَوْمَ بَدْرٍ.

__________________

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ غزوۂ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں لٹکی ہوئی گھنٹیوں کو کاٹ دیا جائے1۔

__________________

1۔ جنگ کے موقع پر ، خاص کر رات کی تاریکی میں ہونے والے حملوں سے بچنے کے لیے اِس طرح کی تدبیروں کی ضرورت ہوتی ہےتاکہ دشمن لشکر کے پڑاؤ کی طرف راستہ نہ پاسکے ۔بدر کے موقع پرفرشتوں کی ایک بڑی جماعت بھی مسلمانوں کی نصرت کے لیے موجود رہی تھی ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، ہوسکتا ہے کہ اُن کی رعایت سے یہ ہدایت فرمائی ہو، جیسا کہ آگے کی روایتوں میں بیان ہوا ہے۔اِسے علی الاطلاق گھنٹیوں کی حرمت یا کراہت کا حکم نہیں سمجھنا چاہیے، جس طرح کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن مسنداحمد، رقم25166 سے لیا گیا ہے۔اِس کی راوی تنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور اِس کے باقی طرق اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسند اسحٰق بن راہویہ، رقم1315۔ السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم8758۔صحيح ابن حبان، رقم4699، 4702۔

ــــــ 6 ــــــ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:1 ''الْجَرَسُ مِزْمَارُ2 الشَّيْطَانِ''.

__________________

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھنٹی شیطان کا ساز ہے1۔

__________________

1۔ آگے اور پیچھے کی روایتیں پیش نظر ہوں تو یہ سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی کہ یہ غالبًا اُسی موقع پر فرمایا ہے جب قافلے میں مسلسل بجتی ہوئی گھنٹیوں کی آواز کسی وقت آپ کے ذکر وفکر اور تسبیح وتہلیل میں خلل انداز ہوئی ہے۔راوی نے اِسے علی الاطلاق بیان کردیا ہے۔لیکن اِس فن کے ناقدین جانتے ہیں کہ روایتوں میں اِس نوعیت کے تصرفات بالعموم ہوجاتے ہیں۔اِن پر متنبہ رہنا چاہیے۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن مسنداحمد، رقم8783 سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے متابعات اِن مراجع میں نقل ہوئے ہیں: احاديث اسمٰعيل بن جعفر، رقم288۔مسنداحمد، رقم 8851۔ صحيح مسلم، رقم2114۔سنن ابی داؤد، رقم2556۔السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم8761۔ مسندابی يعلىٰ، رقم 6519۔ صحيح ابن خزيمہ، رقم2554۔صحيح ابن حبان، رقم4704۔ مستدرك حاكم، رقم1629۔السنن الكبرىٰ، بیہقی، رقم 10326۔

2۔ بعض طرق، مثلاً صحيح مسلم، رقم2114میں یہاں اسم مفرد 'مِزْمَار' کے بجاے جمع کا صیغہ، یعنی 'مَزَامِيرُ' کا لفظ نقل ہوا ہے، جب کہ احاديث اسمٰعيل بن جعفر، رقم288 میں روایت کے الفاظ اِس طرح آئے ہیں: '«الْجَرَسُ مِنْ مَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ » '، ''گھنٹی شیطان کے سازوں میں سے ایک ساز ہے''۔

ــــــ 7 ــــــ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:1 قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ''لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ''.

__________________

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قافلے میں کتا یا گھنٹی ہو،فرشتے اُس کے ہم راہ نہیں ہوتے1۔

__________________

1۔ اِس کی وجہ بھی، ہمارے نزدیک وہی ہے جو پیچھے بیان ہوچکی کہ فرشتے ہمہ وقت تسبیح وتقدیس میں مشغول ہوتے ہیں ، جب کہ گھنٹی بجنے سے نہیں رکتی اور کتے بھونکنے سے باز نہیں رہتے ، لہٰذا اُن کے اِس پاکیزہ شغل میں مسلسل دخل انداز ہوتے رہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلوں میں فرشتوں کی حاضری جیسی کچھ رہتی ہوگی ، اُس کے پیش نظر اگر آپ نے یہ تنبیہ فرمائی ہے تو اِس کو سمجھا جاسکتا ہے۔اِس سے عام قافلوں کے بارے میں کوئی حکم اخذ کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہوگا۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن مسنداحمد، رقم7566 سے لیا گیا ہے۔اِس کے متابعات اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں : مسند ابن جعد، رقم2670۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم32592۔ مسند اسحٰق بن راہویہ، رقم280۔ مسند احمد، رقم8097، 8337، 8528، 8998، 9089، 9362، 9738، 10161، 10941۔سنن دارمی، رقم 2718۔ صحيح مسلم،رقم2113۔سنن ابی داؤد،رقم2555۔سنن ترمذی، رقم1703۔السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم 8759، 11941، 11942۔صحيح ابن خزيمہ،رقم2553۔صحيح ابن حبان، رقم4703۔ السنن الكبرىٰ، بیہقی، رقم 10327۔

اِس کے شواہد ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہوئے ہیں ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے طرق جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند ابن جعد، رقم2622۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم5222۔السنن الكبرىٰ،نسائی، رقم8762، 9483۔المعجم الكبير،طبرانی،رقم693، 898، 899۔ مسند شامیین، طبرانی،رقم1785۔فوائدتمام، رقم1573، جب کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے شاہد کی روایتیں اِن مصادر میں دیکھ لی جاسکتی ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم19698۔ موطامالك (روایۃ محمد بن حسن شيبانی)، رقم903۔مسند اسحٰق بن راہویہ، رقم2066، 2067، 2068، 2069۔مسنداحمد،رقم26770، 26771، 26777، 26780، 27397، 27400، 27409۔سنن دارمی، رقم2717۔سنن ابی داؤد، رقم 2554۔ السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم 8760۔ مسند ابی يعلىٰ، رقم7125، 7133، 7136۔صحيح ابن حبان، رقم 4705۔ المعجم الكبير، طبرانی، رقم 472، 474، 475، 476، 487۔

ــــــ 8 ــــــ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:1 سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ''لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ رُفْقَةً2 فِيهَا جَرَسٌ3''.

__________________

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جس گھر میں گھنٹی ہو، فرشتے اُس میں داخل نہیں ہوتے اور جس قافلے میں گھنٹی ہو،وہ اُس کے ہم راہ بھی نہیں ہوتے1۔

__________________

1۔دیہات کے گھروں میں دیکھا ہے کہ گھنٹیاں بعض اوقات کمروں میں آنے جانے کے دروازوں پر لٹکا دی جاتی ہیں اور گزرنے والوں سے ٹکراکر مسلسل بجتی رہتی ہیں ۔اِس طرح کی صورت حال گھر یا قافلے میں، جہاں بھی پیدا ہو، اُس سے فرشتوں کے اِبا کی وجہ ہم پیچھے بیان کرچکے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں اور قافلوں میں اُن کی آمد ورفت جیسی کچھ رہتی ہوگی ، یہ آپ نے غالبًا اُسی کے پیش نظر اور اپنے ہی گھروں اور قافلوں کے بارے میں فرمایا ہے ، جسے روایت کرنے والوں نے موقع ومحل سے قطع نظر کر کے اِس طرح علی الاطلاق بیان کردیا ہے۔

متن کے حواشی

1۔ السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم9483۔

2۔ بعض طرق، مثلاً مسند ابن جعد، رقم2622 میں یہاں 'رُفْقَةً' کے بجاے ' عِيرًا' کا لفظ آیا ہے۔ معنی کے اعتبار سے دونوں مترادف ہیں۔

3۔بعض طرق میں آپ کا یہی ارشاد ذرا مختلف اسلوب میں نقل ہوا ہے۔ مسنداحمد، رقم26771 میں یہ الفاظ آئے ہیں: «لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ قَوْمًا فِيهِمْ جَرَسٌ»، جب کہ مسنداحمد، رقم 26770 میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے یہ تعبیر نقل ہوئی ہے: «إِنَّ الْعِيرَ الَّتِي فِيهَا الْجَرَسُ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ»۔

ــــــ 9 ــــــ

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ1 أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ،''أَتَعْرِفِينَ هٰذِهِ؟'' قَالَتْ: لَا، يَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَالَ: ''هٰذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ، تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ؟'' قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَعْطَاهَا طَبَقًا فَغَنَّتْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ''قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا''.

__________________

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے سیدہ سے فرمایا: عائشہ، تم اِس عورت کو جانتی ہو؟ سیدہ نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی۔آپ نے فرمایا: یہ فلاں قبیلے کی گانے والی ہے۔کیا تم پسند کروگی کہ یہ تمھیں کچھ گا کر سنائے؟ سیدہ نے جواب میں کہا: کیوں نہیں۔ سائب کہتے ہیں کہ پھر آپ نے اُسےایک تھالی دی اور اُس نے سیدہ کو گانا سنایا ۔اِس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اِس کے نتھنوں میں پھونکیں مار دی ہیں1۔

__________________

1۔یعنی جو سانس نتھنوں سے کھینچی جاتی ہے، وہ اِس کے منہ سے شیطان کا جادو بن کر نکلتی ہے۔ یہ سیدہ کو گانا سنوانے کے بعد اُسی طرح متنبہ فرمایا ہے، جس طرح ہاروت وماروت کے قصے میں بیان ہوا ہے کہ اُن کو جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا، اُسے جب وہ کسی کو سکھاتے تھے تو اُس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی کردیتے تھے کہ '(اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ، فَلَا تَكْفُرْ)' ، ''ہم تو صرف ایک آزمایش ہیں، اِس لیے تم اِس کفر میں نہ پڑو'' (البقرہ2: 102)۔ یہ نہی، ظاہر ہے کہ نتیجے کے لحاظ سے تھی۔گویا مدعا یہ تھا کہ ہمارا یہ علم دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔زیادہ امکان یہی ہے کہ تم لوگ اِسے سیکھ کر برے مقاصد کے لیے استعمال کرو گےاور اِس طرح کفر و شرک میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ یہاں بھی مدعا یہ ہے کہ گانا بجانا اصلاً کوئی بری چیز نہیں ہے۔تم نے اِسے سن لیا، لیکن متنبہ رہو کہ اِس عورت کی آواز میں ایسا سحر ہے کہ اِس کے ذریعے سے شیطان خدا کے بندوں کو شرک اور فواحش کی طرف کھینچ لے جاسکتا اور اُس کی یاد اور نماز جیسی چیزوں سے غافل کرسکتا ہے۔

اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ روایت ٹھیک اُس رویے کو متعین کردیتی ہے جو غنا اور موسیقی کے معاملے میں ایک بندۂ مومن کو اختیار کرنا چاہیے، یعنی سننے اور سنوانے میں کوئی حرج نہیں ، اِس لیے کہ یہ نہ حرام ہے، نہ مکروہ، اِسے خود پیغمبر نے سنا اور سنوایا ہے، لیکن اِس کے غلط استعمال سے جو آفات لاحق ہوسکتی ہیں، اُن پر متنبہ ضرور رہنا چاہیےتا کہ شیطان اِس کے ذریعے سے انسان کو کسی دوسرے راستے پر نہ لے جائے۔

متن کے حواشی

1 ۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم15720 سے لیا گیا ہے۔اِس واقعے کے راوی تنہا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے متابعات السنن الكبرىٰ،نسائی،رقم8911 اور المعجم الكبير،طبرانی، رقم6686 میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں۔

ــــــ 10 ــــــ

عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ الحُصَيْبِ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ:1 رَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، [وَقَدْ أَفَاءَ اللہُ عَلَيْهِ،2] فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ، إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللہُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ3بِالدُّفِّ [وَأَتَغَنَّى4]، فَقَالَ: ''إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَافْعَلِي وَإِلَّا فَلَا''. قَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ. قَالَ: فَقَعَدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَتْ بِالدُّفِّ، [فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ5، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ6. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ7 مِنْكَ يَاعُمَرُ، أَنَا جَالِسٌ، وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ''8].

__________________

بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے فتح یاب ہوکر اموال غنیمت کے ساتھ لوٹے تو ایک سیاہ فام لونڈی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ، میں نے نذر مانی تھی کہ اللہ آپ کو سلامتی کے ساتھ واپس لے آیا تو آپ بیٹھے ہوں گے اورمیں آپ کے آگے دف بجاؤں گی اور گیت گاؤں گی۔ آپ نے فرمایا: اگر تم نے نذر مانی تھی تو کر لو، ورنہ نہیں1۔ اُس نے عرض کیا: جی، میں نے واقعی نذر مانی تھی۔ بریدہ کہتے ہیں کہ اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اُس نے دف بجانا شروع کیا۔ اِس دوران میں صدیق رضی اللہ عنہ بھی وہاں آئے اور بعض دوسرے لوگ بھی ، اور وہ دف بجا تی رہی۔ لیکن پھر عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے ۔بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ لونڈی چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ اُس نے اُنھیں دیکھا تو دف کو اپنے پیچھے چھپا لیا2 ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کرفرمایا: عمر، شیطان تمھی سے ڈرتا ہے3۔ میں یہاں موجود تھا، پھر یہ لوگ بھی آتے رہے (اور اِس کا گیت نہیں رکا)، لیکن تم داخل ہوئے ہو تو اِس نے وہ کیا جو کیا ہے۔

__________________

1۔اِس' نہیں' کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی شخصیت کے لحاظ سے اِس کو موزوں نہیں سمجھتا کہ فتح کی خوشی میں اِس طرح میرے سامنےشادیانے بجائے جائیں، لیکن تم نے نذر مانی ہے تو کر لو، اِس لیے کہ یہ کوئی ناجائز کام بھی نہیں ہے۔

2۔ اِس سے واضح ہے کہ مدینے کی لونڈیاں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اُس سختی سے واقف تھیں جو برائی یا برائی کی طرف لے جانے والی چیزوں کے بارے میں اُن کی طبیعت میں پائی جاتی تھی۔

3۔ یہ محض تحسین کا جملہ ہے۔اِس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ پیغمبر اور پیغمبر کے جلیل القدر رفقا کوئی شیطانی کام کر رہے تھے یا شیطان اُن سے نہیں ڈرتا تھا۔اِس طرح کے جملے مقابلے سے مجرد ہوتے اورشخصیت میں کسی پہلو کو نمایاں دیکھ کر بولے جاتے ہیں۔اِس میں 'شیطان' کا لفظ بھی غنا اور موسیقی کے اُسی پہلو کو ملحوظ رکھ کر استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت ہم پیچھے روایت ۹ میں '«قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا» ' کے تحت کرچکے ہیں۔جن چیزوں کا زیادہ استعمال غلط کاموں کے لیے ہونے لگے، اُن کے بارے میں سیدنا عمر جیسی سختی کے رویے بھی معاشرے کی ضرورت ہوتے ہیں ، اِس لیے کہ اُنھی سے توازن قائم رہتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً اِسی بنا پر اُنھیں یہاں کسی اصلاح کی طرف توجہ نہیں دلائی، بلکہ اُن کی تحسین ہی فرمائی ہے۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم 23011 سے لیا گیا ہے۔ اِس واقعے کے راوی تنہا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے متابعات جن مصادر میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم22989۔ فضائل الصحابہ، احمد بن حنبل، رقم480، 594۔سنن ترمذی، رقم3690۔ مسندبزار، رقم 4414۔صحيح ابن حبان، رقم 4386۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم3209۔ السنن الكبرىٰ ، بیہقی، رقم20101۔

2۔ فضائل الصحابہ، احمد بن حنبل، رقم594۔

3 ۔بعض طرق، مثلاً سنن ترمذی، رقم3690 میں یہاں ' عَلَى رَأْسِكَ' کے بجاے 'بَيْنَ يَدَيْكَ' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ معنی کے لحاظ سے دونوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے ۔

4۔ سنن ترمذی، رقم3690۔

5۔ بعض طرق، مثلاً سنن ترمذی، رقم3690 میں اِس موقع پر سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے داخل ہونے کا بیان بھی موجود ہے۔

6۔ فضائل الصحابہ، احمد بن حنبل، رقم594 میں یہاں یہ بھی نقل ہوا ہے کہ 'فَلَمَّا سَمِعَتْ حَسَّهُ أَلْقَتِ الدُّفَّ وَجَلَسَتْ مُنْقَمِعَةً' ''جب اُسے محسوس ہوا کہ عمر رضی اللہ عنہ آرہے ہیں تو اپنے دف کو رکھ دیا اور سمٹ کر بیٹھ گئی''۔

7۔ بعض روایتوں، مثلاً السنن الكبرىٰ، بیہقی ، رقم20101 میں یہاں 'لَيَفْرَقُ ' کے بجاے 'يَخَافُ' کا لفظ نقل ہوا ہے، جب کہ بعض طرق، مثلاً السنن الكبرىٰ ،بیہقی ، رقم20101 میں یہاں 'فَأَلْقَتْ بِالدُّفِّ تَحْتَهَا، وَقَعَدَتْ عَلَيْهِ' '' وہ دف کو اپنے نیچے چھپا کر اُس کے اوپر بیٹھ گئی'' کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔

8۔ مسند احمد، رقم22989۔

[باقی]

__________