حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ (۵)


(گذشتہ سے پیوستہ)

[یہ مضمون راقم کے ایم فل علوم اسلامیہ کے تحقیقی مقالے سے ماخوذ ہے۔''حدیث و سنت کی حجیت پر مکتب فراہی کے افکار کا تنقیدی جائزہ''

کے زیر عنوان یہ مقالہ جی سی یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ عربی و علوم اسلامیہ کے تحت ۲۰۱۲ء۔ ۲۰۱۴ء کے تعلیمی سیشن میں مکمل ہوا۔]

چند ایک روایتوں کی صحت سے انکار

مدرسۂ فراہی کے علما کے حدیث و سنت سے استدلال و احتجاج کے باوجود یہ درست ہے کہ وہ صحیح کے درجے کی بعض روایات کو حدیث کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں، بعض کے بارے میں توقف کا حکم لگاتے ہیں اور بعض کی تاویل و تشریح علماے امت کے عمومی موقف سے مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ انکار کی ایک مثال بخاری کی وہ روایت ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے تھے ۔ توقف کی مثال بخاری و مسلم کی وہ روایتیں ہیں جن میں نقل ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کا نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے نکاح ۶سال کی عمر میں اور رخصتی ۹ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔تاویل و تشریح میں اختلاف کی مثال بخاری و مسلم اور موطا امام مالک کی وہ روایتیں ہیں جن میں شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی سزا بیان ہوئی ہے۔

مدرسۂ فراہی کے علما کے بعض روایات کو قبول کرنے سے انکار ، بعض کے بارے میں توقف اور بعض کی تاویل و تشریح میں اختلاف کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ سند کی صحت کو خبر واحد کی قبولیت کی واحد اور لازمی دلیل قرار نہیں دیتے۔ اس کے ساتھ وہ دو مزید اصول بھی شامل کرتے ہیں:ایک یہ کہ اس میں کوئی چیز قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو اور دوسری یہ کہ علم وعقل کے مسلمات کے خلاف نہ ہو۔

اس میں شبہ نہیں کہ امام ابن حزم اور بعض دیگر اہل علم ان درایتی معیارات کو اہمیت نہیں دیتے اور فقط سند کی صحت ہی کو روایت کی قبولیت کا معیار قرار دیتے ہیں، مگر علما و فقہا کی اکثریت انھیں قبول روایت کے لازمی اصولوں کے طور پر اختیار کرتی ہے۔ فقہا کے بعض گروہ فقط ان دو نکات ہی کا اضافہ نہیں کرتے،بلکہ ان کے سا تھ کچھ مزید شرطیں بھی عائد کرتے ہیں۔مثلاً احناف روایت کی قبولیت کے لیے قیاس، فقاہتِ راوی، عموم بلویٰ اور مالکیہ عمل اہل مدینہ کی موافقت کے شرائط کو مزید برآں شامل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صبحی الصالح نے امام ابو حنیفہ کے مذکورہ شرائط کا خلاصہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے:

''امام ابو حنیفہ ؒ خبر واحد کی قبولیت کے لیے مندرجہ ذیل شرائط عائد کرتے ہیں۔

۱۔ خبر واحد اس صورت میں مقبول ہے جب کہ وہ سنت مشہور (خواہ قولی ہو یا فعلی) کے خلاف نہ ہو۔ اس لیے کہ دو دلیلوں میں سے اس دلیل پر عمل کیا جاتا ہے جو قوی تر ہو۔

۲۔ خبر واحد اس عمل متواتر کے خلاف نہ ہو جو صحابہؓ و تابعین میں مشترک طور سے پایا جاتا ہے۔ خواہ وہ کسی شہر میں بھی سکونت پذیر ہوں۔ اس میں کسی شہر کی کوئی تخصیص نہیں۔

۳۔ خبر واحد اس صورت میں مقبول ہے جب کتاب اﷲ کے عمومات و ظواہر کے خلاف نہ ہو۔اس لیے کہ کتاب اﷲ کے ظواہر و عمومات قطعی الدلالت ہیں اور قطعی ظنی کے مقابلہ میں مقدم ہوتا ہے۔ جس صورت میں خبر واحد کتاب اﷲ کے عموم یا ظاہر کے خلاف نہ ہو۔ بلکہ قرآن کی شرح و تفسیر پر مشتمل ہو تو امام ابو حنیفہ ؒ اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس لیے کہ شرح و تفسیر کے بغیر آیت قرآنی کسی بات پر دلالت ہی نہیں کر سکتی۔

۴۔ جب خبر واحد قیاس جلی کے خلاف ہو تو اس صورت میں مقبول ہو گی۔ جبکہ اس کا راوی فقیہ ہو۔ راوی کے غیر فقیہ ہونے کی صورت میں اس امر کا احتمال ہے کہ راوی نے روایت بالمعنی کی ہو۔ اور اس میں اس سے غلطی سرزد ہو گئی ہو۔

۵۔ یہ کہ خبر واحد کا تعلق ایسے امور سے نہ ہو جو عام لوگوں کو پیش آتے ہیں۔ مثلاً حدود وکفارات جو ادنیٰ شبہ پیدا ہو جانے کی صورت میں باقی نہیں رہتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عادتاً ایسے امور سے اکثر لوگ باخبر ہوتے ہیں نہ کہ صرف ایک دو شخص ۔ اس لیے ایسے واقعات میں شہرت اور تلقی بالقبول ضروری ہے۔

۶۔ عہد سلف میں کسی عالم نے اس حدیث پر جرح و قدح نہ کی ہو۔ نیز یہ کہ حدیث کے راوی نے کسی دوسرے صحابی کے اختلاف کی وجہ سے اس پر عمل کو ترک نہ کیا ہو۔

۷۔ قبو لیت خبر واحد کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ راوی کا عمل اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف نہ ہو۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ حدیث روایت کی کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈالے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے مگر وہ اس کے خلاف فتویٰ دیتے تھے اس لیے امام ابو حنیفہ نے ان کی روایت کردہ حدیث پر عمل کرنا ترک کر دیا۔

۸۔ خبر واحد اس صورت میں مقبول ہے۔ جب اس کا راوی دیگر ثقہ راویوں کے خلاف اس حدیث کی سند یا متن میں کوئی اضافہ نہ کر رہا ہو۔ اگر وہ اضافہ کرے گا ،تو بنابر احتیاط ثقات کی روایت پر عمل کیا جائے گا۔اس کی زیارت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔'' ۱۲۴؂

حدیث کے رد و قبول اور ان سے احتجاج و استدلال کے اصولوں میں اختلاف ہی وہ فرق ہے جو امام ابوحنیفہ، امام مالک اور ان کے متبعین پر بعض اہلِ علم کے اس الزام کا باعث بنا ہے کہ وہ اپنے قیاس اور اپنی راے کو (معاذ اللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ ابن قیم کی ''اعلام الموقعین عن رب العالمین'' کا بنیادی موضوع ہی یہ ہے ۔ اس میں انھوں نے احناف کی طرف سے رد کی جانے والی ۸۲ حدیثوں کو نقل کر کے احناف کے موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے لکھا ہے:

''یہ تو بطور نمونہ کے بیاسی حدیثیں ہم نے بیان کی ہیں انھوں (احناف)نے تو ان گنت اور بے شمار حدیثوں کو جواب دے دیا ہے اور رائے کے رگڑے میں بری طرح پس گئے اس جال میں ایسے پھنسے کہ پھر نہ چھٹے۔ پس اگر قیاس حق ہوتا تو قیاس والے ساری امت سے زیادہ احادیث کے عامل ہوتے تو ناممکن تھاکہ ان سے ایک حدیث بھی چھوٹے۔ ہاں منسوخ حدیثوں کا حکم اور ہے۔ لیکن ہم تو کیا دنیا دیکھ رہی ہے کہ اہل رائے سے زیادہ سخت مخالف صحیح حدیثوں کا اور کوئی نہیں۔ یہ بھی دلیل اس بات کی ہے کہ رائے اورقیاس منجانب اﷲ نہیں اگر یہ اﷲ کی طرف سے ہوتا تو قرآن حدیث کے مطابق ہوتا نہ کہ مخالف ۔ رائے اورقیاس والے قرآن حدیث کے سچے تابعدار ہوتے نہ کہ سخت تر مخالف۔ آپ دیکھ لیجئے کہ اہل حدیث کس طرح قرآن و حدیث کے متبع ہیں۔آپ ساری دنیا میں سے ایک صحیح حدیث ایسی نہیں دکھا سکتے جس کی مخالفت اہلحدیث نے کی ہو۔ ہاں ہم نے آپ کو وہ حدیثیں دکھا دیں جن کی مخالفت اہل رائے نے کی ہے اور یہ تو بطور نمونہ کے ہے ورنہ ایک دفتر بھی ان تمام حدیثوں کا احاطہ نہیں کر سکتا جو رائے قیاس کے شیدائیوں نے توڑ مروڑ کر رکھ دی ہیں۔''۱۲۵؂

معروف اہل حدیث عالم مولانا محمد ابولحسن سیالکوٹی نے اپنی تصنیف ''الظفر المبین فی رد مغالطات المقلدین ''میں ہدایہ، درالمختار، فتاویٰ عالمگیری اور دیگر کتب احناف کی بنیاد پر امام ابو حنیفہ کے حوالے سے ایک سو ایسے مسائل نقل کیے ہیں جو ان کے نزدیک امام صاحب کی صحیح احادیث کی مخالفت پر دلالت کرتے ہیں۔ ان مسائل کو نقل کرنے سے پہلے تمہیداً انھوں نے بیان کیا ہے :

''ائمہ کے مقلدین حدیث پر چلنے والوں کو ایک مغالطہ یہ دیتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کا ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو مجتہدوں کو نہ ملا ہو یا انھوں نے کسی مسئلے پر قرآن اور حدیث کے خلاف عمل کیا ہو اور لوگوں کو اس پر فتویٰ دیا ہو۔ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی شخص غور و فکر کرے تو اکثر دیکھے گا کہ ایک طرف تو حدیث صحیح ہے اور دوسری طرف اس حدیث کے خلاف امام کی رائے ہے اور فتویٰ امام کی رائے پر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے بطور نمونہ ہم ایک سو ایسے مسائل نقل کرتے ہیں جن میں امام ابوحنیفہ کا مسلک احادیث صحیحہ نبویہ کے خلاف جاتا ہے۔'' ۱۲۶؂

اس تمہید کے بعد انھوں نے عقائد، عبادات اور معاملات کے حوالے سے ایک سو مسائل پر امام ابو حنیفہ کی آرابیان کر کے ان کے مقابل میں احادیث کو پیش کیا ہے۔ تفہیم مدعا کے لیے ان میں سے چند مثالیں مفید ہوں گی:

''فقہ اکبر اور شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے: ''ایمان سے مراد اقرار اور تصدیق ہے اور اہل آسمان و زمین کا ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم ہوتا ہے۔'' امام ابو حنیفہ ؒ نے اس مسئلے میں کلام اﷲ کی صریح آیات اور کئی احادیث کے خلاف مسلک اختیار کیا ہے کہ ایمان بڑھتا بھی ہے اور کم بھی ہوتا ہے۔'' ۱۲۷؂

''فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے: ''اور جب شراب سرکہ بن جائے تو حلال ہے خواہ خود بخود سرکہ بن جائے خواہ اس میں کوئی چیز ڈالنے سے چیز سرکہ بن جائے۔'' اور یہ مذہب امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے شاگرد امام ابو یوسف اور محمد کا ہے۔جبکہ ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں نے اس مسئلے میں مسلم شریف اور ترمذی میں انسؓ سے مروی حدیث سے اختلاف کیا ہے:نبی اکرم صلی علیہ علیم وسلم سے اس شراب کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا سرکہ بنا لیا گیا ہو (آیا وہ سرکہ حلال ہے یا نہیں) تو آپ نے فرمایا حلال۔'' ۱۲۸؂

''ہدایہ میں لکھا ہے: '' امام اور مقتدی اور اکیلا آہستہ آمین کہیں۔'' یہ مذہب ابو حنیفہ اور امام مالک اور اہل کوفہ کا ہے۔ پس ابو حنیفہ اور امام مالک اور اہل کوفہ نے اس مسئلے میں خلاف کیا ہے ان اکیس احادیث کا۔صحیح ابوداؤد، کتاب الصلاۃ باب الآمین وراء ا لامام ،حسن صحیح میں روایت ہے وائل بن حجرؓ سے کہ اس نے نماز پڑھی رسول اﷲصلی علیہ وسلم کے پیچھے پس پکار کر کہی آمین...۔ ''۱۲۹؂

''''اور امام سمع اﷲ لمن حمدہ کہے اور مقتدی ربنا لک الحمد کہے اور ابو حنیفہ کے نزدیک امام ربنا لک الحمد نہ کہے۔''جبکہ امام ابو حنیفہ نے اس مسئلے میں حسب ذیل تین احادیث کی خلاف ورزی کی ہے۔پہلی حدیث بخاری اور مسلم میں عبداﷲ بن عمرؓ سے مروی ہے: رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو شانوں تک ہاتھ اٹھاتے جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح رفع الیدین کرتے اور سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کہتے اور سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہ کرتے تھے۔'' ۱۳۰؂

'''' جمعہ دیہات میں جائز نہیں۔'' یہ مذہب امام ابو حنیفہ کا ہے، مگر امام ابو حنیفہ نے اس مسئلے میں (صحیح بخاری کتاب الجمعۃ) کی اس حدیث کے خلاف عمل کیاہے:ابن عباس رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ اولین جمعہ جو اسلام میں مسجد نبوی کے بعد پڑھا گیا جواثی نامی گاؤں میں پڑھا گیا جو بحرین کے دیہات میں سے ایک گاؤں تھا۔''۱۳۱؂

''''کسی میت کی نماز جنازہ مسجد میں ادا نہ کی جائے''۔ یہ امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد ان امام محمد و ابو یوسف کا مذہب ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد امام محمد و ابو یوسف نے اس مسئلے میں مندرجہ ذیل ان تین احادیث کے خلاف عمل کیا ہے:(صحیح مسلم کتاب الجنائز باب الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد میں ہے) ابو بن عبد الرحمٰنؓ سے مروی ہے کہ جب سعد بن ابی وقاصؓ نے وفات پائی تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے کہا کہ ان کے جنازہ کو مسجد میں داخل کرو تاکہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھوں۔ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی اس بات کو صحیح نہ سمجھتے ہوئے تعجب کیا تو جناب صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا اﷲ کی قسم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں، سہیل اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی...۔''۱۳۲؂

''فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے: ''امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک ظاہر روایت کے مطابق آزاد عاقلہ، بالغہ کا نکاح اس کی مرضی کے ساتھ اگرچہ اس کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو اور عورت بھی خواہ باکرہ ہو خواہ ثیبہ ہو منعقد ہو جاتا ہے۔'' پس امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد ابی یوسف نے اس مسئلے میں ( احمد ، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ اور دارمی کی) ان پانچ احادیث کے خلاف عمل کیا ہے۔عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے... روایت ہے ابی موسیٰ ؓ سے، انہوں نے نقل کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا کہ نکاح ولی کے بغیر منعقد نہیں۔'' ۱۳۳؂

''''گھوڑے کا گوشت امام ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ ہے۔ اور وہی قول ہے مالک کا۔ '' مگر امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے اس مسئلے میں (بخاری و مسلم کی) ان دو احادیث کا خلاف کیا ہے:جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا البتہ گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی۔ ۔۔اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا۔''۱۳۴؂

''ہدایہ وغیرہ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ نماز میں دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھے، ناف سے اوپر نہ باندھے۔ امام ابو حنیفہ کا یہ مذہب اس حدیث کے خلاف ہے جو صحیح ابن خزیمہ میں وائل بن حجرؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔''۱۳۵؂

ان اقتباسات سے واضح ہے کہ بعض اہل علم حدیث کے رد و قبول کے اصولوں میں اختلاف کی بنیاد پر حدیث کے انکار اور مخالفت کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں امام ابن تیمیہ نے اپنی تالیف ''رفع الملام عن الائمۃ الاعلام'' میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ ہمارے ائمہ میں سے اگر کوئی کسی حدیث کو قبول نہیں کرتا تو اس کے نزدیک اس کے کچھ دلائل ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اس کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اُس نے کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''جب کسی امام کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو، تو اس حدیث کے ترک کرنے کی وجہ تو ان کے ہاں ضرور ہو گی۔

کسی حدیث کو صرف تین وجوہ میں سے کسی ایک کی بنا پرترک کیا گیا ہو گا۔

۱۔امام یہ سمجھتا ہو گا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث سرے سے ارشاد ہی نہیں فرمائی۔

۲۔امام کے نزدیک اس کا مفہوم وہ نہ ہو گا، جو قائل نے سمجھا۔

۳۔امام کے نزدیک وہ حدیث منسوخ ہو گی۔

ایک امام بعض اوقات کسی حدیث کو اس لیے بھی ترک کرتا ہے وہ حدیث کے راوی میں جو حافظ ثقہ ہوتا ہے بعض ایسی شرائط کا اضافہ کرتا ہے ، جن کو دیگر محدثین تسلیم نہیں کرتے ۔ مثلاً:

۱۔بعض محدثین نے کسی حدیث کو قبول کرنے کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ پہلے اسے کتاب و سنت کی کسوٹی پر کس کر دیکھ لیا جائے کہ کیا وہ ان کے خلاف تو نہیں۔

۲۔بعض محدثین نے راوی کے فقیہ ہونے کی شرط لگائی ہے، خصوصاً جبکہ وہ حدیث خلاف قیاس ہو۔

۳۔بعض علماء نے یہ شرط لگائی ہے کہ حدیث کو اس صورت میں قبول کیا جائے، جبکہ وہ لوگوں میں عام طور پر مشہور ہو چکی ہو، خصوصاً جبکہ حدیث کا تعلق ایسے معاملہ سے ہو جس کے ساتھ عوام کو اکثر سابقہ پڑتا ہے۔ اور اسی قسم کے دیگر شرائط...۔

...اگر کسی حدیث کو مذکورہ صدر اسباب میں سے کسی سبب کی بنا پر ترک کیا گیا ہو اور اس حدیث صحیح میں کسی چیز کی تحلیل و تحریم کا ذکر کیا گیا ہو یا کسی بات کا حکم دیا گیا ہو تو حدیث کو ترک کرنے والے عالم کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے حرام کو حلال قرار دیا یا اس کے برعکس ایک حلال چیز کی تحریم کا مرتکب ہوا یا یہ کہ اس نے اﷲ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کی خلاف ورزی کی۔'' ۱۳۶؂

یہاں یہ واضح رہے کہ حدیث کے رد و قبول اور ان سے احتجاج و استدلال کے اصولوں میں اختلاف کا وجود صرف اصولیین اور فقہا کے ہاں ہی نہیں ہے ، محدثین کے ہاں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ مولانا سرفراز خان صفدر اپنی کتاب ''مقام ابی حنیفہ'' میں ''امام ابو حنیفہ پر مخالفت حدیث کا الزام'' کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

''کہنے کو تو یہ بات بڑی آسان معلوم ہوتی ہے کہ فلاں امام نے حدیث کی مخالفت اور انکار کر دیا ہے اور فلاں نے اپنی رائے اور تفقہ کو ترجیح دے کر حدیث کو رد کر دیا ہے اور حدیث کے خلاف عمل کیا ہے، مگر جب ٹھنڈے دل کے ساتھ اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو کسی مسلّم امام کے خلاف اس کا ثبوت بڑا مشکل نظر آتا ہے کہ انہوں نے بلا کسی عذر قوی کے حدیث کو ترک کیا ہو۔ مندرجہ ذیل امور پر انصاف سے غور فرمائیں۔

حضرت امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری ؒ 'حسن' قسم کی حدیث کو قابل استدلال واحتجاج نہیں تصور فرماتے۔ علم حدیث کے ساتھ شغف رکھنے والے اور اصول وطبقات روات سے آگاہ حضرات جانتے ہیں کہ سینکڑوں ہی نہیں بلکہ ہزاروں حدیثیں سند کے لحاظ سے' حسن' ہیں اور صرف ایک ہزار حسن حدیث تو امام حماد بن سلمہ سے مروی ہے۔ تو کیا ایسی تمام' حسن' قسم کی حدیثیں کتب حدیث سے چن چن کر ان کی ایک فہرست مرتب کر دینی چاہیے اور معتبر محدثین سے باحوالہ ان کا 'حسن' ہونا نقل کر دینا چاہیے اور پھر کتابوں اور رسالوں اخباروں اور تقریروں میں جماعتی شکل میں مکروہ پروپیگنڈا شروع کر دیا جائے کہ حضرت امام بخاری تو اتنی حدیثوں کے منکر ہیں؟ حاشا وکلا کہ اس سے کوئی منصف مزاج اہل علم متاثر ہو کر حضرت امام بخاری کے خلاف کچھ کہنے پر آمادہ ہو بس یہی کہے گا کہ چونکہ امام بخاری مجتہد تھے۔ انہوں نے اپنی دیانت اور صوابدید سے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح اگر حضرت امام ابو حنیفہ نے روایات کے بارے میں کوئی سخت اور کڑی شرط لگائی ہو جس کے فقدان کی صورت میں وہ حدیث کو قابل احتجاج و استدلال نہیں سمجھتے تو وہ کیونکر منکر حدیث اور مخالف حدیث قرار دیے جا سکتے ہیں؟''۱۳۷؂

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی تالیف ''امام ابو حنیفہ'' میں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اگرامام بخاری نے امام ابو حنیفہ سے حدیث قبول نہیں کی تو اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ ان کو غیر ثقہ سمجھتے تھے، بلکہ اس کا سبب امام بخاری کا ایمان کی تعریف پر امام صاحب سے علمی اختلاف تھا۔ لکھتے ہیں:

''امام بخاری کے نزدیک امام اعظم سے حدیث نہ لینے کا سبب ان کا غیر ثقہ، ضعیف یا قلیل الحدیث ہونا نہیں، بلکہ ایک علمی اختلاف کی وجہ سے تھا جس پر دونوں ائمہ کا مؤقف اپنی اپنی جگہ پر بے لچک تھا۔

امام اعظم اور امام بخاری کے درمیان علمی اختلاف 'ایمان' کی تعریف پر تھا، امام اعظم تصدیق اور زبانی اقرار کو فی نفسہٖ ایمان کا نام دیتے ہیں اور اس میں عمل کو شامل نہیں کرتے، جبکہ امام بخاری ایمان کی تعریف میں قول و عمل دونوں کو شامل کرتے تھے۔'' ۱۳۸؂

اس تفصیل سے علما کا جو اصولی موقف سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی صاحب علم پر حدیث و سنت کے انکار یا استخفاف کا الزام اس وقت قائم ہوتا ہے جب وہ بطور اصول نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو حجت ماننے یا حدیث و سنت کو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے قائم مقام کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرے یا ان کے بارے میں لاتعلقی یا بے اعتنائی کا رویہ اختیار کرے۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

''در اصل آپ لوگ (اہل حدیث)جس غلط فہمی میں مبتلا ہیں وہ یہی ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم اجتہاد و تفقہ کو حدیث رسول پر ترجیح دیتے ہیں یا دونوں کو ہم پلّہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل واقعہ یہ نہیں ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ کوئی روایت جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو، اس کی نسبت کا صحیح و معتبر ہونا بجائے خود زیر بحث ہوتا ہے۔ آپ کے نزدیک ہر اس روایت کو حدیث رسول مان لینا ضروری ہے جسے محدثین سند کے اعتبار سے صحیح قرار دیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے۔ ہم سند کی صحت کو حدیث کے صحیح ہونے کی لازمی دلیل نہیں سمجھتے ۔ ہمارے نزدیک اسناد کی صحت حدیث کی صحت معلوم کرنے کا ایک ہی ذریعہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ ان ذرائع میں سے ایک ہے جن سے کسی روایت کے حدیث رسول ہونے کا ظن غالب حاصل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہم متن پر غور کرنا ، قرآن و حدیث کے مجموعی علم سے دین کا جو فہم ہمیں حاصل ہوا ہے، اس کا لحاظ کرنا، اور حدیث کی وہ مخصوص روایت جس معاملہ سے متعلق ہے اس معاملہ میں قوی تر ذرائع سے جو سنت ثابتہ ہمیں معلوم ہوا اس پر نظر ڈالنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ علاوہ بریں اور بھی متعدد پہلو ہیں جن کا لحاظ کیے بغیر ہم کسی حدیث کی نسبت نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف کر دینا درست نہیں سمجھتے۔ پس ہمارے اور آپ کے درمیان اختلاف اس امر میں نہیں ہے کہ حدیث رسول اور اجتہاد مجتہد میں مساوات ہے یا نہیں بلکہ اختلاف دراصل اس امر میں ہے کہ روایات کے ردّ و قبول اوران سے احکام کے استنباط میں ایک محدث کی رائے بلحاظ سند اور ایک مجتہد کی رائے بلحاظ درایت کا مرتبہ مساوی ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ دونوں میں سے کس کی رائے زیادہ وزنی ہے؟ اس باب میں اگر کوئی شخص دونوں کو ہم پلّہ قرار دیتا ہے تب بھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور اگر دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے تب بھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔ لیکن آپ لوگ اس کو گنہگار بنانے کے لیے اس پر خواہ مخواہ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ حدیث کو حدیث رسول مان لینے کے بعد پھر کسی مجتہد کی رائے کو اس کا ہم پلّہ یا اس پر قابل ترجیح قرار دیتا ہے۔ حالانکہ اس چیز کا تصور بھی کسی مومن کے قلب میں جگہ نہیں پا سکتا۔'' ۱۳۹؂

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے بھی اسی بات کی طرف متوجہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''بسا اوقات منکرین حدیث کی فہرست تیار کرنے میں بے جا افراط سے کام لیا جاتا ہے اور بعض ان علمائے اسلام کو بھی اسی زمرہ میں شامل کر دیا جاتا ہے جو احادیث کی حجیت کو تو تسلیم کرتے ہیں، البتہ انہوں نے اپنی تحریروں میں بعض باعتبار سند صحیح احادیث پر کلام کیا ہے اور درایت کی کسوٹی پر رکھ کر انہیں قبول کرنے میں تامل کا اظہار کیا ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ ان کا تجزیہ درست نہ ہو اور وہ احادیث باعتبار روایت اور باعتبار درایت دونوں پہلوؤں سے صحیح ہوں۔ ماہرین علوم الحدیث کو ان علماء کی آراء کا محاکمہ کرنے اور ان کی غلطیوں کو واضح کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن محض اس بنیاد پر انہیں منکرین و متشککین حدیث کی فہرست میں شامل کرنا درست رویہ نہیں ہے۔

محدثین کرام کے نزدیک یہ اصول مسلم ہے کہ ''ممکن ہے بعض احادیث باعتبار سند صحیح ہوں، لیکن باعتبار درایت صحیح نہ ہوں'' اس اصول کی روشنی میں انہوں نے بعض احادیث کو قبول نہیں کیا ہے اور انہیں موضوع تک قرار دیا ہے۔ دیگر محدثین نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا ہے اور ایسی احادیث کی مختلف توجیہیں کی ہیں، لیکن ان پر انکار حدیث کا الزام نہیں لگایا ہے۔یہاں ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔

صحیح مسلم (کتاب الفضائل)میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ''لوگ ابو سفیانؓ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے گریز کرتے تھے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی: اے اﷲ کے نبی ۔ میری تین گزارشات قبول کر لیجئے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ انہوں نے پہلی گزارش یہ کی: ''میری بیٹی ام حبیبہ عرب کی حسین و جمیل عورتوں میں سے ہے۔ اس سے نکاح کر لیجئے۔ آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے۔.....''

اس حدیث پر اشکال یہ ہے کہ حضرت ابو سفیانؓ نے فتحِ مکہ کے موقع پر ۸ھ ؁ میں اسلام قبول کیا تھا۔ جب کہ اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے قبل ہی ۶ھ ؁ یا ۷ھ ؁ میں حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیان سے نکاح کر چکے تھے۔ پھر اس درخواست کے کیا معنی؟ محدثین نے اس حدیث کو صحیح مانتے ہوئے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں، لیکن علامہ ابن حزم نے اسے موضوع کہا ہے اور اسے ایک راوی عکرمہ بن عمار کی گھڑی ہوئی روایت قرار دیا ہے۔ اس کے جواب میں شیخ ابن الصلاحؒ نے عکرمہ کو ثقہ راوی بتایا ہے اور ان کی تضعیف کرنے اور ان کی طرف وضعِ حدیث کی نسبت کرنے کے سلسلے میں ابن حزم پر سخت تنقید کی ہے۔ لیکن نہ انہوں نے اور نہ ان کے علاوہ کسی اور محدث نے ابن حزم کا شمار منکرین حدیث میں کیا ہے۔

اس طرح کی اور بھی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ حاصل یہ کہ کسی کو منکر و مشککِ حدیث قرار دینے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے اور انکار حدیث کی نسبت صرف ان لوگوں کی طرف کرنا چاہیے جنہوں نے احادیث کی حجیت کو چیلنج کیا ہے اور انہیں من حیث الکل قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔'' ۱۴۰؂

اس تناظر میں اگر ہم مکتب فراہی کے اہل علم کی اپنی تحریروں کا جائزہ لیں تو اُن سے حدیث و سنت کے انکار، استحقار اور استخفاف کے الزامات کی صریح تردید مفہوم ہوتی ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ حدیث و سنت کی حجیت کے اسی طرح قائل ہیں، جس طرح پوری امت اس کی قائل ہے۔ وہ حدیث و سنت کی حجیت کے تمام پہلوؤں کو اصولی طور پر بھی تسلیم کرتے ہیں اور عملی لحاظ سے بھی ان کے پابند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے جملہ مکاتب فکر کے علما نے مکتبِ فراہی سے بعض علمی اختلافات کے باوجود حدیث وسنت کے انکار و استخفاف کے الزام کی تائید نہیں کی۔اہل علم نے مکتب فراہی کے علما کے حوالے سے یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ انھوں نے چنداحادیث کی صحت کا انکار کیا ہے، اس الزام کی تائید نہیں کی کہ مکتب فراہی کے افکار حدیث و سنت کے انکار یا استخفاف پر منتج ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی مولانا فراہی کے بارے میں لکھتے ہیں:

''چند احادیث پر مولانا فراہی ؒ کے تبصرہ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا کہ مولانا حدیث کو نہیں مانتے ، سراسر غلط ہو گا۔ چند احادیث کی صحت سے انکار کرنا اور چیز ہے اور حدیث کو بہ حیثیت سنّت اور بہ حیثیتِ دین اور ماخذِ شریعت نہ ماننا دوسری چیز ہے۔ اول الذکر کا دائرہ صرف غلطیوں تک محدود ہے، جب کہ مؤخر الذکر آدمی کو حلقۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔'' ۱۴۱؂

جناب الطاف احمد اعظمی بیان کرتے ہیں:

''مولانا فراہی کا دامنِ فکر افراط و تفریط سے پاک تھا۔ انھوں نے نہ تو اہل الرائے کی طرح احادیث سے کلیۃً صرفِ نظر کیا اور نہ اہل روایت کی طرح آنکھ بند کر کے ہر حدیث کے معاملہ میں ''آمنا و صدقنا'' کی روش اختیار کی۔'' ۱۴۲؂

مزید لکھتے ہیں:

''کسی خوفِ تردید کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ وہ منکرِ حدیث نہیں تھے البتہ دوسرے علماء محققین کی طرح حدیث کے معاملہ میں محتاط اور معتدل رویہ رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک قرآن کی حیثیت اصل اور مرکزی تھی باقی دوسرے علوم فروعی حیثیت رکھتے تھے، علم حدیث بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ لیکن وہ اپنی عملی زندگی میں جیسا کہ بیا ن ہوا، سخت متبع سنت تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ سنت اور حدیث میں فرق کرتے تھے ۔''۱۴۳؂

معروف اہل حدیث عالم مولانا عبدالرحمن کیلانی نے مکتب فراہی کے علما کا احناف کے ساتھ الحاق کرتے ہوئے خبر واحد کے حوالے سے ان کے موقف پر نقد کرنے کے باوجود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ سنت کی حجیت کے قائل ہیں۔ لکھتے ہیں:

''مولانا حمید الدین فراہی اور امین احسن اصلاحی یہ دونوں حضرات حنفی ہیں۔ اور حنفی مذہب میں حدیث اور بالخصوص ''خبر واحد'' کے قابل احتجاج ہونے اور اسے عقیدہ کی بنیاد بنانے سے متعلق جو کمزور پہلو موجود ہے۔ وہ ان حضرات میں بھی پایا جاتا ہے تاہم یہ حضرات اصولی طور پر سنت کو حجیت اور شریعت کا حصہ تسلیم کرتے ہیں۔''۱۴۴؂

اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو جاتی ہے کہ بعض لوگوں کی جانب سے مدرسۂ فراہی پر حدیث و سنت کی حجیت کے انکار کے الزام کی حقیقت ایک بہتان کی ہے جس کی دین و اخلاق میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔خاتمۂ کلام کے طور پر مناسب ہے کہ یہاں جناب جاوید احمد غامدی کا وہ مضمون پورا نقل کر دیا جائے جو انھوں نے اِس نوعیت کے الزامات کی تردید میں ''حدیث و سنت'' کے زیر عنوان تحریر کیا تھا اور جس کے بعض اقتباسات درج بالا مباحث میں ملاحظہ کیے جا چکے ہیں:

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو قرآن دیا ہے۔اِس کے علاوہ جو چیزیں آپ نے دین کی حیثیت سے دنیا کو دی ہیں، وہ بنیادی طور پر تین ہی ہیں:

۱۔ مستقل بالذات احکام و ہدایات جن کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی۔

۲۔ مستقل بالذات احکام و ہدایات کی شرح و وضاحت، خواہ وہ قرآن میں ہوں یا قرآن سے باہر۔

۳۔ اِن احکام و ہدایات پر عمل کا نمونہ۔

یہ تینوں چیزیں دین ہیں۔ دین کی حیثیت سے ہر مسلمان اِنھیں ماننے اور اِن پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِن کی نسبت کے بارے میں مطمئن ہوجانے کے بعد کوئی صاحب ایمان اِن سے انحراف کی جسارت نہیں کرسکتا۔ اُس کے لیے زیبا یہی ہے کہ وہ اگر مسلمان کی حیثیت سے جینا اور مرنا چاہتا ہے تو بغیر کسی تردد کے اِن کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔

ہمارے علما اِن تینوں کے لیے ایک ہی لفظ ''سنت'' استعمال کرتے ہیں۔ میں اِسے موزوں نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک پہلی چیز کے لیے ''سنت''، دوسری کے لیے''تفہیم و تبیین'' اور تیسری کے لیے ''اسوۂ حسنہ'' کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے۔ اِس سے مقصود یہ ہے کہ اصل اور فرع کو ایک ہی عنوان کے تحت اور ایک ہی درجے میں رکھ دینے سے جو خلط مبحث پیدا ہوتا ہے، اُسے دور کردیا جائے۔

یہ محض اصطلاحات کا اختلاف ہے، ورنہ حقیقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو میرے اور ائمۂ سلف کے موقف میں سرمو کوئی فرق نہیں ہے۔ میرے ناقدین اگر میری کتاب ''میزان'' کا مطالعہ دقت نظر کے ساتھ کرتے تو اِس چیزکو سمجھ لیتے اور اُنھیں کوئی غلط فہمی نہ ہوتی۔ یہ توقع اب بھی نہیں ہے۔ دین کے سنجیدہ طالب علم، البتہ مستحق ہیں کہ اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کے لیے یہ چند معروضات اُن کی خدمت میں پیش کردی جائیں:

اولاً، سنت کے ذریعے سے جو دین ملا ہے، اُس کا ایک بڑا حصہ دین ابراہیمی کی تجدید و اصلاح پر مشتمل ہے۔ تمام محققین یہی مانتے ہیں۔ تاہم اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس میں محض جزوی اضافے کیے ہیں۔ ہرگز نہیں، آپ نے اِس میں مستقل بالذات احکام کا اضافہ بھی کیا ہے۔ اِس کی مثالیں کوئی شخص اگر چاہے تو ''میزان'' میں دیکھ لے سکتا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ دین کے جن احکام کی ابتدااُس سے ہوئی ہے، اُن کی تفصیلات ''میزان'' کے کم و بیش تین سو صفحات میں بیان ہوئی ہیں۔ میں اِن میں سے ایک ایک چیز کو ماننے اور اُس پر عمل کرنے کو ایمان کا تقاضا سمجھتا ہوں، اِ س لیے یہ الزام بالکل لغو ہے کہ پہلے سے موجود اور متعارف چیزوں سے ہٹ کر کوئی نیا حکم دینا یا دین میں کسی نئی بات کا اضافہ کرنا میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن مجید کے دائرۂ کار میں شامل ہی نہیں ہے۔

ثانیاً، سنت کی تعیین کے ضوابط کیا ہیں؟ اِن کی وضاحت کے لیے میں نے ''میزان'' کے مقدمہ ''اصول و مبادی'' میں ''مبادی تدبر سنت'' کے عنوان سے ایک پورا باب لکھا ہے۔ یہ سات اصول ہیں۔ اِن کی بنیاد پرہر صاحب علم کسی چیز کے سنت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ سنن کی ایک فہرست اِنھی اصولوں کے مطابق میں نے مرتب کردی ہے۔ اِس میں کمی بھی ہوسکتی ہے اور بیشی بھی۔ تحقیق کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد میں خود بھی وقتاً فوقتاً اِس میں کمی بیشی کرتا رہا ہوں۔ میں نے کبھی اِس امکان کو رد نہیں کیا ہے۔

ثالثاً، اِس فہرست سے ہٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات بھی دین کی حیثیت سے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں، اُن میں سے بعض کو میں نے ''تفہیم و تبیین' ' اور بعض کو ''اسوۂ حسنہ'' کے ذیل میں رکھا ہے۔ یہی معاملہ عقائد کی تعبیر کا ہے۔ اِس سلسلہ کی جو چیزیں روایتوں میں آئی ہیں، وہ سب میری کتاب ''میزان'' کے باب ''ایمانیات'' میں دیکھ لی جاسکتی ہیں۔ یہ بھی ''تفہیم و تبیین'' ہے۔ علمی نوعیت کی جو چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نقل ہوئی ہیں، اُن کے لیے صحیح لفظ میرے نزدیک یہی ہے۔ آپ سے نسبت متحقق ہو تو اس نوعیت کے ہر حکم، ہر فیصلے اور ہر تعبیر کو میں حجت سمجھتا ہوں۔ اِس سے ادنیٰ اختلاف بھی میرے نزدیک ایمان کے منافی ہے۔ ''۱۴۵؂

________

۱۲۴؂ صبحی صالح، ڈاکٹر، حدیث ومحدثین، مترجم حریری ،غلام احمد،ص ۳۵۵۔

۱۲۵؂ ابن قیم، شمس الدین ابو عبداللہ، الجوزیۃ،اعلام الموقعین عن رب العالمین، لاہور:مکتبہ قدوسیہ، ۲۰۰۷، ج ۲، ص۱۱۵۔

۱۲۶؂ سیالکوٹی، محمد ابو الحسن، مولانا، الظفر المبین فی رد مغالطات المقلدین،لاہور: مکتبہ محمدیہ، ص۷۸۔

۱۲۷؂ سیالکوٹی، محمد ابو الحسن، مولانا، الظفر المبین فی رد مغالطات المقلدین،لاہور: مکتبہ محمدیہ ،ص۷۹۔

۱۲۸؂ ایضاً، ص۸۸۔

۱۲۹؂ ایضاً، ص۹۴۔

۱۳۰؂ ایضاً، ص۱۱۸۔

۱۳۱؂ سیالکوٹی، محمد ابو الحسن، مولانا، الظفر المبین فی رد مغالطات المقلدین،لاہور: مکتبہ محمدیہ،ص۱۵۱۔

۱۳۲؂ ایضاً،ص۱۵۹۔

۱۳۳؂ ایضاً،ص۱۸۵،۱۸۶۔

۱۳۴؂ ایضاً،ص۲۱۹۔

۱۳۵؂ سیالکوٹی، محمد ابو الحسن، مولانا، الظفر المبین فی رد مغالطات المقلدین،لاہور: مکتبہ محمدیہ، ص۳۳۳۔

۱۳۶؂ ابن تیمیہ، امام،ائمۂ سلف اور اتباع سنت، مترجم: غلام احمد حریری،فیصل آباد، طارق اکیڈمی،۲۰۰۱ء، ص۳۲، ۴۹،۶۸۔

۱۳۷؂ صفدر،محمد سرفراز خان، مولانا،مقام ابی حنیفہ،گوجرانوالہ: مکتبہ صفدریہ،۲۰۱۲ء ،ص ۲۱۶۔

۱۳۸؂ طاہرالقادری ،محمد ، ڈاکٹر، امام اعظم ابو حنیفہ ،لاہور:منہاج القرآن، ص۷۲۸۔

۱۳۹؂ مودودی، سید ابو الاعلیٰ، تفہیمات، لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، ج ۱، ص ۳۶۸۔

۱۴۰؂ ندوی، رضی الاسلام، ڈاکٹر، علوم الحدیث،مرتب سلفی ،رفیق احمد،لاہور:دارالکتب السلفیہ،۲۰۱۰ء، ص۳۲۰۔

۱۴۱؂ ندوی ، محمد رضی الاسلام ، ڈاکٹر، نقد فراہی ، دہلی: مکتبہ اسلام ، ۲۰۱۰ء، ص ۱۳۵، ۱۳۸۔

۱۴۲؂ اعظمی ،الطاف احمد،حمید الدین فراہی حیات و افکار(مقالات فراہی سیمینار)، اعظم گڑھ ، دائرۂ حمیدیہ، ۱۹۹۲ء، ص۲۲۴۔

۱۴۳؂ اعظمی، الطاف احمد،مولانا حمید الدین فراہی کے بنیادی افکار، دہلی، البلاغ پبلیکیشنز،۲۰۱۰ء، ص۱۲۴۔

۱۴۴؂ کیلانی، عبدالرحمن، مولانا،آئینۂ پرویزیت،لاہور،ص۶۵۶۔

۱۴۵؂ غامدی، جاوید احمد،مقامات، لاہور: المورد،۲۰۱۴ء، ص۱۵۱۔

____________